صحابہ کرام ؓ کا ذکر

حضرت یاسر ؓ کے خاندان، حضرت ابو سَلَمہ اور حضرت اسامہ بن زید ؓ کے لیے حضورﷺ کی دعائیں

احمد اور ابنِ سعد میں حضرت عثمان بن عفانؓکی روایت ہے کہ حضورﷺ نے یہ دعا فرمائی: اے اﷲ! تو آلِ یاسر کی مغفرت فرما اور تُو نے ان کی مغفرت فرمادی ہے۔ اور ابنِ عساکر میں حضرت عائشہؓکی روایت ہے کہ حضورﷺ نے یہ دعا فرمائی: اے اﷲ! عمار میں برکت عطا فرما۔ آگے باقی حدیث ذکر کی۔1 حضرت اُمِ سَلَمہؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ نے یہ دعا فرمائی: اے اﷲ!ابو سَلَمہ کی مغفرت فرما اور مُقَرَّبین میں ان کے درجے کو بلند فرما اور ان کے پیچھے رہ جانے والوں میں تُو ان کا خلیفہ بن جا۔ اور اے ربُّ العالمین!ہماری اور ان کی مغفرت فرما، اور ان کی قبر کو کشادہ اور منوّر فرما۔2 حضرت اُسامہ بن زیدؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ مجھے پکڑ کر اپنی ران پر بٹھا لیا کرتے تھے اور حضرت حسن بن علیؓکو بائیں ران پر بٹھالیا کرتے، پھر ہم دونوں کو اپنے ساتھ چمٹا کر یوں فرماتے: اے اﷲ!میں ان دونوں پر رحم کرتا ہوں تو بھی ان دونوں پر رحم فرما۔ 3 ایک روایت میں یہ ہے کہ اے اﷲ! مجھے ان دونوں سے محبت ہے تو بھی ان دونوں سے محبت فرما۔ حضرت اُسامہ بن زیدؓ فرماتے ہیں: (میں لشکر کی تیاری کے لیے مدینہ سے باہر جُرف میں ٹھہرا ہوا تھا) جب حضورﷺ کی بیماری بڑھ گئی تو میں مدینہ واپس آیا اور میرے ساتھ جو لوگ تھے وہ بھی مدینہ آگئے۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ خاموش تھے اور بالکل بات نہیں کر رہے تھے۔ حضورﷺ میرے اوپر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر پھر اوپر کو اٹھاتے۔ حضور ﷺ نے بار بار ایسا کیا جس سے میں سمجھا کہ آپ میرے لیے دعا فرما رہے ہیں۔4