حضور ﷺ کے زمانہ میں صحابۂ کرام ؓ کا میدانِ جنگ میں دعوت دینا

حضرات صحابۂ کرام کا حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں میدانِ جنگ میں اللہ ورسول کی طرف دعوت دینا اور حضرت عمر کا اپنے اُمرا کو اس کی تاکید کرنا

حضرت یزید بن ابی حبیب کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو یہ خط لکھا کہ میں تمہیں پہلے لکھ چکا ہوں کہ لوگوں کو تین دن تک اِسلام کی دعوت دینا، جو جنگ شروع ہونے سے پہلے تمہاری دعوت کو قبول کرلے وہ مسلمانوں کا ایک فرد شمار ہوگا، اسے وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو باقی تمام مسلمانوں کو حاصل ہیں اور اس کا اِسلام میں حصہ ہے (اس لیے اسے مالِ غنیمت میں سے حصہ ملے گا)۔ اور جو جنگ ختم ہونے کے بعد یا شکست کے بعد تمہاری دعوت کو قبول کرے اور (بعد میں مسلمان ہو) اس کا مال مسلمانوں کے لیے مالِ غنیمت بنے گا، کیوں کہ مسلمانوں نے اس کے مسلمان ہونے سے پہلے اس کے مال پر قبضہ کرلیا ہے۔ یہ میرا حکم ہے اور یہی تمہیں خط لکھنے کی غرض ہے۔1 حضرت ابو البَخْترِی کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے ایک لشکر کے امیر حضرت سلمان فارسی ؓ تھے۔ انھوں نے فارس کے ایک قلعہ کا محاصرہ کیا۔ مسلمانوں نے کہا: اے ابو عبداللہ! (یہ حضرت سلمان ؓ کی کنیت ہے) کیا ہم اُن پر حملہ نہ کردیں؟ انھوں نے کہا: مجھے اُن کو دعوت دینے دو جیسے میں نے حضور ﷺ کو دشمنوں کو دعوت دیتے ہوئے سنا۔ چناںچہ اس قلعہ والوں سے حضرت سلمان نے کہا: میں تم میں کا ایک فارسی آدمی ہوں۔ تم خود دیکھ رہے ہو کہ عرب میری کس طرح مان رہے ہیں۔ اگر تم مسلمان ہوجاؤ گے تو تمہیں بھی وہ تمام حقوق ملیں گے جو ہمیں حاصل ہیں اور تم پر وہی ذمہ داریاں عائد ہوگی جو ہم پر ہیں۔ اور اگر تم اپنے دین پر ہی رہنا چاہو تو ہم تمہیں تمہارے دین پر رہنے دیں گے اور تم ماتحت بن کر رعیّت ہوکر اپنے ہاتھوں ہمیں جزیہ دینا۔ حضرت سلمان نے فارسی میں اُن سے یہ کہا: (گو ہم تمہیں کچھ نہ کہیں گے لیکن) تم کسی عزت کے مستحق نہ ہوگے۔ اور اگر تم اس سے بھی اِنکار کرتے ہو تو ہم تم سے (میدانِ جنگ میں) برابر سرابر مقابلہ کریں گے۔ انھوں نے کہا: ہم ایمان بھی نہیں لاتے اور جزیہ بھی نہیں دیتے، ہم تو تم سے جنگ کریں گے۔ حضرت سلمان کے ساتھیوں نے کہا: کیا ہم اُن پر حملہ نہ کریں؟ انھوں نے کہا: ابھی نہیں۔ اور اُن کو تین دن اسی طرح انھوں نے اِسلام کی دعوت دی، پھرکہا: اچھا! اب ان پر حملہ کرو۔ چناںچہ مسلمانوں نے حملہ کیا اور اس قلعہ کو فتح کرلیا۔ 1 ’’مسندِ احمد‘‘ اور ’’مستدرک‘‘کی روایت میں اس طرح ہے کہ چوتھے دن صبح کو حضرت سلمان ؓ نے مسلمانوں کو حکم دیا، مسلمانوںنے آگے بڑھ کر حملہ کیا اور اسے فتح کرلیا۔ 2 ابو البَخْترِی کہتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی ؓ مسلمانوں کے لیے جگہ اور پانی اورگھاس تلاش کرنے والے دستہ کے امیر تھے، اور مسلمانوں نے ان کو اہلِ فارس کو دعوت دینے کے لیے متکلم بنایا تھا۔ حضرت عطیہ کہتے ہیں کہ بَہُرشِیر شہر والوں کو دعوت دینے کے لیے حضرت سلمان کو امیر مقرر کیا تھا اور قصرِ اَبیض کی فتح کے دن بھی اُن ہی کو مقرر کیا تھا۔ چناں چہ انھوں نے ان کو تین دن تک دعوت دی تھی۔ آگے انھوں نے حضرت سلمان ؓ کے دعوت دینے کے بارے میں پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا ہے۔3 حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے حضرت نعمان بن مقرِّن، حضرت فُرات بن حیّان، حضرت حنظلہ بن ربیع تمیمی اور حضرت عُطارِ د بن حاجب، حضرت اَشعث بن قیس، حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت عمرو بن معدیکرب ؓ جیسے چیدہ چیدہ حضرات کی جماعت رُستم کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کے لیے بھیجی۔ رُستم نے اُن سے کہا: تم لوگ کیوں آئے ہو؟ ان حضرات نے کہا کہ ہم اس لیے آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے یہ وعدہ کیا کہ تمہارا ملک ہمیں مل جائے گا، اور تمہاری عورتیں اور بچے ہمارے قیدی بنیں گے، اور تمہارے مال پر ہم قبضہ کریں گے، اور اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ پر ہمیں پورا یقین ہے۔ رُستم ایک خواب اس سے پہلے دیکھ چکا تھا کہ آسمان سے ایک فرشتے نے اُتر کر فارس کے تمام ہتھیاروں پر مہر لگا دی اور وہ ہتھیار حضور ﷺ کے حوالہ کردیے، اور حضور ﷺ نے حضرت عمر ؓکو دے دیے ۔ حضرت سیف اپنے استادوں سے نقل کرتے ہیںکہ جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو رُستم نے حضرت سعد ؓ کو یہ پیغام بھیجا کہ وہ رُستم کے پاس ایک عقل مند آدمی ایسا بھیجیں کہ میںجو کچھ پوچھوں وہ اس کا جواب دے سکے۔ تو حضرت سعدنے اس کے پاس حضر ت مغیرہ بن شعبہ ؓکو بھیجا۔ حضرت مغیرہ رُستم کے پاس پہنچے تو رُستم نے اُن سے کہا: آپ لوگ ہمارے پڑوسی ہیں۔ ہم آپ لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہے ہیں اور تمہیں کبھی کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں پہنچائی ہے۔ آپ لوگ اپنے ملک کو واپس چلے جائیں اور آیندہ ہمارے ملک میں آپ لوگ تجارت کے لیے آنا چاہیں تو ہم نہیں روکیں گے۔ حضرت مغیرہ نے کہا: دنیا ہمارا مقصود نہیں ہے بلکہ آخرت ہمارا مقصود ہے اورہمیں صرف اسی کی فکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک رسول بھیجا اور اس سے فرما دیا کہ میں نے (تمہارے صحابہ ؓکی) اس جماعت کو اُن لوگوں پر مسلّط کردیا ہے جو میرا دین اختیار نہ کریں۔ اس جماعت کے ذریعہ میں اُن سے بدلہ لوںگا، جب تک یہ جماعت (صحابہ ؓ) دین کا اِقرار کرتے رہیں گے میں ان ہی کوغالب رکھوں گا۔ اور میرا دین سچا دین ہے جو اس سے منہ موڑے گا وہ ضرور ذلیل ہوگا، اور جو اسے مضبوطی سے تھامے گا وہ ضرور عزت پائے گا۔ رُستم نے پوچھا: وہ دین کیا ہے؟ حضرت مغیرہ نے کہا: اس دین کا وہ ستون جس کے بغیر اس کی کوئی چیز درست نہیں ہوسکتی وہ کلمۂ شہادت أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھ لینا ہے۔ اور جو کچھ حضور ﷺ اللہ کے پاس سے لائے ہیں اس کا اِقرار کرلینا ہے۔ رُستم نے کہا: یہ تو کتنی اچھی بات ہے۔ اس کے علاوہ اور کیا ہے؟ حضرت مغیرہ نے کہا: اللہ کے بندوں کو بندوں کی عبادت سے نکال کر اللہ کی عبادت میں لگادینا ۔ رُستم نے کہا: یہ بھی اچھی بات ہے۔ اس کے علاوہ اور کیا ہے؟ حضرت مغیرہ نے کہا: تمام انسان حضرت آدم ؑ کی اولادہیں، لہٰذا وہ ماں باپ شریک بھائی ہیں۔ رُستم نے کہاکہ یہ بھی اچھی بات ہے۔ اچھا! ذرا یہ تو بتاؤ اگر ہم تمہارے دین میں داخل ہوجائیں تو کیا تم ہمارے ملک سے واپس چلے جاؤ گے؟ حضرت مغیرہ نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! پھر تمہارے ملک میں صرف تجارت یا کسی اور ضرورت کی وجہ سے آئیں گے۔ رُستم نے کہا: یہ بھی اچھی بات ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ جب حضرت مغیرہ ؓ رُستم کے پاس سے واپس چلے گئے تو رُستم نے اپنی قوم کے سرداروں سے اِسلام کا تذکرہ کیا، لیکن ان سرداروں نے پسند نہ کیا اور اِسلام میں داخل ہونے سے اِنکار کر دیا۔ اللہ ہی اُن کو خیر سے دورکرے اور رسوا کرے اور اللہ نے ایسا کردیا۔ راوی کہتے ہیں کہ رُستم کے مطالبہ پر حضرت سعد ؓ نے ایک اور قاصد حضرت رِبعی بن عامرؓ کو رُستم کے پاس بھیجا۔ یہ رُستم کے ہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان لوگوں نے رستم کے دربار کو سونے کے کام والے تکیوں اور ریشمی قالینوں اور چمک دار یا قوتوں اور قیمتی موتیوں سے اور بڑی زیب و زینت سے سجا رکھا تھا۔ اور خود رستم تاج اور قیمتی سامان پہنے ہوئے تھا اور سونے کے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ حضرت رِبعی موٹے جھوٹے کپڑے پہنے ہوئے تھے، تلوار اور ڈھال لگا رکھی تھی، چھوٹے قد والی گھوڑی پر سوار تھے اور برابر اس پر سوار رہے یہاں تک کہ قالین کا ایک کنارہ گھوڑی نے روند ڈالا۔ پھر اس سے اتر کر انھوں نے گھوڑی کو ایک تکیہ سے باندھ دیا اور آگے بڑھے تو وہ ہتھیار اور زرہ پہنے ہوئے تھے اور خَود اُن کے سر پر رکھی ہوئی تھی تو ان سے دربانوں نے کہاکہ آپ اپنے ہتھیار یہاں اُتار دیں۔ حضرت رِبعی ؓ نے کہا: میں خود سے تمہارے پاس نہیںآیا ہوںبلکہ تم لوگوں کے بلانے پر آیا ہوں۔ اگر تم مجھے ایسے ہی آگے جانے دیتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ میںیہیں سے واپس چلا جاتا ہوں۔ (دربانوں نے رُستم سے پوچھا) رستم نے کہا: ان کو ایسے ہی آنے دو۔ یہ رستم کی طرف اپنے نیزے سے قالینوں پر ٹیک لگاتے ہوئے آگے بڑھے اور یوں اکثر قالین پھاڑ ڈالے۔ حاضرینِ دربار نے حضرت رِبعی ؓ سے پوچھا: آپ لوگ یہاں کس لیے آئے ہو؟ انھوںنے کہا: اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس لیے مبعوث فرمایاہے کہ جسے اللہ چاہے اسے ہم بندوں کی عبادت سے نکال کر اللہ کی عبادت میں لگادیں اور دنیا کی تنگی سے نکال کر دنیا کی وسعت میں پہنچا دیں اور دوسرے دینوں کے مظالم سے نکال کر اِسلام کے عدل و اِنصاف میں داخل کردیں۔ اللہ نے اپنا دین دے کر ہمیں اپنی مخلوق کی طرف بھیجا ہے تاکہ ہم ان کو اس دین کی دعوت دیں۔ جو اس دین کو اختیار کرے گا ہم اس سے اسے قبول کرلیںگے اور واپس چلے جائیں گے، اور جو اس دین کو اختیار کرنے سے اِنکار کرے گا ہم اس سے جنگ کرتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ ہم سے پورا ہوجائے۔ انھوں نے پوچھا کہ اللہ کا وہ وعدہ کیا ہے؟ حضرت رِبعی نے کہا کہ جو دین کا اِنکار کرنے والوں سے جنگ کرتے ہوئے مرے گا اسے جنت ملے گی، اور جو باقی رہے گا اسے فتح اور کامیابی ملے گی۔ رُستم نے کہا: میں نے تمہاری بات سن لی ہے۔ کیا تم کچھ مہلت دے سکتے ہو تاکہ ہم بھی غور کرلیں اور تم بھی غور کرلو؟ حضرت رِبعی نے کہا: ہاں! کتنی مہلت چاہتے ہو؟ ایک دن کی یا دو دن کی؟ اس نے کہا: نہیں، ہمیں تو زیادہ دنوں کی مہلت چاہیے، کیوں کہ ہم اپنے اہلِ شوریٰ اور اپنی قوم کے سرداروںسے خط و کتابت کریں گے۔ حضرت رِبعی نے کہا: جنابِ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے لیے یہ طریقہ مقرّر فرمایاہے کہ جب دشمن سے سامنا ہوجائے تو ہم اسے تین دن سے زیادہ مہلت نہ دیں۔ (لہٰذا تمہیں تین دن کی مہلت ہے، اس دوران )تم اپنے اور اپنی پبلک کے بارے میں غور کرلو اور مہلت کے ختم ہونے پر تین باتوں میں سے کوئی ایک بات اختیار کرلینا۔رُستم نے پوچھا: کیا تم مسلمانوں کے سردار ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں، لیکن مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں عام مسلمان بھی پناہ دے گا تو وہ اُن کے امیر کو ماننی پڑے گی۔ (اس کے بعد حضرت رِبعی ؓ دربار سے واپس چلے گئے) رُستم نے اپنی قوم کے سرداروں کو اکٹھا کرکے کہا: کیا تم نے اس آدمی کی گفتگو سے زیادہ وزنی اور دو ٹوک گفتگو دیکھی ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی پناہ اس بات سے کہ تم اس کی کسی چیز کی طرف مائل ہوجاؤ اور اپنا دین چھوڑ کر (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ!) اس کتے (کے دین) کو اختیار کرلو۔ کیا تم نے اس کے کپڑے نہیں دیکھے؟ رُستم نے کہا: تمہارا ناس ہو! کپڑوں کو مت دیکھو، سمجھ داری اور طرزِ گفتگو اور سیرت کو دیکھو۔ عرب کے لوگ کپڑے اور کھانے کا خاص اہتمام نہیں کرتے ہیں، ہاں خاندانی صفات کی بڑی حفاظت کرتے ہیں۔ پھر اگلے دن انھوں نے ایک اور آدمی کے بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ حضرت سعد نے حضرت حذیفہ بن مِحصَن ؓکو بھیجا۔ انھوں نے حضرت رِبعی جیسی بات کی۔ تیسرے دن حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کو بھیجا انھوں نے اچھے انداز میں تفصیل سے بات کی۔ رُستم نے حضرت مغیرہ سے (مذاق اُڑاتے ہوئے) کہا: تم لوگ جو ہمارے علاقہ میں داخل ہوگئے ہو تو تمہاری مثال ایک مکھی جیسی ہے، جس نے شہد دیکھا تو کہنے لگی: جو مجھے اس شہد تک پہنچا دے گا اسے دو درہم دوں گی۔ اور جب وہ مکھی شہد پر گری تو اس میںپھنسنے لگی تو وہ اب اس سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی لیکن نکل نہ سکی اور کہنے لگی: جو مجھے اس میں سے نکالے گا اسے چار درہم دوں گی۔ اور تم لوگ تو اس کمزور دُبلی پتلی لومڑی کی طرح سے ہو جسے انگوروں کے باغ کی چار دیواری میںایک چھوٹا سا سوراخ نظر آیا، اس سوراخ سے وہ اندر گھس گئی۔ باغ والے نے دیکھا کہ بے چاری بڑی کمزور اور دُبلی پتلی ہے اسے اس پر ترس آگیا، اس نے اسے وہیں رہنے دیا۔ جب (باغ میں رہ کر کھاپی کر) وہ موٹی ہوگئی تو اس نے باغ کا بہت نقصان کیا۔ باغ والا اسے مارنے کے لیے ڈنڈے اور بہت سے نوجوان لے آیا، لومڑی موٹی ہوچکی تھی (وہ سوراخ تنگ تھا) اس نے سوراخ میں سے بہت نکلنا چاہا لیکن نکل نہ سکی، آخر باغ والے نے اسے مار ڈالا۔ تمہیںبھی ایسے ہی ہمارے علاقے سے نکالاجائے گا۔ پھر غصہ کے مارے بھڑک اٹھا اور سورج کی قسم کھاکر کہا: کل کو میں تم سب کو قتل کردوں گا۔ حضرت مغیرہ نے کہا: تمہیں پتہ چل جائے گا ۔ پھر رُستم نے حضرت مغیرہ سے کہا: میںکہہ چکا ہوں کہ تم لوگوں کو ایک ایک جوڑا دے دیاجائے اور تمہارے امیر کوہزار دینار اور ایک جوڑا اور ایک سواری دے دی جائے (یہ چیزیں لے لو) اور پھر تم ہمارے ہاں سے چلے جاؤ۔ حضرت مغیرہ نے کہا: تمہیں اب اس کا خیال آرہا ہے؟ ہم تو تمہارے ملک کو کمزور کرچکے ہیں اور تمہیں بے عزت کرچکے ہیں۔ اور ہم ایک عرصہ سے تمہارے علاقہ میں آئے ہوئے ہیں اور ہم تمہیں اپنا ماتحت بناکر تم سے جزیہ لیں گے، بلکہ ہم تمہیں زبردستی اپنا غلام بنالیں گے۔ حضرت مغیرہ ؓ نے جب یہ باتیں کہیں تو وہ غصہ میں اور بھڑک اٹھا۔ 1 حضرت ابو وائل کہتے ہیں: حضرت سعد ؓ مسلمانوں کو ساتھ لے کر چلے یہاں تک کہ مقام ِقادسیّہ میں پڑاؤ ڈالا۔ مجھے پوری طرح یاد نہیں لیکن ہم لوگ غالباً سات یا آٹھ ہزار سے زیادہ نہیں ہوں گے اور مشرکین کی تعداد تیس ہزار تھی۔ اس روایت میں تو یہی تعداد ہے لیکن ’’البدایۃ‘‘ میں سیف وغیرہ کی روایت میں مشرکین کی تعداد اَسّی ہزار آئی ہے، اور ایک روایت میں یہ ہے کہ رُستم ایک لاکھ بیس ہزارکے لشکر میں تھا اور اَسّی ہزار کا لشکر پیچھے آرہا تھا اور رُستم کے ساتھ تینتیس ہاتھی تھے جن میں سابور کا ایک سفید ہاتھی بھی تھا جو سب ہاتھیوں سے بڑا تھا اور سب سے آگے تھا اور تمام ہاتھی اس سے مانوس تھے۔ ’’البدایہ‘‘ کی روایت ختم ہوگئی۔ اور اس جیسی اور تعداد بھی آئی ہے۔ رُستم کے لشکر والوں نے (ہم سے) کہا: نہ تمہارے پاس قوت ہے، نہ طاقت ہے اور نہ ہتھیار، تم لوگ یہاں کیوں آگئے ہو؟ واپس چلے جاؤ۔ ہم نے کہا: ہم تو واپس نہیں جائیں گے اور وہ ہمارے تیروں کو دیکھ کر ہنستے تھے اور دُوک دُوک کہہ کر (اپنی زبان میں) ہمارے تیروں کو چرخے کے تَکلے کے ساتھ تشبیہ دیتے تھے۔ جب ہم نے اُن کی بات مان کر واپس جانے سے اِنکار کردیا تو انھوںنے کہا: اپنے سمجھ دار آدمیوں میں سے ایک سمجھ دار آدمی ہمارے پاس بھیجو جو ہمیں کھول کر بتائے کہ آپ لوگ یہاں کیوںآئے ہیں؟ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے کہا: میں (اُن کے پاس جاتا ہوں )۔ چناںچہ وہ دریا پار کرکے اُن کے پاس گئے اور تخت پر رُستم کے ساتھ بیٹھ گئے۔ اس پر دربار والے غُرّائے اور چِلّائے۔ حضرت مغیرہ نے کہا: اس تخت پر بیٹھنے سے میرا مرتبہ بڑھا نہیں اور تمہارے سردار کا گھٹا نہیں۔ رُستم نے کہا: تم نے ٹھیک کہا۔ تم لوگ یہاں کیوں آئے ہو؟ حضرت مغیرہ نے کہا: ہماری قوم شر اور گمراہی میں مبتلا تھی، اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک نبی بھیجا، ان کے ذریعہ سے اللہ نے ہمیں ہدایت دی اور ہم لوگوں کو اُن کے ہاتھوں بہت رزق دیا اور اس رزق میں وہ دانہ بھی تھا جو اس علاقہ میں پیدا ہوتا ہے۔ جب وہ دانہ ہم نے کھایا اور اپنے گھروالوں کو کھلایا تو ہمارے گھر والوں نے کہاکہ اب ہم اس دانہ کے بغیر نہیں رہ سکتے، ہمیں اس علاقہ میں لے چلو تاکہ ہم یہ دانہ کھایا کریں۔ رُستم نے کہا: اب تو ہم تمہیں ضرور قتل کریں گے۔ حضرت مغیرہ نے کہا: اگر تم ہمیں قتل کروگے تو ہم جنت میں جائیں گے اور اگر ہم تمہیں قتل کردیںگے تو تم جہنم میں جاؤ گے ،(اگر تم اِسلام قبول نہیں کرتے ہو تو جنگ نہ کرو) بلکہ جزیہ دے دو۔ جب حضرت مغیرہ نے یہ کہا کہ تم جزیہ دے دو، تو وہ سب غُرّائے اور چیخے اور کہنے لگے: ہماری تمہاری صلح نہیں ہوسکتی۔ حضرت مغیرہ نے کہا: (لڑنے کے لیے) تم دریا پار کرکے ہمارے پاس آؤگے یا ہم تمہارے پاس دریا پار کرکے آئیں؟ رستم نے کہا: ہم دریا پار کرکے آئیں گے۔ چناںچہ مسلمان پیچھے ہٹ گئے تو رُستم کے لشکر نے دریا پار کرلیا۔ صحابہؓ نے اس زور سے ان پر حملہ کیا کہ اُن کو شکست دے دی۔ 1 حضرت معاویہ بن قُرَّہ ؓ فرماتے ہیں کہ جنگِ قادسیّہ کے دن حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کو فارس کے سپہ سالار (رُستم ) کے پاس بھیجا گیا۔ انھوں نے کہا: میرے ساتھ دس آدمی اور بھیجو۔ چناںچہ اُن کے ساتھ دس آدمی اور بھیجے گئے۔ انھوں نے اپنے کپڑے ٹھیک کیے اور ڈھال اُٹھائی اور چل دیے یہاں تک کہ اس سپہ سالار کے پاس پہنچ گئے۔ (وہاں پہنچ کر) انھوں نے (اپنے ساتھیوں سے) کہا: میرے لیے ڈھال بچھادو ۔(انھوں نے بچھادی ) وہ اس پر بیٹھ گئے۔ اس موٹے تازے عجمی کافر نے کہا: اے عرب کے رہنے والو! میں جانتا ہوں کہ تم لوگ یہاں کیوںآئے ہوں؟ تم اس لیے آئے ہو کہ تمہیں اپنے ملک میں پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا، تو تمہیں جتنا غلہ چاہیے ہم تمہیں دے دیتے ہیں۔ ہم لوگ آتش پرست ہیں تمہیں قتل کرنا اچھا نہیں سمجھتے ، کیوں کہ (تمہیں قتل کرنے سے )ہماری زمین ناپاک ہوجائے گی۔حضرت مغیرہ نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس وجہ سے نہیں آئے، ہم تو اس وجہ سے آئے ہیں کہ ہم لوگ پتھروں اور بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے، جب کوئی اچھا پتھر نظر آتا تو پہلے کو پھینک کر اس کی عبادت شروع کردیتے۔ ہم پروردگار کو نہیں پہچانتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے ہی ہماری طرف ایک رسول بھیجا۔ اس نے ہمیں اِسلام کی دعوت دی، ہم نے ان کا اِتباع کرلیا۔ ہم غلہ لینے نہیں آئے۔ ہمیں اس بات کا حکم دیا گیاہے کہ ہمارا جو دشمن اِسلام کو چھوڑ دے ہم اس سے جنگ کریں ۔ ہم غلہ لینے نہیں آئے، ہم تو اس لیے آئے ہیں کہ تمہارے جوانوں کو قتل کردیں اور تمہارے بیوی بچوں کو قید کریں۔ باقی تم نے جو ہمارے ملک میں کھانے کی کمی کا ذکر کیا ہے وہ ٹھیک ہے۔ میری زندگی کی قسم! واقعی ہمیں اتنا کھانا نہیں ملتا جس سے ہمارا پیٹ بھر جائے اور ہمیں اتنا پانی نہیں ملتا جس سے ہماری پیاس بجھ جائے۔ ہم تمہاری اس زمین میں آئے ہیں ہم نے یہاں غلہ اور پانی بہت پایا، اللہ کی قسم! اب ہم اس علاقہ کو نہیں چھوڑیں گے، یا تو یہ سر زمین ہمارے حصہ میں آجائے یا تمہیں مل جائے۔ اس عجمی کافر نے فارسی میں کہا: یہ آدمی ٹھیک کہہ رہا ہے۔ حضرت مغیرہ سے اس عجمی کافر نے کہا: آپ کی تو کل آنکھ پھوڑ دی جائے گی۔ چناںچہ اگلے دن حضرت مغیرہ کو ایک نامعلوم تیر لگا اور واقعی اُن کی آنکھ ضائع ہوگئی۔1 سیف کہتے ہیں: حضرت سعد ؓ نے جنگ سے پہلے اپنے ساتھیوںکی ایک جماعت کسریٰ کے پاس اللہ کی طرف دعوت دینے کے لیے بھیجی تھی۔ ان حضرات نے کسریٰ کے دربار میں پہنچ کر داخلہ کی اجازت مانگی، اس نے ان حضرات کو اجازت دی۔ شہر والے ان کو دیکھنے کے لیے باہر نکل آئے کہ اُن کی شکل و صورت کیسی ہے؟ ان حضرات کی چادریں کندھوں پر پڑی ہوئی تھیں، ہاتھوں میں کوڑے پکڑے ہوئے تھے، پاؤں میں چپلیں پہن رکھی تھیں، کمزور گھوڑوں پر سوار تھے جو (کمزوری کی وجہ سے) لڑکھڑا رہے تھے۔ شہر والے ان تمام باتوں کو دیکھ کر بہت زیادہ حیران ہورہے تھے کہ کیسے ان جیسے انسان ان کے لشکروں پر غالب آجاتے ہیں حالاں کہ ان کے لشکروں کی تعداد اور ان کا سامان کہیں زیادہ ہے۔ اجازت ملنے پر یہ حضرات اندر شاہِ یَزدْجَرد (کسریٰ) کے دربار میں گئے۔ اس نے انھیں اپنے سامنے بٹھایا۔ وہ بڑا مغرور اور بے اَدب تھا۔ اس نے اُن کے لباس اور چادروں اور جوتیوں اور کوڑوں کے نام پوچھنے شروع کردیے ۔ وہ جس چیز کا بھی نام بتاتے وہ اس سے نیک فال اپنے لیے نکالتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی ہر فال کو اس کے سر الٹا دے مارا۔ پھر اس نے اس حضرات سے کہا: تمہیں کون سی چیز اس علاقہ میں لے آئی ہے؟ ہماری آپس کی خانہ جنگی کی وجہ سے تم یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم لوگ کمزور پڑگئے ہیں، اس لیے تم میں (ہم پر حملہ کرنے کی) جرأت پیدا ہوگئی۔ حضرت نعمان بن مُقَرِّن نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر ترس کھا کر ہماری طرف ایک رسول بھیجا، جو ہمیں نیکی کے کام بتاتے تھے اور ان کے کرنے کا حکم دیتے تھے اور برائی کے کام بتلا کر ہمیں ان سے روکتے تھے۔ ان کی بات ماننے پر اللہ تعالیٰ نے ہم سے دنیا و آخرت کی بھلائی کا وعدہ کیا۔ آپ نے جس قبیلہ کو اس کی دعوت دی اس کے دو حصے ہوگئے، کچھ آپ کا ساتھ دیتے اور کچھ آپ سے دور ہوجاتے، صرف خاص لوگ گنے چنے آپ کے دین میں داخل ہوتے۔ ایک عرصہ تک آپ اسی طرح دعوت دیتے رہے، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ اپنے مخالف عربوں پر چڑھائی کردیں۔ پہل ان عربوں سے کریں (بعد میںدوسرے ملکوں میں جائیں)۔ چناںچہ آپ نے ایسا ہی کیا۔ سارے عرب آپ کے دین میں داخل ہوگئے بعض مجبور ہوکر زبردستی داخل ہوئے لیکن بعد میں وہ بھی خوش ہوگئے ،اور بعض شروع سے ہی خوشی خوشی داخل ہوئے اور اُن کی خوشی بڑھتی رہی۔ ہم سب نے کھلی آنکھوں دیکھ لیا کہ ہم (زمانۂ جاہلیت میں) جس دشمنی اور تنگی میں تھے آپ کا لایا ہوا دین اس سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ اور انھوں نے ہمیں حکم دیا کہ ہم آس پاس کی قوموں میں (دعوت کا کام) شروع کریں اور انھیں ہم عدل و اِنصاف کی دعوت دیں۔لہٰذا ہم تمہیں اپنے دینِ اِسلام کی دعوت دیتے ہیں جو ہر اچھی بات کو اچھا کہتا ہے اور ہر بری بات کو برا کہتا ہے۔ اور اگر تم (اِسلام میں داخل ہونے سے) اِنکار کرو تو پھر ذلت کے دو کاموں میں سے کم ذلت والا کام اختیار کرلو اور وہ ہے جزیہ ادا کرنا۔ اور اگر تم اس سے بھی اِنکار کرو تو پھر جنگ ہے۔ اگر تم ہمارے دین کواختیار کرلوگے، تو ہم تم میں اللہ کی کتاب چھوڑ کر جائیں گے اور تمہیں اس پر ڈال کر جائیں گے کہ تم اس کتاب کے اَحکام کے مطابق فیصلہ کرو، اور ہم تمہارے علاقے سے واپس چلے جائیں گے پھر تم ہوگے اور تمہارا علاقہ (جو چاہو کرو)۔ اور اگر تم جزیہ دینے کے لیے تیار ہوجاؤ تو ہم اسے قبول کرلیں گے اور ہم تمہاری (ہر طرح سے) حفاظت کریںگے ورنہ ہم تم سے لڑیں گے۔ اس پر یَزدْ جَرد بولا کہ رُوئے زمین پر کوئی قوم میرے علم میںایسی نہیں ہے جو تم سے زیادہ بدبخت ہو اور اس کی تعداد تم سے کم ہو اور اس کے آپس کے تعلقات تم سے زیادہ بگڑے ہوئے ہوں۔ ہم نے تو تمہیں آس پاس کی بستیوں کے حوالہ کیا ہوا تھا کہ وہ ہمارے بغیر خودہی تم سے نمٹ لیا کریں۔ آج تک کبھی فارس نے تم پر حملہ نہیں کیا اور نہ تمہارا یہ خیال تھا کہ تم فارس والوں کے سامنے ٹھہر سکتے ہو۔ اب اگر تمہاری تعداد بڑھ گئی ہے تو ہمارے بارے میں تم دھوکے میں نہ رہو۔ اور اگر معاش کی تنگی نے تمہیں یہاں آنے پر مجبور کیا ہے تو ہم تمہارے لیے اِمداد مقرّر کردیتے ہیں جو تمہیں اس وقت تک ملتی رہے گی جب تک تم خوشحال نہ ہوجاؤ، اور ہم تمہارے ممتاز لوگوں کا اِکرام کریں گے اور اُن کو جوڑے بھی دیں گے ،اور تم لوگوں پر ایسا بادشاہ مقرّر کریں گے جو تمہارے ساتھ نرمی برتے۔ (یہ سن کر) اور حضرات تو خاموش رہے لیکن حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے کھڑے ہوکر کہا: اے بادشاہ! یہ عرب کے سردار اور ممتاز لوگ ہیں،یہ سب شریف ہیں اور شریفوں سے شرماتے ہیں، اور شریفوں کا اِکرام شریف ہی کیا کرتے ہیں، اور شریفوں کے حقوق کو شریف ہی بڑا سمجھا کرتے ہیں۔ اُن کو تم سے جتنی باتیں کہنے کے لیے بھیجا گیا ہے انھوں نے ابھی وہ ساری باتیں تم سے کہی نہیں ہیں، اور انھوں نے تمہاری ہر بات کا جواب بھی نہیں دیا اور انھوں نے یہ اچھا کیا اور ان کے لیے یہی مناسب تھا۔ مجھ سے بات کرو، میں تمہاری ہر بات کا جواب دوں گا اور یہ سب اس کی گواہی دیں گے۔ تم نے ہمارے جو حالات بتائے ہیں تم اُن کو پوری طرح نہیں جانتے (میں تمہیں بتاتا ہوں)۔ تم نے جو ہماری بدحالی کا ذکر کیا ہے توواقعی ہم سے زیادہ کوئی بدحال نہیں تھا ۔ہماری بھوک جیسی بھوک کہیں ہونہیں سکتی۔ ہم تو گندگی کے کیڑے مکوڑے اور بچھو اور سانپ تک کھاجاتے تھے اور اسی کو اپنا کھانا سمجھتے تھے۔ ہمارے مکان کھلی زمین تھی (چھپّر تک نہ تھے)۔ اونٹوں اور بکریوں کے بالوں سے بُنے ہوئے کپڑے پہنتے تھے۔ ایک دوسرے کو قتل کرنااور ایک دوسرے پر ظلم کرنا ہمارا مذہب تھا۔ اور ہم لوگوں میں بعض ایسے بھی تھے جو اپنی بیٹی کو کھانا کھلانے کے ڈر کے مارے زندہ قبر میں دفن کردیتے تھے۔ آج سے پہلے ہماری وہی حالت تھی جو میںتم سے بیان کررہا ہوں، پھر اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک معروف و مشہور آدمی کو مبعوث فرمایا جس کے حسب نسب کو اور اس کے حلیہ کو اور اس کی جائے پیدایش کو ہم اچھی طرح جانتے تھے۔ اس کی زمین ہماری زمین میں سب سے بہترین زمین تھی، اور اس کا حسب نسب ہمارے حسب نسب سے بہتر تھا، اس کا گھر ہمارے گھروں سے اعلیٰ تھا، اور اس کا قبیلہ ہمارے قبیلوں سے افضل تھا۔ عربوں کے تمام برے حالات کے باوجود وہ خود بھی اپنی ذات کے اعتبار سے ہم میں سب سے بہترین تھے۔ ہم میں سب سے زیادہ سچے اور سب سے زیادہ بردبار تھے۔ انھوں نے ہمیں اِسلام کی دعوت دی۔ چناںچہ سب سے پہلے اُن کی دعوت کو اس آدمی نے قبول کیا جو اُن کا ہم عمر اور بچپن کا ساتھی تھا اور وہی اُن کے بعد ان کا خلیفہ بنا۔ وہ ہم سے کہتے ہم ان کوالٹی سناتے، وہ سچ بولتے ہم جھوٹ بولتے۔ آخر اُن کے ساتھی بڑھتے گئے اور ہماری تعداد گھٹتی گئی اور جو جو باتیں انھوںنے کہی تھیں وہ سب ہوکررہیں۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ہمارے دلوں میں ان کو سچا ماننے اور ان کے اتباع کرنے کا جذبہ پیدا کردیا۔ وہ ہمارے اور اللہ ربّ العالمین کے درمیان واسطہ تھے۔ انھوںنے ہم سے جتنی باتیں کہیں وہ حقیقت میں اللہ ہی کی ہیں، اور انھوں نے ہمیںجتنے حکم دیے وہ حقیقت میں اللہ ہی کے حکم ہیں۔ انھوں نے ہم سے کہا کہ تمہارا ربّ کہتا ہے کہ میں اللہ ہوں، اکیلا ہوں،میرا کوئی شریک نہیں ۔جب کچھ نہیں تھا میں اس وقت بھی تھا، میری ذات کے علاوہ ہر چیز فنا ہوجائے گی۔ میں نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور ہر چیز لوٹ کر میرے پاس آئے گی۔ میری رحمت تمہاری طرف متوجہ ہوئی، چناںچہ میں نے تمہاری طرف اس آدمی کو مبعوث کیا تاکہ تمہیں اس راستہ پر ڈال دوں جس کی وجہ سے میں تمہیں مرنے کے بعد اپنے عذاب سے بچاؤں اور اپنے گھردارالسلام (جنت ) میں پہنچا دوں۔ چناںچہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور ﷺ اللہ کے پاس سے حق لے کر آئے تھے اور تمہارے ربّ نے کہا: جو تمہارے اس دین کو اختیار کرے گا اس کو وہ حقوق حاصل ہوں گے جو تمہیں حاصل ہیں، اور اس پر وہ ذمہ داریاں ہوں گی جو تم پر ہیں۔ اور جو (اس دین سے) اِنکار کرے اس پر جزیہ پیش کرو اورپھر اس کی ان تمام چیزوں سے حفاظت کروجن سے تم اپنی حفاظت کرتے ہو۔ اور جو (جزیہ دینے سے بھی) اِنکار کردے اس سے جنگ کرو۔ میں ہی تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والا ہوں۔ تم میں سے جو شہید کیا جائے گا اسے اپنی جنت میں داخل کروں گا اور جو باقی رہے گا اس کے دشمن کے خلاف اس کی مدد کروں گا۔ اب تم چاہو تو ماتحت بن کر جزیہ دے دو اور چاہو تو تلوار لے کر (جنگ کرلو) یا مسلمان ہوکر خود کو بچالو۔ یزد جرد نے کہا: تم میرے سامنے ایسی باتیں کررہے ہو؟ حضرت مغیرہ نے کہا: جس نے مجھ سے بات کی ہے میں اسی کے سامنے یہ باتیں کررہا ہوں۔ اگر تمہارے علاوہ کوئی اور میرے ساتھ بات کرتا تو میں تمہارے سامنے یہ باتیں نہ کرتا۔ یزد جرد نے کہا: اگر یہ دستور نہ ہوتا کہ قاصد کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم سب کو قتل کردیتا۔ تم لوگوں کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ اور (اپنے درباریوں سے) سے کہا: مٹی کا ایک ٹوکرا لاؤ اور ان میں جو سب سے بڑا ہے اس کے سر پر رکھ دو اور اسے پیچھے سے ہانکتے رہو یہاں تک کہ وہ مدائن شہر کی آبادی سے نکل جائے۔ (اور صحابہ ؓ سے کہا:) تم لوگ اپنے امیر کے پاس واپس جاکر اسے بتادو کہ میں اس کی طرف رُستم کو بھیج رہا ہوں تاکہ وہ اسے اور اس کے لشکر کو قادسیّہ کی خندق میں دفن کردے، اور اسے اور تم لوگوں کو بعد والوں کے لیے عبرت بنادے۔ اور پھر میں اس کو تمہارے ملک میں بھیجوں گا اور سابور کی طرف سے تم لوگوں کو جتنی مصیبت اٹھانی پڑی میں تم لوگوں کو اس سے زیادہ مصیبت میں گرفتار کردوں گا۔ پھر اس نے پوچھا: تم میں سب سے بڑا کون ہے؟ سب لوگ خاموش رہے۔ حضرت عاصم بن عمرو ؓ نے خود مٹی لے لینے کے لیے بغیر مشورہ کے کہہ دیا کہ میں ان کا بڑا اور ان کا سردار ہوں، یہ مٹی میرے اوپر لاد دو۔ یزد جرد نے پوچھا: کیا بات اسی طرح ہے ؟ دوسرے صحابہ نے کہا: ہاں۔ چناںچہ انھوں نے حضرت عاصم کی گردن پر وہ مٹی لاد دی۔ وہ مٹی لے کر ایوانِ شاہی اور محل سے باہر آئے اور اپنی سواری پر اس مٹی کو رکھا اور اس پر بیٹھ کر اسے تیز دوڑایا تاکہ یہ مٹی لے کر حضرت سعد ؓ کے پاس جلد پہنچ جائیں۔ حضرت عاصم اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گئے اور وہ مسلسل چلتے رہے یہاں تک کہ بابِ قُدَیس سے آگے چلے گئے اور کہا: امیر کو کامیابی کی بشارت سنادو، اِن شاء اللہ ہم کامیاب ہوگئے۔ (بظاہر باب ِقُدَیس کے قریب حضرت سعد کا قیام تھا) اور آگے بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ حدودِ عرب میں جاکر اس مٹی کو ڈال دیا۔ پھر واپس آکر حضرت سعد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھیں ساری بات بتائی تو حضرت سعد نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے ہمیں (اس مٹی کی شکل میں)اُن کے ملک کی چابیاں دے دی ہیں اور سب نے اس سے ان کے ملک پر قابض ہوجانے کی فال لی ۔