صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
صحابۂ کرام ؓ کے قتل ہونے پر جنّات کا نوحہ کرنا
حضرت مالک بن دینار کہتے ہیں: جب حضرت عمر بن خطّاب ؓ کو شہید کیاگیا تو یمن کے تبالہ پہاڑ پر ایک آواز سنی گئی کہ کسی نے یہ دوشعر پڑھے:
لَبَّیْکَ عَلَی الإِسْلَامِ مَنْ کَانَ بَاکِیًا
فَقَدْ أَوْشَکُوْا ھَلْکـٰی وَمَا قَدُمَ الْعَھْدُ
وَأَدْبَرَتِ الدُّنْیَا وَأَدْبَرَ خَیْرُھَا
وَقَدْ مَلَّھَا مَنْ کَانَ یُوْقِنُ بِالْوَعْدٖ
اسلام پر جس نے رونا ہے وہ رولے، کیوںکہ سب لوگ ہلاگ ہوگئے حالاںکہ ابھی اسلام کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ اور دنیا اور دنیا کی خیر نے پیٹھ پھیرلی ہے اور جو آخرت کے وعدوں پر یقین رکھتاہے اس کا دل دنیا سے اُکتاگیاہے۔
لوگوں نے اِدھر اُدھر بہت دیکھا، لیکن انھیں پہاڑ پر کوئی بولنے والا نظر نہ آیا (کیوںکہ یہ اشعار جنّ نے پڑھے تھے)۔2
حضرت عائشہؓفرماتی ہیں کہ میں نے رات کے وقت کسی کو ان اشعار کے ذریعہ حضرت عمر ؓ کی وفات کی خبر دیتے ہوئے سنا اور مجھے یقین ہے کہ وہ خبر دینے والا انسان نہیں تھا (بلکہ جنّ تھا):
جَزَی اللّٰہُ خَیْْرًا مِّنْ أَمِیْرٍ وَّبَارَکَتْ
یَدُ اللّٰہِ فِيْ ذَاکَ الْأَدِیْمِ الْمُمَزَّقٖ
فَمَنْ یَّمْشِ أَوْ یَرْکَبْ جَنَاحَيْ نَعَامَۃٍ
لِیُدْرِکَ مَا قَدَّمْتَ بِالْأَمْسِ یُسْبَقٖ
قَضَیْتَ أُمُوْرا ثُمَّ غَادَرْتَ بَعْدَھَا
بَوَائِقَ فِيْ أَکْمَامِھَا لَمْ تُفَتَّقٖ
اللہ تعالیٰ امیر المؤمنین کو جزائے خیر عطا فرمائے اور اللہ اپنی قدرت سے اس کھال میں برکت عطافرمائے جس کو ٹکڑے کردیاگیا۔ (اے امیر المؤمنین!)آپ جوکارنامے سرانجام دے گئے ہیں ان تک پہنچنے کے لیے کوئی تھوڑی محنت کرے یا زیادہ وہ کبھی بھی ان تک نہیں پہنچ سکتا بلکہ پیچھے رہ جائے گا۔بہت بڑے کام تو آپ پورے کرگئے، لیکن ان کے بعد ایسی مصیبتیں چھوڑ گئے جوایسی کلیوں میں ہیں جو ابھی پھوٹی نہیں۔ 1
حضرت سلیمان بن یسار کہتے ہیں: ایک جنّ نے حضرت عمر ؓ پر نوحہ کرتے ہوئے اشعار پڑھے:
عَلَیْکَ سَلَامٌ مِّنْ أَمِیْرٍ وَّبَارَکَتْ
یَدُ اللّٰہِ فِيْ ذَاکَ الْأَدِیْمِ الْمُخَرَّقٖ
اے امیرالمؤمنین! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ اپنی قدرت سے اس کھال میں برکت عطافرمائے جس کو پھاڑ دیاگیا۔
