صحابہ کرام ؓ کا ایمان
اعمال کابدلہ ملنے کا یقین
حضرت ابواسماء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکرؓ حضورﷺکے ساتھ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے کہ اتنے میں یہ آ یت نازل ہوئی:
{ فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ آیت کا نشان وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ آیت کا نشان}1
سوجو شخص (دنیا میں) ذرّہ برابر نیکی کرے گا وہ (وہاں) اس کو دیکھ لے گا۔ اور جو شخص ذرّہ برابر بدی کر ے گا وہ اس کو دیکھ لے گا۔
.5یہ سن کر حضرت ابو بکر .5ؓ.5 نے کھانا کھانا چھوڑدیا اور عرض کیا.5: .5یا رسول اللہ! ہم جو بھی برا کام کریں گے، کیا ہمیں اس کا بدلہ ضرور ملے گا؟ حضو ر .5ﷺ.5 نے فرمایا.5: .5آپ لوگ جو ناگواریاں (دنیا میں) دیکھتے ہویہ برے عملوں کا بدلہ ہے اور اچھے اعمال کا بدلہ بعد میں آ خرت میں دیاجائے گا۔2
حضرت ابوادریس خَولانی کہتے ہیں کہ پھر حضورﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر! تم (دنیا میں) جوناگواریاں دیکھتے ہو وہ برے کاموں کی وجہ سے پیش آتی ہیں اور نیک کاموں کا بدلہ جمع کیا جارہاہے جو تمھیں قیامت کے دن دیا جائے گا، اور اس بات کی تصدیق اللہ کی کتاب کی اس آیت سے ہوتی ہے:
{وَمَا اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ آیت کا نشان}3
اور تم کو (اے گناہ گارو!) جو کچھ مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں سے (پہنچتی ہے) اور بہت سے تو درگزر ہی کر دیتا ہے۔ 4
حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضورﷺ کے پاس تھا تو یہ آیت نازل ہوئی:
{مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓئً ا یُّجْزَ بِہٖلا وَلَا یَجِدْ لَہٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیْرًا آیت کا نشان}5
جو شخص کوئی برا کام کرے گا وہ اس کے عوض میں سزا دیا جائے گا اور اس شخص کو خدا کے سوانہ کوئی یار ملے گا نہ مدد گار ملے گا۔
حضورﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر! مجھ پر جو آ یت نازل ہوئی کیا وہ تمھیں میں نہ پڑھا دوں؟ میںنے کہا: یارسول اللہ! ضرور پڑھا دیں۔ چناںچہ حضورﷺ نے مجھے وہ آیت پڑھادی۔ یہ آ یت سنتے ہی مجھے ایسے محسوس ہوا کہ جیسے میری کمر ٹوٹ گئی ہے جس کی وجہ سے میں نے اَنگڑائی لی۔ حضورﷺ نے فرمایا:اے ابوبکر! تمھیں کیا ہوا؟ میں نے کہا: ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے برے کام نہ کیے ہوں؟ اور ہم جو بھی برا کام کریں گے کیا ہمیں اس کا بدلہ ضرور ملے گا؟ حضورﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر! تمھیں اور مؤمنوں کو برے کاموں کا بدلہ تو دنیا ہی میں مل جائے گا اور تم اپنے .5ربّ سے اس حال میں ملاقات کرو گے (یعنی مرتے وقت یہ حالت ہوگی) کہ تم پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔ اور دوسروں کے گنا ہوں کو جمع کیا جاتا رہے گا اور انھیں ان گناہوں کا بدلہ قیامت کے دن دیا جائے گا۔1
حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! {مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓئً ا یُّجْزَ بِہٖ} والی آیت کے بعد حال کس طرح ٹھیک ہوسکتا ہے؟ کیوںکہ ہم نے جو بھی برا کام کیا ہے اس کا بدلہ ہمیں ضرور ملے گا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر! اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے، کیا تم بیمار نہیں ہوتے؟ کیا تم کبھی تھکتے نہیں؟ کیاتمھیں کبھی کوئی غم پیش نہیں آتا؟ کیا تمھیں کبھی کوئی مشقت نہیں اٹھا نی پڑتی؟ کیاتمھیںکبھی کوئی مصیبت پیش نہیں آتی؟ میں نے عرض کیا: جی یہ سب کچھ پیش آتا ہے۔حضورﷺ نے فرمایا: یہی گناہوں کا بدلہ ہے جو تمھیں دنیا میں مل رہا ہے۔ 2
حضرت محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عمر بن خطّابؓ سے کہا: مجھے اللہ کی کتا ب میں ایک ایسی آیت معلوم ہے جو کہ بہت سخت ہے۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ اس کی طرف بڑھے اور اسے کوڑا مارا (ظاہری الفاظ قرآن کے ادب کے خلاف تھے) اور فرمایا: تمھیں کیا ہوا؟ کیا تم نے اس آیت کی گہری تحقیق کرلی ہے جس سے تمھیں اس (کے بہت سخت ہونے) کا پتا چل گیا ہے؟ وہ آدمی چلا گیا۔ اگلے دن حضرت عمرؓ نے اس آدمی سے کہا:جس آیت کاتم نے کل ذکر کیا تھا وہ کون سی ہے؟ ا س آدمی نے کہا: وہ یہ ہے:
{مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓئً ا یُّجْزَ بِہٖ}1
لہٰذا ہم میں سے جو بھی کوئی براکام کرے گا اسے اس کا بدلہ ضرور ملے گا۔
