صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید

صحابۂ کرام ؓ کی دعائوں سے بارش کا ہونا

بخاری میں ہے کہ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: ایک دفعہ جمعہ کے دن حضورﷺ کھڑے ہوئے خطبہ دے رہے تھے۔ منبر کے سامنے ایک دروازہ تھا اس سے ایک آدمی داخل ہوا اور آکر حضورﷺ کے سامنے کھڑاہوگیا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! سارے جانور ہلاک ہوگئے (کیوںکہ بہت دنوں سے بارش نہیں ہوئی)، اور خشک سالی اور پانی کی کمی کی وجہ سے سارے راستے بند ہوگئے، لوگوں نے سفر کرنا چھوڑ دیا، اس لیے آپ اللہ سے دعاکریں کہ اللہ ہمیں بارش دے دے۔ آپ نے اسی وقت دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعافرمائی: اے اللہ! ہمیں بارش دے دے۔ اے اللہ! ہمیں بارش دے دے۔ اے اللہ! ہمیں بارش دے دے۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! ہمیں آسمان میں بادل وغیرہ کچھ نظر نہیں آرہا تھا، اور ہمارے اور سلع پہاڑ کے درمیان کوئی مکان یا گھر وغیرہ بھی نہیں تھا یعنی مطلع نظر آنے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی، اور مطلع بالکل صاف تھا کہ اتنے میں سلع پہاڑ کے پیچھے سے ڈھال جتنا ایک بادل نمودار ہوا جو آسمان کے بیچ میں پہنچ کر پھیل گیا اور برسنے لگا اور پھر مسلسل بارش ہوتی رہی۔ اللہ کی قسم! ہم نے چھ دن تک سورج ہی نہیں دیکھا یہاں تک کہ اگلا جمعہ آگیا اور حضورﷺ کھڑے ہوکر خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دروازے سے ایک آدمی داخل ہوا اور حضورﷺ کے سامنے کھڑے ہوکر کہنے لگا:یارسول اللہ! بارش اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ سارے جانور ہلاک ہوگئے، سارے راستے بند ہوگئے، آپ اللہ سے دعاکریں کہ وہ بارش روک لے۔ حضورﷺ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی: اے اللہ! اردگرد بارش ہو، ہم پر بارش نہ ہو۔ اے اللہ! ٹیلوں، پہاڑیوں، پہاڑوں، درخت اور گھاس کے اُگنے کی جگہ پر بارش ہو۔ چناںچہ اسی وقت بارش رک گئی اور مسجد سے باہر نکلے تو ہم دھوپ میں چل رہے تھے۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ میں نے دیکھا کہ بادل پھٹ کر دائیں بائیں چلاگیا اور سب جگہ تو بارش ہوتی تھی مدینہ میں نہیں ہوتی تھی۔ بخاری کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ حضورﷺ نے دعاکے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہمیں آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نظر نہیں آرہاتھا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! ابھی حضورﷺ نے ہاتھ نیچے نہیں کیے تھے کہ ایک دَم آسمان پر پہاڑوں جیسے بادل چھاگئے اور آپ منبر سے نیچے نہیں اُترے تھے کہ میں نے بارش کا پانی حضورﷺ کی ڈاڑھی سے ٹپکتے ہوئے دیکھا۔ 