صحابہ کرام ؓ کا ذکر
صبح اور شام کے اَذکار
حضرت اُمِ درداء ؓ فرماتی ہیں: حضرت ابوالدرداء ؓ کے ہاں ایک مہمان آیا۔ حضرت ابوالدرداء نے اس سے پوچھا کہ تم نے ٹھہرناہے تو ہم تمہاری سواری چَرنے کے لیے بھیج دیں؟ اور اگر ابھی جاناہے تو چارہ ساتھ کردیں؟ اس نے کہا: نہیں، میں نے ابھی جاناہے۔ فرمایا: میں تمھیں ایسا عمدہ توشہ دوں گا کہ اگر اس سے بہتر توشہ مجھے ملتا تو میں تمھیں وہ دیتا۔ میں نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یا رسول اللہ! مال دار لوگ تو دنیا اور آخرت دونوں لے اُڑے۔ ہم بھی نماز پڑھتے ہیں وہ بھی نماز پڑھتے ہیں، ہم بھی روزہ رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں، وہ صدقہ دیتے ہیں ہم صدقہ نہیں دے سکتے۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا میں ایسا کام نہ بتائوں کہ جب تم اسے کروگے تو پہلے والوں میں سے کوئی تم سے آگے نہ نکل سکے گا اور بعد والوں میں سے کوئی تم کو پا نہ سکے گا۔ البتہ جو یہ عمل کرلے گا وہ تمھیں پالے گا۔ ہر نماز کے بعد ۳۳ مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، ۳۳ مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور ۳۴ مرتبہ اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا کرو۔3
حضرت قتادہ مرسلاً روایت کرتے ہیں کہ کچھ مسلمان فُقَرا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مال دار تو سارا اَجر وثواب لے گئے۔ وہ صدقہ کرتے ہیں ہم نہیں کرسکتے، وہ خرچ کرتے ہیں ہم نہیں کرسکتے۔ حضورﷺ فرمایا: ذرا یہ بتائو اگر دنیا کا سارامال ایک دوسرے پر رکھاجائے تو کیا یہ آسمان تک پہنچ جائے گا؟ انھوں نے کہا: نہیں، یا رسول اللہ! فرمایا:کیا میں تمھیں ایسی چیز نہ بتائوں جس کی جڑ زمین میں ہے اور اس کی شاخ آسمان میں؟ تم ہر نماز کے بعد لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ دس مرتبہ کہا کرو۔ ان کلمات کی جڑ زمین میں اور شاخ آسمان میں ہے۔1
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ نے مجھ سے حضرت فاطمہؓکی شادی کی توان کے ساتھ ایک چادر، چمڑے کا ایک گد ّا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، دو چکیاں، ایک مشکیزہ اور دو گھڑے بھیجے۔ میں نے ایک دن حضرت فاطمہ سے کہا: کنویں سے ڈول کھینچتے کھینچتے میرے سینے میں تکلیف شروع ہوگئی ہے اور تمہارے والد محترم کے پاس اللہ نے قیدی بھیجے ہیں، جائو اور ان سے خادم مانگ لائو۔ حضرت فاطمہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے بھی اتنی چکی پیسی ہے کہ میرے ہاتھوں میں گٹے پڑگئے ہیں۔ چناںچہ وہ حضورﷺ کی خدمت میں گئیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے بِٹیا! کیسے آئی ہو؟ حضرت فاطمہ نے کہا: بس آپ کو سلام کرنے آئی ہوں اور شرم کی وجہ سے غلام نہ مانگ سکیں اور یوں ہی واپس آگئیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ انھوں نے کہا: میں تو شرم کی وجہ سے غلام نہ مانگ سکی۔
پھر ہم دونوں اکٹھے حضورﷺ کی خدمت میں گئے اور میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کنویں سے پانی کھینچتے کھینچتے میرے سینے میں تکلیف ہوگئی ہے۔ حضرت فاطمہ نے کہا: چکی پیستے پیستے میرے ہاتھوں میں گٹے پرگئے ہیں۔ اب اللہ نے آپ کے پاس قیدی بھیجے ہیں اور کچھ وسعت عطافرمائی ہے، اس لیے ہمیں بھی ایک خادم دے دیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! صُفّہ والے سخت فقروفاقہ میں ہیں اور بھوک کے مارے ان کا براحال ہے۔ ان پر خرچ کرنے کے لیے میرے پاس اور کچھ ہے نہیں، اس لیے یہ غلام بیچ کر میں ساری رقم ان پر خرچ کروںگا، اس لیے میں تمھیں کوئی خادم نہیں دے سکتا۔ ہم دونوں واپس آگئے۔
ہمارا ایک چھوٹاسا کمبل تھا جب اس سے سرڈھانکتے تو پائوں کھل جاتے اور جب پائوں ڈھانکتے تو سر کھل جاتا۔ رات کو ہم دونوں اس میں لیٹے ہوئے تھے کہ اچانک حضورﷺ ہمارے پاس تشریف لے آئے۔ ہم دونوں اٹھنے لگے تو فرمایا: اپنی جگہ لیٹے رہو۔ پھر فرمایا:تم نے مجھ سے جو خادم مانگا ہے کیا میں تمھیں اس سے بہتر چیز نہ بتادوں؟ ہم نے کہا: ضرور بتادیں۔ فرمایا: یہ چند کلمات مجھے حضرت جبرئیل ؑ نے سکھائے ہیں، تم دونوں ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، دس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، دس مرتبہ اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا کرو۔ اور جب بستر پر لیٹا کرو تو ۳۳ مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، ۳۳ مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور ۳۴ مرتبہ اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہاکرو۔ پھر حضرت علیؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! جب سے میں نے یہ تسبیحات حضورﷺ سے سنی ہیں کبھی نہیں چھوڑیں۔ راوی کہتے ہیں ابنِ کوّاء نے حضرت علی ؓ سے پوچھا: کیا جنگِ صفین کی رات کو بھی نہیں چھوڑیں؟ فرمایا: اے عراق والو! اللہ تمھیں مارے! جنگِ صفین کی رات کو بھی نہیں چھوڑیں۔1
