صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
صحابۂ کرام ؓ کا حضورﷺ کو خواب میں دیکھنا
(حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں:) حضرت ابوموسیٰ اَشعری ؓ نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک ایسی جگہ ہوں جہاں بہت سے راستے ہیں۔ پھر سارے راستے ختم ہوگئے اور صرف ایک راستہ رہ گیا۔ میں نے اس پر چلنا شروع کردیا اور چلتے چلتے ایک پہاڑ پر پہنچ گیا جس کے اوپر حضورﷺ تشریف فرماتھے، اور ان کے پاس حضرت ابوبکر ؓ بیٹھے ہوئے تھے، اور حضورﷺ حضرت عمر ؓ کو اشارہ فرمارہے تھے کہ یہاں آجائو۔ یہ خواب دیکھ کر میں نے کہا : إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔اللہ کی قسم! امیرالمؤمنین (حضرت عمر ؓ) کے انتقال کا وقت آگیاہے۔ حضرت انس کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ یہ خواب حضرت عمر ؓ کو نہیں لکھ دیتے؟ انھوں نے فرمایا: میں خود ان کو ان کی موت کی خبر کیوں دوں؟ 1
حضرت کثیر بن صَلْت کہتے ہیں: جس دن حضرت عثمان بن عفان ؓ شہید ہوئے اس دن وہ سوئے اور اٹھنے کے بعد فرمایا: اگر لوگ یہ نہ کہیں کہ عثمان فتنہ پیدا کرنا چاہتا ہے تو میں آپ لوگوں کو ایک بات بتائوں؟ ہم نے کہا: آپ ہمیں بتادیں ہم وہ بات نہیں کہیں گے جس کا دوسرے لوگوں سے خطرہ ہے۔ انھوں نے فرمایا: میں نے ابھی خواب میں حضور ﷺ کو دیکھا، آپ نے مجھ سے فرمایا: تم اس جمعہ میں ہمارے پاس پہنچ جائو گے۔ ابنِ سعد کی روایت میں یہ بھی ہے کہ یہی جمعہ کا دن تھا۔ 2
حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں: صبح کے وقت حضرت عثمان ؓ نے فرمایا: آج رات میں نے نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے عثمان! ہمارے پاس اِفطاری کرنا۔ چناںچہ اس دن حضرت عثمان ؓ نے روزہ رکھا اور اسی دن ان کو شہید کردیا گیا۔ 3
حضرت عثمان بن عفان ؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت مسلم ابوسعید ؓ کہتے ہیں: حضرت عثمان ؓ نے بیس غلام آزاد کیے اور شلوار منگواکر اسے پہنا اور اسے اچھی طرح باندھ لیا، حالاںکہ انھوں نے اس سے پہلے نہ جاہلیت میں شلوار پہنی تھی اور نہ اسلام میں۔ اور فرمایا: گزشتہ رات میں نے حضورﷺکو اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ کو خواب میں دیکھا۔ ان حضرات نے مجھ سے فرمایا: صبر کرو، کیوںکہ تم کل رات ہمارے پاس آکر اِفطار کروگے۔ پھر قرآن شریف منگوایا اور کھول کر اپنے سامنے رکھ لیا۔ چناںچہ جب وہ شہید ہوئے تو قرآن اسی طرح ان کے سامنے تھا۔ 1
حضرت حسن یا حضرت حسین ؓ فرماتے ہیں: حضرت علی ؓ نے فرمایا: خواب میں مجھے میرے محبوب یعنی نبی کریم ﷺ ملے۔ میں نے حضورﷺ سے ان کے بعد عراق والوں کی طرف سے پیش آنے والی تکلیفوں کی شکایت کی تو آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا کہ عن قریب تمھیں ان سے راحت مل جائے گی۔ چناںچہ اس کے بعد حضرت علی ؓ صرف تین دن ہی زندہ رہے۔ 2
حضرت ابو صالح کہتے ہیں: حضرت علی ؓ نے فرمایا: میں نے خواب میں نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو میں نے آپ سے آپ کی اُمت کی شکایت کی کہ وہ مجھے جھٹلاتے ہیں اور تکلیف پہنچاتے ہیں، پھر میں رونے لگا۔ آپ نے فرمایا: مت روئو اور ادھر دیکھو! میں نے ادھر دیکھا تو مجھے دو آدمی نظر آئے جو بیڑیوں میں بندھے ہوئے تھے۔ (بظاہر یہ حضرت علی ؓ کا قاتل ابنِ ملجم اور اس کا ساتھی ہوگا) اور بڑے بڑے پتھر ان دونوں کے سر پر مارے جارہے تھے جس سے ان کے سر ریزہ ریزہ ہوجاتے پھر سر ٹھیک ہوجاتے (یوں ہی ان دونوں کو مسلسل عذاب دیاجارہاتھا)۔ حضرت ابوصالح کہتے ہیں: میں اگلے دن اپنے روزانہ کے معمول کے مطابق صبح کے وقت گھر سے حضرت علی ؓ کی طرف چلا۔ جب میں قصائیوں کے محلے میں پہنچا تو مجھے کچھ لوگ ملے جنھوں نے بتایا کہ امیرالمؤمنین کو شہید کریاگیا۔ 3
