صحابہ کرام ؓ کا ایمان
صحابۂ کرام ؓکے ایمان کی پختگی
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:
{ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِط وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِیٓ اَنْفُسِکُُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُط فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ آیت کا نشان}2
اللہ تعالیٰ ہی کی مِلک ہیں سب جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں ہیں۔ اور جو باتیں تمہارے نفسوں میں ہیں۔ اُن کو اگر تم ظاہر کروگے یا کہ پوشیدہ رکھوگے حق تعالیٰ تم سے حساب لیں گے۔ پھر (بجز کفر وشرک کے)جس کے لیے منظور ہوگا بخش دیں گے اور جس کو منظور ہوگا سزادیں گے، اور اللہ ہر شے پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔
تو اس سے صحابۂ کرام ؓ کو بہت گرانی اور پر یشانی ہوئی، اور آکر حضورﷺ کی خدمت میں دو زانو ہوکربیٹھ گئے اور عرض کیا: یارسول اللہ! ہمیں کچھ ایسے اعمال کا مکلف بنایا گیا ہے جو ہمارے بس میں ہیں جیسے: نماز، روزہ، جہاد اور صدقہ، لیکن اب آپ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے (اور اس میں ہمیں ایسے اعمال کا مکلف بنایا گیا جو ہمارے بس میں نہیں ہیں)۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم چاہتے ہو کہ اس آیت کو سن کر سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا (ہم نے اللہ کا حکم سن لیا لیکن ہم اسے مانیںگے نہیں) کہو، جیسے کہ تم سے پہلے تورات اور انجیل والوں نے کہا تھا؟ نہیں، بلکہ تم کہو:
سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَیْکَ الْمَصِیْرُ
(یعنی ہم نے سن لیا اور مان لیا۔ ا ے ہمارے ربّ! ہم تیری مغفرت چاہتے ہیں اور تیرے پاس ہی لوٹ کرجانا ہے)۔
چناںچہ صحابہ ؓ نے یہ دعا مانگنی شروع کردی اور جب ان کی زبانیں اس دعاسے مانوس ہوگئیں، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد یہ آیت نازل فرمائی:
{اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ط کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلُہٖقف لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖقف وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاق ز غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ آیت کا نشان}1
اعتقاد رکھتے ہیں رسول (ﷺ) اس چیز کا جو اُن کے پاس اُن کے ربّ کی طرف سے نازل کی گئی ہے اور مؤمنین بھی سب کے سب عقیدہ رکھتے ہیں اللہ کے ساتھ، اور اس کے فرشتوں کے ساتھ، اور اس کی کتابوں کے ساتھ، اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ کہ ہم اس کے پیغمبروں میں سے کسی میں تفریق نہیں کرتے اور ان سے سب نے یوں کہا کہ ہم نے (آپ کا ارشاد) سنا اور خوشی سے مانا۔ ہم آپ کی بخشش چاہتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار!اور آپ ہی کی طرف (ہم سب کو) لوٹنا ہے۔
جب صحابہ نے حضورﷺ کے ارشاد کے مطابق اس طرح کیا تو اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت (کے حکم) کو منسوخ کردیا اور یہ آیت نازل فرمائی:
{لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَاط لَھَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْھَا مَا اکْتَسَبَتْط رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا اِنْ نَّسِیْنَا اَوْ اَخْطَاْنَا} سے لے کر آخر تک۔2
