صحابہ کرام ؓ کے اعمال اور اخلاق کی وجہ سے لوگوں کی ہدایت

صحابۂ کرام کے ان اعمال اور اخلاق کے قصے جن کی وجہ سے لوگوں کو ہدایت ملتی تھی

حضرت ابنِ اسحاق بیان کرتے ہیں کہ جب اَنصار حضور ﷺ سے بیعت ہوکر مدینہ آئے تو مدینہ میں اِسلام پھیلنے لگا، لیکن پھر بھی اَنصار کے کچھ مشرک لوگ اپنے دین پر باقی تھے جن میں ایک عمرو بن جَموح بھی تھے۔ اُن کے بیٹے حضرت معاذ ؓ عَقَبہ میں حضور ﷺ کے ہاتھ پر بیعت ہوچکے تھے۔ حضرت عمرو بن جموح قبیلہ بنو سَلِمہ کے سرداروں اور معزّز لوگوں میں سے تھے۔ انھوں نے معزّز لوگوں کے دستور کے مطابق اپنے گھر میں لکڑی کا ایک بت بنا رکھا تھا جسے منات کہا جاتا تھا۔ اسے وہ اپنا معبود سمجھتے اور اسے پاک صاف رکھتے۔ جب بنو سَلِمہ کے چند جوان حضرت معاذ بن جبل اور حضرت معاذ بن عمرو وغیرہ بیعۃُ العقبہ میں شریک ہوکر مسلمان ہوگئے تو وہ حضرت عمرو کے اس بت کے پاس جاتے اور اسے اٹھا کر بنو سَلِمہ کے کسی گندگی والے گڑھے میں اس کا سر اوندھا کرکے پھینک دیتے۔ صبح کو حضرت عمرو شور مچاتے اور کہتے کہ تمہارا ناس ہو! آج رات کس نے ہمارے معبود پر دست درازی کی؟ پھر اسے تلاش کرنے چل پڑتے۔ جب وہ بت مل جاتا تو اسے دھو کر پاک صاف کرکے خوشبو لگاتے پھر کہتے: اللہ کی قسم! اگر مجھے پتہ چل جائے کہ کس نے تیرے ساتھ ایسا کیا ہے تو میں اسے ضرور ذلیل کروں۔ شام کو جب حضرت عمرو سوجاتے تووہ نوجوان پھر اس بت کے ساتھ اسی طرح کرتے۔ جب انھوں نے کئی دفعہ اس طرح کیا تو ایک دن انھوں نے اسے گڑھے میں سے نکال کر دھویا اور اسے پاک صاف کرکے خوشبو لگائی اور پھر اپنی تلوار لاکر اس کے گلے میں لٹکادی اور (اس بت سے) کہا: اللہ کی قسم! مجھے نہیں پتہ چل سکا کہ تمہارے ساتھ یہ گستاخی کون کرتا ہے؟ اگر تیرے میں کچھ ہمت ہے تو یہ تلوار تیرے پاس ہے اس کے ذریعہ اپنی حفاظت کرلینا۔ چناںچہ شام کو جب وہ سوگئے تو ان جوانوں نے جب یہ دیکھا کہ آج تو بُت کے گلے میں تلوار لٹکی ہوئی ہے تو انھوں نے تلوار سمیت اسے اٹھا یا اور ایک مرے ہوئے کتے کو رسی سے اس کے ساتھ باندھ دیا اور پھر اسے بنو سَلِمہ کے گندگی والے ایک کنویں میں پھینک دیا۔ صبح کو حضرت عمرو بن جموح کو وہ بت اپنی جگہ نہ ملا تو وہ اس کی تلاش میں نکلے تو اسے اس کنویں میں مردہ کتے کے ساتھ بندھا ہوا پایا۔ جب انھوں نے اس بت کو اس حال میں دیکھا تو اس بت کی ساری حقیقت انھیں نظر آگئی (کہ یہ تو اپنی بھی حفاظت نہیں کرسکتا)۔اور اُن کی قوم کے مسلمانوںنے ان سے بات کی تو وہ اللہ کے فضل سے مسلمان ہوگئے اور بڑے اچھے مسلمان ثابت ہوئے۔ 1 حضرت مِنْجاب نے زِیاد کے واسطے سے یہ حدیث ابنِ اسحاق سے اس طرح نقل کی ہے کہ ابنِ اسحاق کہتے ہیں کہ مجھے اسحاق بن یسار نے بنو سَلِمَہ کے ایک آدمی سے نقل کیا ہے کہ جب بنو سَلِمَہ کے جوان مسلمان ہوگئے تو حضرت عمرو بن جموح کی بیوی اور بیٹے مسلمان ہوگئے۔ انھوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اپنے بچوں کو اپنے خاندان میں جانے نہ دینا یہاں تک کہ میں یہ نہ دیکھ لوںکہ خاندان والے کیا کررہے ہیں؟ اُن کی بیوی نے کہا: میں ایسے ہی کروں گی، لیکن آپ اپنے فلاں بیٹے سے ذرا سن تو لیں کہ وہ حضور ﷺ کی کیا باتیں بیان کرتا ہے؟ انھوں نے کہا: شاید وہ بے دین ہوگیا ہوگا۔ ان کی بیوی نے کہا: نہیں، وہ تو لوگوں کے ساتھ گیا ضرور تھا۔ حضرت عمر و نے آدمی بھیج کر اپنے بیٹے کو بلایا اور اس سے کہا: اس آدمی کا جو کلام تم سن کر آئے ہو وہ مجھے بھی بتاؤ۔ انھوں نے {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ }سے لے کر {الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ} تک سورتِ فاتحہ پڑھ کر سنائی۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو کیا ہی حسین و جمیل کلام ہے۔ کیا اُن کا سارا کلام ایسا ہی ہے؟ بیٹے نے کہا: اباجان! اس سے بھی زیادہ اچھا ہے۔ آپ کی قوم کے اکثر لوگ اُن سے بیعت ہوچکے ہیں آپ بھی اُن سے بیعت ہوجائیں ۔ انھوں نے کہا: پہلے میں منات بت سے مشورہ کرکے دیکھ لوں وہ کیا کہتا ہے؟ پھرمیںفیصلہ کروں گا۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ لوگ جب منات سے بات کرنا چاہتے تو منات کے پیچھے ایک بوڑھی عورت کو کھڑا کردیتے جو منات کی طرف سے جواب دیا کرتی۔ چناںچہ یہ اس بت کے پاس (مشورہ لینے) گئے۔ بوڑھی عورت کو وہاں سے چلتا کردیا گیا۔ یہ اس کے سامنے کھڑے ہوکر اس کی تعظیم بجالا ئے اور کہا: اے منات !تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ تجھ پر ایک بہت بڑی مصیبت آن پڑی ہے اور تو غفلت میں پڑا ہوا ہے۔ ایک آدمی آیا ہے جو ہمیں تیری عبادت سے روکتا ہے اور تجھے چھوڑ دینے کا حکم کرتا ہے۔ مجھے یہ اچھا نہ لگا کہ تجھ سے مشورہ کیے بغیر اس سے بیعت ہوجاؤں۔ یہ بہت دیر تک اس کے سامنے یہ باتیں کرتے رہے، لیکن اس کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا تو اس سے کہا: میرا خیال یہ ہے کہ تو ناراض ہوگیا ہے حالاں کہ میںنے اب تک تیری کوئی (گستاخی) نہیں کی ہے۔ چناںچہ کھڑے ہوکر اس بت کو توڑ دیا۔ اور اِبراہیم بن سلمہ نے ابنِ اسحاق سے یوں روایت کیا ہے کہ جب حضرت عمرو بن جموح ؓ اِسلام لے آئے اور اللہ تعالیٰ کو پہچان لیا تو انھوں نے چند اَشعار کہے جن میں انھوں نے بت کا اور اس کی بے بسی کا جو منظر دیکھا تھا اس کا تذکرہ کیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کو جو اندھے پن اور گمراہی سے بچایا ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کیا ہے: أَتُوْبُ إِلَی اللّٰہِ مِمَّا مَضٰی وَأَسْتَنْقِذُ اللّٰہَ مِنْ نَّارِہٖ میں اپنے گزشتہ گناہوں پر اللہ کے سامنے توبہ کرتا ہوںاور میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنی آگ سے مجھے نجات دے دے۔ وَأُثْنِيْ عَلَیْہِ بِنَعْمَائِہٖ إِلٰہِ الْحَرَامِ وَأَسْتَارِہٖ اور میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی وجہ سے اس کی ثنا بیان کرتا ہوں وہی بیت اللہ کااور اس کے پردوں کا خدا ہے۔ فَسُبْحَانَہٗ عَدَدَ الْخَاطِئِیْنَ وَ قَطْرِ السَّمَائِ وَمِدْرَارِہٖ میں خطا کار انسانوں اور آسمان سے اترنے والے قطروں اور موسلا دھار بارش کی بوندوں کی تعداد کے برابر اس کی پاکی بیان کرتا ہوں۔ ہَدَانِيْ وَقَدْ کُنْتُ فِيْ ظُلْمَۃٍ حَلِیْفَ مَنَاۃَ وَأَحْـجَارِہٖ میں تاریکی میں پڑا ہوا تھا، اور منات اور اس کے پتھروں کا پجاری تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت دی۔ وَأَنْقَذَنِيْ بَعْدَ شَیْبِ الْقَذَالِ مِنْ شَیْنِ ذَاکَ وَمِنْ عَارِہٖ بڑھاپے کی وجہ سے میرے سر کے بال سفید ہوچکے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے بتوں کی عبادت کے عیب اور عار سے نجات دی۔ فَقَدْ کِدْتُّ أَہْلِکُ فِيْ ظُلْمَۃٍ تَدَارَکَ ذَاکَ بِمِقْدَارِہٖ میں تو تاریکی میں بالکل ہلاک ہونے والا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی قدرت سے اس سے بچالیا۔ فَحَمْدًا وَّشُکْرًا لَّہٗ مَا بَقِیْتُ إِلٰہِ الْأَنَامِ وَجَبَّارِہٖ جب تک میں زندہ رہوں گا اس کی تعریف اور اس کا شکر کرتا رہوں گا، وہ تمام مخلوق کا خدا اور مخلوق کی خرابیوں کو درست کرنے والا ہے۔ أُرِیْدُ بِذٰلِکَ إِذْ قُلْتُہٗ مُجَاوَرَۃَ اللّٰہِ فِيْ دَارِہٖ ان اَشعار کے کہنے سے میرا مقصد یہ ہے کہ مجھے اللہ کے گھر (جنت )میں اس کا پڑوس نصیب ہوجائے ۔ اور اپنے بت منات کی مذمت میں یہ اَشعار کہے: تَاللّٰہِ لَوْکُنْتَ إِلٰـھًا لَّمْ تَکُنْ أَنْتَ وَکَلْبٌ وَسْطَ بِئْرٍ فِيْ قَرَنْ اللہ کی قسم! اگر تو سچا معبود ہوتا تو کتے کے ساتھ ایک رسی میں بندھا ہوا کنویں میں پڑا ہوا نہ ہوتا۔ أُفٍّ لِّمُلْقَاکَ إِلٰـھًا مُّسْتَدَنْ اَلْاٰنَ فَتَّشْنَاکَ عَنْ سُوْئِ الْغَبَنْ اس پر تف ہو کہ تو معبود ہونے کے باوجود ذلیل و خوار اس جگہ پڑا ہوا تھا، اب ہم نے تیرے انتہائی برے نقصان کو معلوم کرلیا ہے۔ ھُوَ الَّذِيْ أَنْقَذَنِيْ مِنْ قَبْلِ أَنْ أَکُوْنَ فِيْ ظُلْمَۃِ قَبْرٍ مُّرْتَھَنْ اللہ تعالیٰ نے ہی مجھے اس سے پہلے بچالیا کہ میں قبر کی اندھیری میں پڑا ہوا ہوتا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الْعَلِيِّ ذِي الْمِنَنْ اَلْوَاھِبِ الرَّزَّاقِ دَیَّانِ الدِّیَنْ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو سب سے بر تر، بڑے اِحسانات والا، عطیہ دینے والا، روزی دینے والا، جو (ہر طرح کی) عادتوں کا بدلہ دینے والا ہے۔ واقدی بیان کرتے ہیں: حضرت ابو درداء ؓ کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ اپنے گھرانہ میں سب سے آخر میں مسلمان ہوئے۔ وہ اپنے بت کی عبادت میں برابر لگے رہے۔ انھوں نے اس بت پر ایک رومال ڈالا ہوا تھا۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ زمانۂ جاہلیت سے ان کے بھائی بنے ہوئے تھے۔ وہ اُن کے پاس آکر اُن کو اِسلام کی دعوت دیا کرتے تھے، یہ ہر مرتبہ اِنکار کر دیتے۔ ایک دن حضرت عبداللہ نے دیکھا کہ حضرت ابو الدرداء گھر سے باہر جارہے ہیں۔ وہ ان کے بعد ان کے گھر میں ان کی بیوی کو بتائے بغیر داخل ہوگئے، وہ اپنے سر میں کنگھی کررہی تھی۔ اور اس سے پوچھا کہ ابو الدرداء کہاں ہیں؟ اُن کی بیوی نے کہا: آپ کے بھائی ابھی باہر گئے ہیں۔ حضرت ابو الدرداء نے جس کمرے میں بت رکھا ہوا تھا یہ اس میں کلہاڑا لے کر گئے اور اس بت کو نیچے گرا کر اس کے ٹکڑے کرنے لگے اور تمام شیاطین (یعنی بتوں)کے نام لے کر آہستہ آہستہ یہ کہہ کر گنگنارہے تھے: ألَاَ کُلُّ مَا یُدْعٰی مَعَ اللّٰہِ بَاطِلٗ ذرا غور سے سنو! اللہ تعالیٰ کے ساتھ جس کو بھی پکارا جاتا ہے وہ باطل اور لغو ہے۔ اور اس بت کے ٹکڑے کرکے باہر آگئے۔ جب وہ بت کو توڑ رہے تھے تو حضرت ابوالدرداء کی بیوی نے کلہاڑے کی آواز سن لی تھی تو وہ چِلّائیں اور کہا: اے ابنِ رواحہ! تم نے مجھے مار ڈالا۔ حضرت عبداللہ ابھی گھر سے نکلے ہی تھے کہ اتنے میں حضرت ابو الدرداء اپنے گھر واپس آگئے تو انھوں نے دیکھا کہ اُن کی بیوی بیٹھی ہوئی ان سے ڈر کر رو رہی ہے۔ انھوں نے بیوی سے پوچھا: تجھے کیا ہوا ؟ اس نے بتایا کہ تمہارے بھائی عبداللہ بن رواحہ یہاں آئے تھے اور دیکھو! وہ کیا کرگئے۔ (اسے دیکھ کر ایک دفعہ تو) حضرت ابو الدرداء کو بڑا غصہ آیا، لیکن پھر انھوں نے اپنے دل میں سوچا اور کہا کہ اگر اس بت میں کچھ بھلائی ہوتی تو اپنا بچاؤ توکرلیتا۔ وہ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓکو لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں گئے اور مسلمان ہوگئے۔1 حضرت زِیاد بن جزء زُبیدی کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عمر ؓ کے زمانۂ خلافت میں اِسکندریّہ کو فتح کیا۔ آگے تفصیل سے حدیث ذکر کی ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ ہم بَلْہِیب بستی میں ٹھہرگئے اور ہم لوگ حضرت عمر ؓ کے خط کا انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت عمر کا خط آگیا جو حضرت عمر وؓ نے پڑھ کر ہمیں سنایا۔ اس خط میں یہ مضمون تھا: اَما بعد! تمہارا خط ملا، جس میں تم نے لکھا ہے کہ اِسکندریّہ کے بادشاہ نے تمہارے سامنے اس شرط پر جزیہ دینے کی پیشکش کی ہے کہ ان کے ملک کے تمام قیدی واپس کردیے جائیں۔ میری زندگی کی قسم! جزیہ کا مال جو ہمیں اور ہمارے بعد کے مسلمانوں کو مسلسل ملتا رہے گا وہ مجھے اس مالِ غنیمت سے زیادہ پسند ہے جسے تقسیم کر دیا جاتا ہے اورپھر ختم ہوجاتا ہے۔ تم اِسکندریّہ کے بادشاہ کے سامنے یہ تجویز رکھو کہ وہ تمہیں اس شرط پر جزیہ دے کہ تمہارے قبضے میں اُن کے جتنے قیدی ہیں ان کو مسلمان ہونے اور اپنی قوم کے دین پر باقی رہنے میں اختیار دیا جائے گا۔ اُن میں سے جو اِسلام کو اختیار کرے گا وہ مسلمانوںمیں سے شمار ہوگا، مسلمانوں والے سارے حقوق اسے ملیں گے اور مسلمانوں والی ساری ذمہ داریاں اس پر ہوں گی۔ اور اُن میں سے جو اپنی قوم کے دین پر باقی رہنا چاہے گا اسے اتنا جزیہ دینا پڑے گا جتنا اس کے مذہب والوں پر مقرّر کیا گیا ہے۔ اور اُن کے وہ قیدی جو ملکِ عرب میں پھیل گئے ہیں اور مکہ، مدینہ اور یمن پہنچ گئے ہیں ان کو واپس کرنا ہمارے بس سے باہر ہے، اور ہم کسی ایسی بات پر صلح کرنا نہیں چاہتے ہیں جسے ہم پورا نہ کرسکتے ہوں۔ حضرت عمرو ؓ نے اِسکندریّہ کے بادشاہ کے پاس آدمی بھیج کر امیر المؤمنین کے خط کی اسے اطلاع دی، اس نے کہا: مجھے منظور ہے۔ چناںچہ ہمارے قبضہ میں جتنے قیدی تھے ان سب کو ایک جگہ جمع کیا اور وہاں کے نصاریٰ بھی جمع ہوگئے۔ جو ہمارے پاس قیدی تھے ان میں سے ہم ایک آدمی کو لاتے پھر اسے مسلمان ہونے اور نصرانی رہنے میں اختیار دیتے۔ اگر وہ اِسلام کو اختیارکرلیتا تو ہم کسی شہر کے فتح ہونے پر جتنی زور سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہتے اس موقع پر اس سے کہیں زیادہ زور سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہتے اورپھر ہم اسے مسلمانوں میں لے آتے۔ اوران میں سے جب کوئی نصرانیت کو اختیار کرتا تو نصاریٰ خوشی سے شور مچاتے اور پھر اسے اپنے مجمع میں لے جاتے اور ہم اس پر جزیہ مقرر کردیتے اور اس سے ہمیں اتنا زیادہ دکھ ہوتا کہ جیسے ہم میں سے کوئی آدمی نکل کر ادھر چلاگیا ہو۔ چناںچہ یوں ہی سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ ابو مریم عبداللہ بن عبدالرحمن کو بھی درمیان میں لایا گیا۔ قاسم راوی کہتے ہیں: میں نے اُن کی زیارت کی ہے، اس وقت وہ بنو زُبید کے سردار تھے۔ چناںچہ ہم نے اُن کو کھڑا کرکے اُن پر اِسلام اور نصرانیت کو پیش کیا اور اُن کے والدین اور بھائی نصاریٰ کے اس مجمع میں موجود تھے۔ انھوں نے اِسلام کو اختیار کیا۔ ہم انھیں اپنے میں لانے لگے تو ان کے والدین اور بھائی ان پر جھپٹے اور ان کو ہم سے چھیننے لگے۔ اسی کھینچا تانی میں انھوں نے ان کے کپڑے پھاڑ دیے (بہرحال ہم اُن کو مسلمانوں میں لے آئے) اور وہ آج ہمارے سردار ہیں جیسے کہ آپ دیکھ رہے ہیں۔ حدیث کا مضمون آگے بھی ہے۔1 حضرت شعبی بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی ؓ بازار تشریف لے گئے تو انھوں نے دیکھا کہ ایک نصرانی ایک زرہ بیچ رہا ہے۔ حضرت علی نے اس زرہ کو پہچان لیا اور فرمایا: یہ زرہ میری ہے۔ چلو! میرے اور تمہارے درمیان مسلمانوں کا قاضی فیصلہ کرے گا۔اور ان دنوں مسلمانوں کے قاضی حضرت شُرَیح تھے۔ حضرت علی نے ہی اُن کو قاضی بنایا تھا۔ جب قاضی شُرَیح نے امیر المؤمنین کو دیکھا تو اپنی مجلس سے کھڑے ہوگئے اور حضرت علی کو اپنی جگہ بٹھایا اور خود اُن کے سامنے اس نصرانی کے پہلو میں بیٹھ گئے۔ حضرت علی نے کہا: اے شُرَیح! اگر میرا فریقِ مخالف مسلمان ہوتا تو میں اس کے ساتھ بیٹھتا، لیکن میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ان (غیر مسلم ذمیوں ) سے مصافحہ نہ کرو اور اُن کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور اُن کے بیماروں کیبیمار پرسی نہ کرو اور اُن کی نماز جنازہ نہ پڑھو اور اُن کو راستے کے تنگ حصے میں چلنے پر مجبور کرو، انھیں چھوٹا بنا کر رکھو جیسے کہ اللہ نے انھیں چھوٹا بنایا ہے ۔اے شُرَیح! میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کرو۔ حضرت شُرَیح نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کیا کہتے ہیں؟