صحابہ کرام ؓ کے بیانات

حضرت مُعاذ بن جبل ؓ کا بیان

حضرت سَلَمَہ بن سَبرہ کہتے ہیں:ملکِ شام میں حضرت معاذ بن جبل ؓ نے ہم لوگوں میں بیان فرمایا تو ارشاد فرمایا: تم لوگ ایمان والے ہو، تم لوگ جنتی ہو۔ اللہ کی قسم! مجھے اُمید ہے کہ تم لوگوں نے روم وفارس کے جن لوگوں کو قیدی بنا لیا ہے،اللہ انھیں بھی جنت میں داخل کرے گا۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے کوئی جب تمہارا کوئی کام کردیتا ہے تو تم شکریہ میں اسے یہ تعریفی اور دعائیہ کلمات کہتے ہو۔تم نے اچھا کیا، تم پر اللہ رحم فرمائے۔ تم نے اچھا کیا،تم کو اللہ برکت عطا فرمائے۔ (تمہاری ان دعائوں کی برکت سے اللہ انھیں ایمان دے کر جنت میں داخل کردے گا)۔ پھر حضرت معاذ ؓ نے یہ آیت پڑھی: {وَیَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَیَزِیْدُھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ}1 اور (اللہ تعالیٰ) ان لوگوں کی عبادت قبول کرتاہے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، اور ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ (ثواب) دیتا ہے۔ 2