صحابہ کرام ؓ کا ایمان
علم حاصل کرنے کے لیے سفر کرنا
حضرت عبداﷲ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اﷲؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے یہ خبر پہنچی کہ ایک آدمی نے حضورﷺ سے ایک حدیث سنی ہے (اور میں نے وہ حدیث حضورﷺ سے نہیں سنی تھی اور پتا چلا کہ وہ صحابی شام میں رہتے ہیں، اس لیے) میں نے اونٹ خریدا اور اس پر کجاوہ کَسا اور ایک ماہ کا سفر کرکے ملکِ شام پہنچا۔ وہاں جاکر معلوم ہوا کہ وہ صحابی حضرت عبدا ﷲ بن اُنَیسؓ ہیں۔ میں نے ان کے دربان سے کہا: ان سے جاکر کہو کہ دروازے پر جابر آیا ہے۔ انھوں نے کہا: کیا عبداﷲ کے بیٹے؟میں نے کہا:جی ہاں۔ وہ یہ سنتے ہی ایک دم اپنا کپڑا گھسیٹتے باہر آئے اور میرے گلے لگ گئے اور میں نے بھی انھیں گلے لگالیا۔ پھر میں نے کہا: مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ نے قصاص کے بارے میں حضور ﷺ سے ایک حدیث سنی ہے، تو مجھے یہ ڈر ہوا کہ کہیں اس کے سننے سے پہلے آپ کا یا میرا انتقال نہ ہوجائے(اس لیے میں اتنا لمبا سفر کرکے صرف اسی حدیث کوسننے آیا ہوں)۔ انھوں نے کہا: میںنے حضورﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو اس حال میں جمع کریں گے کہ سب ننگے بدن، بغیر ختنے کے اور خالی ہاتھ ہوں گے۔ ہم نے پوچھا: خالی ہاتھ ہونے کا کیا مطلب ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: ان کے ساتھ دنیا کی کوئی چیز نہ ہوگی۔ پھر اﷲ تعالیٰ ان میں ایسی آواز سے اعلان فرمائیں گے جسے دور والابھی اسی طرح سن لے گا جیسے نزدیک والا: میں بدلہ لینے والا ہوں اور میں(ہر چیز کا) مالک ہوں، جس دوزخی پر کسی جنتی کا کوئی حق ہے وہ اس وقت تک دوزخ میںنہیں جاسکتا جب تک میں اس دوزخی سے کسی جنتی کا بدلہ نہ لے لوں۔ اور جس جنتی پر کسی دوزخی کا کوئی حق ہے وہ اس وقت تک جنت میں نہیں جاسکتا جب تک میںاس سے اس دوزخی کا بدلہ نہ لے لوں۔ اور اس میں میں کسی کی رعایت بالکل نہیں کروں گا، اگر صرف تھپڑ ہی ظلماً مارا ہوگا تو بھی اس سے تھپڑ کا بدلہ لوں گا۔ ہم نے پوچھا: اﷲتعالیٰ بدلہ کس طرح لے کردیں گے جب کہ ہم اس حال میں آئیں گے کہ ہم ننگے بدن، بغیر ختنے کے اور خالی ہاتھ ہوں گے؟ حضورﷺ نے فرمایا: یہ بدلہ نیکیوں اور برائیوں کے ذریعہ ہوگا(مظلوم کو ظالم کی نیکیاں مل جائیں گی یا مظلوم کے گناہ ظالم پر ڈال دیے جائیں گے)۔1
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے قصاص کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے ایک حدیث پہنچی اور لوگوں میں حدیث بیان کرنے والے صحابی مصر میں تھے۔ چناںچہ میں نے ایک اونٹ خریدا اور سفر کرکے مصر پہنچا اور اس صحابی کے دروازے پر گیا۔ آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا۔ 2
حضرت مسلمہ بن مُخَلّدؓ فرماتے ہیں: جس زمانے میں میںمصر کا امیر تھا تو ایک دن دربان نے آکر کہا کہ دروازے پر ایک دیہاتی آدمی اونٹ پر آیا ہے اور اندر آنے کی اجازت طلب کررہا ہے۔ میں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ انھوں نے کہا: جابر بن عبداﷲ انصاری۔ میں نے بالا خانے سے جھانک کر کہا: میں نیچے آجاؤں یا آپ اوپر آئیں گے؟ انھوں نے کہا: نہ آپ نیچے اتریں اور نہ مجھے اوپر چڑھنے کی ضرورت ہے۔ مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ مسلمان کے عیب چھپانے کے بارے میں ایک حدیث حضورﷺ سے روایت کرتے ہیں، میں اسے سننے آیاہوں۔ میں نے کہا: میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جوکسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے گا گویا اس نے زندہ درگور لڑکی کو زندہ کردیا۔ یہ حدیث سن کر حضرت جابرؓ نے واپس جانے کے لیے سواری کو ہانکا۔1
حضرت منیب کہتے ہیں کہ میرے چچا نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی کو یہ خبر ملی کہ حضورﷺ کے ایک اور صحابی حضورﷺ سے یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ جو آدمی اپنے مسلمان بھائی (کے عیب) پر دنیا میں پردہ ڈالے گا اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن اس (کے گناہوں) پر پردہ ڈالیں گے۔ وہ روایت بیان کرنے والے صحابی مصر میں تھے۔ تو پہلے صحابی سفر کرکے ان کے پاس مصر گئے اور ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی اپنے مسلمان بھائی (کے عیب) پر دنیا میں پردہ ڈالے گا اﷲتعالیٰ قیامت کے دن اس(کے گناہوں) پر پردہ ڈالیں گے۔ پہلے صحابی نے کہا: میں نے بھی یہ حدیث حضورﷺ سے سنی ہے۔2