حضر ت علی نے کہا: یہ زرہ میری ہے، کافی عرصہ پہلے یہ کہیں گر گئی تھی۔حضرت شُرَیح نے کہا: اے نصرانی! تم کیا کہتے ہو؟ اس نے کہا: میں یہ نہیں کہتا کہ امیر المؤمنین غلط کہہ رہے ہیں، لیکن یہ زرہ ہے میری۔ حضرت شُرَیح نے کہا: میرا فیصلہ یہ ہے کہ یہ زرہ اس سے نہیں لی جاسکتی، کیوں کہ آپ کے پاس کوئی گواہ نہیں۔ حضرت علی نے کہا: قاضی شُرَیح نے ٹھیک فیصلہ کیا ہے۔ اس پر اس نصرانی نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ انبیا والے فیصلے ہیں کہ امیر المؤمنین اپنے ماتحت قاضی کے پاس آئے اور اس قاضی نے امیر المؤمنین کے خلاف فیصلہ کیا۔ اے امیر المؤمنین! اللہ کی قسم! یہ زرہ آپ کی ہے۔ آپ کے پیچھے میں چل رہا تھا، آپ کے خاکی رنگ کے اونٹ سے گری تھی جسے میں نے اٹھالیا تھا۔ اور پھر اس نصرانی نے کلمۂ شہادت أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھا۔ اس پر حضرت علی ؓ نے کہا: جب تم مسلمان ہوہی گئے ہو تو اب یہ زرہ تمہاری ہی ہے اور اسے ایک گھوڑا بھی دیا ۔1 حاکم کی ایک روایت میں یہ ہے کہ جنگِ جمل کے دن حضرت علی ؓ کی ایک زرہ گم ہوگئی تھی۔ ایک آدمی کو ملی اس نے آگے بیچ دی۔ حضرت علی نے اس زرہ کو ایک یہودی کے پاس دیکھ کر پہچان لیا۔ قاضی شُرَیح کے یہاں اس یہودی پر مقدمہ دائر کیا۔حضرت حسن ؓ اور حضرت علی کے آزاد کردہ غلام قَنْبَر نے حضرت علی کے حق میں گواہی دی۔ قاضی شُرَیح نے کہا: حضرت حسن کی جگہ کوئی اور گواہ لائو۔ حضرت علی نے کہا: کیا آپ حضرت حسن کی گواہی کو قبول نہیں کرتے؟ انھوں نے کہا: نہیں، بلکہ آپ سے ہی سنی ہوئی یہ بات یاد ہے کہ باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی درست نہیں ہے۔ حضرت یزید تیمی نے اس حدیث کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس میں یہ مضمون ہے کہ قاضی شُرَیح نے حضرت علی ؓ سے کہا کہ آپ کے غلام کی گواہی تو ہم مانتے ہیں، لیکن آپ کے حق میں آپ کے بیٹے کی گواہی نہیں مانتے ہیں۔ اس پر حضرت علی نے کہا: تجھے تیری ماں گم کرے! کیا تم نے حضرت عمر ؓ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا کہ حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردارہیں؟ اور پھر حضرت علی نے اس یہودی سے کہا: یہ زرہ تم ہی لے جاؤ۔ اس یہودی نے کہا کہ تمام مسلمانوں کا امیر میرے ساتھ مسلمانوں کے قاضی کے پاس آیا اور قاضی نے اس کے خلاف فیصلہ کردیا اور مسلمانوں کاامیراس فیصلہ پر راضی بھی ہوگیا۔ (یہ منظر دیکھ کر وہ اتنا متاثر ہوا کہ اس نے فوراً کہا:) اے امیر المؤمنین! اللہ کی قسم! آپ نے ٹھیک کہا تھا یہ زرہ آپ ہی کی ہے، آپ کے اونٹ سے گری تھی جسے میں نے اُٹھا لیا تھا۔ اورپھر کلمۂ شہادت أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰـہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھا۔ حضرت علی ؓنے وہ زرہ اسے ہدیہ میں دے دی اور مزید سات سو درہم بھی دیے۔ اور پھر وہ مسلمان ہوکر حضرت علی کے ساتھ ہی رہا کرتا تھا حتی کہ ان ہی کے ساتھ جنگ ِصِفِّین میں شہید ہوگیا۔ 1