صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
اللہ پر توکل کرنا اور باطل والوں کو جھوٹا سمجھنا
حضرت عبداللہ بن عوف بن اَحمر کہتے ہیں: جب حضرت علی بن ابی طالب ؓ اَنبار شہر سے نہروان والوں کی طرف جانے لگے تو مسافر بن عوف بن اَحمر نے ان سے کہا: اے امیرالمؤمنین! آپ اس گھڑی میں نہ چلیں، بلکہ جب دن چڑھے کو تین گھڑیاں گزرجائیں پھر یہاں سے چلیں۔ حضرت علی نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا: اگر آپ اس گھڑی میں چلیں گے تو آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو بہت تکلیفیں آئیں گی اور سخت نقصان ہوگا، اور اگر آپ اس گھڑی میں سفر شروع کریں جو میں نے بتائی ہے تو آپ کامیاب ہوں گے اور دشمن پر غلبہ پائیں گے اور آپ کو مقصد حاصل ہوجائے گا۔ حضرت علی نے فرمایا: نہ تو حضرت محمد ﷺ کا کوئی نجومی تھا اور نہ ان کے بعد ہمارے ہاں اب تک کوئی تھا۔ کیا تمھیں معلوم ہے کہ میری اس گھوڑی کے پیٹ میں کیا ہے؟ اس نے کہا: اگر میں حساب لگائوں تو پتاچلاسکتاہوں۔ حضرت علی نے فرمایا: جو تمہاری اس بات کو سچامانے گا وہ قرآن کو جھٹلانے والا ہوگا ،کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:
{اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ}1
بے شک اللہ ہی کو قیامت کی خبر ہے اور وہی مینہ برساتاہے اور وہی جانتاہے جوکچھ رحم میں ہے۔
جس چیز کے جاننے کا تم نے دعویٰ کیاہے اس کے جاننے کا تو حضرت محمد ﷺ نے بھی دعویٰ نہیں کیا تھا۔ اور کیا تم یہ بھی کہتے ہو کہ تم اس گھڑی کو جانتے ہو جس میں سفر شروع کرنے والے کو نقصان ہوگا؟ اس نے کہا: ہاں، میں جانتاہوں۔ حضرت علی ؓ فرمایا: جو تمہاری اس بات کو سچامان لے گا اسے تو ناگواریوں اور پریشانیوں کو دور کرنے میں اللہ کی ضرورت نہیں رہے گی، اور جو تمہاری اس بات کو مان لے گا وہ تو اپنے ربّ اللہ کو چھوڑ کر اپنا ہر کام تمہارے سپردکردے گا، کیوںکہ تم دعویٰ کررہے ہو کہ تم وہ گھڑی جانتے ہو جس میں سفر شروع کرنے والا ہر شراور تکلیف سے محفوظ رہے گا، لہٰذا اس بات پر جوایمان لے آئے گا مجھے تو اس کے بارے میں یہی خطرہ ہے کہ وہ اس آدمی کی طرح ہوجائے گا جو اللہ کے علاوہ کسی اور کو اللہ کا مقابل اور ہمسر بنالے۔ اے اللہ! اچھااور برا شگون وہی ہے جوتُونے مقدر فرمایا ہے اور خیر وہی ہے جوتو عطافرمائے اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں۔ (اے مسافر!) ہم تجھے جھٹلاتے ہیں، لہٰذا ہم تیری مخالفت کریںگے اور ہم اسی گھڑی میں سفر شروع کریں گے جس میں سفر کرنے سے تو منع کررہاہے۔
پھر حضرت علی ؓ نے لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: اے لوگو! ان ستاروں کا علم سیکھنے سے بچو، البتہ ستاروں کا صرف اتنا علم سیکھو جس میں خشکی اور سمندر کی تاریکی میں راستہ معلوم ہوسکے۔ نجومی تو کافر کی طرح ہے اور کافر جہنم میں جائے گا۔ (پھر مسافر کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا:) اللہ کی قسم! اگر مجھے یہ خبر ملی کہ توستاروں کو دیکھ کر ان کے مطابق عمل کرتاہے تو جب تک توزندہ رہا اور میں زندہ رہا اس وقت تک میں تجھے قید میں رکھوں گا، اور جب تک میری خلافت رہے گی تجھے وظیفہ نہیں دوںگا۔ پھر حضرت علی ؓ نے اسی گھڑی میں شروع کیا جس سے مسافر نے منع کیاتھا اور جاکر نہروان والوںپر غلبہ پاکر انھیں قتل کیا۔ پھر فرمایا: اگر ہم اس گھڑی میں سفر شروع کرتے جس کا مسافر کہہ رہاتھا اور پھر ہم کامیاب ہوتے اور دشمن پر غالب آتے تو لوگ یہی کہتے کہ نجومی نے جس گھڑی میں سفر شروع کرنے کو کہا تھا اس گھڑی میں حضرت علی ؓ نے سفر شروع کیاتھا اس وجہ سے دشمن پر غالب آگئے۔ حضرت محمد ﷺ کے ہاں کوئی نجومی نہیں تھا اور ان کے بعد ہمارے ہاں بھی کوئی نہیں تھا، لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے کسریٰ اور قیصرکے ملکوں پر اور دوسرے ملکوں پر ہمیں فتح عطافرمائی۔ اے لوگو! اللہ پر توکل کرو اور اسی پر اعتماد کرو، کیوںکہ اللہ جس کے کام بنائے گا اسے کسی اور کی ضرورت نہیں رہے گی۔ 1