صحابہ کرام ؓ کا ذکر

حضرت عمرو بن عاص، حضرت حکیم بن حِزام، حضرت جریر اور آلِ بُسْر ؓ کے لیے حضورﷺ کی دعائیں

حضرت جابرؓفرماتے ہیں: حضورﷺ نے یہ دعا تین بار فرمائی: اے اﷲ! عمروبن عاص کی مغفرت فرما، کیوںکہ جب بھی میں نے انھیں صدقہ دینے کے لیے بلایا وہ ہمیشہ میرے پاس صدقہ لے کر آئے۔1 حضرت حکیمؓفرماتے ہیں: حضور ﷺ نے میرے لیے یہ دعا فرمائی: اے اﷲ!تو اس کے ہاتھ کے کاروبار میں برکت عطا فرما۔2 حضرت حکیم ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے مجھے ایک دینار دے کر قربانی کا جانور خریدنے کے لیے بھیجا۔ میں نے ایک دینار میں جانور خرید کر دو دینار میں بیچ دیا، اور پھر ایک دینار کی بکری خریدی اور ایک دینار لاکر حضورﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ حضورﷺ نے میرے لیے برکت کی دعا فرمائی اور فرمایا: جو دینار تم لائے ہو اسے صدقہ کر دو۔3 حضرت جریر ؓ فرماتے ہیں: میں گھوڑے پر جم کر بیٹھ نہیں سکتا تھا نیچے گر جایا کرتا تھا۔ میں نے حضورﷺ سے اس کا تذکرہ کیا، آپ نے اپنا ہاتھ میرے سینہ پر مارا اور آپ کے ہاتھ (کی برکت) کا اثر میں نے اپنے سینے میں محسوس کیا، اور آپ نے یہ دعا فرمائی: اے اﷲ!اسے (گھوڑے پر) جمادے،اور دوسروں کو ہدایت پر لانے والا اور خود ہدایت یافتہ بنا دے۔ چناںچہ میں اس دعا کے بعد کبھی گھوڑے سے نہیں گرا۔4 حضرت جریر ؓ فرماتے ہیں: مجھ سے حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم خَلَصَہ بت والا گھر گرا کر مجھے راحت نہیں پہنچاتے؟ یہ زمانۂ جاہلیت میں قبیلہ خَشْعَم کا ایک گھر تھا جسے یمنی کعبہ کہا جاتا تھا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ!(میں گھوڑے سے) گر جاتا ہوں۔ پھر پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا۔5 حضرت عبد اﷲ بن بُسْرؓ فرماتے ہیں: میں اور میرے والد ہم دونوں اپنے گھر کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں سامنے سے حضورﷺ اپنے خچر پر تشریف لائے۔ میرے والد نے عرض کیا: یا رسول اﷲ!کیا آپ ہما رے گھر نہیں آتے اور کھانا کھا کر ہمارے لیے برکت کی دعا نہیں کر دیتے؟ چناںچہ آپ ہما رے گھر تشریف لے گئے اور کھانا کھا کر یہ دعا فرمائی: اے اﷲ!ان پر رحم فرما، ان کی مغفرت فرما اور ان کے رزق میں برکت نصیب فرما۔ طبرانی کی روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ پھر ہم ہمیشہ اﷲ کی طرف سے رزق میں وسعت ہی دیکھتے رہے۔1