قَضَیْتَ أُمُوْرا ثُمَّ غَادَرْتَ بَعْدَھَا
بَوَائِقَ فِيْ أَکْمَامِھَا لَمْ تُفَتَّقٖ
فَمَنْ یَّسْعَ أَوْ یَرْکَبْ جَنَاحَيْ نَعَامَۃٍ
لِیُدْرِکَ مَا قَدَّمْتَ بِالْأَمْسِ یُسْبَقٖ
ان دونوں شعروں کا ترجمہ گزرچکاہے۔
أَبْعَدَ قَتِیْلٍ بِالْمَعِیْنَۃِ أَظْلَمَتْ
لَہُ الْأَرْضُ تَھْتَزُّ الْعِضَاہُ بِأَسْوُقٖ
وہ شخصیت جن کے قتل ہونے کی وجہ سے ساری زمین تاریک ہوگئی ہے، کیا ان کے قتل ہونے کے بعد کیکر کے درخت اپنے تنوں پر لہلہارہے ہیں؟یعنی نہیں ،بلکہ یہ درخت بھی ان کی شہادت پر افسردہ ہیں اور انھوں نے لہلہانا چھوڑدیا ہے۔ 2
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ کے انتقال کے تین دن بعد جنات نے یہ اشعار پڑھ کر ان کی شہادت پر نوحہ کیا۔ اور پھر یہی پچھلے چار شعر دوسری ترتیب سے ذکر کیے اور پھر پانچواں شعر یہ ذکر کیا:
فَلَقَّاکَ رَبِّيْ فِيْ الْجِنَانِ تَحِیَّۃً
وَمِنْ کِسْوَۃِ الْفِرْدَوْسِ مَا لَمْ یُمَزَّقٖ
میراربّ آپ کو جنتوں میں سلام پہنچائے اور آپ کو جنت الفردوس کے ایسے کپڑے پہنائے جوکبھی نہیں پھٹیں گے۔ 1
حضرت اُمّ سلمہؓ فرماتی ہیں: میں نے جنات کو حضرت حسین بن علی ؓ پر نوحہ کرتے ہوئے سنا ہے۔ 2
ایک مرتبہ حضرت اُمّ سلمہؓنے فرمایا: جب سے حضورﷺ کا انتقال ہوا ہے میں نے کبھی بھی جنّ کو کسی کے مرنے پر نوحہ کرتے ہوئے نہیں سنا، لیکن آج رات میں نے سناہے اور میرا خیال یہ ہے کہ میرا بیٹا (حضرت حسین ؓ) فوت ہوگیاہے۔ چناںچہ انھوں نے اپنی باندی سے کہا: باہر جا اور پتا کرکے آ۔ چناںچہ باندی نے آکر بتایا کہ واقعی حضرت حسین ؓ شہید ہوگئے ہیں۔ پھر حضرت اُمّ سلمہؓنے بتایا کہ ایک جنّی یہ شعر پڑھ کر نوحہ کررہی تھی:
أَلَا یَا عَیْنُ فَاحْتَفِلِيْ بِجَھْدِيْ
وَمَنْ یَبْکِيْ عَلَی الشُّھَدَائِ بَعْدِيْ
عَلٰی رَھْطٍ تَقُوْدُھُمُ الْمَنَایَا
إِلٰی مُتَجَبِّرٍ فِيْ مُلْکِ عَبْدٖ
اے آنکھ! غورسے سن! اور میں جو رونے کی کوشش اور محنت کررہی ہوں اس کا اہتمام کر میں اگر نہیں روئوں گی تو میرے بعد شُہَدا پر کون روئے گا؟ شُہدا کی وہ جماعت جن کو موت کھینچ کر ایسے ظالم اور جابر انسان کے پاس لے گئی (یعنی عبیداللہ بن زیاد) جوکہ ایک غلام یعنی یزید کی بادشاہت میں فوج کا سپہ سالارہے۔ 3
حضرت میمونہؓفرماتی ہیں: میں نے جنّات کو حضرت حسین بن علی ؓ پر نوحہ کرتے ہوئے سنا۔ 4