صحابہ کرام ؓ کا ذکر

سفر کے اَذکار

حضرت ابو لاس خُزاعی ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے ہمیں سفرِ حج کے لیے صدقہ کے اونٹ دیے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ اونٹ ہمیں اٹھا نہیں سکیں گے۔ فرمایا: ہر اونٹ کے کوہان پر ایک شیطان ہوتاہے۔ جب تم ان پر سوار ہونے لگو تو جیسے اللہ نے تمھیں حکم دے رکھاہے تم اللہ کا نام لو، پھر انھیں اپنے کام میں لاؤ ان سے اپنی خدمت لو، یہ تمھیں اللہ کے حکم سے اٹھالیں گے۔1 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا۔ جب آپ سواری پر ٹھیک طرح سے بیٹھ گئے تو آپ نے تین مرتبہ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، تین مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ اور ایک مرتبہ لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ کہا،پھر میرے اوپر لیٹ کر مسکرانے لگے۔ پھر میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: جو بھی آدمی اپنے سواری پر سوار ہوکر وہ کام کرے جو میں نے کیے ہیں تو اللہ اس کی طرف متوجہ ہو کر ایسے ہی مسکرائیں گے جیسے میں تمھیں دیکھ کر مسکرایاہوں۔2 حضرت ابوملیح بن اُسامہ کہتے ہیں کہ میرے والد حضرت اُسامہ ؓ نے فرمایا: میں سواری پر حضورﷺ کے پیچھے بیٹھا ہواتھا کہ اتنے میں ہمارے اونٹ کو ٹھوکرلگی۔ میں نے کہا: شیطان ہلاک ہو! حضورﷺ نے فرمایا: یہ مت کہو کہ شیطان ہلاک ہو! کیوںکہ اس سے تو وہ پھول کر کمرے جتنا ہوجائے گا (اور کہے گا کہ یہ مجھے کچھ سمجھتا ہے تبھی تو مجھے براکہا) اور کہے گا میری طاقت سے ایسا ہوا، بلکہ یوں کہو: بِسْمِ اللّٰہِاس سے وہ مکھی کی طرح چھوٹا ہوجائے گا۔3 حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ جب کسی اونچی جگہ پر چڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ الشَّرَفُ عَلٰی کُلِّ شَرَفٍ، وَلَکَ الْحَمْدُ عَلٰی کُلِّ حَالٍ۔ اے اللہ! ہر اونچی جگہ پر تیرے لیے بلندی ہے اور ہر حال میں تیرے لیے تمام تعریفیں ہیں۔ 1 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: جب ہم کسی منزل پر اترتے تو کجاووں کے کھولنے تک سُبْحَانَ اللّٰہِ پڑھتے رہتے۔2 ’’سفرِ جہاد میں اللہ کے ذکر‘‘کرنے کے عنوان میں اس باب کے کچھ قصے گذرچکے ہیں۔ حضرت عوف کہتے ہیں: جب حضرت عبداللہ بن مسعود ؓاپنے گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے: بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔ اللہ کے نام سے نکلتاہوں میں نے اللہ پر توکل کیا، گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ سے ہی ملتی ہے۔ حضرت محمد بن کعب قرظی کہتے ہیں: یہ دعاتو قرآن میں بھی ہے: {اِرْکَبُوْا فِیْھَا بِسْمِ اللّٰہِ}3 اس کشتی میں سوار ہوجاؤ، اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا اللہ ہی کے نام سے ہے۔ اور انھوں نے عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا کے الفاظ بیان کیے۔4