اللہ تعالیٰ کسی شخص کو مکلف نہیں بناتا مگر اسی کا جو اس کی طاقت (اور اختیار)میں ہو۔ اس کو ثواب بھی اسی کا ملے گا جوارادہ سے کرے اور اس پر عذاب بھی اسی کا ہوگا جو ارادہ سے کرے۔ اے ہمارے ربّ! ہم پر داروگیر نہ فرمایئے اگر ہم بھول جائیں یا چوک جائیں۔1
حضرت مجاہد کہتے ہیں: میں نے حضرت ابنِ عباسؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ اے ابوعباس! میں حضرت ابنِ عمرؓ کے پاس تھا انھوں نے یہ آیت پڑھی اور پڑھ کر رونے لگے۔ حضرت ابنِ عباسؓ نے پوچھا: کون سی آیت؟ میں نے کہا: {وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَو تُخْفُوْہُ} حضرت ابنِ عباسؓ نے فرمایا: جب یہ آیت نازل ہوئی تھی تو اس سے حضورﷺ کے صحابہ بڑے غمگین اور بہت زیادہ پریشان ہوئے تھے۔ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم تو ہلاک ہوگئے، پہلے تو ہم زبان سے جو بولتے تھے اور جو عمل کرتے تھے اسی پر ہمارا مؤاخذہ ہوتا تھا، اور اب اس آیت میں یہ آگیا ہے کہ دل میں جو خیال آئے گا اس پر بھی ہمارا مؤاخذہ ہوگا اور ہمارے دل ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں (اب جو اچھا یا برا خیال ازخود ہمارے دل میں آئے گا اس پر بھی ہمارا مؤاخذہ ہوگا تو ہم ہلاک ہوجائیں گے)۔ اس پر حضورﷺ نے ان سے فرمایا: تم تو یوں کہو: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا۔ چناںچہ صحابہ ؓ نے سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا کہنا شروع کردیا۔ پھر{اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنََط کُلٌّ اٰمَنَ}سے لے کر{ لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَاج لَھَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْھَا مَا اکْتَسَبَتْ} تک آیات نازل ہوئیں ،جن سے پہلا حکم منسوخ ہوگیا اور دل میں جو برے خیالات آتے ہیں ان کو معاف کردیا گیا اور صرف اعمال پر مؤاخذہ رہ گیا۔2
دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: تم یوں کہو: سَمِعْنَا وَسَلَّمْنَا یعنی ہم نے سنا، مان لیا اور تسلیم کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان ڈال دیا۔3
حضرت عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب {وَلَمْ یَلْبِسُوْآ اِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ}4 نازل ہوئی۔
(جولوگ ایمان رکھتے ہیں) اور اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے (ایسوں ہی کے لیے امن ہے اور وہی راہ پر چل رہے ہیں)۔
تویہ آیت حضورﷺ کے صحابہؓ پر بہت گراں گزری اور وہ اس سے بہت پریشان ہوئے اور انھوں نے (حضورﷺ کی خدمت میں) عرض کیا: ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے ظلم نہ کیا ہو؟ (چھوٹے موٹے گناہ تو ہو ہی جاتے ہیں) حضور ﷺ نے فرمایا: تم جو سمجھے ہو یہاں ظلم سے مراد وہ نہیں ہے (بلکہ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے)جیسے حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا:
{یٰـبُنَیَّ لَا تُشْرِکْ بِاللّٰہِ اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ آیت کا نشان}1
بیٹا! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، بے شک شرک کرنا بڑا بھاری ظلم ہے۔2
