حضورﷺ کے اخلاق اور اعمال کی وجہ سے لوگوں کو ہدایت ملنا

حضرت نضیر بن حارث عبدَری ؓ کے اسلام لانے کا قصہ

حضرت محمد بن شُرَحْبِیْل عبدری کہتے ہیں کہ حضرت نضیر بن حارث ؓ لوگوں میں بڑے عالم تھے اور کہا کرتے تھے کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اِسلام کی دولت سے نوازا اور محمدﷺ کو بھیج کر ہم پر اِحسان فرمایا اور ہم اس دین پر نہیں مرے جس پر ہمارے آباء واَجداد مرے۔ میں (حضور ﷺ کے خلاف) قریش کے ساتھ ہر راستے پر کوشش کرتا رہا یہاں تک کہ مکہ فتح ہوگیا اور آپ حنین تشریف لے گئے۔ ہم بھی آپ کے ساتھ گئے۔ ہمارا اِرادہ یہ تھا کہ اگر حضور ﷺ کو شکست ہوئی تو ہم آپ کے خلاف آپ کے دشمنوں کی مدد کریں گے، لیکن یہ ہمارے لیے ممکن نہ ہوسکا۔ جب آپ جَعِرَّانہ پہنچے تو میں اپنے اسی ارادہ پر تھا کہ اچانک حضور ﷺ سے میری ملاقات ہوئی۔ آپ بڑے خوش تھے۔ آپ نے فرمایا: نضیر! میں نے کہا: جی حاضر ہوں۔ آپ نے فرمایا: تم نے غزوۂ حنین کے دن جو کچھ کرنے کا سوچا تھا یہ اس سے بہتر ہے۔ میں لپک کر آپ کے ذرا اور قریب ہوا۔ آپ نے فرمایا: اب تمہارے لیے اس بات کا وقت آگیا ہے کہ تم اپنے دین کے بارے میں غور کرو۔ میں نے کہا: میں اس بارے میں پہلے سے سوچ رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا: اے اللہ! اس کو ثابت قدمی میں ترقی نصیب فرما۔ (حضورﷺ کی اس دعا کا یہ اثر ہوا) کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! دین پر پختگی میںاور حق کی مدد کرنے میں میرا دل پتھر کی طرح مضبوط ہوگیا۔ پھر میں اپنے گھر واپس آیاتو وہاں اچانک میرے پاس بنو دُئَل کا ایک آدمی آکر کہنے لگا: اے ابو الحارث! حضورﷺ نے تمہیں سو اُونٹ دینے کا حکم دیا ہے، مجھے ان میں سے کچھ اُونٹ دے دو، کیوں کہ مجھ پر بہت زیادہ قرضہ ہے۔ پہلے تو میرا ارادہ ہوا کہ یہ اُونٹ نہ لوں اور میں نے کہا کہ حضور ﷺ صرف میری تألیفِ قلب کے لیے دے رہے ہیں، میں اِسلام کے لیے رشوت لینا نہیں چاہتا ہوں۔ پھر میں نے سوچا کہ نہ تو ان اُونٹوں کی میرے دل میں طلب تھی اور نہ میں نے (حضورﷺ سے) مانگے (حضورﷺ خود ہی دے رہے ہیں) اس لیے میں نے وہ اُونٹ لے لیے اور ا ن میں سے دُئَلی کو دس اُونٹ دے دیے۔ 1