صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
صحابۂ کرام ؓ کا ایک دوسرے کو خواب میں دیکھنا
حضرت عباس بن عبدالمطّلب ؓ فرماتے ہیں: میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کا پڑوسی تھا، میں نے ان سے بہتر کبھی کوئی آدمی نہیں دیکھا۔ رات بھر نماز پڑھتے اور دن بھر روزہ رکھتے اور لوگوں کے کاموں میں لگے رہتے۔ جب ان کا انتقال ہواتو میں نے اللہ سے دعاکی کہ وہ مجھے خواب میں حضرت عمر کی زیارت کرادے۔ چناںچہ میں نے انھیں خواب میں دیکھا کہ وہ کندھے پر چادر ڈالے ہو ئے مدینہ کے بازار سے آرہے ہیں۔ میں نے انھیں سلام کیا انھوں نے میرے سلام کا جواب دیا۔ میں نے پوچھا: کیا حال ہے؟ فرمایا: خیریت ہے۔ پھر میں نے پوچھا: آپ نے کیا پایا؟ فرمایا: اب حساب سے فارغ ہوا ہوں۔ اگر میں رحم کرنے والے ربّ کو نہ پاتا تو میرا وقار گرجاتا۔ 3
حضرت عباس ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر ؓ میرے بڑے گہرے دوست تھے۔ جب ان کا انتقال ہوا تو میں سال بھر اللہ سے دعاکرتارہا کہ اللہ تعالیٰ خواب میں حضرت عمر ؓ کی زیارت کرادے۔ آخر سال گزرنے کے بعد میں نے انھیں خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے پیشانی سے پسینہ پونچھ رہے ہیں۔ میں نے کہا: اے امیرالمؤمنین! آپ کے ربّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ انھوں نے کہا: اب میں (حساب سے) فارغ ہوا ہوں، اگر میرا ربّ شفقت اور مہربانی کا معاملہ نہ کرتاتو میری عزت اور وقار سب گرجاتا۔ 1
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: میں نے ایک سال اللہ سے دعاکی کہ مجھے خواب میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کی زیارت کرادے۔ چناںچہ میں نے انھیں خواب میں دیکھاتو میں نے عرض کیا: آپ کے ساتھ کیاہوا؟ فرمایا: بڑے شفیق اور نہایت مہربان ربّ سے واسطہ پڑا۔ اگر میرے ربّ کی رحمت نہ ہوتی تو میری عزت خاک میں مل جاتی۔ 2
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: مجھے اس بات کا بہت شوق تھا کہ مجھے کسی طرح یہ پتا چل جائے کہ مرنے کے بعد حضرت عمر ؓ کے ساتھ کیاہوا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور میں نے خواب میں ایک محل دیکھا۔ میں نے پوچھا: یہ کس کا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کا ہے۔ اتنے میں حضرت عمر محل سے باہر تشریف لائے، انھوں نے چادر اوڑھی ہوئی تھی، ایسے لگ رہاتھا کہ ابھی غسل کرکے آئے ہوں۔ میں نے پوچھا: آپ کے ساتھ کیسا معاملہ ہوا؟ فرمایا: اچھا معاملہ ہوا اگر میرا ربّ بخشنے والا نہ ہوتا تو میری عزت خاک میں مل جاتی۔ پھر حضرت عمر ؓ نے پوچھا: آپ لوگوں سے جدا ہوئے مجھے کتنا عرصہ ہوگیا ہے؟ میں نے کہا: بارہ سال۔ فرمایا: اب میں حساب سے چھوٹا ہوں۔ 3
حضرت سالم بن عبداللہ کہتے ہیں: میں نے ایک انصاری صحابی کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اللہ سے دعاکی کہ مجھے خواب میں حضرت عمر ؓ کی زیارت کرادے۔ میں نے دس سال کے بعد انھیں خواب میں دیکھا کہ پیشانی سے پسینہ پونچھ رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا: اے امیرالمؤمنین! آپ کا کیا بنا؟ فرمایا: اب میں حساب سے فارغ ہواہوں۔ اگر میرے ربّ کی مہربانی نہ ہوتی تو میں ہلاک ہو جاتا۔ 4
حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ فرماتے ہیں: حج سے واپسی پر میں (مکہ اور مدینہ کے درمیان) سُقْیا مقام پر سو رہا تھا، میں نے خواب میں حضرت عمر ؓ کو دیکھا کہ چلتے ہوئے میرے پاس آئے اور (میری بیوی) حضرت اُمّ کلثوم بنت عُقبہ ؓ میرے پہلو میں سورہی تھی۔ حضرت عمر نے آکر اسے پائوں سے ہلاکر جگایا، پھر وہ پیٹھ پھیر کر چل دیے۔ لوگ ان کی تلاش میں چل پڑے۔ میں نے اپنے کپڑے منگواکر پہنے اور میں بھی لوگوں کے ساتھ انھیں ڈھونڈ نے لگا اور سب سے پہلے میں ان تک پہنچا، لیکن اللہ کی قسم! انھیں ڈھونڈ نے میں میں بے حد تھک گیا۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم اے امیرالمؤمنین! آپ نے تو لوگوں کو مشقت میں ڈال دیا۔ جب تک کوئی تھک نہ جائے اس وقت تک وہ آپ کو ڈھونڈ نہیں سکتا۔ اللہ کی قسم! جب میں اچھی طرح تھک گیا تب آپ مجھے ملے۔ انھوں نے فرمایا: میرے خیال میں میں تو کوئی خاص تیز نہیں چلا۔ (یہاں تک تو خواب ہے اس کے بعد حضرت عبدالرحمن ؓ فرماتے ہیں:) اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں عبدالرحمن کی جان ہے! یہ حضرت عمر ؓ کا سب سے آگے نکل جانا ان کے اعمال کی وجہ سے ہے۔ 1
حضرت عبداللہ بن سلام ؓ فرماتے ہیں: حضرت سلمان ؓ نے مجھ سے کہا: اے میرے بھائی! ہم دونوں میں سے جو پہلے مرجائے وہ اس بات کی کوشش کرے کہ جو ساتھی دنیا میں رہ گیا ہے وہ جانے والا اسے خواب میں نظر آئے۔ میں نے کہا: کیا ایسے ہوسکتاہے؟ حضرت سلمان نے کہا: ہاں کیوںکہ مؤمن کی روح آزاد رہتی ہے، زمین پر جہاں چاہے چلی جاتی ہے اور کافر کی روح قید میں ہوتی ہے۔ چناںچہ حضرت سلمان کا پہلے انتقال ہوگیا۔ ایک دن دوپہر کو میں اپنی چار پائی پر سونے کے لیے لیٹا ابھی مجھے ہلکی سی نیند آئی تھی کہ ایک دم خواب میں حضرت سلمان آگئے۔ انھوں نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔ میں نے کہا: اے ابو عبداللہ! اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ آپ کو کیسا ٹھکانا ملا؟ فرمایا: بہت عمدہ۔ اور توکّل کو لازم پکڑے رہنا، کیوںکہ توکل بہت عمدہ چیز ہے۔ توکل کو لازم پکڑے رہنا، کیوںکہ توکل بہت عمدہ چیز ہے۔ توکل کو لازم پکڑے رہنا، کیوںکہ توکّل بہت عمدہ چیز ہے۔2
ابو نُعَیم کی روایت میں اس طرح ہے کہ پھر حضرت سلمان ؓ کا پہلے انتقال ہوگیا تو حضرت عبداللہ بن سلام ؓ نے انھیں خواب میں دیکھا۔ ان سے پوچھا: اے ابوعبداللہ! آپ کا کیا حال ہے؟ حضرت سلمان نے کہا: خیریت ہے۔ حضرت عبداللہ نے پوچھا: آپ نے کون سے عمل کو سب سے اَفضل پایا؟ حضرت سلمان نے فرمایا: میں نے توکّل کو عجیب چیز پایا۔ 1
حضرت عوف بن مالک ؓ فرماتے ہیں: میں نے خواب میں کھال کا خیمہ اور سبز چراگاہ دیکھی اور خیمے کے ارد گرد بکریاں بیٹھی ہوئی تھیں جو جگالی کررہی تھیں اور مینگنی کی جگہ عجوہ کھجوریں نکل رہی تھیں۔ میں نے پوچھا: یہ خیمہ کس کا ہے؟ کسی نے بتایا: حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کا ہے۔ چناںچہ ہم لوگوں نے کچھ دیر انتظار کیا، پھر حضرت عبدالرحمن ؓ خیمہ سے باہر تشریف لائے اور فرمایا: یہ سب کچھ ہم کو اللہ نے قرآن کی وجہ سے دیاہے، لیکن اگر تم اس گھاٹی سے پرلی طرف جھانکوتو تمھیں ایسی نعمتیں نظر آئیں گی جنھیں تمہاری آنکھ نے کبھی دیکھا نہیں اور تمہارے کان نے کبھی سنا نہیں اور جن کا خیال بھی تمہارے دل میں نہیں آیا ہوگا۔ یہ نعمتیں اللہ نے حضرت ابوالدرداء ؓ کے لیے تیار کی ہیں، کیوںکہ وہ دونوں ہاتھوں اور سینے سے دنیا کو دھکے دیا کرتے تھے (بڑے زاہد تھے)۔ 2
امام واقدی کے اساتذہ حضرات فرماتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام ؓ نے فرمایا: میں نے جنگِ اُحد سے پہلے خواب میں حضرت مبشر بن عبد المنذر ؓ کو دیکھا، وہ مجھ سے کہہ رہے ہیں: تم چند دنوں میں ہمارے پاس آنے والے ہو۔ میں نے پوچھا: آپ کہاں ہیں؟ فرمایا:ہم جنت میں ہیں اور جہاں چاہتے ہیں جاکر چر لیتے ہیں۔ میں نے کہا: کیا آپ جنگِ بدر کے دن قتل نہیں ہوئے تھے؟ فرمایا: ہاں قتل تو ہوا تھا، لیکن پھر زندہ ہوگیا۔ میں نے جاکر یہ خواب حضورﷺ کی خدمت میں عرض کیا تو فرمایا: اے ابو جابر! اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ تمھیں (جنگِ اُحد میں) شہادت کا درجہ ملے گا۔ 3