غسل کا بیان

غسل کا طریقہ

بسم اللہ کہہ کر اور اس نیت سے غسل شروع کرے کہ وہ حدث اکبر(جنابت)زائل کر رہا ہے،اپنی دونوں ہتھیلیاں تین بار دھوئے،پھر استنجا کرے اور شرم گاہ سے ہر طرح کی آلائش صاف کرے،پھر وضو کرے۔البتہ پاؤں وضو کے ساتھ دھونا بھی جائز ہے اور غسل کے آخر میں دھوئے تو بھی جائز ہے۔پھردونوں ہتھیلیاں پانی سے تر کرے اور سر کے بالوں کی جڑوں میں انھیں داخل کرے[4]اور سر کو کانوں سمیت تین بار دھوئے پھر جسم کے دائیں پہلو پر پانی بہائے اور اوپر سے نیچے تک دھوئے،پھر اسی طرح بایاں پہلو دھوئے،نیز ناف کے اندر،بغلوں کے نیچے اور گھٹنوں کے نیچے اہتمام کے ساتھ پانی بہائے،اس لیے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت سے غسل کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ برتن میں داخل کرنے سے پہلے دھوتے اور وضو کرتے،جس طرح نماز کے لیے وضو ہوتا ہے،پھر بالوں کو پانی سے اچھی طرح تر کرتے،پھر تین بار سر پر پانی ڈالتے اور پھر سارے جسم پر پانی بہاتے۔‘‘ جنابت کی وجہ سے کیا کچھ ممنوع ہوتا ہے: 1: قرآن پاک پڑھنا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:((لَا تَقْرَإِ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَیْئًا مِّنَ الْقُرْآنِ)) ’’حیض والی عورت اور جنبی قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں۔‘‘[1] اور حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:((کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم یُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ عَلَی کُلِّ حَالٍ مَّا لَمْ یَکُنْ جُنُبًا)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جنابت کے علاوہ ہر حالت میں قرآن پڑھاتے تھے۔‘‘[2] 2: مساجد میں داخل ہونا۔اِ لاَّ یہ کہ راستہ کے طور پر اس میں سے(بغیر ٹھہرے)گزر جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ﴾ ’’اور نہ جنبی حالت میں(نماز کے قریب جاؤ)مگر راستہ سے گزرتے ہوئے۔‘‘[3] 3: نماز پڑھنا۔فرض ہو یا نفل۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ حَتَّىٰ تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّىٰ تَغْتَسِلُوا﴾ ’’اے ایمان والو!نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ،یہاں تک کہ تم جان لو کہ کیا کہہ رہے ہو اور نہ جنبی حالت میں مگر راستہ میں گزرتے ہوئے یہاں تک کہ نہالو۔‘‘[4] 4: قرآن کو ہاتھ لگانا:فرمان ربانی ہے:﴿إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ﴿٧٧﴾فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ﴿٧٨﴾لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ﴾ ’’یہ(بڑے)رتبے کا قرآن ہے،(جو)کتاب محفوظ میں(لکھا ہوا)ہے اسے صرف پاک لوگ ہی ہاتھ لگاتے ہیں۔‘‘[5] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:((لَا تَمَسَّ الْقُرآنَ إِلَّا وَأَنْتَ طَاھِرٌ))’’اور پاک حالت کے بغیر قرآن کو ہاتھ نہ لگا۔‘‘[6]