حضرت فِلْفِلَہ جُعْفی کہتے ہیں: میں نے حضرت حسن بن علی ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ نبی کریم ﷺ عرش سے چمٹے ہوئے ہیں اور حضرت ابوبکر ؓ حضور ﷺ کی کمر کو پکڑے ہوئے ہیں اور حضرت عمر ؓ حضرت ابوبکر ؓ کی کمر پکڑے ہوئے ہیں اور حضرت عثمان ؓ حضرت عمر کی کمر کو پکڑے ہوئے ہیں۔ اور میں نے دیکھا کہ آسمان سے زمین پر خون گر رہاہے۔ جب حضرت حسن ؓ نے یہ خواب سنایا تو وہاں کچھ شیعہ لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے پوچھا: کیا آپ نے حضرت علی ؓ کو خواب میں نہیں دیکھا؟ حضرت حسن نے فرمایا: مجھے سب سے زیادہ تو یہی پسند ہے کہ میں حضرت علی کو حضور ﷺ کی کمر پکڑے ہوئے دیکھتا، لیکن کیا کروں میں نے خواب میں دیکھاہی وہی ہے جو میں نے آپ لوگوں کو سنایاہے۔ آگے اور بھی حدیث ہے۔ 1
حضرت حسن ؓ نے فرمایا: اے لوگو! میں نے آج رات عجیب خواب دیکھا۔ میںنے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر ہیں، اتنے میں حضورﷺ تشریف لائے اور آکر عرش کے ایک پائے کے پاس کھڑے ہوگئے۔ پھر حضرت ابوبکر ؓآئے اور آکر حضورﷺ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہوگئے۔ پھر حضرت عمر ؓ آئے اور حضرت ابوبکر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہوگئے۔ پھر حضرت عثمان ؓ آئے اور انھوں نے ہاتھ سے اشارہ کرکے عرض کیا: اے میرے ربّ! اپنے بندوں سے پوچھ انھوں نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا؟ اس کے بعد آسمان سے زمین کی طرف خون کے دو پَرنالے بہنے لگے۔ جب حضرت حسن خواب بیان کرچکے تو کسی نے حضرت علی ؓ سے کہا: کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ حضرت حسن کیا بیان کررہے ہیں؟ حضرت علی نے فرمایا: جو انھوں نے خواب میں دیکھا ہے وہی بیان کررہے ہیں۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت حسن ؓ نے فرمایا: اس خواب کو دیکھنے کے بعد اب میں کسی جنگ میں شرکت نہیں کروںگا۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت حسن ؓ نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ حضرت عثمان ؓنے حضرت عمر ؓ پر اپنا ہاتھ رکھا ہوا تھا، میں نے ان حضرات کے پیچھے بہت سا خون دیکھا، میں نے پوچھا: یہ خون کیاہے؟ کسی نے جواب میں کہا: یہ حضرت عثمان کا خون ہے جس کا وہ اللہ سے مطالبہ کررہے ہیں۔1
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: میں نے دوپہر کے وقت حضورﷺ کو خواب میں دیکھا کہ آپ کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور آپ پر گردوغبار پڑاہواہے اور آپ کے ہاتھ میں ایک شیشی ہے۔ میں نے پوچھا: یہ شیشی کیسی؟ آپ نے فرمایا: اس میں حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے جسے میں صبح سے جمع کررہا ہوں۔ پھر ہم نے دیکھاتو واقعی حضرت حسین ؓ اسی دن شہید ہوئے تھے۔ 2
ابنِ عبد البر کی روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ کے ہاتھ میں ایک شیشی ہے جس میں خون ہے۔