1 حضرت محمد اور حضرت طلحہ وغیرہ بیان کرتے ہیں کہ جب جنگ ِتکریت کے موقع پر رُومیوں نے یہ دیکھا کہ جب بھی وہ مسلمانوں کی طرف بڑھے انھیں منہ کی کھانی پڑی اور مسلمانوں سے ہر مقابلہ میں اُن کو شکست اٹھانی پڑی، تو انھوں نے اپنے سرداروں کو چھوڑ دیا اور اپنا سامان کشتیوں پر لاد دیا۔ (عرب کے عیسائی قبائل )تَغْلِب اور اِیاد اور نمر کے نمائندے یہ ساری خبر لے کر (مسلمانوں کے امیر) حضرت عبداللہ بن مُعتمؓ کے پاس آئے اوران سے یہ درخواست کی کہ عرب کے ان قبائل سے مسلمان صلح کرلیں۔ اور انھوں نے حضرت عبداللہ کو بتایا کہ یہ تمام قبائل ان کی بات ماننے کو تیار ہوچکے ہیں۔ حضرت عبداللہ نے ان قبائل کو یہ پیغام بھیجا کہ اگر تم اس بات میںسچے ہوتوکلمۂ شہادت أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھ لو اور حضورﷺ جو کچھ اللہ کے پاس سے لے کر آئے ہیں اس کا اقرار کرلو ، پھر تم اس بارے میں اپنی رائے سے مطلع کرو۔ وہ نمائندے یہ پیغام لے کر اپنے قبائل کے پاس گئے۔ ان قبائل نے ان نمائندوں کو حضرت عبداللہ کے پاس قبولِ اِسلام کی خبر دے کر واپس بھیجا۔ 2 حضرت خالد اور حضرت عُبادہ ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر ؓ کے (شام سے) مدینہ واپس جانے کے بعد حضرت عمرو بن العاص ؓ مصر کی طرف روانہ ہوئے یہاں تک کہ بابِ اَلْیُون مقام تک پہنچ گئے۔ پیچھے سے حضرت زُبیر ؓ بھی اُن کے پاس وہاں پہنچ گئے۔ مصر کا بڑا پادری ابو مریم وہاں لڑنے والوں کو لے کر مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے پہلے سے پہنچا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ دوسرا پادری بھی تھا۔ مُقَوقِس نے اس ابو مریم کو اپنے ملک کی حفاظت کے لیے بھیجا تھا۔ جب حضرت عمرو نے وہاں پڑاؤ ڈالا تو یہ (مصری) ان سے لڑنے کو تیار ہوگئے۔ حضرت عمرو نے اُن کو پیغام بھیجا کہ ہم سے (لڑنے میں) جلدی نہ کرو، ہم تمہارے سامنے اپنے آنے کا مقصد بیان کردیتے ہیں پھر تم اس کے بارے میں غور کرلینا ۔ چناںچہ انھوں نے اپنے لشکر کو (جنگ سے) روک لیا۔ حضرت عمرو نے پھر یہ پیغام بھیجا کہ میں (بات کرنے کے لیے) سامنے آرہا ہوں ابو مریم اور ابو مریام بھی مجھ سے بات کرنے کے لیے باہر آجائیں۔ انھوں نے حضرت عمرو کی یہ بات مان لی۔ انھوں نے ایک دوسرے کو اَمن دیا۔ حضرت عمرو نے ان دونوں سے کہا کہ تم دونوں اس شہر کے بڑے پادری ہو۔ ذرا غور سے سنو! اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو حق دے کر بھیجا اور حق (پر چلنے )کا انھیں حکم دیا، اور حضرت محمد ﷺ نے ہمیں حق( پر چلنے) کا حکم دیا۔ جتنے حکم آپ کو ملے ہیں وہ آپ نے سارے ہم تک پہنچادیے۔ پھر آپ دنیا سے تشریف لے گئے۔ آپ پر اللہ کی لاکھوں رحمتیں ہوں! اپنی ذمہ داری کا حق ادا کرگئے اور ہمیں ایک کھلے راستہ پر چھوڑ گئے۔ آپ جن باتوں کا ہمیں حکم دے کر گئے ان میں ایک یہ بھی ہے کہ ہم لوگوں کے سامنے اپنا مقصد پورے طور پر بیان کردیں، لہٰذا ہم تمہیں اِسلام کی دعوت دیتے ہیں۔جو ہماری اس دعوت کو قبول کرلے گا وہ ہمارے جیسا بن جائے گا اور جو ہماری دعوتِ اسلام کو قبول نہیں کرے گا ہم اس پر جزیہ پیش کریں گے (کہ وہ جزیہ ادا کرے)، ہم اس کی ہر طرح سے حفاظت کریں گے۔ انھوں نے ہمیں بتایا تھا کہ ہم تم پر فتح حاصل کرلیں گے۔ انھوں نے ہمیں تمہارے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت کی تھی، کیوں کہ ہماری تمہارے ساتھ رشتہ داری ہے (حضرت ہاجرہ اور حضرت ماریہ قِبطیّہ دونوں مصر کے قِبطی قبیلہ کی تھیں)۔ اگر تم ہماری جزیہ والی بات کو قبول کرلوگے تو دو وجہ سے تمہاری ہم پر ذمہ داری ہوگی(ایک ذمی ہونے کی وجہ سے اور ایک رشتہ داری کی وجہ سے)۔ ہمارے امیر نے بھی ہمیں (مصر کے) قبطیوں کے ساتھ اچھے سلوک کی ہدایت کی تھی، کیوں کہ حضور ﷺ نے ہمیں قبطیوں کے ساتھ اچھے سلوک کی وصیت فرمائی ہے،اس لیے کہ قبطیوں سے رشتہ داری بھی ہے اور ان کی ذمہ داری بھی ہے۔ مصر یوں نے کہا: اتنے دور کی رشتہ داری کا خیال تو صرف نبی ہی کرسکتے ہیں۔ (حضرت ہاجرہ) وہ بھلی اور شریف خاتون ہمارے بادشاہ کی بیٹی تھیں، اہلِ مَنَف میں سے تھیں (مَنَف مصر کا پرانا دارالخلافہ ہے) اور بادشاہت ان ہی کی تھی۔ اہلِ عین شمس نے ان پر حملہ کرکے ان کو قتل کردیا اور ان سے بادشاہت چھین لی اور باقی ماندہ لوگ اس علاقے کو چھوڑ کر چلے گئے، اس طرح وہ خاتون حضرت اِبراہیم ؑ کے پاس آگئیں۔ حضرت اِبراہیم ؑ کی ہمارے ہاں آمد بڑی باعث ِمسرّت و خوشی تھی۔ جب تک ہم (مشورہ کرکے) واپس نہ آئیں اس وقت تک کے لیے ہمیں امن دے دیں۔ حضرت عمر و ؓ نے فرمایا: مجھ جیسے آدمی کو کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا۔ تم دونوں کو تین دن کی مہلت دیتا ہوں تاکہ تم دونوں خود بھی غور کرلو اور اپنی قوم سے مشورہ بھی کرلو۔ اگر تم نے تین دن تک کوئی جواب نہ دیا تو میں تم سے جنگ شروع کردوں گا (مزید انتظار نہیں کروں گا)۔ ان دونوںنے کہا: کچھ وقت اور بڑھادیں۔ حضرت عمرو نے ایک دن اور بڑھادیا۔ انھوں نے کچھ اور وقت بڑھانے کی مزید درخواست کی، حضرت عمر و نے ایک دن اور بڑھادیا۔ وہ دونوں مُقَوقِس کے پاس واپس چلے گئے۔ مُقَوقِس نے تو کچھ آمادگی ظاہر کی مگر اَرْطبون نے ان دونوں کی بات ماننے سے انکار کردیا اور مسلمانوں پر چڑھائی کرنے کا حکم دے دیا۔ ان دونوں پادریوں نے مصر والوں سے کہا: ہم تو تمہاری طرف سے دفاع کی پوری کوشش کریں گے اور ان کی طرف لوٹ کر نہ جائیں گے اور ابھی چار دن باقی ہیں۔ ان چار دنوں میں مسلمانوں کی طرف سے تم پر حملہ کا خطرہ نہیں، امان ہی کی توقع ہے،لیکن فُرْقُب نے حضرت عمرو اورحضرت زُبیر ؓ پر اچانک شب خون مارا۔ حضرت عمرو (اس اچانک حملہ کے لیے) تیاری کیے ہوئے تھے، انھوں نے فُرْقُب کا مقابلہ کیا اور فُرْقُب اور اس کے ساتھی مارے گئے اور وہ یوں خود ہی اپنی تدبیر میں ناکام ہوگئے۔ وہاں سے حضرت عمرو اور حضرت زُبیر ؓ عینِ شمس کی طرف روانہ ہوئے۔ 1 حضرت ابو حارثہ اور حضرت ابو عثمان کہتے ہیں: جب حضرت عمرو ؓ مصریوں کے پاس عینِ شمس پہنچے تو مصر والوں نے اپنے بادشاہ سے کہا: تم اس قوم کا کیا بگاڑ لو گے جنھوں نے کسری اور قیصر کو شکست دے کر اُن کے ملک پر قبضہ کرلیا؟ ان سے صلح کرلو اور ان سے معاہدہ کرلو۔ نہ خود ان کے سامنے مقابلہ کے لیے جاؤ اور نہ ہمیں لے جاؤ ، لیکن بادشاہ نہ مانا۔ یہ قصہ چوتھے دن کا ہے، اور ا س نے مسلمانوں پر حملہ کرکے جنگ شروع کردی۔ حضرت زُبیر ؓ ان کے شہر کی فصیل (پناہ کی دیوار)پر چڑھ گئے۔ یہ منظر دیکھ کر (وہ ڈر گئے اور)انھوں نے حضرت عمرو کے لیے شہر کا دروازہ کھول دیا اور صلح کرنے کے لیے شہر سے باہر نکل آئے۔ حضرت عمرو نے ان کی صلح کو منظور کرلیا۔حضرت زُبیر تو ان پر غالب ہوکر دیوار سے شہر میں اترے ۔1 حضرت سلیمان بن بُریدہ کہتے ہیں کہ جب امیر المؤمنین (حضرت عمر ؓ) کے پاس اہلِ ایمان کا لشکر جمع ہوجاتا تو ان پر کسی صاحب ِعلم اور فقیہ کو امیر بنادیتے۔ چناںچہ ایک لشکر تیار ہوا، حضرت سلمہ بن قیس اشجعی ؓ کو ان کا امیر بنایا اور ان کو یہ ہدایات دیں: تم اللہ کا نام لے کر چلو، اور اللہ کے راستہ میں ان لوگوں سے جنگ کروجو اللہ کا اِنکارکرتے ہیں۔ جب تمہارا مشرک دشمن سے سامنا ہو تو ان کو تین باتوں کی دعوت دو: (سب سے پہلے تو) اُن کو اِسلام کی دعوت دو۔ اگر وہ مسلمان ہوجائیں اور اپنے وطن میں ہی رہنا پسند کریں تو اُن کے مالوں میں ان پر زکوٰۃواجب ہوگی اور مسلمانوں کے مالِ غنیمت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔ اور اگر وہ تمہارے ساتھ (مدینہ میں) رہنا پسند کریں تو انھیں وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو تمہیں حاصل ہیں اور ان پر وہ تمام ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو تم پر ہیں۔ اور اگر (اِسلام قبول کرنے سے) اِنکار کریں تو انھیں جزیہ دینے کی دعوت دو۔ اگر وہ جزیہ دینے پر راضی ہوجائیں تو اُن کے دشمنوں سے جنگ کرنا اور اُن کو جزیہ کی ادائیگی کے لیے فارغ کردینا اور اُن کو ان کی طاقت سے زیادہ کسی کام کی تکلیف نہ دینا۔ اگر وہ (جزیہ دینے سے بھی) ا ِنکار کر دیں تو ان سے جنگ کرو، اللہ تعالیٰ ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے گا۔ اگر وہ تم سے ڈر کر کسی قلعہ میں خود کو محفوظ کرلیں اور وہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر اترنے کا مطالبہ کریں تو تم ان کو اللہ کے حکم پر مت اتارنا، کیوں کہ تم جانتے نہیں ہو کہ ان کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا کیا حکم ہے؟ اور اگر وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ذمہ داری پر اترنے کا مطالبہ کریں تو تم ان کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ذمہ داری پر مت اتارنا، بلکہ ان کو اپنی ذمہ داری پر اتارنا۔ اور اگر وہ تم سے جنگ کریں تو تم خیانت نہ کرنا اور بدعہدی نہ کرنا اور کسی کا ناک کان نہ کاٹنا اور کسی بچے کو قتل نہ کرنا ۔ حضرت سلمہؓ کہتے ہیں کہ ہم چلے اور مشرک دشمنوں سے ہمارا سامنا ہوا۔ (اِسلام کی) جس بات کا امیر المؤمنین نے ہمیں کہا تھا ہم نے ان کو اس بات کی دعوت دی، لیکن انھوں نے اِسلام لانے سے انکارکردیا۔ پھر ہم نے اُن کو جزیہ کی دعوت دی انھوں نے اسے بھی ماننے سے انکار کردیا۔ چناںچہ ہم نے اُن سے جنگ کی اللہ تعالیٰ نے اُن کے مقابلہ میں ہماری مدد کی۔ ہم نے اُن کی لڑنے والی فوج کو قتل کردیا، اور اُن کی عورتوں اور بچوں کو قید کرلیا، اور ان کا سارا سامان جمع کرلیا۔ آگے لمبی حدیث ہے۔1 حضرت ابو اُمیّہ کہتے ہیں کہ جب حضرت (ابو موسیٰ) اَشعری ؓ اِصفہان پہنچے تو انھوں نے وہاں والوں پر اِسلام کو پیش کیا، انھوں نے (اسے قبول کرنے سے) اِنکار کردیا۔ تو پھر حضرت اَشعری نے جزیہ ادا کرنے کی بات ان کے سامنے رکھی تو انھوں نے اس پر ان سے صلح کرلی۔ رات تو انھوں نے صلح پر گزاری، لیکن صبح ہوتے ہی انھوں نے غدّاری کی اور جنگ شروع کردی ۔ حضرت اَشعری نے ان کا مقابلہ کیا اور جلد ہی تھوڑی دیر میں اللہ تعالیٰ نے ان کو کافروں پر غالب کردیا ۔2