1 حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر ؓفرماتے ہیں: ایک دفعہ حضورﷺ جمعہ کے دن لوگوں میں خطبہ دے رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: اے اللہ! ہمیں بارش دے دے۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! کھجوریں کھلیانوں میں پڑی ہوئی ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے اللہ! جب تک ابولبابہ کپڑے اُتارکر اپنے کھلیان کا نالہ اپنی لنگی سے بند نہ کرے اس وقت تک تو ہم پر بارش برساتا رہ۔ اس وقت ہمیں آسمان میں کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا، لیکن تھوڑی ہی دیر میں زبردست بارش ہوئی تو حضرات انصارنے مجھے گھیر لیا اور کہنے لگے: اس وقت تک بارش نہیں رکے گی جب تک کہ آپ وہ کام نہ کرلیں جو حضورﷺ نے فرمایاتھا۔چناںچہ میں اٹھا اور کپڑے اُتار کر اپنی لنگی سے اپنے کھلیان کا نالہ بند کیا تو بارش رکی۔ 2 جلداوّل صفحہ ۴۳۱ پر مشقتیں برداشت کرنے کے باب میں حضرت عمر ؓ کی حدیث گزر چکی ہے، جس میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے (اور اللہ سے دعامانگی) اور ابھی ہاتھ نیچے نہیں کیے تھے کہ آسمان میں بادل آگئے، پہلے بوندا باندی ہوئی، پھر موسلادھار بارش شروع ہوگئی۔ صحابۂ کرام ؓ نے جتنے برتن ساتھ تھے وہ سارے بھر لیے، پھر بارش (بند ہونے کے بعد) ہم دیکھنے گئے(کہ کہاں تک بارش ہوئی ہے) تو دیکھا کہ جہاں تک لشکر تھا صرف وہاں تک بارش ہوئی ہے لشکر کے باہر بارش نہیں ہوئی۔ 3 حضرت عباس بن سہل ؓ فرماتے ہیں: جب صبح ہوئی تو لوگوں کے پاس پانی بالکل نہیں تھا۔ لوگوں نے حضورﷺ سے شکایت کی۔ آپ نے اللہ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت ایک بادل بھیجا جو خوب زور سے برسا یہاں تک کہ لوگ سیراب ہوگئے اور انھیں جتنے پانی کی ضرورت تھی وہ بھی انھوں نے برتنوں میں ساتھ لے لیا۔ 1 حضرت خو ّات بن جبیر ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر ؓ کے زمانے میں بڑا سخت قحط پڑاتو حضرت عمر لوگوںکو لے کر شہر سے باہر گئے اور انھیں دو رکعت نمازِ اِستسقا پڑھائی، اور اپنی چادر کے دونوں کناروں کو بدلا دائیں کو بائیں اور بائیں کو دائیں طرف کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر یہ دعاکی: اے اللہ! ہم تجھ سے معافی مانگتے ہیں اور تجھ سے بارش مانگتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ کے اس جگہ سے ہٹنے سے پہلے ہی بارش شروع ہو گئی اور خوب بارش ہوئی۔ کچھ دنوں کے بعد دیہاتی لوگوں نے آکر حضرت عمر ؓ کی خدمت میں عرض کیا: اے امیرالمؤمنین! فلاں دن فلاں وقت ہم اپنے کھیت اور جنگلوں میں تھے کہ اچانک بادل ہمارے سروں پر آگئے۔ ہم نے ان میں سے یہ آوازسنی: اے ابوحفص! (یہ حضرت عمر ؓ کی کنیت ہے) آپ کے پاس مدد آگئی۔ اے ابو حفص! آپ کے پاس مدد آگئی۔ 2 حضرت مالک الدار کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ کے زمانہ میں زبردست قحط پڑا۔ ایک آدمی نے حضورﷺ کی قبرِ اَطہر پر حاضر ہوکر عرض کیا: یا رسول اللہ! اپنی اُمّت کے لیے اللہ تعالیٰ سے بارش مانگ دیجیے، کیوںکہ ساری اُمّت ہلاک ہوگئی ہے۔ اس آدمی کو خواب میں حضورﷺ کی زیارت ہوئی۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا:جاکر عمر کو میرا سلام کہو اور اسے بتادو کہ بارش ہوگی اور اسے کہہ دو کہ سمجھ داری سے کام لے اور عقل مندی اختیار کرے۔ اس آدمی نے آکر حضرت عمر ؓ کو سارا واقعہ سنایا۔ حضرت عمر ؓ رونے لگے اور کہنے لگے: اے میرے ربّ! محنت کرنے اور سمجھ داری سے کام لینے میں کسی طرح کمی نہیں کرتا ہوں، البتہ کوئی کام ہی میرے بس سے باہر ہو تو اور بات ہے۔ 3 حضرت عبدالرحمن بن کعب بن مالک کہتے ہیں: مدینہ منورہ اور اس کے آس پاس کی بستیوں میں ایک عرصہ تک بارش بندرہی جس سے کھانے کی تمام چیزیں ختم ہوگئیں اور سارے علاقہ میں زبردست قحط پھیل گیا۔ لوگ بھوکوں مرنے لگے۔ اس قحط کا نام قحط الرمادہ پڑگیا (رَمادہ کے معنی راکھ کے ہیں، یعنی اس قحط سے لوگوں کے رنگ راکھ جیسے ہوگئے تھے) یہاں تک کہ جنگلی جانور بھوک کے مارے بستیوں کا رخ کرنے لگے تھے، اور پالتو جانوروں کو بھی گھاس اور پانی نہیں ملتا تھا جس کی وجہ سے ان کے جسم میں گوشت ختم ہوگیاتھا، بالکل سوکھے اور دبلے پتلے ہوگئے تھے، یہاں تک کہ آدمی کو سخت بھوک لگی ہوتی تھی اور وہ بکری ذبح کرناچاہتا، لیکن بکری کی بری حالت دیکھ کر اس کا ذبح کرنے کو دل نہ کرتا اور اسے چھوڑ دیتا۔ لوگ اسی حال میں تھے، اور مصر، شام اور عراق جیسے ملکوں کے مسلمانوں سے غذائی اِمداد منگوانے کی طرف حضرت عمر ؓ کی توجہ نہیں تھی۔ ایک دن حضرت بلال بن حارث مزنی ؓ آئے اور ان الفاظ سے حضرت عمر ؓ سے اندر آنے کی اجازت مانگی کہ میں آپ کے پاس اللہ کے رسول ﷺ کا قاصدبن کرآیا ہوں۔ اللہ کے رسول ﷺ آپ سے فرما رہے ہیں: میں تو تم کو بڑا سمجھ دار سمجھتا تھا اور اب تک تم بالکل ٹھیک چلتے رہے، اب تمھیں کیا ہو گیا ہے؟ حضرت عمر نے پوچھا: تم نے یہ خواب کب دیکھا؟ حضرت بلال نے کہا: آج رات۔ حضرت عمر ؓ نے باہر جاکر لوگوں میں اعلان کیا: اَلصَّلاَۃُ جَامِعَۃٌ۔ آج سب مسجد ِنبوی میں اکٹھے نماز پڑھیں اپنی مسجدوں میں نہ پڑھیں۔ لوگ جمع ہوگئے تو انھیں دورکعت نماز پڑھائی پھر کھڑے ہو کر فرمایا: اے لوگو! میں تمھیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتاہوں کہ میں تو اپنی سمجھ کے مطابق ہر کام کی سب سے بہتر صورت اختیار کرتاہوں، تو کیا آپ لوگوں کے خیال میں میں نے کوئی ایسا کام کیا ہے جو بہتر نہ ہو بلکہ دوسراکام اس سے بہترہو؟ لوگوں نے کہا: نہیں۔ پھر حضرت عمر ؓ نے فرمایا: لیکن بلال بن حارث تو یہ اور یہ کہہ رہے ہیں (حضرت عمر ؓ حضور ﷺ کے فرمان کا مطلب نہ سمجھ سکے، لیکن لوگ سمجھ گئے)۔ لوگوں نے کہا: حضرت بلال ٹھیک کہہ رہے ہیں، آپ اللہ سے بھی مدد مانگیں اور (مصر،شام، عراق کے) مسلمانوں سے بھی مدد مانگیں۔ چناںچہ مسلمانوں سے غلہ منگوانے کی طرف حضرت عمر ؓ کی توجہ نہ تھی اب ہوگئی اور انھیں اس سلسلہ میں خط بھیجے۔ بہرحال لوگوں کی بات سن کر حضرت عمر نے خوش ہوکر فرمایا: اللّٰہُ أَکْبَرُ! قحط کی آزمایش اپنے خاتمہ پر پہنچ گئی۔ حضرت عمرپر یہ حقیقت کھلی کہ جس قوم کو اللہ سے مانگنے کی توفیق مل جاتی ہے اس کی آزمایش ختم ہوجاتی ہے۔ چناںچہ حضرت عمرنے تمام شہروں کے گورنروں کو یہ خط لکھا کہ مدینہ اور اس کے آس پاس کے لوگ سخت قحط کی مصیبت میں ہیں، لہٰذا ان کی مدد کرو۔ اور لوگوں کو نمازِ اِستسقا کے لیے شہر سے باہر لے گئے اور حضرت عباس ؓ کو بھی ساتھ لے گئے اور پیدل تشریف لے گئے۔ پہلے مختصر بیان کیا، پھر نماز پڑھائی، پھر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر یہ دعا مانگی: اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ اے اللہ! ہماری مغفرت فرما اور ہم پر رحم فرما اور ہم سے راضی ہوجا۔ پھر وہاں سے واپس آئے تو زور دار بارش شروع ہوگئی، اور راستے کے تمام گڑھے اور چھوٹے تالاب بارش کے پانی سے بھر گئے، اور ان سب میں سے گزر کر یہ لوگ اپنے گھروں کو پہنچ سکے۔ 1 ’’تاریخ طبری‘‘ میں ہی حضرت عاصم بن عمر بن خطاب سے بھی یہ قصہ منقول ہے۔ اس میں یہ بھی ہے قبیلہ مُزَینہ کا ایک گھرانہ دیہات میں رہتا تھا۔ انھوں نے اپنے گھروالے سے کہا: فاقہ کی اِنتہا ہوگئی ہے ہمارے لیے ایک بکری ذبح کردو۔ اس نے کہا: ان بکریوں میں کچھ نہیں ہے، لیکن گھروالے اصرار کرتے رہے آخر اس نے ایک بکری ذبح کی اور اس کی کھال اتاری تو صرف سرخ ہڈی تھی گوشت کا نام ونشان نہیں تھا، تو اس کی ایک دَم چیخ نکلی: ہائے محمد! (اگر وہ ہوتے تو ایسا نہ ہوتا) پھر اس نے خواب دیکھا کہ حضورﷺ اس کے پاس تشریف لائے ہیں اور فرمارہے ہیں: تمھیں بارش کی خوش خبری ہو۔ جاکر عمرسے میرا سلام کہو اور ان سے کہو: اے عمر! میں نے تو یہی دیکھا ہے کہ تم عہد کے پورا کرنے والے اور بات کے پکے تھے، اب تمھیں کیا ہوگیاہے؟ لہٰذا عقل مندی اختیار کرو۔ وہ صاحب دیہات سے چلے اور حضرت عمر کے دروازے پر پہنچے اور حضرت عمر کے غلام سے کہا: اللہ کے رسول ﷺ کے قاصد کو اندر جانے کی اجازت لے دو۔ پھر آگے پچھلی جیسی حدیث ذکر کی۔ حضرت سُلیم بن عامر خبائری کہتے ہیں: ایک دفعہ بارشیں بند ہوگئیں تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان ؓ اور دِمَشق والے نمازِ اِستسقا کے لیے شہر سے باہر گئے۔ جب حضرت معاویہ ؓ منبر پر بیٹھ گئے تو فرمایا: حضرت یزید بن اَسود جُرشی ؓ کہاں ہیں؟ اس پر لوگوں نے انھیں زور سے پکارا تو وہ پھلانگتے ہوئے آئے اور حضرت معاویہ ؓ کے فرمانے پر ان کے قدموں کے پاس منبر پر بیٹھ گئے۔ حضرت معاویہ ؓ نے یوں دعا فرمائی: اے اللہ! آج ہم تیرے سامنے اپنے سب سے بہترین اور سب سے افضل آدمی کو سفارشی بنا کر لائے ہیں۔ اے اللہ! ہم یزید بن اَسود جُرشی کو سفارشی بناکرلائے ہیں۔ اے یزید! اپنے دونوں ہاتھ اللہ کے سامنے اٹھاؤ۔ چناںچہ حضرت یزید نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور لوگوں نے بھی ہاتھ اٹھائے تو تھوڑی ہی دیر میں مغرب کی طرف زور سے بادل آگئے اور ہوا انھیں جلدی سے ہمارے اوپر لے آئی اور بارش شروع ہوگئی اور اتنی زیادہ ہوئی کہ لوگوں کا اپنے گھر تک پہنچنا مشکل ہوگیا۔ 1 حضرت ثُمامہ بن عبداللہ کہتے ہیں: ایک دفعہ گرمی کے زمانے میں حضرت انس ؓ کے باغ کے مالی نے آکر ان سے بارش کے نہ ہونے اور زمین کے پیاسی ہونے کی شکایت کی۔ حضرت انس ؓ نے پانی منگوا کر وضو کیا اور نماز پڑھی، پھر اس سے کہا: کیا آسمان میں تمھیں کچھ بادل نظر آرہاہے؟ اس نے کہا: مجھے تو کچھ نظر نہیں آرہا۔ حضرت انس ؓ اندر گئے اور پھر نماز پڑھی، پھر تیسری یا چوتھی دفعہ میں فرمایا: باہر جاکر دیکھو۔ اس نے کہا: پرندے کے پر کے برابر بادل نظر آرہاہے۔ حضرت انس ؓ پھر نماز پڑھتے رہے اور دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ باغ کے منتظم نے اندر آکر کہا: سارے آسمان پر بادل چھائے ہوئے ہیں اور خوب بارش ہوچکی ہے۔ حضرت انس ؓ نے اس سے کہا: جو گھوڑا بِشر بن شَغاف نے بھیجا ہے اس پر سوار ہو کر جائو اور دیکھو کہاں تک بارش ہوئی ہے؟ وہ اس پر سوار ہو کر گیا اور دیکھ کر آیا اور بتایا کہ بارش مُسَیَّرین کے محلات سے آگے اور غَضبان کے محلات سے آگے نہیں ہوئی (یہاں حضرت انس ؓ کی زمین ختم ہوجاتی تھی) ۔ 2 طبقات ابنِ سعد میں یہی روایت حضرت ثابت بُنانی سے ذرامختصر منقول ہے اور اس میں یہ ہے کہ حضرت انس بن مالک ؓ کی زمین کے منتظم نے حضرت انس ؓ سے بارش نہ ہونے اور زمین کے پیاسا ہونے کی شکایت کی تھی۔ اس روایت کے آخر میں یہ بھی ہے کہ اس منتظم نے جاکر دیکھا تو بارش صرف ان کی زمین پر ہی ہوئی تھی آگے نہیں ہوئی تھی۔ حضرت حُجر بن عدی ؓ کو ایک مرتبہ (حضرت معاویہ ؓ کی قید میں)نہانے کی حاجت ہوگئی۔ جو آدمی ان کی نگرانی کے لیے مقرر تھا اس سے انھوں نے کہا: پینے والاپانی مجھے دے دو تاکہ میں اس سے غسل کرلوں اور کل مجھے پینے کے لیے کچھ نہ دینا۔ اس نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ آپ پیاس سے مرجائیں گے توحضرت معاویہ ؓ مجھے قتل کردیں گے۔ انھوں نے اللہ سے پانی کے لیے دعا مانگی: فوراً ایک بادل آیا جس سے بارش برسنے لگی۔ انھوں نے اپنی ضرورت کے مطابق اس میں سے پانی لیا، پھر ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا: آپ اللہ سے دعاکریں کہ وہ ہمیں قید سے خلاصی دے۔ انھوں نے یہ دعاکی: اے اللہ! جو ہمارے لیے خیر ہو اُسے مقدر فرما(قید سے خلاصی یا شہادت)۔ چناںچہ انھیں اور ان کے ساتھیوں میں سے ایک جماعت کو شہید کردیاگیا۔ 1 حضرت حسن کہتے ہیں: انصار کے ایک قبیلہ کو حضورﷺ کی یہ دعا حاصل تھی کہ جب بھی ان میں سے کوئی مرے گا تو اس کی قبر پر بادل آکر ضرور برسے گا۔ ایک دفعہ اس قبیلہ کے ایک آزاد کردہ غلام کا انتقال ہوا تو مسلمانوں نے کہا: آج ہم حضورﷺ کے اس فرمان کو بھی دیکھ لیں گے کہ قوم کا آزاد کردہ غلام قوم والوں میں سے ہی شمار ہوتاہے۔ چناںچہ جب اس غلام کو دفن کیا گیا تو ایک بادل آکر اس کی قبر پر برسا۔ 2