حضورﷺ کے اخلاق اور اعمال کی وجہ سے لوگوں کو ہدایت ملنا
حضرت حارث بن ہشام ؓ کے اسلام لانے کا قصہ
حضرت عبداللہ بن عِکْرِمہ فرماتے ہیں کہ فتحِ مکہ کے دن حارث بن ہشام اور عبداللہ بن ابی ربیعہ حضرت اُمّ ہانی بنتِ ابی طالب ؓ کے پاس آئے۔ ان دونوں نے ان سے پناہ مانگی اور یوں کہا: ہم تمہاری پناہ میں آنا چاہتے ہیں۔ حضرت اُمّ ہانی نے ان دونوں کو پناہ دے دی۔ پھر حضرت علی بن ابی طالب ؓ وہاں آئے۔ ان کی نظر ان دونوں پر پڑی، وہ اپنی تلوار نکال کر ان پر حملہ کرنے کے لیے جھپٹ پڑے، تو حضرت اُمّ ہانی(ان دونوں کو بچانے کے لیے) حضرت علی سے لپٹ گئیں اور کہنے لگیں: تمام لوگوں میں سے تم ہی میرے ساتھ ایسا کرنے لگے ہو۔ اگر تم نے مارنا ہی ہے تو پہلے مجھے مارو۔ حضرت علی (رک گئے اور) اُن کو یہ کہہ کر چلے گئے کہ تم مشرکوں کو پناہ دیتی ہو۔ حضرت اُمّ ہانی فرماتی ہیں: میں نے حضورﷺ کی خدمت میں جاکر عرض کیا: یا رسول اللہ !میرے ماں جائے بھائی حضرت علی نے میرے ساتھ ایسا معاملہ کیا ہے کہ میرا بچنا مشکل ہوگیا تھا۔ میں نے اپنے دو مشرک دیوروں کو پناہ دی تھی، وہ تو قتل کرنے کے لیے اُن پر جھپٹ پڑے۔ حضورﷺ نے فرمایا: انھیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، جس کو تم نے پناہ دی اسے ہم نے بھی پناہ دے دی، جسے تم اَمن دیا اسے ہم نے بھی اَمن دے دیا۔
حضرت اُمِّ ہانی ؓ نے واپس آکر ان دونوں کو ساری بات بتائی، وہ دونوں اپنے گھروں کو چلے گئے۔ لوگوں نے آکر حضورﷺ سے کہا کہ حارث بن ہشام اور عبداللہ بن ابی ربیعہ تو زعفران والی چادریں پہنے ہوئے اپنی مجلس میں اطمینان سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اب تم لوگ اُن کا کچھ نہیں کرسکتے ہو، کیوں کہ ہم ان کو اَمن دے چکے ہیں۔ حضرت حارث بن ہشام فرماتے ہیں کہ میں بہت دیر سوچتا رہا کہ حضور ﷺ نے مجھے مشرکین کی ہر لڑائی میں دیکھا ہے اب میں ان کی خدمت میں جاؤں گا تو اُن کی نگاہ مجھ پر پڑے گی تو اس سے مجھے بہت شرم آئے گی، لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ آپ بہت نیک اور بہت رحم دل ہیں، اس لیے میں آپ کی خدمت میں حاضری کے لیے چل پڑا۔ جب میں آپ کے پاس پہنچا تو آپ مسجدِ حرام میں داخل ہورہے تھے۔ مجھے دیکھ کر آپ بہت خندہ پیشانی سے پیش آئے اور رُک گئے۔ میں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر سلام کیا اور کلمۂ شہادت پڑھ لیا۔ آپ نے فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تم کو ہدایت دی۔ تمہارے جیسے آدمی کو اِسلام سے ناواقف نہیں رہنا چاہیے۔ حضرت حارث نے کہا: میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ اِسلام جیسے دین سے نا واقف نہیں رہنا چاہیے۔1