ابنِ اَبی شَیبہ میں حضرت علی ؓ کی یہی حدیث اس طرح سے ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: کیا میں تم دونوں کو ایسی چیز نہ بتائوں جو تمہارے لیے خادم سے بھی بہتر ہے؟ تم دونوں ہر نماز کے بعد ۳۳ مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، ۳۳ مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور ۳۴ مرتبہ اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا کرو۔2
اس طرح یہ سو ہوجائیں گے اور جب رات کو بستر پر لیٹا کرو تو بھی یہی کلمات کہاکرو۔
حضرت اُمِّ سَلَمہؓفرماتی ہیں: حضرت فاطمہ ؓگھر کے کام کاج کی شکایت کرنے حضور ﷺ کی خدمت میں آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! چکی پیسنے کی وجہ سے میرے ہاتھوں میں گٹے پڑگئے، خود ہی چکی پیستی ہوں، خود ہی آٹا گوندھتی ہوں۔ حضورﷺ نے ان سے فرمایا: اگراللہ تمھیں کوئی چیز دینا چاہتے ہیں تو وہ تمہارے پاس خود ہی آجائے گی، لیکن میں تمھیں اس سے بہتر چیز بتائوں گا۔ جب تم بستر پر لیٹا کرو تو ۳۳ مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، ۳۳ مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور ۳۴ مرتبہ اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہاکرو ،اس طرح یہ کلمات سو ہوجائیں گے اور یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہیں۔ صبح کی نماز کے بعد اور مغرب کی نماز کے بعد دس دس مرتبہ یہ کلمات کہا کرو:
لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، یُحْیِيْ وَیُمِیْتُ، بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیْرٌ۔
ان میں سے ہر کلمہ کے بدلے میں دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور دس گناہ گرائے جائیں گے، اور ان میں سے ہر کلمہ کا ثواب اتنا ہوگا جتنا اولادِ اسماعیل ؑمیں سے ایک غلام آزاد کرنے کا، اور اس دن کا شرک کے علاوہ کا ہر گناہ معاف کردیاجائے گا۔ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہُ جب تم صبح کو ان کلمات کو کہہ لوگی تو شام ہونے تک ہر شیطان سے اور ہر بری حالت سے ان کلمات کی وجہ سے حفاظت ہوگی۔1
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ نماز پڑھ لیتے تو ان کلمات کو فرماتے:
لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ، وَلَہُ الْحَمْدُ، یُحْیِيْ وَیُمِیْتُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیْرٌ۔ اَللّٰہُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا رَادَّ لِمَا قَضَیْتَ، وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ اکیلاہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ (سارا) ملک اسی کا ہے اور ساری تعریفیں اسی کے لیے ہیں۔ وہی زندہ کرتاہے اور مارتاہے، اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو نعمت تو دے اسے کو ئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں اور جو فیصلہ تو کردے اسے کوئی ٹالنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی مال دار کو اس کی دولت کام نہیں دیتی۔1
صبح اور شام کے اَذکار
بنو ہاشم کے آزادکردہ غلام عبدالحمید کی والدہ حضورﷺ کی ایک صاحب زادی کی خدمت کیا کرتی تھیں۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو بتایا کہ حضورﷺ کی صاحب زادی نے مجھے بتایا کہ نبی کریمﷺ مجھے سکھایاکرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: صبح کو یہ کلمات کہو:
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ، لَا قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہِ، مَا شَائَ اللّٰہُ کَانَ وَمَا لَمْ یَشَأْ لَمْ یَکُنْ، أَعْلَمُ أَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیْرٌ وَّأَنَّ اللّٰہَ قَدْ أَحَاطَ بِکُلِّ شَيْئٍ عِلْمًا۔
میں اللہ کی پاکی اور اس کی تعریف بیان کرتی ہوں، نیکیاں کرنے کی طاقت صرف اللہ ہی سے ملتی ہے۔ جو اللہ نے چاہا وہی ہوا اور جو نہیں چاہا وہ نہیں ہوا۔ میں جانتی ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اللہ کے علم نے ہر چیز کو گھیراہواہے۔
جو اِن کلمات کو صبح کہے گا وہ شام تک محفوظ رہے گا اور جو شام کو کہے گا وہ صبح تک محفوظ رہے گا۔2
حضرت ابوالدرداء ؓ نے فرمایا: جو آدمی صبح وشام یہ کلمات سات مرتبہ کہے گا:
حَسْبِيَ اللّٰہُ لَا إِلٰـہَ إِلَّا ھُوَ، عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۔
اللہ مجھے کافی ہے، اس کے سواکوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے توکل کیا وہ عظیم عرش کا ربّ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہر فکر و پریشانی سے اس کی کفایت کریں گے چاہے سچے دل سے کہے یا جھوٹے سے۔3