غسل کا بیان
غسل کے مکروہات
1: پانی زیادہ استعمال کرنا۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع(دو کلو100گرام)پانی کے ساتھ غسل کیا تھا۔
2: پلید جگہ میں بیٹھ کر نہانا،اس لیے کہ چھینٹیں پڑنے سے جسم پلید ہونے کا اندیشہ ہے۔
3: دیوار وغیرہ کا پردہ کیے بغیر کھلی جگہ میں نہانا۔میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی رکھا اور آپ کے لیے پردہ کیا،پھر آپ نہائے۔اگر پردہ کے بغیر نہانا ناپسند نہ ہوتا تو وہ پردہ نہ لگاتیں۔[3]
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:((إِنَّ اللّٰہَ حَیِيٌّ سِتِّیرٌ یُّحِبُّ الْحَیَائَ وَالسِّتْرَ،فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَسْتَتِرْ))
’’بے شک اللہ حیا والا اور بہت پردہ پوشی کرنے والا ہے،وہ حیا اور پردے کو پسند کرتا ہے،جب تم میں سے کوئی نہائے تو چھپ کر نہائے۔‘‘[1]
4: ٹھہرے ہوئے پانی میں نہانا۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے:((لَا یَغْتَسِلْ أَحَدُکُمْ فِي الْمَائِ الدَّائِمِ وَھُوَ جُنُبٌ))
’’تم میں سے کوئی جنبی حالت میں،کھڑے پانی میں غسل نہ کرے۔‘‘[2]
فائدہ:عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنا درست ہے،احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک زوجہ ٔ محترمہ کے بچے ہوئے پانی سے نہانے لگے تو بی بی نے عرض کیا:’’میں جنبی تھی۔‘‘ آپ نے فرمایا:’’پانی جنبی نہیں ہوتا۔‘‘ اس لیے احتیاط کے ساتھ غسل کرنے والی عورت کے بچے ہوئے پانی سے نہانا بلاکراہت جائز ہے۔[3]