صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
بادلوں کا صحابۂ کرام ؓ پر سایہ کرنا
حضرت کعب ؓ کے آزاد کردہ ایک غلام کہتے ہیں: ہم حضرت مقداد بن اَسود، حضرت عمرو بن عبسہ اور حضرت شافع بن حبیب ہُذَلی ؓ کے ساتھ ایک سفر میں گئے۔ حضرت عمرو بن عبسہ اپنی باری پر ایک دن جانور چرانے گئے۔ میں دوپہر کے وقت انھیں دیکھنے گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک بادل اُن پر سایہ کیے ہوئے ہے جو اُن سے جدا ہی نہیں ہوتا (وہ جدھرجاتے ہیں بادل بھی ادھر ہی جاتاہے)۔میں نے یہ بات انھیں بتائی تو انھوں نے فرمایا: یہ میرا خاص راز ہے کسی کو مت بتانا، اگر مجھے پتا چلا کہ تم نے کسی کو بتایاہے تو پھر تمہاری خیر نہیں۔ وہ غلام کہتے ہیں: چناںچہ ان کے انتقال تک میں نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی۔ 2