صحابہ کرام ؓ کا ایمان
صحابۂ کرام ؓکو سکھانے کے لیے مختلف علاقوں میں بھیجنا
حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ کہتے ہیں: قبیلہ جَدِیلہ کی دو شاخوں عَضَل اور قارہ کے کچھ لوگ غزوۂ اُحد کے بعد حضورﷺ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے: ہمارے علاقے میں لوگ مسلمان ہوچکے ہیں، آپ ہمارے ساتھ اپنے چند ساتھی بھیج دیں جو ہمیں قرآن پڑھائیں اور ہم میں دین کی سمجھ پیدا کریں۔ چناںچہ حضورﷺ نے ان کے ساتھ چھ آدمی بھی دیے جن میں حضرت حمزہ بن عبدالمطّلبؓ کے حلیف حضرت مَرثَد بن اَبی مَرثَدؓ بھی تھے اور یہی ان کے امیر تھے۔ پھر اس کے بعد غزوۂ رجیع کا مختصر قصہ ذکر کیا۔2
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ یمن کے کچھ لوگ حضورﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہم میں ایسا آدمی بھیج دیں جو ہم میں دین کی سمجھ پیدا کرے اور ہمیں سنتیں سکھائے اور اﷲکی کتاب کے مطابق ہمارے جھگڑوں کے فیصلے کرے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے علی! یمن چلے جاؤ اور ان میں دین کی سمجھ پیدا کرو اور ان کو سنتیں سکھاؤ اور ان کے جھگڑوں کے اﷲ کی کتاب کے مطابق فیصلے کرو۔
میں نے عرض کیا: یمن والے تو اُجڈ لوگ ہیں اور وہ ایسے مقدمات میرے پاس لائیں گے جن کا صحیح فیصلہ مجھے معلوم نہیں ہوگا تو پھر میں کیا کروں گا؟ حضورﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: جاؤ اﷲ تمہارے دل کو (صحیح فیصلہ کی) ہدایت دے دے گا اور تمہاری زبان کو (صحیح فیصلہ پر) جمادے گا۔ چناںچہ (حضورﷺ کی اس دعا کا یہ اثر ہوا کہ) اس دن سے لے کر آج تک مجھے کبھی بھی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں کوئی شک یا تردّد نہیں ہوا۔ 1
حضرت انس ؓفرماتے ہیں کہ یمن والے حضورﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا: ہمارے ساتھ ایسا آدمی بھیج دیں جو ہمیں قرآن سکھائے۔ حضورﷺ نے حضرت ابو عبیدہ ؓ کا ہاتھ پکڑ کر انھیں یمن والوں کے ساتھ بھیج دیا اور فرمایا: یہ اس اُمّت کے امین ہیں۔2
ابنِ سعد کی روایت میں یہ ہے کہ یمن والوں نے حضورﷺ سے یہ مطالبہ کیا کہ حضورﷺ ان کے ساتھ ایک آدمی ایسا بھیج دیں جو انھیں سنت اور اسلام سکھائے۔
حضرت ابو بکر بن محمدبن عمرو بن حزم کہتے ہیں کہ یہ ہمارے پاس حضورﷺ کی تحریر ہے، جو حضورﷺ نے لکھ کر حضرت عمر و بن حزمؓ کو اس وقت عطافرمائی تھی جب حضور ﷺ نے انھیں اس لیے یمن بھیجا تھا تاکہ وہاں والوں میں دین کی سمجھ پیدا کریں اور انھیں سنت سکھائیں اور ان سے صدقات وصول کریں، اور انھیں تحریر لکھ کردی اور انھیں ہدایات بھی دیں۔ تحریر میں یہ تھا:
بسم اﷲالرحمن الرحیم
یہ اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے تحریر ہے:
{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ}1 ’’اے ایمان والوں! عہدوں کو پورا کرو‘‘۔ (حضرت) محمد رسول اﷲ(ﷺ) عمر وبن حزم کو یمن بھیج رہے ہیں اور ان سے یہ عہد لے رہے ہیں کہ وہ اپنی تمام باتوں میں اﷲ سے تقویٰ اختیار کریں گے، کیوںکہ اﷲ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کریں اور نیک کردار ہوں۔2
حضورﷺ نے حضرت معاذ اور حضرت ابو موسیٰؓکو یمن بھیجا اور دونوں کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو قرآن سکھائیں۔3
حضرت عمار بن یاسر ؓ فرماتے ہیں: مجھے حضورﷺ نے قیس کے ایک قبیلے کی طرف بھیجا تاکہ میں انھیں اسلام کے اَحکام سکھاؤں۔ میں نے وہاں جاکر دیکھا تو وہ تو بِد کے ہوئے اونٹوں کی طرح تھے۔ ان کی نگاہیں ہر وقت اوپر اٹھی رہتی تھیں، اور ان کو بکری اور اونٹوں کے علاوہ اور کوئی فکر نہیں تھا۔ اس لیے میں حضورﷺ کی خدمت میں واپس آگیا تو حضورﷺ نے فرمایا: اے عمار! کیا کرکے آئے ہو (اپنی کار گزاری سناؤ)؟ میں نے ان کے تمام حالات سنائے اور ان میں جو لاپرواہی اور غفلت تھے وہ بھی بتائی۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے عمار! کیا میں تمھیں ان سے بھی زیادہ عجیب لوگ نہ بتاؤں جو کہ ان باتوں سے واقف تھے جن سے یہ ناواقف ہیں، لیکن پھر بھی وہ ان کی طرح غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔4
حضرت حارثہ بن مُضَرّب کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے جو خط کوفہ والوں کو بھیجا تھا وہ میں نے پڑھا تھا، اس میں لکھا ہوا تھا:
اما بعد! میں تمہارے پاس حضرت عمارکو امیر بنا کر، اور حضرت عبد اﷲ کو استاد اور وزیر بنا کر بھیج رہا ہوں۔ یہ دونوں حضورﷺ کے چیدہ اور برگزیدہ صحابہ میں سے ہیں۔ ان دونوں کی بات سنو اور ان دونوں کی اِقتدا کرو۔ اور حضرت عبداﷲ کو بھیج کر میں نے بڑی قربانی دی ہے، کیوںکہ مجھے ان کی یہاں ضرورت تھی لیکن میں نے تمہاری ضرورت کو مقدم رکھا۔ 5
حضرت ابو الاسود دُوَلیکہتے ہیں: میں بصرہ گیا تو وہاں حضرت عمران بن حُصَین ابو نُجَید ؓ تشریف فرما تھے۔ انھیں حضرت عمر بن خطّابؓ نے بصرہ اس لیے بھیجا تھا تاکہ وہ بصرہ والوں میں دین کی سمجھ پیداکریں۔1
حضرت محمد بن کعب قُرَظیؓ کہتے ہیںکہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں انصار میں سے صرف پانچ آدمیوں نے سارے قرآن کو یاد کیا تھا: حضرت معاذ بن جبل، حضرت عُبادہ بن صامت، حضرت اُبی بن کعب، حضرت ابو ایوب اور حضرت ابو الدرداءؓ۔ حضرت عمر بن خطّاب ؓ کے زمانے میں حضرت یزید بن اَبی سفیانؓ نے انھیں خط لکھا کہ شام والے بہت زیادہ مسلمان ہوگئے ہیں، اور سارے شہر ان سے بھر گئے ہیں، اور انھیں ایسے آدمیوں کی شدید ضرورت ہے جو انھیں قرآن سکھائیں اور ان میں دین کی سمجھ پیدا کریں۔ اے امیر المؤمنین! سکھانے والے آدمی بھیج کر آپ میری مدد کریں۔ پھر حضرت عمرؓ نے ان پانچوں حضرات کو بلایا اور ان سے فرمایا: تمہارے شامی بھائیوں نے مجھ سے مدد مانگی ہے کہ میں ان کے پاس ایسے آدمی بھیجوں جو انھیں قرآن سکھائیں اور ان میں دین کی سمجھ پیدا کریں۔ اﷲ آپ لوگوں پر رحم فرمائے! آپ لوگ اپنے میں سے تین آدمی اس کام کے لیے دے کر میری مدد کریں۔ اب اگر آپ لوگ چاہیں تو قرعہ اندازی کرلیں یا پھر جو اپنا نام اَزخود پیش کردے وہ چلا جائے۔ ان حضرات نے کہا: نہیں، قرعہ اندازی کی ضرورت نہیںہے۔ یہ حضرت ابو ایوب تو بہت بوڑھے ہیں اور یہ حضرت اُبی بن کعب بیمار ہیں، چناںچہ حضرت معاذ بن جبل، حضرت عبادہ اور حضرت ابوالدرداء ؓ ملکِ شام گئے۔ ان سے حضرت عمرؓنے فرمایا: حِمْص شہر سے شروع کرو، کیوںکہ تم لوگوں کو مختلف اِستعداد والا پاؤ گے۔ بعض ایسے بھی ہوں گے جو جلدی سیکھ جائیں گے۔ جب تمھیں کوئی ایسا آدمی نظر آئے تو دوسرے لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کردو(کہ وہ اس سے علم حاصل کریں)۔ جب تم حمص والوں کے بارے میں مطمئن ہوجاؤ تو پھر تم میں سے ایک وہاں ٹھہر جائے، اور ایک دِمشق چلاجائے اور ایک فلسطین۔ چناںچہ یہ حضرات حمص تشریف لے گئے اور وہاں ٹھہر کر انھیں سکھاتے رہے۔ جب ان کے بارے میں اطمینا ن ہوگیا تو حضرت عُبادہ وہاں ٹھہر گئے اور حضرت ابوالدرداءؓ دِمشق اور حضرت معاذ بن جبل ؓ فلسطین چلے گئے۔ حضرت معاذ ؓ کا تو طاعونِ عمواس میں انتقال ہوگیا، بعد میں حضرت عبادہ ؓ فلسطین چلے گئے ان کا بھی وہاں ہی انتقال ہوا۔ البتہ حضرت ابو الدرداء ؓ دِمشق ہی رہے اور ان کا وہاں ہی انتقال ہوا۔1