صحابہ کرام ؓ کا ایمان
حضورﷺ اور آپ کے صحابۂ کرامؓ کا نماز میں رونا
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ رات گذارا کرتے تھے، پھر حضرت بلال ؓ اذان دے کر حضورﷺکو بلایا کرتے۔ پھر حضورﷺ کھڑے ہوکر غسل کرتے، اب بھی مجھے حضورﷺ کے رخسار اور بالوں پر پانی گرتا ہوا نظر آرہا ہے۔ پھر حضورﷺ باہر تشریف لے جاتے اور نماز پڑھاتے۔ میں حضورﷺ کے رونے کی آواز سنا کرتی۔ آگے اور حدیث بھی ذکر کی۔1
حضرت عبید بن عمیرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓسے پوچھا کہ آپ نے حضورﷺ کی سب سے زیادہ عجیب بات جو دیکھی ہو وہ ہمیں بتادیں۔ پہلے تو وہ خاموش ہوگئیں پھر فرمایا: ایک رات حضورﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! مجھے چھوڑو، آج رات میں اپنے ربّ کی عبادت کروں۔ میں نے عرض کیا: اﷲ کی قسم! مجھے آپ کا قرب بھی پسند ہے اور جس کام سے آپ کو خوشی ہو وہ بھی پسند ہے۔ چناںچہ حضورﷺاٹھے اور وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، اور نماز میں روتے رہے اور اتنا روئے کہ آپ کی گود گیلی ہوگئی، اور بیٹھ کر اتنا روئے کہ آپ کی ڈاڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی، پھر (سجدہ میں) اتنا روئے کہ زمین تر ہوگئی۔ پھر حضرت بلالؓ حضورﷺ کو نماز کی اطلاع دینے آئے۔ جب انھوں نے حضورﷺ کو روتے ہوئے دیکھا تو عرض کیا: یا رسول اﷲ! آپ رو رہے ہیں، حالاںکہ اﷲتعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: تو کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ آج رات مجھ پر ایسی آیت نازل ہوئی ہے کہ جو آدمی اسے پڑھے اور اس میں غور و فکر نہ کرے اس کے لیے ہلاکت ہے۔ وہ آیت یہ ہے:
{اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ} سے لے کر آخر تک۔2
بلاشبہ آسمانوں کے اور زمین کے بنانے میں اور یکے بعد دیگرے رات اور دن کے آنے جانے میں دلائل ہیں اہلِ عقل کے لیے۔3
حضرت مُطَرِّف کے والد بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور آپ ﷺ کے سینے سے رونے کی ایسی آواز آرہی تھی جیسے چکی کے چلنے کی ہوتی ہے۔1
’’نسائی‘‘ کی روایت میںیہ ہے کہ سینے سے رونے کی ایسی آواز آرہی تھی جیسے ہنڈیا پکنے کی ہوتی ہے۔2
حضرت عبداﷲبن شدّاد بن اَلہاد کہتے ہیں کہ میں صبح کی نماز میں آخری صف میں تھا، میں نے حضرت عمرؓ کے رونے کی آواز سنی۔ وہ سورۂ یوسف پڑھ رہے تھے۔ پڑھتے پڑھتے اس آیت تک پہنچے:
{اِنَّمَا اَشْکُوْا بَثِّیْ وَحُزْنِیْ اِلَی اللّٰہِ}3
میں تو اپنے رنج و غم کی صرف اﷲ سے شکایت کرتا ہوں۔ 4
حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عمرؓ کے پیچھے نماز پڑھی تو میں نے تین صف پیچھے سے ان کے رونے کی آواز سنی۔5