حضور ﷺ کے زمانہ میں صحابۂ کرام ؓ کا میدانِ جنگ میں دعوت دینا
حضرات صحابۂ کرام کا حضرت ابو بکر ؓ کے زمانہ میں میدانِ جنگ میں اللہ ورسول ﷺ کی طرف دعوت دینا اور حضرت ابو بکر ؓ کا اپنے اُمرا کو اس کی تاکید کرنا
حضرت سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓنے شام کی طرف لشکر روانہ فرمائے، اور ان کا حضرت یزید بن ابی سفیان اور حضرت عمرو بن العاص اور حضرت شُرَحْبِیل بن حَسَنہ ؓکو امیر بنایا۔ جب یہ لشکر سوار ہوکر چلے تو حضرت ابوبکر ان لشکروں کے اُمرا کے ساتھ رخصت کرنے کے لیے ثَنیّۃُ الوداع تک پیدل گئے۔ ان اُمرا نے کہا: یا خلیفۃَ رسولِ اللہ! آپ پیدل چل رہے ہیں اور ہم سوار ہیں۔ انھوں نے کہا: میں ثواب کی نیت سے یہ چند قدم اللہ کے راستہ میں اٹھا رہا ہوں۔ پھر حضرت ابوبکر ان کوہدایات دینے لگے اور فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تاکید کرتا ہوں۔ اللہ کے راستہ میں جہاد کرو اور جو اللہ تعالیٰ کو نہ مانے اس سے جنگ کرو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کا مدد گار ہے۔ اور مالِ غنیمت میں خیانت نہ کرنا اور بدعہدی نہ کرنا اور بزدلی نہ دکھانا اور زمین میں فساد نہ پھیلانا اور تمہیں جو حکم دیا جائے اس کے خلاف نہ کرنا۔
جب تقدیرِ خداوندی سے مشرک دشمن سے تمہارا سامنا ہو تو اسے تین باتوں کی دعوت دینا۔ اگر وہ تمہاری باتیں مان لیں تو تم اُن سے قبول کرلینا اور رک جانا: (سب سے پہلے) اُن کو اسلام کی دعوت دو۔ اگر وہ اسے مان لیں تو تم ان سے اسے قبول کرلو اور ان سے (جنگ کرنے سے) رک جاؤ۔ پھر اُن سے کہو کہ وہ اپنا وطن چھوڑ کر مہاجرین کے وطن منتقل ہوجائیں۔ اگر وہ ایسا کرلیں تو انھیں بتاؤ کہ اُن کو وہ تمام حقوق ملیں گے جو مہاجرین کو حاصل ہیں اور اُن پر وہ تمام ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو مہاجرین پر ہیں۔ اور اگر وہ اِسلام میں داخل ہوجائیں اور اپنے وطن میں ہی رہنا پسند کریں اور مہاجرین کے وطن نہ آنا چاہیں تو انھیں بتادینا کہ اُن کے ساتھ دیہات میں رہنے والے مسلمانوں والا معاملہ ہوگا، اور اُن پر اللہ تعالیٰ کے وہ تمام احکام لاگو ہوں گے جو تمام مؤمنوں پر اللہ تعالیٰ نے فرض فرمائے ہیں، اور مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شرکت کیے بغیر انھیں فیٔ اور مالِ غنیمت میں سے کچھ نہیں ملے گا۔ اور اگر اِسلام قبول کرنے سے وہ اِنکار کریں تو انھیں جزیہ اَدا کرنے کی دعوت دو۔ اگر وہ (اسے مان جائیں تو تم اُن سے اسے قبول کرلو اور ان سے (جنگ کرنے سے) رک جاؤ۔ اور اگر وہ (جزیہ دینے سے بھی ) اِنکار کردیں تو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرکے اُن سے جنگ کرو۔ کھجور کے کسی درخت کو ضائع نہ کرنا اور نہ اسے جلانا، اور کسی جانور کی ٹانگیں نہ کاٹنا، اور نہ کسی پھل دار درخت کوکاٹنا، اور نہ (اُن کی) کسی عبادت گاہ کو گرانا، اور بچوں اور بوڑھوں اور عورتوںکو قتل نہ کرنا۔ اور تم ایسے لوگوں کو بھی پاؤگے جو خلوت خانوں میں گوشہ نشین ہوں گے،انھیں اُن کی حالت پر چھوڑ دینا کہ وہ اپنے کام میں لگے رہیں۔ اور تمہیں ایسے لوگ بھی ملیں گے جن کے سروں میں شیطان نے اپنے گھونسلے بنارکھے ہوں گے (یعنی وہ ہر وقت شیطانی حرکتوں میں لگے رہتے ہوں گے اور گمراہ کرنے کے شیطانی منصوبے چلاتے ہوں گے) ایسے لوگوں کی گردنیں اُڑا دینا ۔ 1
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے جب حضرت خالد بن ولید ؓکو مرتد عربوں کی طرف بھیجا تو انھیں یہ ہدایات دیں کہ وہ ان مرتدین کو اِسلام کی دعوت دیں، اور اُن کو اِسلام کے فائدے اور ذمہ داریاں بتائیں، اور اُن کے دل میں ان کی ہدایت کی پوری طلب ہو۔ ان مرتدین میں سے جو بھی اس دعوت کو قبول کرے گا وہ کالا ہو یا گورا اس کا اِسلام قبول کرلیا جائے گا، اس لیے کہ جو شخص اللہ کا اِنکار کرتا ہے اور کفر اختیار کرتا ہے اس سے اللہ پر ایمان لانے کے لیے قتال کیا جاتا ہے، لہٰذا جسے اِسلام کی دعوت دی گئی اور اس نے اِسلام کو قبول کرلیااور اس نے اپنے ایمان کو سچا کر دکھایا تو اب اس پر کوئی گرفت اور مؤاخذہ نہیں ہوگا، اور اللہ تعالیٰ خود اس سے حساب کرلیں گے۔ اور جو مرتد اِسلام کی دعوت کو قبول نہ کرے حضرت خالد اسے قتل کردیں ۔2
حضرت صالح بن کیسان کہتے ہیں کہ حضرت خالد ؓ نے حیرہ میں پڑاؤ ڈالا تو حیرہ کے معزّز شرفا قَبِیْصہ بن اِیاس بن حیہ طائی کے ساتھ شہر سے نکل کر حضرت خالد کے پاس آئے۔ قَبِیصہ کو کسریٰ نے نعمان بن منذر کے بعد حیرہ کا گورنر بنایاتھا۔ چناںچہ حضرت خالد نے قَبِیصہ اور اس کے ساتھیوں سے کہا: میں تمہیں اللہ اور اِسلام کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ اگر تم اسے قبول کرلو تو تم مسلمان شمار ہوگے اور جو حقوق مسلمانوں کو حاصل ہیں وہ تمہیں ملیں گے اور جو ذمہ داریاں مسلمانوں پر عائد ہیں وہ تم پر ہوں گی۔ اگر تم (اِسلام قبول کرنے سے) اِنکار کرو تو پھر جزیہ ادا کرو۔ اور اگر اس سے بھی اِنکار کرو تومیں تمہارے پاس ایسے لوگوں کو لے کر آیا ہوں کہ تمہیں زندہ رہنے کا جتنا شوق ہے اُن کو اس سے کہیں زیادہ مرنے کا شوق ہے۔ ہم تم سے لڑیں گے یہاں تک کہ اللہ ہی ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کردے۔ قَبِیصہ نے حضرت خالد سے کہا: ہمیں آپ سے جنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہم اپنے دین پر قائم رہیں گے اور آپ کو ہم جزیہ دیں گے ۔ چناںچہ حضرت خالد نے ان سے نوّے ہزار درہم پر صلح کرلی ۔ 1
