صحابہ کرام ؓ کا ذکر

حضرت بَراء بن مَعْرور، حضرت سعد بن عُبادہ اور حضرت ابو قتادہ ؓ کے لیے حضور ﷺ کی دعائیں

حضرت نَضَلَہ بن عمرو غِفاریؓفرماتے ہیں: قبیلہ غِفار کا ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا۔ حضورﷺ نے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: مَہان (جس کا لفظی ترجمہ قابلِ اہانت ہے)۔ حضورﷺ نے فرمایا:نہیں! بلکہ تم مُکَرَّم یعنی قابلِ اکرام ہو۔ حضور ﷺ نے مدینہ آنے کے بعد حضرت براء بن معرورؓکے لیے یہ دعا فرمائی: اے اﷲ!براء بن معرور پر رحمت نازل فرما اور قیامت کے دن اسے اپنے سے پردہ میں نہ رکھ اور اسے جنت میں داخل فرما اور تُو نے واقعی ایسے کر دیا۔2 حضرت عبداﷲ بن ابی قتادہ فرماتے ہیں: حضورﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے سب سے پہلے حضرت براء بن مَعْرورؓکے لیے دعائے رحمت فرمائی۔ حضور ﷺ صحابہ کو لے کر وہاں گئے صحابہ ؓ ان کے سامنے صف بنا کر کھڑے ہوگئے۔ حضور ﷺ نے ان کے لیے یہ دعا فرمائی: اے اﷲ!ان کی مغفرت فرما، ان پر رحم فرما، ان سے راضی ہو جا اور تُونے واقعی ایسے کر دیا۔3 حضرت قیس بن سعد ؓ فرماتے ہیں: حضور ﷺ نے یہ دعا فرمائی: اے اﷲ! اپنی خاص رحمت اور اپنی عام رحمت سعد بن عُبادہ کے خاندان پر نازل فرما۔4 حضرت ابو قتادہ ؓ فرماتے ہیں: ہم لوگ ایک سفر میں حضورﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ (نیند کی وجہ سے) سواری سے ایک طرف کو جھک گئے۔ میں نے آپ کو سہارا دیا یہاں تک کہ آپ کی آنکھ کھل گئی۔ پھر آپ کو نیند آگئی اور ایک طرف کو جھک گئے۔ میں نے آپ کو پھر سہارا دیا یہاں تک کہ آپ کی آنکھ کھل گئی تو آپ نے مجھے یہ دعا دی: اے اﷲ! ابو قتادہ کی ایسے حفاظت فرما جیسے اس نے آج رات میری حفاظت کی۔ اور پھر مجھے فرمایا: میرا خیال یہ ہے کہ ہماری وجہ سے تمہیں بڑی مشقت اُٹھانی پڑی۔1