صحابہ کرام ؓ کا ایمان

صفوں کو سیدھا کرنا اور ان کی ترتیب بنانا

حضرت براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ صف کے کنارے تشریف لے جاتے اور لوگوں کے سینے اور کندھوں کو سیدھا کراتے، اور فرماتے: صفیں ٹیڑھی نہ بناؤ، ورنہ تمہارے دل ٹیڑھے ہوجائیں گے۔ اﷲتعالیٰ پہلی صف والوں پر رحمت بھیجتے ہیں اور اس کے لیے فرشتے اُن کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں۔ 2 حضرت براءؓفرماتے ہیں کہ حضورﷺ صف میں ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک تشریف لے جاتے، اور ہاتھ لگا کر ہمارے سینوں اور کندھوں کو سیدھا کرتے،اور فرماتے: صفیں ٹیڑھی نہ بناؤ۔ آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا۔ 3 حضرت جابر بن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ ایک دن ہمارے پاس باہر تشریف لائے اور فرمایا: کیا تم لوگ ایسے صفیں نہیں بناتے جیسے فرشتے اپنے ربّ کے پاس صفیں بناتے ہیں؟ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرشتے اپنے ربّ کے پاس صفیں کیسے بناتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ وہ پہلی صفوں کو پورا کرتے ہیں (پھر دوسری صفیں بناتے ہیں) اور صفوں میں مل مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔4 حضرت جابرؓفرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نے حضور ﷺکے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر آپ ﷺ نے ہمیں اشارہ سے بیٹھنے کو فرمایا تو ہم بیٹھ گئے۔ پھر آپﷺنے فرمایا: تم لوگ صفیں ایسے کیوں نہیں بناتے جیسے فرشتے بناتے ہیں؟ آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا۔5 حضرت نعمان بن بشیر ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ ہماری صفوں کو ایسا سیدھا کرتے تھے کہ گویا ان کے ذریعے تیر سیدھے کیے جائیں گے۔ کرتے کرتے آپ کو اندازہ ہوا کہ ہم صفیں سیدھا کرنے کی بات اچھی طرح سمجھ گئے ہیں(اور ہم خود ہی صفیں سیدھی بنانے لگ گئے ہیں تو آپ نے صفیں سیدھی کرنا چھوڑ دیں)۔ پھر ایک دن آپ باہر تشریف لائے اور نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوگئے اور آپ تکبیر کہنے ہی والے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ ایک آدمی کا سینہ صف سے باہرنکلا ہوا ہے، تو آپ نے فرمایا: اے اﷲ کے بندو! اپنی صفیں سیدھی کرو، ورنہ اﷲتعالیٰ تمہارے چہرے بدل دیں گے (یا تم میں آپس کی مخالفت پیدا کردیں گے)۔1 ایک روایت میں یہ ہے حضرت نعمانؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ وہ آدمی اپنا کندھا اپنے ساتھی کے کندھے کے ساتھ اور اپنا گھٹنا اس کے گھٹنے کے ساتھ اور اپنا ٹخنہ اس کے ٹخنے کے ساتھ ملارہا ہے۔2 حضرت نافع کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ صفیں سیدھی کرنے کا حکم دیتے (اور اس کے لیے کچھ آدمی بھیجتے جو صفیں سیدھی کراتے)۔ جب وہ لوگ واپس آکربتاتے کہ صفیں سیدھی ہوگئی ہیں تو پھر حضرت عمرؓ تکبیر کہتے۔3 حضرت ابو عثمان نہدی کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ صفیں سیدھی کرنے کا حکم دیتے اور فرماتے: اے فلانے!آگے بڑھ جا۔ اے فلانے! ذراآگے ہوجا۔ اورغالباً یہ بھی فرماتے تھے کہ کچھ لوگ پیچھے ہٹتے رہیں گے یہاںتک کہ اللہ تعالیٰ انھیں پیچھے کردیں گے۔