حضرت ابنِ جُریج کہتے ہیں کہ حضرت ابو ایوبؓ سواری پر سفر کرکے حضرت عُقْبہ بن عامرؓ کے پاس گئے اور فرمایا: میں آپ سے ایک ایسی حدیث کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس حدیث کے موقع پر جتنے صحابہؓحضورﷺ کی خدمت میں حاضر تھے اب ان میں صرف میں اور آپ باقی رہ گئے ہیں۔ آپ نے مسلمان کی پردہ پوشی کے بارے میں حضورﷺ کو کیا فرماتے ہوئے سنا؟ حضرت عقبہؓ نے کہا:میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو دنیا میں کسی مسلمان(کے عیب) پر پردہ ڈالے گا اﷲتعالیٰ قیامت کے دن اس(کے گناہوں) پر پردہ ڈالیں گے۔ یہ سن کر حضرت ابو ایوبؓ مدینہ واپس لوٹ گئے اور جب تک یہ حدیث بیان نہ کردی اس وقت تک اپنا کجا وہ نہ کھولا۔1
حضرت ابنِ جریج کہتے ہیں کہ میں مدینہ کے ایک بڑے میاں حضرت ابو سعید اَعمیٰ کو سنا کہ وہ حضرت عطاء سے یہ واقعہ بیان کررہے تھے کہ حضرت ابو ایوب ؓ نے حضرت عقبہ بن عامرؓسے ملنے کے لیے (مصر کا) سفر کیا۔ جب وہ مصر پہنچ گئے تو لوگوں نے ان کے آنے کا تذکرہ حضرت عقبہؓ سے کیا۔ حضرت عقبہؓ ان کے پاس باہر آئے۔ پھر اس کے بعد پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا، اس کے بعد یہ ہے کہ یہ حدیث سن کر حضرت ابو ایوبؓاپنی سواری کے پاس آئے اور اس پر سوار ہوکر مدینہ واپس لوٹ گئے اور اپنا کجاوہ بھی نہیں کھولا۔2
حضرت عُقْبہ بن عامرؓ حضرت مسلمہ بن مُخَلّدؓ سے ملنے گئے تو ان کے اور دربان کے درمیان کچھ جھگڑا ہوگیا۔ حضرت مسلمہؓ نے اندر سے ان کی آواز سن لی اور اندر آنے کی اجازت دے دی۔ حضرت عقبہؓ نے کہا: میں آپ کو ملنے نہیں آیا بلکہ کسی ضرورت سے آیا ہوں۔ اور وہ یہ ہے کہ کیا آپ کو وہ دن یاد ہے کہ جس دن حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ جسے اپنے بھائی کی کسی برائی کا پتا چلے اور وہ اس پر پردہ ڈال دے تو اﷲتعالیٰ قیامت کے دن اس پر پردہ ڈالیں گے؟ حضرت مسلمہ نے کہا: جی ہاں۔ حضرت عقبہؓنے کہا: بس میں اسی لیے آیا تھا۔3
حضرت عبد اللہ بن بُریدہ کہتے ہیں کہ ایک صحابی نے صرف ایک حدیث سننے کے لیے حضرت فُضالہ بن عبید اللہؓکے پاس مصر کا سفر کیا۔1
’’دارمی‘‘ میں اس کے بعد یہ مضمون ہے کہ وہ صحابی جب حضرت فضالہؓ کے پاس پہنچے تو وہ اپنی اونٹنی کو جَو مِلا ہوا پانی پلارہے تھے۔ انھیں آتا ہوا دیکھ کر حضرت فضالہؓ نے خوش آمدید کہا۔ انھوں نے کہا: میں آپ سے صرف ملنے نہیں بلکہ اس وجہ سے آیا ہوںکہ میں نے اور آپ نے حضورﷺ سے ایک حدیث سنی تھی، مجھے اُمید ہے کہ وہ آپ کو اب بھی یاد ہوگی۔ حضرت فضالہؓ نے پوچھا: وہ کون سی حدیث ہے؟ انھوں نے کہا کہ اس حدیث میں یہ اور یہ مضمون ہے۔
حضرت عبید اللہ بن عدی ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے پتا چلا کہ حضرت علیؓ کے پاس ایک حدیث ہے، تو مجھے اس بات کا ڈر ہوا کہ کہیں حضرت علی کا انتقال ہوگیا تو پھر شاید مجھے یہ حدیث کسی اور کے پاس نہ مل سکے، اس وجہ سے میں سفر کرکے ان کے پاس عراق گیا۔2
’’ابنِ عساکر‘‘ میں اس کے بعد یہ مضمون ہے کہ میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے مجھے وہ حدیث سنائی اور مجھ سے عہد لیا کہ میں یہ حدیث کسی اور سے بیان نہ کروں، اگر وہ ایسا نہ کرتے تو میں آپ لوگوں کو وہ حدیث ضرور سنا دیتا۔
حضرت ابنِ مسعودؓکا فرمان آگے آرہا ہے جو ’’بخاری‘‘ میں منقول ہے کہ اگر مجھے کسی کے بارے میں پتا چل جائے کہ وہ مجھ سے زیادہ اﷲ کی کتاب کو جانتا ہے تو میں ضرور سفر کرکے اس کے پاس جاؤ ں۔ اور’’ ابنِ عساکر‘‘ میں ان کا یہ فرمان منقول ہے کہ اگر مجھے کسی کے بارے میں یہ پتا چلے کہ اونٹ مجھے اس تک پہنچا سکتے ہیں اور وہ حضرت محمد ﷺ پر نازل ہونے والے علوم کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، تو میں ضرور اس کے پاس جاؤں تاکہ میرے علم میں اور اِضافہ ہوسکے۔