حضرت عمر ؓ نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تھی تو اس وقت ہمیں کچھ عرصہ تک (پر یشانی کی وجہ سے) کھانا پینا بالکل اچھا نہیں لگتا تھا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے رعایت والی آیت نازل کردی (پھر ہماری وہ پریشانی ختم ہوئی)۔ وہ آیت یہ ہے:
{ وَمَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓئً ا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْراً رَّحِیْمًاآیت کا نشان}2
اور جو شخص کو ئی برائی کرے یا اپنی جان کا ضرر کر ے، پھر اللہ تعالیٰ سے معافی چاہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کو بڑی مغفر ت والا بڑی رحمت والا پائے گا۔3
حضرت ثعلبہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر وبن سَمُرہ بن حبیب بن عبد شمسؓ نے نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے فلاں قبیلہ کا ایک اونٹ چوری کیا ہے، مجھے (اس گناہ سے) پاک کردیں۔ حضورﷺ نے اس قبیلہ والوں کے پاس آدمی بھیج کرپتا کرایا۔ انھوں نے بتایا کہ ہاں ہمارا ایک اونٹ گم ہے۔ چناںچہ حضورﷺ کے فرمانے پر حضرت عمرو بن سمرہؓ کا ہاتھ کاٹا گیا۔ حضرت ثعلبہ ؓ کہتے ہیں: جب حضرت عمروؓ کا ہاتھ کٹ کر نیچے گرا اس وقت میں انھیں دیکھ رہا تھا، انھوں نے (اپنے ہاتھ کو خطاب کرتے ہوئے) کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے تجھ سے پاک کردیا، ورنہ تُو نے میرے جسم کو جہنم میں داخل کرنے کا ارادہ کرلیا تھا۔4
حضرت حسن کہتے ہیں کہ حضرت عمران بن حُصَینؓ کے جسم میں ایک بیماری تھی۔ ان کے چند ساتھی ان کے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے کہا: آپ کے جسم میں جو ہم بیماری دیکھ رہے ہیں اس کی وجہ سے ہمیں بہت رنج وصدمہ ہے۔ حضرت عمرانؓ نے فرمایا: تم جو بیماری دیکھ رہے ہو اس کی وجہ سے غمگین نہ ہو، کیوںکہ جو بیماری تم دیکھ رہے ہو وہ گناہوں کی وجہ سے ہے اور جن گناہوں کو اللہ تعالیٰ ویسے ہی معاف فرمادیتے ہیں وہ تو ان سے کہیں زیادہ ہیں۔ پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی: {وَمَا اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ آیت کا نشان}1
حضرت ابو ضَمرہ بن حبیب بن ضَمرہ کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ایک بیٹے کی وفات کا وقت قریب آیا تو وہ ایک تکیہ کی طرف دیکھنے لگا۔ جب اس کا انتقال ہوگیا تو لوگوں نے کہا: ہم نے دیکھا تھا کہ آپ کا بیٹا کنکھیوں سے اس تکیہ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ جب لوگوں نے تکیہ اٹھایا تو اس کے نیچے پانچ یا چھ دینار ملے۔ یہ دیکھ کر حضرت ابو بکر ؓ کفِ افسوس مَلنے لگے اور بار بار اِنَّا لِلّٰہِ وِاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن پڑھتے رہے اور فرماتے رہے: میرے خیال میں تو تمہاری کھال ان دینار وں کی سزا برداشت نہیں کرسکتی (کہ تم نے ان کو جمع کرکے رکھا اور انھیں خرچ نہ کیا)۔2
اور’’ مسلمان کو گالی دینے‘‘ کے عنوان میں یہ گزر چکا ہے کہ ایک آدمی نے حاضرِ خدمت ہوکر حضورﷺ سے اپنے غلاموں (کو سزا دینے) کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو ان غلاموں نے جو تجھ سے خیانت کی اور تیری نافرمانی کی اور تجھ سے جھوٹ بولا اس کا حساب کیا جائے گا، اور تم نے ان کو جو سزادی اس کا بھی حساب کیاجائے گا۔اگر تمہاری سزا اُن کے جرم کے برابر ہوگی تو معاملہ برابر سرابر ہوجائے گا، نہ تمھیں انعام ملے گا نہ سزا۔ اور اگر تمہاری سزا ان کے جرم سے کم نکلی تو تمھیں ان پر فضیلت ہوجائے گی۔ اور اگر تمہاری سزا ان کے جرم سے زیادہ ہوگی تو اس زائد سزا کا تم سے بدلہ لیاجائے گا۔ وہ آدمی یہ سن کر ایک طرف ہوکر زور زور سے رونے لگا۔ حضورﷺ نے اس کو فرمایا: کیا تم اللہ تعالیٰ کایہ ارشاد نہیں پڑھتے:
{وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطْ لِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ} آخر تک۔1
اور (وہاں) قیامت کے روز ہم میزان عدل قائم کریں گے (اور سب کے اعمال کاوزن کریں گے) سوکسی پر اصلاً ظلم نہ ہو گا۔ اور اگر (کسی کا) عمل رائی کے دانہ کے برابر بھی ہوگا تو ہم اس کو (وہاں) حاضر کردیں گے اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں۔
تو اس آدمی نے کہا: یارسول اللہ!مجھے اپنے لیے اور ان غلاموں کے لیے اس سے بہتر صورت نظر نہیں آرہی ہے کہ میں ان سے الگ ہوجاؤں۔ اس لیے میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ یہ سب غلام آزادہیں۔