4 حضرت ابوعثمان نہدی کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓکو میں نے دیکھا کہ وہ جب نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھتے تو لوگوں کے کندھے اور پاؤں دیکھا کرتے۔5 حضرت ابو نضرہ کہتے ہیں کہ جب نماز کھڑی ہونے لگتی تو حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے: سیدھے ہوجاؤ۔ اے فلانے! آگے ہوجا۔ اے فلانے!پیچھے ہوجا۔ تم لوگ اپنی صفیں سیدھی کرو۔ اﷲتعالیٰ چاہتے ہیں کہ تم لوگ صفیں بنانے میں فرشتوں والا طریقہ اختیار کرو۔ پھر یہ آیت پڑھتے: {واِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَ آیت کا نشان وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ آیت کا نشان}1 اور (اﷲ کے حضور میں حکم سننے کے وقت یا عبادت کے وقت) ہم صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں اور ہم (اﷲکی) پاکی بیان کرنے میں بھی لگے رہتے ہیں۔2 حضرت مالک کہتے ہیں کہ میں حضرت عثمان بن عفانؓکے ساتھ تھا اور ان سے بات کررہا تھا کہ وہ میرے لیے کچھ وظیفہ مقرر کردیں کہ اتنے میں نماز کی اقامت ہوگئی۔ میں ان سے بات کرتا رہا اور وہ اپنی جوتیوں سے کنکریاں برابر کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ لوگ آگئے جن کے ذمہ حضرت عثمانؓ نے صفیں سیدھی کرنا لگایا ہوا تھا اور انھوں نے آ کر بتایا کہ صفیں سیدھی ہوگئیں ہیں، تو حضرت عثمان ؓ نے مجھ سے فرمایا: تم بھی صف میں سیدھے کھڑے ہوجاؤ۔ اس کے بعد حضرت عثمانؓ نے تکبیر کہی۔3 حضرت علیؓفرماتے ہیں: سیدھے ہوجاؤ تمہارے دل سیدھے ہوجائیں گے اور مل مل کر کھڑے ہو تو تم پر رحم کیا جائے گا۔4 حضرت عبداﷲبن مسعودؓفرماتے ہیں کہ ہم نے اپنا حال تو یہ دیکھا تھا کہ جب تک صفیں مکمل نہ ہوجاتیں نماز کھڑی نہ ہوتی۔5 حضرت عبداﷲ بن مسعود ؓفرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ ان لوگوں پر رحمت بھیجتے ہیں جو صفوں میں نماز کی پہلی صف کی طرف آگے بڑھتے ہیں اور اس کے فرشتے ان کے لیے دعا ئے رحمت کرتے ہیں۔6 حضرت عبدالعزیز بن رَفیع کہتے ہیں کہ حضرت ابنِ زبیرؓ کے زمانۂ خلافت میں مکہ میں مقام ابراہیم کے پاس حضرت عامر بن مسعود قُرشیؓنے پہلی صف میں مجھ سے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو میں نے ان سے پوچھا:کیا یہ کہا جاتا تھا کہ پہلی صف میں خیر ہے؟ انھوں نے فرمایا: ہاں اﷲ کی قسم! حضورﷺ نے فرمایا:اگر لوگوں کو صفِ اوّل کے اجر وثواب کا پتا چل جائے تو قرعہ ہی سے وہ صفِ اوّل میں کھڑے ہوسکیں۔1 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: تم لوگ پہلی صف کو لازم پکڑو اور پہلی صف میں بھی دائیں طرف کو لازم پکڑو اور ستونوں کے درمیان صف بنانے سے بچو (کیوںکہ وہاں صف کی جگہ نہیں ہوتی)۔2 حضرت قیس بن عبّادکہتے ہیں:میں ایک دفعہ مدینہ منورہ گیا۔ جب نماز کھڑی ہوئی تو میں آگے بڑھ کر پہلی صف میں کھڑا ہوگیا۔ پھر حضرت عمر بن خطاب ؓ باہر تشریف لائے اور صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے۔ ان کے ساتھ ایک آدمی بھی آیا تھا جس کا رنگ گندمی اور ڈاڑھی ہلکی تھی۔ اس نے لوگوں کے چہرے پر ایک نظر ڈالی اور جب اس نے مجھے دیکھا تو مجھے پیچھے ہٹادیا اور میری جگہ خو د کھڑا ہوگیا۔ یہ بات مجھ پر بہت گراں گزری۔ نماز سے فارغ ہوکر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: تم میرے اس رویہ کا برا نہ مناؤ اور اس کا غم نہ کرو، کیا یہ بات تم پر گراں گذری ہے؟ میں نے حضورﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پہلی صف میں صرف مہاجر اور انصار ہی کھڑے ہوں۔ میں نے پوچھا کہ یہ صاحب کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت اُبی بن کعب ؓ ہیں۔3 حضرت قیس کہتے ہیں کہ ایک دن میں مدینہ منورہ کی مسجد ِنبوی میں اگلی صف میں نماز پڑھ رہا تھا کہ اتنے میں ایک آدمی میرے پیچھے سے آیا اور اس نے مجھے زور سے کھینچ کر پیچھے کردیا اور خود میری جگہ کھڑا ہوگیا۔ سلام پھیر کر وہ میری طرف متوجہ ہوئے تو وہ حضرت اُبی بن کعب ؓ تھے۔ انھوں نے فرمایا: اے نوجوان! اﷲ تمھیں غمزدہ نہ کرے! یہ حضورﷺ کی طرف سے ہمیں حکم تھا۔ پھر پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا۔1 امام کا اِقامت کے بعد مسلمانوں کی ضروریات میں مشغول ہونا حضرت اُسامہ بن عمیرؓ فرماتے ہیں کہ بعض دفعہ نماز کھڑی ہوجاتی تھی، اور کوئی آدمی حضور ﷺ سے اپنی ضرورت کی بات کرنے لگ جاتا، اور حضورﷺ کے اور قبلہ کے درمیان کھڑا ہوجاتا، اور کھڑے ہوکر حضورﷺ سے باتیں کرتا رہتا۔ میں بعض دفعہ دیکھتا کہ حضور ﷺ کے زیادہ دیر کھڑے رہنے کی وجہ سے کچھ لوگ اونگھنے لگتے۔2 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ بعض دفعہ عشا کی نماز کھڑی ہو جاتی تو حضور کسی آدمی کے ساتھ کھڑے ہو کر بات کرنے لگے جاتے (زیادہ دیر ہو جانے کی وجہ سے) بہت سے صحابہ سوجاتے پھر وہ نماز کے لیے اٹھتے۔ 3 حضرت عروہفرماتے ہیں کہ مؤذن جب اِقامت کہہ دیتا اور لوگ چپ ہوجاتے تو اس کے بعد حضورﷺ سے کوئی آدمی ضرورت کی بات کرنے لگتا۔ حضورﷺ اس کی ضرورت پوری کرتے۔ اور حضرت انس بن مالکؓ نے بتایا کہ حضورﷺ کی ایک چھڑی تھی جس پر آپ ٹیک لگا لیا کرتے تھے۔4 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ بہت رحم دل تھے۔ جو بھی آپ کے پاس آتا (اور سوال کرتا اور آپ کے پاس کچھ نہ ہوتا) تو اس سے آپ وعدہ کرلیتے (کہ جب کچھ آئے گا تو تمھیں ضرور دوں گا) اور اگر کچھ پاس ہوتا تو اسی وقت اسے دے دیتے۔ ایک مرتبہ نماز کی اِقامت ہوگئی، ایک دیہاتی نے آکر آپ کے کپڑے کو پکڑ لیا اور کہا کہ میری تھوڑی سی ضرورت باقی رہ گئی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ میں اسے بھول نہ جاؤں گا۔ چناںچہ حضورﷺ اس کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ جب اس کی ضرورت سے فارغ ہوئے تو پھر آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔1 حضرت ابو عثمان نہدیکہتے ہیں کہ بعض دفعہ نماز کھڑی ہوجاتی تھی پھر حضرت عمر ؓ کے سامنے آکر کوئی آدمی ان سے بات شروع کردیتا، تو بعض دفعہ حضرت عمرؓ کے زیادہ کھڑے رہنے کی وجہ سے ہم میں سے کچھ آدمی بیٹھ جاتے۔ 2 حضرت موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیںکہ حضرت عثمان بن عفان ؓ منبر پر تھے اور مؤذّن نماز کے لیے اِقامت کہہ رہاتھا۔ اس وقت میں نے سنا کہ وہ لوگوں سے حالات اور چیزوں کے بھاؤ پوچھ رہے تھے۔3 ’’صفیں سیدھی کرنے‘‘ کے عنوان میں یہ قصّہ گذر چکا ہے کہ حضرت مالک کہتے ہیں کہ میں حضرت عثمان ؓ کے ساتھ تھا اوران سے بات کررہا تھا کہ اتنے میں نماز کھڑی ہوگئی۔