صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید

اللہ نے جن اعمال سے عزت دی ہے ان اعمال سے عزت تلاش کرنا

حضرت طارق بن شہاب کہتے ہیں: حضرت ابوعبیدہ بن جراح ؓ ہمارے ساتھ ملک شام میں تھے، حضرت عمر بن خطّاب ؓ وہاں تشریف لائے تھے۔ حضرت عمر کے ساتھ اور صحابہ ؓ بھی چل رہے تھے، چلتے چلتے راستہ میں پانی کا ایک گھاٹ آگیا۔ حضرت عمر ؓ اپنی اونٹنی پر سوار تھے وہ اونٹنی سے نیچے اترے اور موزے اتار کر اپنے کندھے پر رکھ لیے اور اپنی اونٹنی کی نکیل پکڑ کر اس گھاٹ میں سے گزرنے لگے، تو حضرت ابوعبیدہ ؓ نے عرض کیا: اے امیرالمؤمنین! آپ یہ کیا کررہے ہیں کہ موزے اُتارکر کندھے پر رکھ لیے ہیں اور اونٹنی کی نکیل پکڑ کر اس گھاٹ میں سے گزرنے لگے ہیں؟ مجھے اس بات سے بالکل خوشی نہیں ہوگی کہ اس شہروالے آپ کو (اس حال میں) دیکھیں۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: اوہو! اے ابوعبیدہ! اگر آپ کے علاوہ کوئی اور یہ بات کہتا تو میں اسے ایسی سخت سزا دیتا جس سے حضرت محمد ﷺ کی ساری اُمّت کو عبرت ہوتی۔ہم تو سب سے زیادہ ذلیل قوم تھے، اللہ نے ہمیں اسلام کے ذریعہ عزت عطافرمائی، اب جس اسلام کے ذریعہ اللہ نے ہمیں عزت عطافرمائی ہے ہم جب بھی اس کے علاوہ کسی اور چیز سے عزت حاصل کرناچاہیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں ذلیل کردیں گے۔ 2 حضرت طارق بن شہابکہتے ہیں: جب حضرت عمر ؓ شام پہنچے تو (شام کے) لشکر حضرت عمر ؓ کو ملنے کے لیے آئے۔ اس وقت حضرت عمر ؓ نے چادر باندھی ہوئی تھی اور موزے پہنے ہوئے تھے اور پگڑی باندھی ہوئی تھی اور اپنے اونٹ کی نکیل پکڑ کر پانی میں سے گزر رہے تھے، تو حضرت عمر ؓ سے ایک آدمی نے کہا: اے امیرالمؤمنین! (شام کے) لشکر اور شام کے جرنیل آپ سے ملنے کے لیے آئے ہیں اور آپ کا یہ حال ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: ہمیں اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعہ سے عزت دی ہے، لہٰذا ہم اسلام کے علاوہ کسی اور چیز میں عزت تلاش نہیں کرسکتے۔ 1 حضرت طارق بن شہاب کہتے ہیں: حضرت ابوعبیدہ بن جراح ؓ نے حضرت عمر ؓ کی خدمت میں عرض کیا: اے امیرالمؤمنین! آپ نے تو ایسا کام کردیاہے جو اس علاقہ والوں کے نزدیک بہت بڑا (یعنی بڑے عیب والا) کام ہے۔ آپ نے اپنے موزے اُتار دیے ہیں اور اپنی سواری (سے نیچے اُترکر اس) کی نکیل پکڑ رکھی ہے اور بے تکلف گھاٹ میں گھس گئے ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے حضرت ابوعبیدہ ؓ کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا: او ہو! اے ابوعبیدہ! کاش یہ بات تمہارے علاوہ کوئی اور کہتا! تمہاری تعداد لوگوں میں سب سے کم تھی اور تم لوگوں میں سب سے زیادہ ذلیل تھے اللہ نے اسلام کے ذریعہ تمھیں عزت عطا فرمائی، تو اب جب بھی تم اسلام کے علاوہ کسی اور چیز میں عزت تلاش کروگے اللہ تمھیں ذلیل کردیں گے۔ 2 حضرت قیس کہتے ہیں: جب حضرت عمر ؓ شام تشریف لائے تو وہ اونٹ پر سوار تھے۔ تمام لوگ ان کے استقبال کے لیے باہر آئے۔ لوگوں نے کہا: یہاں کے بڑے اور ممتاز لوگ آپ سے ملنے آئیںگے، اس لیے اچھا یہ ہے کہ آپ ترکی گھوڑے پر سوار ہوجائیں۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: بالکل نہیں۔ پھر آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: تم لوگ عزت یہاں سے یعنی زمین کے سامان سے سمجھتے ہو، حالاںکہ عزت تو وہاں سے (یعنی اللہ کے دینے سے) ملتی ہے، میرے اونٹ کا راستہ چھوڑدو۔ 1 حضرت ابوالغالیہ شامیکہتے ہیں: جب حضرت عمر بن خطاب ؓ بیتُ المقدس کے راستے میں جابیہ شہر میں پہنچے تو وہ ایک خاکی اونٹ پر سوار تھے اور ان کے سرکاوہ حصہ دھوپ میں چمک رہاتھا جہاں سے بال اُتر گئے تھے۔ ان کے سر پر نہ ٹوپی تھی اور نہ پگڑی۔ اور رکاب نہ ہونے کی وجہ سے ان کے دونوں پائوں کجاوے کے دونوں طرف ہل رہے تھے۔ انبجان شہر کی اونی چادر اونٹ پر ڈالی ہوئی تھی۔ جب اونٹ پر سوار ہوتے تو اسے اونٹ پر ڈال لیتے اور جب نیچے اتر تے تو اسے بچھونابنالیتے۔ اور ان کا تھیلا ایک دھاری دار چادر تھی جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ جب سوار ہوتے تو اسے تھیلا بنالیتے اور جب سواری سے اترتے تو اسے تکیہ بنالیتے اور انھوں نے دھاری دار کھدر کا کرتا پہناہوا تھا جس کا ایک پہلو پھٹا ہواتھا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: میرے پاس قوم کے سردار کو بلاکر لائو۔ لوگ وہاں کے پادریوں کے سردار کو بلاکرلائے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: میرے اس کرتے کو سی کر دھو دو اور اتنی دیر کے لیے کوئی کپڑا یا کرتا عاریتاً دے دو۔ وہ پادری کتان کپڑے کا کرتا لے آیا۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا: یہ کون سا کپڑاہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ کتان ہے۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا: کتان کپڑا کیاہوتاہے؟ لوگوں نے اس کپڑے کی تفصیل بتائی۔ حضرت عمر ؓ نے اپنا کرتا اُتارکر اسے دیا، اس نے اس میں پیوند لگایا اور دھوکر لے آیا۔ حضرت عمر ؓ نے ان کا جو کرتا پہن رکھا تھا وہ اتار کر انھیں دے دیا اور اپنا کرتا پہن لیا۔ اس پادری نے حضرت عمر ؓ سے کہا: آپ عربوں کے بادشاہ ہیں، ہمارے اس علاقہ میں اونٹ کی سواری ٹھیک نہیں (اور نہ آپ کا یہ کرتا ٹھیک ہے)، اس لیے اگر آپ کسی اور اچھے کپڑے کا کرتا پہن لیں اور ترکی گھوڑے کی سواری کریں اس سے رومیوں کی نگاہ میں آپ کی قدر و منزلت بڑھ جائے گی۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: ہم لوگوں کو اللہ نے اسلام کے ذریعے عزت عطافرمائی ہے، لہٰذا اللہ کے (دین کے) علاوہ کسی اور کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس کے بعد ان کی خدمت میں ایک ترکی گھوڑا لایا گیا، اس پر کاٹھی اور کجاوے کے بغیر ہی ایک موٹی چادر ڈال دی گئی، وہ اس پر سوار ہوئے۔ (وہ گھوڑا کڑکر چلنے لگاتو) حضرت عمر ؓ نے فرمایا: اسے روکو، اسے روکو (کیوںکہ یہ شیطان کی طرح چل رہاہے)۔ اس سے پہلے میں نے لوگوں کو شیطان پر سوار ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پھر ان کا اونٹ لایا گیا اور وہ گھوڑے سے اتر کر اسی پر سوار ہوگئے۔ 1