صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید

ظاہر کے خلاف اللہ کے حکم کو پوراکرنا

حضرت عُتبہ بن عبدسُلَمی ؓ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ سے فرمایا: اٹھو اور (ان کافروں سے) جنگ کرو۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ضرور، ہم بالکل تیار ہیں، اور ہم وہ نہیں کہیں گے جو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑسے کہاتھا کہ آپ جائیں اور آپ کاربّ جائے، اور آپ دونوں جنگ کریں، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ بلکہ ہم تو یہ عرض کریں گے کہ اے محمد! آپ جائیں اور آپ کا ربّ جائے، ہم بھی آپ کے ساتھ رہ کر جنگ کریں گے۔ 1 جہاد کے باب میں حضرت مقداد ؓ کا اسی جیسا قول گزر چکاہے جسے ابنِ ابی حاتم اور ابنِ مردویہ وغیرہ نے روایت کیاہے۔ اور حضرت سعد بن عبادہ ؓ کا یہ قول بھی جلد اوّل صفحہ نمبر ؟؟؟ پر گزر چکا ہے کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر آپ ہمیں اپنی سواریاں سمندروں میں ڈالنے کا حکم دیں تو ہم ڈال دیں گے، اور اگر آپ ہمیں اس بات کا حکم دیں کہ ہم برک الغِمادتک اپنی سواریوں پر سفر کریں تو ہم ایسا ضرور کریں گے۔ اور اسی طرح حضرت انس ؓ کی روایت سے ’’مسنداحمد‘‘ میں اور حضرت علقمہ بن وقاص لیثی ؓ کی روایت سے ابنِ مردویہ کی کتاب میں حضرت سعد بن معاذ ؓ کا یہ قول گزر چکا ہے کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو یہ شرف بخشا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی! نہ تو میں کبھی اس راستہ پر چلاہوں اور نہ مجھے اس کا کچھ علم ہے، لیکن آپ اگر یمن کے برک ا لغماد تک جائیں گے تو ہم بھی آپ کے ساتھ ساتھ وہاں تک ضرور جائیں گے اور ہم ان لوگوں کی طرح نہیں ہوںگے جنھوں نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہہ دیاتھا: {اِذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلاَ اِنَّا ھٰھُنَا قٰـعِدُوْنَ آیت کا نشان} آپ جائیں اور آپ کاربّ جائے، آپ دونوں لڑائی کریں ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں: اِذْھَبْ أَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا إِنَّا مَعَکُمْ مُتَّبِعُوْنَ۔ آپ بھی جائیں اور آپ کا ربّ بھی جائے، آپ دونوں لڑائی کریں اور ہم بھی آپ کے ساتھ ساتھ ہیں۔ ہوسکتاہے کہ آپ تو کسی اور کام کے ارادے سے چلے ہوں اور اب اللہ تعالیٰ کچھ اور کام کروانا چاہتے ہوں۔ یعنی آپ تو قافلہ ابوسفیان کے مقابلے کے ارادے سے چلے تھے، لیکن اب اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ کافروں کے اس لشکر سے لڑاجائے۔ تو جو اللہ تعالیٰ کرواناچاہتے ہیں آپ اس کو دیکھیں اور اسے کریں۔ اس لیے اب (ہماری طرف سے آپ کو ہر طرح کا پورا اختیارہے) آپ جس سے چاہیں تعلقات بنائیں اور جس سے چاہیں تعلقات ختم کردیں، اور جس سے چاہیں دشمنی رکھیں اور جس سے چاہیں صلح کرلیں، اور ہمارا مال جتنا چاہیں لے لیں۔ چناںچہ حضرت سعد ؓ کے اس جواب پر یہ قرآن نازل ہوا: {کَمَا اَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْ بَیْتِکَ بِالْحَقِّص وَاِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکـٰـرِھُوْنَ آیت کا نشان} 1 جیسا کہ آپ کے ربّ نے آپ کے گھر (اور بستی) سے مصلحت کے ساتھ آپ کو (بدر کی طرف) روانہ کیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کو گراں سمجھتی تھی۔ اُموی نے اپنی ’’مغازی‘‘ میں اس حدیث کو ذکرکیا ہے، اور اس میں یہ مضمون مزید ہے کہ آپ ہمارا جتنا مال چاہیں لے لیں اور جتنا چاہیں ہمیں دے دیں، اور جو مال آپ ہم سے لیں گے وہ ہمیں اس سے زیادہ محبوب ہوگا جو آپ ہمارے پاس چھوڑدیںگے، اور آپ جو حکم دیں گے ہمارا معاملہ اس حکم کے تابع ہوگا۔