صحابہ کرام ؓ کا ذکر
حضورﷺ کی اپنے گھروالوں کے لیے دعائیں
حضورﷺ کی زوجۂ محترمہ حضرت اُمِ سَلَمہؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ سے فرمایا: اپنے خاوند اور دونوں بیٹوں کو میرے پاس لے آئو۔ چناںچہ وہ ان تینوں کو لے آئیں تو آپ نے خیبر والی چادر جو ہمیں خیبر میں ملی تھی اور میں اپنے نیچے بچھاتی تھی ان پر ڈالی اور پھر ان کے لیے یہ دعا فرمائی: اے اللہ! یہ محمد ( ؑ) کی آل ہے، تو محمد (ﷺ) کی آل پر اپنی رحمتیں اور برکتیں ایسے نازل فرما جیسے تو نے حضرت ابراہیم ؑ کی آل پر نازل فرمائی تھیں۔ بے شک تو بہت تعریف والا اور بزرگی والاہے۔1
حضرت ابو عمار کہتے ہیں: میں حضرت واثِلہ بن اسقع ؓ کے پاس بیٹھا ہواتھا کہ اتنے میں کچھ لوگوں نے حضرت علی ؓ کا تذکرہ کیا اور انھیں کچھ برا بھلا کہہ دیا۔ جب وہ لوگ کھڑے ہوکر چلے گئے تو مجھ سے فرمایا: تم ذرا بیٹھے رہو، میں اس ہستی کے بارے میں بتاتا ہوں جسے انھوں نے برا بھلاکہاہے۔ ایک دن میں حضورﷺ کے پاس بیٹھا ہواتھا کہ اتنے میں حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن، حضرت حسین ؓ آئے۔ آپ نے ان پر اپنی چادر ڈال کر یہ دعا فرمائی: اے اللہ! یہ میرے گھروالے ہیں، ان سے ناپاکی دور کر اور انھیں اچھی طرح پاک فرما۔ میں نے عرض کیا: میں بھی؟ حضورﷺ نے فرمایا: تم بھی۔ حضرت واثلہ ؓ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! میرے دل کو حضورﷺ کے اس فرمان پر تمام اعمال سے زیادہ اعتماد ہے۔اور ایک روایت میں یہ ہے: مجھے حضورﷺ کے اس فرمان سے سب سے زیادہ اُمید ہے۔2
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضور ﷺ نے ایک چادر بچھا رکھی تھی اس پر حضورﷺ، میں، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ سب بیٹھ گئے۔ پھر حضورﷺ نے چادر کے چاروں کونے پکڑ کر ہم پر گرہ لگادی پھر یہ دعا فرمائی: اے اللہ! جیسے میں ان سے راضی ہوں تو بھی ان سے راضی ہوجا۔1