صحابہ کرام ؓ کا ایمان

نبی کریمﷺ اور صحابۂ کرامؓکے زمانے میں اِمامت اور اِقتدا

صلحِ حدیبیہ اور فتحِ مکہ کے بارے میں حضرت عکرمہ کی ایک لمبی حدیث ہے۔ اس میں یہ ہے کہ حضرت عباس ؓ نے حضرت ابو سفیان ؓ سے کہا:اے ابو سفیان! مسلمان ہوجاؤ سلامتی پاؤ گے۔ اس پر حضرت ابوسفیان ؓ مسلمان ہوگئے۔ پھر حضرت عباس ؓ انھیں اپنی قیام گاہ پر لے گئے۔ جب صبح ہوئی تو لوگ وضو کے لیے بھاگنے دوڑنے لگے۔ حضرت ابو سفیان نے یہ منظر دیکھ کر کہا: اے ابوالفضل! ان لوگوں کو کیا ہوا؟ کیا انھیں کوئی حکم ملا ہے؟ حضرت عباس نے کہا: نہیں،یہ تو نماز کی تیاری کررہے ہیں۔ حضرت عباس نے انھیں حکم دیا تو انھوں نے بھی وضو کرلیا۔ پھر حضرت عباسؓ انھیں حضورﷺ کے پاس لے گئے۔ حضور ﷺ جب نماز شروع کرنے لگے تو آپ ﷺ نے اﷲ اکبر کہا۔ اس پر لوگوں نے بھی اﷲ اکبر کہا۔ پھر حضورﷺ رکوع میں گئے تو لوگ بھی رکوع میں چلے گئے۔ پھر حضورﷺ نے سر مبارک اٹھایا تو لوگوں نے بھی سر اٹھالیا۔ توحضرت ابوسفیان نے کہا کہ آج جیسا دن میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ یہ مسلمان یہاں سے لے کر وہاں تک سارے حضورﷺ کی جتنی اِطاعت کررہے ہیں، ان سے زیادہ اِطاعت نہ تو شرفائے فارس میں دیکھی اور نہ صدیوں سے حکمرانی کرنے والے رومیوں میں۔ حضرت ابو سفیان ؓ نے کہا: اے ابو الفضل! تمہارا بھتیجا تو بڑے ملک والا ہوگیا۔ تو حضرت عباس ؓ نے ان سے کہا: نہیں، یہ ملک اور بادشاہت نہیں بلکہ نبوت ہے۔1 حضرت میمونہ ؓ فتحِ مکہ کا غزوہ بیان کرتی ہیں تو اس میں یہ بھی فرماتی ہیں کہ حضورﷺ کھڑے ہوکر وضو کرنے لگے تو صحابہ وضو کے پانی پر جھپٹنے لگے اور پانی لے کر اپنے چہروں پر مَلنے لگے۔ حضرت ابو سفیان ؓ نے کہا: اے ابوالفضل! تمہارے بھتیجے کی بادشاہت تو بڑی ہوگئی۔ حضرت عباس ؓ نے کہا: نہیں، یہ بادشاہت نہیں بلکہ نبوت ہے، اسی وجہ سے ان لوگوںمیں اتنا شوق ہے۔2 حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ یہ رات حضرت ابو سفیان ؓ نے حضرت عباس ؓ کے پاس گزاری۔ صبح کو حضرت ابو سفیان نے دیکھا کہ لوگ نماز کی تیاری کررہے ہیں، اِستنجا اور طہارت کے لیے ادھر ادھر آجارہے ہیں، تو وہ ڈر گئے (کہ مسلمان شاید حملہ کرنے لگے ہیں)۔ اور انھوںنے حضرت عباس ؓ سے پوچھا: ان لوگوں کو کیا ہوا؟ حضرت عباس ؓ نے کہا: ان لوگوں نے اذان سن لی ہے اس لیے نماز کی تیاری کے لیے یہ لوگ ادھر ادھر آجارہے ہیں۔ پھر جب نماز ہوئی اور حضرت ابو سفیان نے دیکھا کہ حضورﷺ کے رکوع کرنے پر تمام صحابہؓ رکوع میںچلے گئے اور حضورﷺ کے سجدہ کرنے پر سب نے سجدہ کیا، تو انھوں نے کہا: اے عباس! حضورﷺ انھیں جس بات کا حکم دیتے ہیں یہ اسے فوراً کرتے ہیں۔ حضرت عباس ؓ نے کہا: جی ہاں۔ اﷲ کی قسم! اگر حضورﷺ انھیں کھانا پینا چھوڑنے کا حکم دے دیں تو یہ اسے بھی پورا کردیں گے۔3 ’’نبی کریم ﷺ کے نماز کے شوق‘‘ کے باب میں حضرت عائشہؓکی حدیث گذرچکی ہے۔ اس میں یہ ہے کہ اس کے بعد حضورﷺ نے حضرت ابو بکر ؓ کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت ابو بکر ؓ بہت نرم دل آدمی تھے اس لیے انھوں نے کہا: اے عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عمر ؓ نے کہا: نہیں، اس کے آپ زیادہ حق دار ہیں۔ چناںچہ ان دنوں حضرت ابوبکرؓ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ ’’بخاری‘‘ میں حضرت عائشہؓکی حدیث میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ کسی نے حضورﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ ابوبکر تو بہت رقیق القلب ہیں جلد رو پڑتے ہیں، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہیں پڑھاسکیں گے۔ اس نے دوبارہ وہی بات کہی تو حضورﷺ نے دوبارہ یہی جواب دیا، بلکہ تیسری بار بھی یہی جواب دیا اور فرمایا: تم تو حضرت یوسف ( ؑ) کی ساتھن (زلیخا) کی طرح ہو(کہ اندر سے کچھ اور اوپر سے کچھ۔ اوپر سے کہہ رہی ہو کہ ابو بکر روتے بہت ہیں اور اند ر دل میں یہ ہے کہ حضورﷺ کی جگہ کھڑے ہونے سے لوگ بدفالی لیں گے، جیسے کہ زلیخا نے اوپر سے تو عورتوں کا اکرام کیا اور اند ر سے مقصود انھیںحضرت یوسف ؑ کو دکھانا تھا)۔ ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگو ں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عبداﷲ بن زَمعہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کی بیماری بڑھ چکی تھی، میں آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور مسلمان بھی تھے۔ حضرت بلال ؓ نے حضورﷺکو نماز کی اطلاع دی۔ حضورﷺ نے فرمایا: کسی سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھادے۔ چناںچہ میں وہاں سے باہر گیا تو دیکھا کہ لوگوں میں حضرت عمرؓ تو ہیں اور حضرت ابو بکر ؓ نہیں ہیں۔ میں نے کہا:اے عمر! آپ کھڑے ہوں اور لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ چناںچہ حضرت عمر ؓکھڑے ہوگئے۔ حضرت عمر ؓ کی آواز اونچی تھی، جب انھوں نے اﷲاکبر کہا تو حضورﷺ نے ان کی آواز سن کر فرمایا: ابوبکر کہاں ہیں؟ اﷲ اور مسلمان اس کا انکار کررہے ہیں، اﷲ اور مسلمان اس کا انکار کررہے ہیں۔ حضور ﷺ نے حضرت ابو بکرؓ کے پاس آدمی بھیج کر بلایا۔ حضرت عمر ؓ نے یہ نماز پڑھائی اس کے بعد حضرت ابو بکر ؓ آئے اور پھر انھوں نے لوگوں کو نماز پڑھانی شروع کی۔ حضرت عبداﷲبن زَمعہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے مجھ سے کہا: تیرا بھلا ہو اے ابنِ زمعہ! تم نے یہ کیا کیا؟ اﷲ کی قسم! جب تم نے مجھے نماز پڑھانے کو کہا تو میں یہی سمجھا کہ حضورﷺ نے مجھے اس کا حکم دیا ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو میںکبھی نماز نہ پڑھاتا۔ میں نے کہا:اﷲ کی قسم! حضورﷺ نے مجھے اس کا حکم نہیں دیا، لیکن جب مجھے حضرت ابو بکر نظر نہ آئے تو حاضرین میں آپ ہی مجھے نماز پڑھانے کے سب سے زیادہ حق دار نظر آئے۔1 دوسری روایت میں یہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے حضرت عمرؓ کی آواز سنی تو حضور ﷺ نے حجرہ سے سر مبارک باہر نکال کر فرمایا: نہیں نہیں، لوگوں کو صرف (ابوبکر) ابنِ ابی قحافہ ہی نماز پڑھائیں۔ یہ بات آپ ﷺ نے بہت غصہ میں فرمائی۔2 ’’حضرات صحابۂ کرامؓ کا ا مرِ خلافت میں حضرت ابو بکرؓکو مقدم سمجھنے‘‘ کے باب میں یہ گزر چکا ہے کہ حضرت ابو عبیدہؓ نے فرمایا: میں اس آدمی سے آگے نہیں بڑھ سکتا جسے حضور ﷺ نے (نماز میں) ہمارا امام بننے کا حکم دیا ہو اور انھوں نے حضورﷺ کے انتقال تک ہماری امامت کی ہو۔ اور حضرت علی اور حضرت زبیرؓ نے فرمایا: ہم اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کہ حضورﷺ کے بعد لوگوں میں خلافت کے سب سے زیادہ حق دار حضرت ابو بکرہیں۔ یہ حضورﷺ کے غار کے ساتھی ہیں اور (قرآن کے الفاظ کے مطابق) {ثَانِیَ اثْنَیْنِ}3 دو میں سے دوسرے ہیں۔ ہم ان کی شرافت اور بزرگی کو خوب پہچانتے ہیں، اور حضور ﷺ نے اپنی زندگی میں انھیں لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا۔ حضرت ابنِ مسعودؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ کا انتقال ہوگیا تو انصار نے کہا: ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر تم مہاجرین میں سے ہو۔ حضرت عمرؓ انصار کے پاس گئے اور ان سے کہا: کیا آپ لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ حضورﷺ نے حضرت ابو بکرؓ کو حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں؟ لہٰذا تم میں سے کس کا دل اس بات سے خوش ہوسکتا ہے کہ وہ آگے ہوکر حضرت ابو بکرکا امام بنے؟ تمام انصار نے کہا: ہم حضرت ابو بکر سے آگے بڑھ کر امام بننے سے اﷲ کی پناہ چاہتے ہیں۔1 حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺنے حضرت ابو بکرؓکو حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، اور میں وہاں موجود تھا غائب نہیں تھا اور بیمار بھی نہیں تھا۔ چناںچہ حضورﷺ نے جس آدمی کو ہمارے دین یعنی نماز کی امامت کے لیے پسند فرمایا اسی کو ہم نے اپنی دنیا کے لیے بھی پسند کرلیا۔2 حضرت ابو لیلیٰ کِندی کہتے ہیں کہ حضرت سلمانؓ بارہ تیرہ سواروں کے ساتھ آئے۔ یہ تمام سوار حضرت محمد ﷺ کے صحابہؓمیں سے تھے۔ جب نماز کا وقت آیا تو لوگوں نے کہا: اے ابو عبداﷲ!(نماز پڑھانے کے لیے) آگے بڑھیں۔ حضرت سلمانؓ نے فرمایا: ہم آپ لوگوں کے امام نہیں بنتے اور آپ لوگوں کی عورتوں سے نکاح نہیں کرتے، کیوںکہ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں آپ کے ذریعہ ہدایت عطا فرمائی ہے۔ چناںچہ ان لوگوں میں سے ایک آدمی آگے بڑھا اور اس نے چار رکعت نماز پڑھائی۔ جب اس نے سلام پھیرا تو حضرت سلمان ؓ نے فرمایا: ہمیں چار رکعت کی ضرورت نہیں تھی۔ ہمیں چار کی آدھی یعنی دو رکعت نماز کافی تھی۔ ہم تو سفر میں ہیں، اس لیے ہمیں رخصت پر عمل کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔3 حضرت ابو قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت اُسید ؓ کے بیٹوں کے غلام حضرت ابو سعید نے کھانا تیار کیا، پھر انھوں نے حضرت ابو ذر، حضرت حذیفہ اور حضرت ابنِ مسعود ؓ کو کھانے کے لیے بلایا۔ یہ حضرات تشریف لے آئے۔ اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا تو حضرت ابو ذرؓ نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو ان سے حضرت حذیفہؓنے کہا: گھر کا مالک آپ کے پیچھے کھڑا ہے وہ امامت کا زیادہ حق دار ہے۔ حضرت ابو ذرؓ نے کہا:اے ابنِ مسعود! کیا بات اسی طرح ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ اس پر حضرت ابوذرؓ پیچھے آگئے۔ حضرت ابو سعید کہتے ہیں کہ حالاںکہ میں غلام تھا لیکن انھوں نے مجھے آگے کیا، آخر میں نے ان سب کی امامت کرائی۔1 حضرت نافعکہتے ہیں کہ مدینہ کے ایک کنارے میں حضرت عبداﷲ بن عمر ؓ کی زمین تھی، وہاں ایک مسجد میں نماز کھڑی ہونے لگی۔ مسجد کے امام ایک غلام تھے۔ حضرت ابنِ عمرنماز میں شریک ہونے کے لیے اس مسجد میں داخل ہوئے تو اس غلام نے ان سے کہا: آپ آگے تشریف لے چلیں اور نماز پڑھائیں۔ حضرت ابنِ عمرنے فرمایا: تم اپنی مسجد میں نماز پڑھانے کے زیادہ حق دار ہو۔ چناںچہ اس غلام نے نماز پڑھائی۔2 حضرت عبداﷲ حنظلہؓ فرماتے ہیںکہ ہم لوگ حضرت قیس بن سعد بن عُبادہؓ کے گھر میں تھے، ہمارے ساتھ نبی کریم ﷺ کے چند صحابہ بھی تھے۔ ہم نے حضرت قیس سے کہا:آپ (نماز پڑھانے کے لیے) آگے بڑھیں۔ انھوں نے کہا:میں ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ میں نے کہا: حضورﷺ نے فرمایا ہے: آدمی اپنے بستر کے اگلے حصہ کا، اپنی سواری کے اگلے حصے کا اور اپنے گھر میں امام بننے کا زیادہ حق دار ہے۔ چناںچہ انھوں نے اپنے ایک غلام کو حکم دیا، اس نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔3 حضرت علقمہکہتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کو ملنے ان کے گھر گئے وہاں نماز کا وقت آگیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! آپ (نماز پڑھانے کے لیے) آگے بڑھیں ،کیوںکہ آپ کی عمر بھی زیادہ ہے اور علم بھی۔ حضرت ابنِ مسعود نے کہا: نہیں، آپ آگے بڑھیں ،کیوںکہ ہم آپ کے پاس آپ کے گھر میں اور آپ کی مسجد میں آئے ہیں، اس لیے آپ زیادہ حق دار ہیں۔ چناںچہ حضرت ابو موسیٰ آگے بڑھے اور انھوں نے اپنی جوتی اتاری اور نماز پڑھائی۔ جب انھوں نے سلام پھیرا تو حضرت ابنِ مسعود نے ان سے فرمایا کہ آپ نے جوتے کیوں اتارے؟ کیا آپ (حضرت موسیٰ ؑ کی طرح) مقدس وادی میں ہیں؟ 1 اور ’’طبرانی‘‘ کی ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت عبداﷲؓنے ان سے کہا: اے ابو موسیٰ! آپ جانتے ہی ہیں کہ یہ بات سنت میں سے ہے کہ گھر والا (نماز پڑھانے کے لیے)آگے بڑھے، لیکن حضرت ابو موسیٰؓ نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا اور ان دونوں حضرات میں سے کسی ایک کے غلام نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔ حضرت قیس بن زُہیرؓ فرماتے ہیں: میں حضرت حنظلہ بن ربیع ؓ کے ساتھ حضرت فُرات بن حیانؓ کی مسجد میں گیا وہاں نماز کا وقت آگیا۔حضرت فراتؓ نے حضرت حنظلہ ؓ سے کہا:آپ (نماز پڑھانے کے لیے) آگے بڑھیں۔ حضرت حنظلہؓ نے کہا: میں آپ کے آگے کھڑا نہیں ہوسکتا ،کیوںکہ آپ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں اور آپ نے ہجرت بھی مجھ سے پہلے کی تھی اور پھر مسجد بھی آپ کی اپنی ہے۔ حضرت فراتؓ نے کہا:میں نے حضورﷺکو آپ کے بارے میں ایک بات فرماتے ہوئے سنا تھا، (اس کے سننے کے بعد)میںکبھی آپ کے آگے نہیں ہوں گا۔ حضرت حنظلہؓنے کہا: غزوۂ طائف میں جس دن میں حضورﷺ کی خدمت میں گیا تھا اور آپ ﷺ نے مجھے جاسوس بنا کر بھیجا تھاکیاآپ اس دن وہاں موجود تھے؟ حضرت فراتؓ نے کہا:جی ہاں۔ پھر حضرت حنظلہ ؓ آگے بڑھے اور ان لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اس کے بعد حضرت فراتؓ نے کہا:اے قبیلہ بنو عِجل والو! میں نے ان کو (امامت کے لیے) اس لیے آگے بڑھایا کیوںکہ حضورﷺ نے غزوۂ طائف کے دن ان کو جاسوس بنا کر طائف بھیجا تھا۔ واپس آکر انھوں نے حضورﷺ کو حالات بتائے تھے۔ حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ تم سچ کہتے ہو، اب اپنے پڑاؤ پر واپس چلے جاؤ کیوںکہ آج تم جاگتے رہے ہو۔ جب حضرت حنظلہؓ وہاں سے چلے تو حضورﷺ نے ہم سے فرمایا: ان کی اور ان جیسے لوگوں کی اِقتدا کیا کرو۔1 حضر ت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰؓ فرماتے ہیں: میں حضرت عمر بن خطّابؓ کے ساتھ مکہ مکرمہ گیا تو امیرِمکہ حضرت نافع بن علقمہؓ نے باہر آکر ہمارا استقبال کیا۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا کہ آپ اپنے پیچھے مکہ والوں کا امیر کس کو بنا کر آئے ہیں؟ حضرت نافع ؓنے کہا: حضرت عبدالرحمن بن اَبزیٰ کو۔ حضرت عمرؓ نے کہا: آپ نے تو مکہ میں ایک غلام کو ایسے لوگوں کا امیر بنادیا ہے جو قریش میں سے ہیںاور حضورﷺ کے صحابی ہیں۔ حضرت نافع ؓ نے کہا: جی ہاں،میں نے حضرت عبدالرحمن کو سب سے زیادہ اور سب سے اچھا قرآن پڑھنے والا پایا، اور مکہ ایسی سرزمین ہے جہاں ساری دنیا کے لوگ آتے ہیں، تو میں نے چاہا کہ لوگ (نماز میں) ایسے آدمی سے قرآن سنیں جو اچھا قرآن پڑھتا ہے۔ حضرت عمرؓنے فرمایا: تم نے بہت اچھا، کیا واقعی عبدالرحمن ابن اَبزیٰ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو اﷲتعالیٰ قرآن کی وجہ سے بلند کرتے ہیں؟2 حضرت عبید بن عمیرؓ فرماتے ہیں:حج کے موسم میں مکہ کے پاس ایک چشمہ پر ایک جماعت جمع ہوگئی۔ جب نماز کا وقت آیا تو ابوالسائب کے خاندان کا ایک آدمی نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھا۔ اس کی زبان فصیح اور صاف نہیں تھی، تو حضرت مسور بن مخرمہؓ نے اُسے پیچھے کردیا اور دوسرے آدمی کو آگے کردیا۔ یہ بات حضرت عمر بن خطّابؓتک پہنچ گئی۔ وہاں تو حضرت عمرؓ نے انھیں کچھ نہ کہا، جب مدینہ منورہ پہنچے تو حضرت عمرؓ نے حضرت مسورؓ سے باز پُرس کی۔ حضرت مسورؓ نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ ذرا مجھے مہلت دیں۔ بات یہ ہے کہ اس کی زبان فصیح اور صاف نہیں تھی، اور موسم حج کا تھا۔ تو مجھے یہ خطرہ ہوا کہ حُجّاجِ کرام اس کی قرأت سن کر اسے ہی اختیار کرلیںگے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اچھا! کیا تم نے اس وجہ سے اسے پیچھے کیا تھا؟ حضرت مسورؓ نے کہا: جی ہاں۔ حضرت عمرؓنے فرمایا: پھر تم نے ٹھیک کیا۔1 حضرت طلحہ بن عبیداﷲؓ نے کچھ لوگوں کو نماز پڑھائی اور نماز کے بعد ان سے کہا: میں امامت کے لیے آگے بڑھنے سے پہلے آپ سے پوچھنا بھول گیا، کیا آپ میرے نماز پڑھانے پر راضی ہیں؟ ان لوگوں نے کہا:جی ہاں۔ اور اے حضورﷺ کے خاص صحابی! آپ کے نماز پڑھانے کو کون ناپسند کرسکتا ہے؟ حضرت طلحہؓنے فرمایا: میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو لوگوں کو نماز پڑھائے اور لوگ اس کے نماز پڑھانے پر راضی نہ ہوں تو اس کی نماز کانوں سے بھی اوپر نہیں جاتی، یعنی اﷲ تعالیٰ اسے قبول نہیں فرماتے۔2 حضرت انس بن مالک ؓ بعض دفعہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پیچھے نماز نہ پڑھا کرتے تھے، (کیوںکہ شروع میں یہ بھی بنو اُمیّہ کے خُلفا کی طرح بعض دفعہ نمازکو اتنی دیر سے پڑھتے تھے کہ نماز کا وقت ختم ہوجاتا تھا۔ بعد میں جب یہ خود خلیفہ بنے تھے تو پھر صحیح وقت پر پڑھنے لگ گئے تھے۔) تو حضرت عمر بن عبد العزیز نے ان سے پوچھا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ حضرت انس ؓ نے فرمایا: میں نے حضورﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ جب تم اُن جیسی نماز پڑھتے ہو تو میں تمہارے ساتھ نماز پڑھتا ہوں اور جب تم اُن جیسی نماز نہیں پڑھتے ہو تو میں اپنی نماز پڑھ کر گھر چلا جاتا ہوں۔3 حضرت ابو ایوبؓ بعض دفعہ مروان بن حکم کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے تھے، تو ان سے مروان نے پوچھا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ حضرت ابو ایوب ؓ نے فرمایا: میں نے نبی کریم ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھاہے۔ اگر تم اُن جیسی نماز پڑھتے ہو تومیں تمہارے ساتھ پڑھتا ہوں، اور اگر تم اُن جیسی نہیں پڑھتے ہو تو میں اپنی نماز پڑھ کر گھر چلاجاتا ہوں۔4 حضرت ابو خالد بَجَلی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ ؓ سے پوچھا: کیا حضور ﷺ آپ لوگوں کو اسی طرح نماز پڑھایا کرتے تھے؟ حضرت ابو ہریرہ ؓ نے فرمایا: کیا تمھیں میری نماز میں کوئی اِشکال ہے؟ میں نے کہا: میں اسی کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا: ہاں، حضور ﷺ مختصر نماز پڑھاتے تھے اور حضورﷺ کا قیام اتنی دیر ہوتا تھا جتنی دیر میں مؤذن مینار سے اتر کر صف میں پہنچ جائے۔1 ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابو خالدکہتے ہیں: میں نے حضرت ابوہریرہؓ کو مختصر نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا۔ حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں: ہم لوگ حضورﷺ کے ساتھ (اتنی مختصر) نماز پڑھا کرتے تھے کہ آج تم میں سے کوئی اتنی مختصر نماز پڑھادے تو تم اسے بہت بڑا عیب سمجھو۔2 حضرت عدی بن حاتمؓ ایک مجلس میں تشریف لے گئے اتنے میں نماز کھڑی ہوگئی۔ ان لوگوں کے امام نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔ وہ امام صاحب نماز میں کافی دیر بیٹھے رہے۔ وہ جب نماز سے فارغ ہوئے توحضرت عدی ؓ نے فرمایا: تم میں سے جو ہمارا امام بنے اسے چاہیے کہ وہ رکوع سجدہ تو پورا کرے (لیکن قیام اور قعدہ کو لمبا نہ کرے)، کیوںکہ اس کے پیچھے چھوٹے، بڑے، بیمار، مسافر اور ضرورت مند ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ اس کے بعد جب اگلی نماز کا وقت آیا تو حضرت عدیؓ نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی، رکوع سجدہ پورا کیا اور باقی نماز یعنی (قیام اور قعدہ) کو مختصر کیا، اور نماز سے فارغ ہوکرفرمایا: ہم لوگ حضورﷺ کے پیچھے اسی طر ح نماز پڑھا کرتے تھے۔3