صحابہ کرام ؓ کا ذکر
بازاروں میں اور غفلت کی جگہوں میں اللہ کا ذکر کرنا
حضرت عِصمہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ پسندیدہ عمل سُبْحَۃُ الْحَدِیْثِ ہے اور اللہ کو سب سے زیادہ ناپسندیدہ عمل تحریف ہے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سُبْحَۃُ الْحَدِیْثِ کیا ہے؟ فرمایا: سُبْحَۃُ الْحَدِیْثِ یہ ہے کہ لوگ باتیں کر رہے ہوں اور ایک آدمی تسبیح و تہلیل اور اللہ کا ذکر کررہاہو۔ پھر ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! تحریف کیاہے؟ آپ نے فرمایا: تحریف یہ ہے کہ لوگ خیریت سے ہوں، اچھے حال پر ہوں، اور کوئی پڑوسی یا ساتھی پوچھے تو یوں کہہ دیں کہ ہم برے حال میں ہیں۔1
حضرت ابواِدریس خولانی کہتے ہیں: حضرت معاذ ؓ نے فرمایا تم لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہوتو وہ لوگ لامحالہ باتیں شروع کردیں گے۔ جب تم دیکھو کہ وہ (اللہ سے) غافل ہوگئے ہیں تو تم اس وقت اپنے ربّ کی طرف پورے ذوق شوق سے متوجہ ہوجانا۔ ولید راوی کہتے ہیں: حضرت عبدالرحمن بن یزید بن جابر سے اس حدیث کا ذکر کیا گیا تو انھوں نے کہا: یہ بات ٹھیک ہے اور مجھے حضرت ابوطلحہ حکیم بن دینار نے بتایا کہ صحابۂ کرام ؓ کہاکرتے تھے کہ مقبول دعاکی نشانی یہ ہے کہ جب تم لوگوں کو غافل دیکھو تو اس وقت تم اپنے ربّ کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔2
حضرت ابوقِلابہؓ فرماتے ہیں: بازار میں دو آمیوں کی آپس میں ملاقات ہوئی۔ ایک نے دوسرے سے کہا:لوگ اس وقت (اللہ سے) غافل ہیں، آؤ ہم اللہ سے اِستغفار کریں۔ چناںچہ دونوں نے ایسا کیا۔ پھر دونوں میں سے ایک کا انتقال ہوگیا۔ دوسرے نے اسے خواب میں دیکھا تو اس نے کہا: تمھیں معلوم ہے کہ جب شام کو بازارمیں ہماری ملاقات ہوئی تھی تو اللہ نے اس وقت ہماری مغفرت کردی تھی۔3