حضورﷺ کے اخلاق اور اعمال کی وجہ سے لوگوں کو ہدایت ملنا

طائف کے بنو ثقیف کے اسلام لانے کا قصہ

ابنِ اسحاق نے بیان کیا ہے کہ جب حضور ﷺ بنو ثقیف کے پاس سے واپس ہوئے تو (بنو ثقیف میں سے) حضرت عُروہ بن مسعود ؓ آپ کے پیچھے چل دیے اور مدینہ سے پہلے ہی حضورﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے اور مسلمان ہوگئے، اور حضورﷺ سے اس بات کی اجازت چاہی کہ اِسلام کو لے کر اپنی قوم کے پاس واپس جائیں۔ حضورﷺ نے ان سے فرمایا: وہ تمہیں قتل کردیں گے۔ آپ کو بنو ثقیف کے سابقہ رویہ سے یہ معلوم تھا کہ ان میں کِبْر اور ہٹ دھرمی ہے۔ حضرت عروہ نے کہا: یا رسول اللہ! میں انھیں اُن کی دوشیزہ لڑکیوں سے بھی زیادہ محبوب ہوں۔ اور وہ واقعی بنو ثقیف میں بہت محبوب تھے اور اُن کی بات مانی جاتی تھی۔ چناں چہ وہ اپنی قوم کو اِسلام کی دعوت دینے کے اِرادے سے واپس ہوگئے اور انھیں امید تھی کہ چوں کہ ان کا بنو ثقیف میں بڑا درجہ ہے اس لیے بنو ثقیف اُن کی مخالفت نہیں کریں گے۔ چناں چہ انھوں نے اپنے ایک بالاخانہ پر چڑھ کر ساری قوم کے سامنے اپنے مسلمان ہونے کا اِظہار کیا اور انھیں اِسلام کی دعوت دی۔ بنو ثقیف نے ہر طرف سے تیر برسانے شروع کردیے، انھیں ایک تیر ایسا لگا جس سے وہ شہید ہوگئے۔ جب وہ زخمی ہوگئے تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ اپنے خون کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ ایک اِعزاز ہے جو اللہ نے مجھے عطا فرمایا اور مجھے شہادت کا مرتبہ عطا فرمایا اور میرا بھی وہی درجہ ہے جواُن صحابہ ؓ کا تھا جو یہاں سے جانے سے پہلے حضور ﷺ کے ساتھ شہید ہوئے تھے، لہٰذا مجھے بھی اُن کے ساتھ دفن کردینا ۔ چناں چہ لوگوں نے اُن کو اُن ہی صحابہ ؓ کے ساتھ دفن کیا۔ صحابہ ؓ کہتے ہیںکہ حضور ﷺ نے ان عروہ کے بارے میں فرمایا تھا کہ سورۂ یٰس میں جن (حبیب نجار) کے ساتھ اُن کی قوم کا جو معاملہ ذکر کیا گیا ہے حضرت عروہ کے ساتھ ان کی قوم نے ویسا ہی معاملہ کیا ہے۔ حضرت عروہ کی شہادت کے چند مہینوں کے بعد بنوثقیف نے آپس میں بیٹھ کر یہ سوچا کہ اِرد گرد کے تمام عرب حضورﷺ سے بیعت ہوکر مسلمان ہوچکے ہیں، اب ان سے لڑنے کی طاقت نہیں رہی۔ اور یہ فیصلہ کیا کہ اپنا ایک آدمی حضورﷺ کے پاس بھیجیں۔ چناں چہ عبدِیالِیْل بن عمرو کے ساتھ بنی اَحلاف کے دو آدمی اور بنی مالک کے تین آدمی بھیجے۔ یہ لوگ مدینہ کے قریب پہنچ کر ایک چشمہ کے پاس ٹھہرے، وہاں اُن کی حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے ملاقات ہوگئی جو اپنی باری میں حضور ﷺ کے صحابہ کی سواریوں کو چرارہے تھے۔ انھوں نے جب بنو ثقیف کے اس وفد کو دیکھا تو حضورﷺ کو اُن کے آنے کی خوش خبری سنانے کے لیے تیزی سے چلے۔ راستہ میں انھیں حضرت ابوبکر صدیق ؓ ملے۔ انھوں نے حضرت ابوبکر کو بتایا کہ بنو ثقیف کاوفد آیا ہے، وہ حضور ﷺ سے بیعت ہو کر مسلمان ہونا چاہتے ہیں بشرطیکہ حضورﷺ اُن کی شرط مان لیں اور اُن کی قوم کے نام خط لکھ کر دے دیں۔ حضرت ابو بکرنے حضرت مغیرہ سے کہا: میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم مجھ سے پہلے حضور ﷺ کے پاس مت جاؤ، میں جاکرخود حضور ﷺ کو بتاتا ہوں۔ حضرت مغیرہ راضی ہوگئے۔ حضرت ابو بکر ؓ نے جاکر حضور ﷺ کو اس وفد کے آنے کی اطلاع دی، اور حضرت مغیرہ اس وفد کے پاس واپس گئے اور اُن کو ساتھ لے کر اپنے جانور واپس لے آئے اور راستہ میں اس وفد کو سکھایا کہ وہ حضور ﷺ کو سلام کیسے کریں، لیکن انھوں نے حضور ﷺ کو جاہلیت کے طریقہ پر ہی سلام کیا۔جب یہ لوگ حضورﷺ کی خدمت میں پہنچے تو ان کے لیے مسجد میں خیمہ لگایا گیا۔ حضرت خالد بن سعید بن عاص ؓ حضورﷺ کے اور اس وفد کے درمیان واسطہ تھے۔ جب وہ اس وفد کے لیے حضور ﷺ کے ہاں سے کھانا لے کر آتے تو جب تک ان سے پہلے حضرت خالد اس کھانے میں سے کھا نہ لیتے وہ اس کھانے کو ہاتھ نہ لگاتے۔ اور حضرت خالد نے ہی حضور ﷺ کی طرف سے اُن کے لیے خط لکھا تھا۔ انھوں نے حضور ﷺ کے سامنے اپنی یہ شرط بھی رکھی تھی کہ حضور ﷺ تین سال تک طاغیہ بت (یعنی لات) کو رہنے دیں، پھر وہ ایک ایک سال کم کرتے رہے لیکن حضور ﷺ مسلسل اِنکار کرتے رہے، یہاں تک انھوں نے حضور ﷺ سے ایک ماہ کی مہلت مانگی کہ جس دن وہ لوگ مدینہ آئے ہیں اس دن سے ایک مہینہ تک اس بت کو باقی رکھنے کی اجازت دے دی جائے۔ اور انھوں نے اس مہلت کا مقصد یہ بتایا کہ وہ اس طرح اپنی قوم کے نادان لوگوں کو ذرا مانوس کرنا چاہتے ہیں، لیکن آپ نے کسی قسم کی مہلت دینے سے انکار کردیا بلکہ حضرت ابو سفیان بن حرب ؓ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کو اُن لوگوں کے ساتھ بھیجا کہ یہ دونوں وہاں جاکر اس بت کو گرا کر آئیں۔ اور انھوں نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ وہ نماز نہیں پڑھا کریں گے اور اپنے ہاتھوں سے اپنے بتوں کو نہیں گرائیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس بات کو تو ہم مان لیتے ہیں کہ تم اپنے ہاتھ سے اپنے بتوں کو نہ توڑو (ہم اپنے آدمی بھیج کر تڑوا دیں گے) لیکن تم نماز نہ پڑھو یہ بات نہیں مان سکتے، کیوں کہ اس دین میں کوئی خیر نہیں جس میں نماز نہ ہو۔ انھوں نے کہا: اچھا! ہم نماز پڑھ لیں گے، ہے تو ویسے یہ گھٹیا عمل۔ حضرت عثمان بن ابی العاصؓ فرماتے ہیں کہ ثقیف کا وفد حضور ﷺ کی خدمت میں آیا۔ آپ نے ان کو مسجد میں ٹھہرایا تاکہ ان کے دل پر زیادہ اثر پڑے ۔ انھوں نے اِسلام لانے کے لیے حضور ﷺ کے سامنے یہ شرطیں پیش کیں کہ جہاد میں جانے کے لیے ان کو کہیں جمع نہیں کیا جائے گا، اور اُن کی پیداوار کا عُشر نہیں لیا جائے گا، اور وہ نماز نہیں پڑھیں گے، اور اُن کا امیر کسی اور قبیلہ سے نہیں بنایا جائے گا۔ حضورﷺ نے فرمایا: (تین شرطیں تو منظور ہیں کہ ) تمہیں جہاد میں جانے کے لیے نہیں کہا جائے گا اور تم سے پیداوار کا عُشر نہیں لیا جائے گا، دوسرے قبیلہ کا آدمی تم پر امیر نہیں بنایا جائے گا (البتہ نماز پڑھنی پڑے گی، کیوں کہ) اس دین میں کوئی خیر نہیں ہے جس میں رکوع نہ ہو۔ حضرت عثمان بن ابی العاص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے قرآن سکھادیں اور مجھے میری قوم کا امام بنادیں ۔1 حضرت وہب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر ؓ سے بنو ثقیف کی بیعت کے قصے کو پوچھا، انھوں نے کہا کہ بنو ثقیف نے حضورﷺ کے سامنے یہ شرطیں پیش کیں کہ نہ وہ صدقہ (زکوٰۃ) دیں گے اور نہ وہ جہاد کریں گے۔ (حضورﷺ نے ان شرطوں کو مان لیا) اور حضرت جابر ؓ نے حضورﷺ کو بعد میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب یہ لوگ مسلمان ہوجائیں گے تو خود ہی یہ صدقہ (زکوٰۃ ) دینے لگ جائیں گے اور جہاد کرنے لگ جائیں گے۔1 حضرت اَوس بن حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ ہم ثقیف کے وفد میں شریک ہوکر حضور ﷺ کی خدمت میں آئے۔ بنی اَحلاف کے لوگ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے پاس ٹھہرے اور بنی مالک کو حضور ﷺ نے اپنے خیمہ میں ٹھہرایا ۔ آپ روزانہ عشاء کے بعد ہمارے پاس تشریف لاتے اور کھڑے کھڑے ہم سے باتیں کرتے اور اتنی دیر کھڑے رہتے کہ آپ تھک جاتے اور باری باری سے دونوں پاؤں پر آرا م لیتے۔ زیادہ تر آپ اُن تکلیفوں کا تذکرہ کرتے جو آپ کو اپنی قوم قریش کی طرف سے پیش آئی تھیں، اور اس کے بعد فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ان تکلیفوں کا کوئی غم نہیں ہے کیوں کہ اس وقت ہمیں مکہ میں کمزور اور بے سروسامان سمجھا جاتا تھا۔ جب ہم مدینہ آگئے تو ہماری ان کی لڑائیاں شروع ہوگئیں، کبھی اللہ ان کو غلبہ دیتے اور کبھی ہم کو۔ ایک رات مقرّرہ وقت سے آپ کو آنے میں کچھ تاخیر ہوگئی۔ ہم لوگوں نے کہا: آج رات تو آپ نے دیر کردی ۔ آپ نے فرمایا: روزانہ جتنا قرآن میں پڑھتا ہوں اس میں سے کچھ رہ گیا تھا، اسے پوراکیے بغیر آنا مجھے اچھا نہ لگا۔2