حضرت عبداللہؓفرماتے ہیں کہ جب {اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبَسِوْا اِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ} آیت نازل ہوئی تو حضورﷺ نے فرمایا: مجھے (اللہ کی طرف سے) کہا گیا کہ آپ بھی ان میں سے ہیں۔3
حضرت صفیّہ بنت شیبہؓ فرماتی ہیں کہ ہم حضرت عائشہؓ کے پاس بیٹھی تھیں۔ ہم نے قریش کی عورتوں کا تذکرہ کیا اور ان کے فضائل بیان کیے۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: واقعی قریش کی عورتوں کو بڑے فضائل حاصل ہیں، لیکن اللہ کی قسم! اللہ کی کتاب کی تصدیق کرنے اور اس پر ایمان لانے میں انصارکی عورتوں سے آگے بڑھاہوا میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ جب سورۂ نور کی یہ آ یت نازل ہوئی:
{وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھْنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ}4
اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہاکریں۔
تو انصارمردوں نے واپس گھر جاکر اپنی عورتوں کو وہ حکم سنایا جو اللہ نے اس آیت میں نازل فرمایا۔ ہر آدمی اپنی بیوی، اپنی بیٹی، اپنی بہن اور اپنی ہررشتہ دار عورت کو یہ آیت پڑھ کر سناتا۔ ان میں سے ہر عورت سنتے ہی اللہ کی نازل کردہ آیت پر ایمان لانے اور ان کی تصدیق کرنے کے لیے فوراً کھڑی ہوکر مُنقّش چادر لے کر اس میں لپٹ جاتی۔ چناںچہ حضورﷺ کے پیچھے فجر کی نماز میں یہ سب چادروں میں ایسی لپٹی ہوئی آئیں کہ گو یا ان کے سروں پر کو ّے بیٹھے ہوئے ہیں۔1
حضرت مکحول کہتے ہیں کہ ایک بہت بوڑھا آدمی جس کی دونوں بھنویں اس کی آنکھوں پر آپڑی تھیں، اس نے عرض کیا: یارسول اللہ! ایک ایسا آدمی جس نے بہت بدعہدی اوربدکاری کی، اور اپنی جائز ناجائز ہر خواہش پوری کی، اور اس کے گناہ اتنے زیادہ ہیں کہ اگر تمام زمین والوں میں تقسیم کردیے جائیں تو وہ سب کو ہلاک کردیں، تو کیا اس کے لیے توبہ کی کوئی گنجایش ہے؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا: کیا تم مسلمان ہوچکے ہو؟ اس نے کہا:جی ہاں میں کلمۂ شہادت أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗپڑھتا ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: جب تک تم ایسے (کلمۂ شہادت پڑھتے) رہوگے اللہ تعالیٰ تمہاری تمام بدعہدیاں اور بدکاریاں معاف کرتے رہیںگے، اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں سے بدلتے رہیں گے۔ اس بوڑھے نے کہا: یارسول اللہ! میری تمام بدعہدیاں اور بدکاریاں معاف؟ حضور ﷺ نے فرمایا: ہاں! تمہاری تمام بدعہد یاں اور بدکاریاں معاف ہیں۔ یہ سن کر وہ بڑے میاں اللّٰہُ أَکْبَرُ لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ کہتے ہوئے پیٹھ پھیر کر (خوش خوش) واپس چلے گئے۔2
حضرت ابو فروہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یارسول اللہ! آپ ذرا یہ بتائیں کہ ایک آدمی نے سارے گناہ کیے ہیں کوئی چھوٹا بڑا گناہ نہیں چھوڑا، کیا اس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم مسلمان ہوگئے ہو؟ میں نے کہا:جی ہاں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اب نیکیاں کرتے رہو اور برے کام چھوڑدو تو اللہ تعالیٰ تمہارے تمام گناہوں کو نیکیاں بنادیں گے۔ میں نے کہا: میری تمام بدعہدیاں اور بدکاریاں بھی معاف ہوجائیں گی؟ حضورﷺ نے فرمایا: ہاں۔ اس پر حضرت ابو فروہ ؓ چل پڑے اور حضورﷺ کی نگاہوں سے اوجھل ہونے تک اللہ اکبر کہتے رہے۔1
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیںکہ ایک عورت میرے پاس آئی اور اس نے مجھ سے کہا:کیا میری تو بہ قبول ہو سکتی ہے؟ میں نے زنا کیا تھا جس سے میرے ہاں بچہ پیداہوا،پھر میں نے اس بچے کو قتل کر ڈالا۔ میں نے کہا: نہیں (تم نے دوبڑے گناہ کیے ہیں، اس لیے) نہ تو تمہاری آنکھ کبھی ٹھنڈی ہو اور نہ تجھے شرافت وکرامت کبھی حاصل ہو۔ اس پر وہ عورت افسوس کرتی ہوئی اٹھ کرچلی گئی۔ پھر میں نے حضورﷺ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی، اور اس عورت نے جو کچھ کہا تھا اور میں نے اسے جو جواب دیا تھا وہ سب حضورﷺ کو بتایا۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم نے اسے برا جواب دیا۔ کیا تم یہ آیتیں {وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اﷲِ اِلَھًا اٰخَرَ} سے لے کر {اِلَّا مَنْ تَابَ}2 آخر آیت تک نہیں پڑھتے؟
اور جوکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کی پرستش نہیں کرتے، اور جس شخص کے قتل کرنے کو اللہ نے حرام فرمایاہے اس کو قتل نہیں کرتے ہاں مگر حق پر، اور وہ زنا نہیںکرتے، اور جو شخص ایسے کام کرے گا تو سزا سے اس کو سابقہ پڑے گا کہ قیامت کے روز اس کا عذاب بڑھتا چلا جائے گا اور وہ اس(عذاب) میں ہمیشہ ہمیشہ ذلیل (وخوار) ہوکر رہے گا، مگر جو (شرک ومعاصی سے) توبہ کرلے اور ایمان (بھی) لے آئے اور نیک کام کرتا رہے، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے (گزشتہ) گناہوں کی جگہ نیکیاں عنایت فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے۔
پھر میں نے یہ آیتیں اس عورت کو پڑھ کر سنائیں، اس نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میری خلاصی کی صورت بنادی۔ 3
ابنِ جریر کی ایک روایت میں یہ ہے کہ وہ افسوس کرتے ہوئے ان کے پاس سے چلی گئی اور وہ کہہ رہی تھی: ہائے افسوس! کیا یہ حسن جہنم کے لیے پیدا کیا گیا ہے؟ اس روایت میں آگے یہ ہے کہ حضورﷺ کے پاس سے حضرت ابو ہریرہؓواپس آئے، اور انھوں نے مدینہ کے تمام محلوں اور گھروں میں اس عورت کو ڈھونڈنا شروع کیا۔اسے بہت ڈھونڈا لیکن وہ عورت کہیں نہ ملی۔ اگلی رات کو وہ خود حضرت ابوہریرہ کے پاس آئی تو حضورﷺ نے جو فرمایا تھا وہ حضرت ابوہریرہؓنے اسے بتایا۔ وہ فوراً سجدے میں گرگئی اور کہنے لگی: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیںجس نے میرے لیے خلاصی کی صورت بنادی اور جو گناہ مجھ سے سرزدہو گیا تھا اس سے توبہ کا راستہ بنادیا۔ اور اس عورت نے اپنی ایک باندی اور اس کی بیٹی آزادکی، اور اللہ کے سامنے سچی توبہ کی۔1
حضرت تمیم داری ؓ کے غلام حضرت ابوالحسن کہتے ہیں کہ جب {وَالشُّعَرَآئُ یَتَّبِعُھُمُ الْغَاوٗنَ}2 والی آیت نازل ہوئی
اور شاعروں کی راہ توبے راہ لوگ چلاکرتے ہیں۔
تو (مسلمان شعراء) حضرت حسّان بن ثابت، حضرت عبداللہ بن رَوَاحہ اور حضرت کعب بن مالک ؓروتے ہوئے حضورﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا تو اللہ کو معلوم تھا کہ ہم لوگ شُعَرا ہیں (لہٰذا یہ سخت وعید تو ہمارے لیے ہوئی)۔ اس پر حضورﷺ نے یہ آگے وا لی آیت تلاوت فرمائی:
{ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ}
مگر جولوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے۔
حضورﷺ نے فرمایا: یہ دونوں باتیں تم لوگوں میں موجود ہیں۔
{وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا}
اور انھوں نے (اپنے اشعار میں) کثرت سے اللہ کا ذکر کیا۔
حضورