صحابہ کرام ؓ کا ایمان
علم کو قابلِ اعتماد اہلِ علم سے حاصل کرنا اور جب علم نااہلوں کے پاس ہوگا تو پھر علم کا کیا حال ہوگا؟
حضرت ابو ثعلبہؓ فرماتے ہیں کہ میں حضورﷺ سے ملا۔ میں نے عرض کیا: یارسول اﷲ! مجھے ایسے آدمی کے حوالے فرمادیں جو اچھی طرح سکھانے والا ہو۔ آپ نے مجھے حضرت ابو عبیدہ بن جرّاح ؓ کے حوالے فرمادیا اور ارشاد فرمایا: میں نے تمھیں ایسے آدمی کے حوالے کیا ہے جو تمھیں اچھی طرح تعلیم دے گا اور اچھی طرح ادب سکھائے گا۔1
’’طبرانی‘‘ میں اس کے بعد یہ مضمون ہے کہ جب میں حضرت ابو عبیدہ ؓکی خدمت میں پہنچا تو وہ اور حضرت بشیر بن سعد ابو نعمانؓ آپس میں باتیں کررہے تھے۔ مجھے دیکھ کر وہ دونوں حضرات خاموش ہوگئے۔ میں نے کہا: اے بو عبیدہ! اﷲ کی قسم! حضورﷺ نے تو اس طرح مجھے بیان نہیںکیا تھا، یعنی وہ تو مجھے دیکھ کر خاموش نہیں ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا: بیٹھ جاؤ،ہم تم کو حدیث سنائیں گے۔ پھر فرمایا:حضورﷺنے ارشاد فرمایا: تم میں تو اس وقت نبوت کا دور ہے، پھر نبو ت کے طرز پر خلافت ہوگی، پھر بادشاہت اور جبر ہوگا۔2
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! امربالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: جب تم میں وہ باتیں ظاہر ہوجائیں گی جو تم سے پہلے بنی اسرائیل میں ظاہر ہوئی تھیں۔ میں نے پوچھا: یا رسول اﷲ! وہ باتیں کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب تمہارے نیک اور بہترین آدمیوں میں سستی، اور تمہارے برے لوگوں میں بے حیائی ظاہر ہوجائے گی، اور بادشاہت تمہارے چھوٹوںمیں اور دینی علم تمہارے کمینوں میں منتقل ہوجائے گا۔3
حضرت ابو اُمیّہ جُمَحی ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ سے قیامت کی نشانیوں کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ نے فرمایا: قیامت کی ایک نشانی یہ ہے کہ علم چھوٹوں کے پاس تلاش کیا جانے لگے گا۔1
حضرت عبدا ﷲ بن عکیم کہتے ہیں: حضرت عمرؓفرمایا کرتے تھے: غور سے سنو! سب سے سچی بات اﷲتعالیٰ کی ہے اور سب سے اچھا طریقہ حضرت محمد ﷺ کا ہے اور سب سے برے کام وہ ہیں جو نئے ایجاد کیے جائیں۔غور سے سنو! لوگ اس وقت تک خیر پر رہیں گے جب تک ان کے پاس علم ان کے بڑوں کی طرف سے آئے گا۔2
حضرت بلال بن یحییٰ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّابؓ نے فرمایا:مجھے معلوم ہے کہ لوگ کب سُد ھر تے ہیں اور کب بگڑتے ہیں۔ جب علم چھوٹے کی طرف سے آئے گا تو بڑا اس کی نافرمانی کرے گا، اور جب علم بڑے کی طرف سے آئے گا تو چھوٹا اس کا اِتباع کرے گا اور دونوں ہدایت پاجائیں گے۔3
حضرت ابنِ مسعودؓفرماتے ہیں کہ لوگ اس وقت تک نیکو کار اور اپنے دین پر پختہ رہیں گے جب تک ان کے پاس علم حضرت محمد ﷺ کے صحابہؓکی طرف سے اور ان کے اپنے بڑوں کی طرف سے آئے گا، اور جب ان کے پاس علم ان کے چھوٹوں کی طرف سے آنے لگے گا تو پھر لوگ ہلاک ہوجائیں گے۔4
حضرت ابنِ مسعودؓ فرماتے ہیں: لوگ اس وقت تک خیر پر رہیں گے جب تک وہ علم اپنے بڑوں سے حاصل کریں گے، اور جب علم اپنے چھوٹوں اور اپنے بُروں سے حاصل کرنے لگیں گے تو ہلاک ہوجائیں گے۔5
حضرت ابنِ مسعودؓفرماتے ہیں: تم لوگ اس وقت تک خیر پر رہو گے جب تک علم تمہارے بڑوں میں رہے گا۔ اور جب علم تمہارے چھوٹوں میں آجائے گا تو چھوٹے بڑوں کو بے وقوف بنائیں گے۔ 1
حضرت معاویہؓ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ گمراہ کرنے والا انسان وہ ہے جو قرآن پڑھے اور اس کے معنی اور مطلب کو نہ سمجھے، پھر وہ بچے، غلام، عورت، اور باندی کو سکھائے، پھر یہ سب مل کر قرآن کے ذریعے علم والوں سے جھگڑا کریں۔2
حضرت ابو حازم کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّابؓ نے فرمایا: اس اُمّت پر مجھے کسی مؤمن کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں ہے، کیوںکہ اسے اس کا ایمان برے کام سے روک لے گا۔ اور اُس فاسق کی طرف سے بھی کوئی نہیں خطرہ نہیں ہے جس کا فاسق ہونا کھلا اور واضح ہو۔ مجھے تو اس اُمّت پر اس آدمی کی طرف سے خطرہ ہے جس نے قرآن تو پڑھا ہے، لیکن زبان سے اچھی طرح پڑھ کر وہ صحیح راستہ سے پھسل گیا یعنی زبان سے پڑھنے کو ہی اصل سمجھ لیا اور قرآن کی صحیح تفسیر چھوڑ کر اس نے اپنی طرف سے اس کا مطلب بنالیا۔3
حضرت عُقْبہ بن عامرؓ کے انتقال کا وقت جب قریب آیا تو انھوں نے فرمایا: اے میرے بیٹو! میں تمھیں تین باتوں سے روکتا ہوں انھیں اچھی طرح یاد رکھنا: حضورﷺ کی طرف سے حدیث صرف معتبر اور قابلِ اعتماد آدمی سے ہی لینا کسی اور سے نہ لینا۔ اور قرضہ لینے کی عادت نہ بنالینا چاہے چوغہ پہن کر گزارہ کرنا پڑے۔ اور اشعار لکھنے میں نہ لگ جانا ورنہ ان میں تمہارے دل ایسے مشغول ہوجائیں گے کہ قرآن سے رہ جاؤگے۔4
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ نے جابیہ مقام میں لوگوں میں بیان فرمایا اور ارشاد فرمایا: اے لوگو! تم میں سے جو قرآن کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہتا ہے وہ حضرت اُبی بن کعب کے پاس جائے۔ اور جو میراث کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے وہ حضرت زید بن ثابت کے پاس جائے۔ اور جو کوئی فقہی مسائل پوچھنا چاہتا ہے وہ حضرت معاذ بن جبل کے پاس جائے۔ اور جو مال لینا چاہتا ہے وہ میرے پاس آجائے، کیوںکہ اﷲ نے مجھے مال کا والی اور اس کا تقسیم کرنے والا بنایا ہے۔1