اسی واقعہ کو بیہقی نے ابنِ اسحاق سے اس طرح بیان کیا ہے کہ حضرت خالد ؓ نے اُن سے کہا کہ میں تمہیں اِسلام کی طرف اور اس بات کی طرف دعوت دیتا ہوں کہ تم کلمۂ شہادت أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ پڑھ لو، اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور مسلمانوں کے تمام احکام کا اقرار کرو۔ اس طرح تمہیں بھی وہ حقوق حاصل ہوجائیں گے جو مسلمانوں کو حاصل ہیں اور تم پر بھی وہی ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو مسلمانوں پر ہیں۔ ہانی نے پوچھا کہ اگر میں اسے نہ چاہوںتو پھر ؟ حضرت خالد نے کہا کہ تم اس سے اِنکار کرتے ہو تو پھر تم اپنے ہاتھوں جزیہ ادا کرو۔ اس نے کہا: اگر ہم اس سے بھی اِنکار کردیں تو؟ حضرت خالد نے کہا: اگر تم اس سے بھی اِنکار کرتے ہو تو میں تم کو ایک ایسی قوم کے ذریعہ روند ڈالوں گا کہ ان کو موت اس سے زیادہ پیاری ہے جتنی تم کو زندگی پیاری ہے۔ ہانی نے کہا: ہمیں اس ایک رات کی مہلت دیں تاکہ ہم اس بارے میں غور کرسکیں۔ حضرت خالد نے کہا: ہاں تمہیں مہلت ہے۔ صبح ہانی نے آکر کہا: ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم جزیہ ادا کریں گے، آئیں ہم آپ سے صلح کرلیتے ہیں۔ اس کے بعد پورا قصہ بیان کیا ۔ 2
جب جنگِ یرموک میں لشکر آمنے سامنے آئے تو حضرت ابوعبیدہ اور حضرت یزید بن ابی سفیان ؓ آگے بڑھے، اور ان کے ساتھ حضرت ضِرار بن اَزْور اور حضرت حارث بن ہشام اور حضرت ابو جندل بن سہیل ؓبھی تھے۔ انھوں نے بلند آواز سے کہا: ہم تمہارے امیر سے ملنا چاہتے ہیں۔ اُن کا امیر تذارُق تھا، اس نے ان حضرات کو داخلہ کی اجازت دی۔ وہ ریشمی خیمہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ صحابہ ؓنے کہا: ہمارے لیے اس خیمہ میں داخل ہونا حلال نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ ان حضرات کے لیے ریشمی فرش بچھایا جائے ۔ ان حضرات نے کہا: ہم اس پر بھی نہیں بیٹھ سکتے۔ آخر کار وہ صحابہ ؓ کے ساتھ وہاں بیٹھا جہاں بیٹھنا صحابہ نے پسند کیا۔ اور فریقین صلح پر راضی ہوگئے۔ صحابہ ان کو اللہ کی طرف دعوت دے کر واپس آگئے، لیکن یہ صلح پوری نہ ہوسکی (جنگ ہوہی گئی) ۔1
واقدی وغیرہ کہتے ہیں کہ (جنگ ِیرموک کے دن ) جرجہ نامی ایک بڑا سردار دشمنوں کی صف میں سے باہر آیا اور اُس نے حضرت خالد بن ولید ؓ کو پکارا۔ حضرت خالد اس کے پاس آئے اور اتنے قریب آئے کہ دونوں کے گھوڑوں کی گردنیں مل گئیں۔جرجہ نے کہا: اے خالد ! (میرے سوالات کا) جواب دیں اور آپ مجھ سے سچ بولیں جھوٹ نہ بولیں، کیوں کہ اعلیٰ اخلاق کا مالک آدمی جھوٹ نہیں بولا کرتا ہے۔ اور مجھے دھوکہ نہ دینا، کیوں کہ شریف آدمی اپنے پر اعتماد کرنے والے کو دھوکہ نہیں دیا کرتا ہے۔ میں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ نے تمہارے نبی پر آسمان سے کوئی تلوار اُتاری ہے جو انھوں نے تمہیں دی ہے؟ تم وہ تلوار جس پر بھی اٹھاتے ہو اسے شکست دے دیتے ہو؟ حضرت خالد نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: پھر آپ کو سیف اللہ (اللہ کی تلوار ) کیوں کہا جاتا ہے؟ حضرت خالد نے کہا: بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم میں اپنا نبی بھیجا۔ اس نے ہمیں دعوت دی، ہم سب نے اس سے نفرت کی اور اس سے دور بھاگے ۔ پھر ہم میں سے کچھ لوگوں نے اسے سچا مان لیا اور اس کا اتباع کیا، اور کچھ جھٹلانے اور دور رہنے پر اَڑے رہے۔ میں بھی اُن لوگوں میں تھا جو اُن کو جھٹلانے اور ان سے دور رہنے پر اَڑے ہوئے تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے دلوں اور پیشانیوں کو پکڑ کر ہمیں اُن کے ذریعہ سے ہدایت دے دی اور ہم آپ سے بیعت ہوگئے۔ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: تم اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے مشرکوں پر سونتا ہے۔ اور آپ نے میرے لیے مدد کی دعا فرمائی، اس وجہ سے میرا نام سیف اللہ پڑ گیا۔ اور میں مشرکوں پر مسلمانوں میں سے سب سے زیادہ بھاری ہوں۔ جرجہ نے پوچھا :اے خالد! تم کس چیز کی دعوت دیتے ہو؟ حضرت خالد نے کہا: ہم اس بات کی دعوت دیتے ہیں کہ تم کلمۂ شہادت أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ پڑھو، اور وہ (محمدﷺ ) جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس سے لائے ہیں اس کا اقرار کرو۔ جرجہ نے پوچھا :جو تمہاری یہ بات نہ مانے تو پھر ؟ حضرت خالد نے کہا: وہ جزیہ ادا کرے ہم اس کی (ہر طرح) حفاظت کریںگے۔ جرجہ نے پوچھا: اگر و ہ جزیہ نہ دے تو ؟ حضرت خالد نے کہا: ہم اس سے جنگ کا اعلان کرکے لڑائی شروع کردیتے ہیں۔ جرجہ نے پوچھا: جو آدمی تمہاری بات مان کر آج تمہارے دین میں داخل ہو اس کا تمہارے نزدیک کیا درجہ ہوگا؟ حضرت خالد نے کہا: اللہ تعالیٰ کے فرض کردہ اَحکام میں ہم سب برابر ہیںچاہے کوئی سردار ہو یا عامی ہو، پہلے اسلام لایا ہو یا بعد میں۔ جرجہ نے پوچھا کہ جو آج تم میں داخل ہو اسے بھی تمہارے جیسا اجر و ثواب ملے گا؟ حضرت خالد نے کہا: ہاں بلکہ وہ تو ہم سے افضل ہے۔ اس نے پوچھا کہ جب تم اس سے پہلے اِسلام لائے ہوتو وہ تمہارے برابر کیسے ہوسکتا ہے؟ حضرت خالد نے کہا: ہمیں تو حالات سے مجبور ہوکر اِسلام قبول کرنا پڑا۔ ہم اپنے نبی سے اس وقت بیعت ہوئے جب کہ وہ ہمارے درمیان رہتے تھے اور زندہ تھے۔ ان کے پاس آسمان سے خبریں آتی تھیں، وہ ہمیں قرآن پڑھ کر سناتے تھے اور ہمیں معجزے دکھاتے تھے۔ جتنا کچھ ہم نے دیکھا اور سنا ہے اتنا کچھ جو بھی دیکھ لے اور سن لے اسے مسلمان ہونا ہی چاہیے اور اسے ضرور (حضورﷺ سے) بیعت ہونا ہی چاہیے ۔ ہم نے جو عجائب ِقدرت دیکھے وہ تم نے نہیں دیکھے اور ہم نے جو دلائلِ نبوت سنے وہ تم نے نہیں سنے، لہٰذا تم میںسے جو بھی اب سچی نیت سے اس دین میںداخل ہوگا وہ ہم سے افضل ہے۔ جرجہ نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے مجھ سے سچ سچ کہہ دیا ہے اور مجھے دھوکہ نہیں دیا۔ حضرت خالدنے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تم سے سچ ہی کہا، اور اللہ تعالیٰ گواہ ہے کہ میں نے تمہارے ہر سوال کا جواب ٹھیک دیا ہے۔
یہ سن کر جرجہ نے اپنی ڈھال کو پلٹ دیا (جو جنگ نہ کرنے کی طرف اِشارہ ہے) اور حضرت خالد کے ساتھ ہولیے اور اُن سے کہا: آپ مجھے اِسلام سکھائیں۔ حضرت خالد انھیں اپنے خیمہ میں لے گئے اور ان پر مَشک سے پانی ڈال کر غسل کرایا، پھر حضرت خالدؓ نے ان کو دو رکعت نماز پڑھائی۔ جب حضرت جرجہ حضرت خالدکے ساتھ چل پڑے تو رومی یہ سمجھے کہ حضرت خالدنے ہمارے سردار کے ساتھ کوئی چال کھیلی ہے اس لیے اس زور سے اچانک مسلمانوں پر حملہ کیا کہ ایک دفعہ تو مسلمانوں کے قدم اُکھڑ گئے، صرف محامیہ نامی حفاظتی دستہ اپنی جگہ ثابت قدم رہا جس کے ذمہ دار حضرت عِکْرِمہ بن ابی جہل اور حضرت حارث بن ہشامؓ تھے۔ رُومی مسلمانوں کے بیچ میں گھسے ہوئے تھے۔ یہ دیکھ کر حضرت خالد اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور حضرت جرجہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ مسلمانوں نے ایک دوسرے کو پکارا جس پر سارے مسلمان واپس آکر جمع ہوگئے اور رُومی اپنے مورچوں کو واپس چلے گئے۔ حضرت خالد مسلمانوں کو آہستہ آہستہ لے کر رُومیوں کی طرف بڑھے یہاں تک کہ تلواریں تلواروں سے ٹکرانے لگ گئیں۔ دوپہر سے غروب تک حضرت خالدؓ اور حضرت جرجہ مسلسل رومیوں پر تلوار چلاتے رہے۔ مسلمانوں نے ظہر اور عصر کی نمازیں اشارہ سے پڑھیں اور اسی میں حضرت جرجہ شدید زخمی ہوگئے اور انھوں نے حضرت خالد کے ساتھ جو دو رکعت نماز پڑھی اس کے علاوہ اور کوئی نماز نہ پڑھ سکے (اور اسی دن شہید ہوگئے) ۔ 1
حضرت خالدؓ نے ایک دن لوگوں میں کھڑے ہوکر بیان کیا اور مسلمانوں کو بلادِ عرب چھوڑ کر بلادِ عجم میں جانے کی ترغیب دی اور کہا کہ بلادِ عجم میں جو کھانے پینے کی چیزوں کی فراوانی ہے وہ تمہیں نظر نہیں آتی۔ اللہ کی قسم! اگر ہم لوگوں پر جہاد فی سبیل اللہ اور اِسلام کی دعوت دینا لازم نہ ہوتا اور صرف کھانا کمانا ہی ہمارے سامنے ہوتا تو بھی میری رائے یہی تھی کہ ہم جنگ کرکے اس سر سبز علاقہ کو حاصل کرلیں۔ اور آپ لوگ جس جہاد کے لیے نکلے ہوئے ہیں اس کو چھوڑ کر جو لوگ (اپنے گھروں میں) رہ گئے ہیں بھوک اور تنگ دستی اُن کے حصہ میں رہے۔ 2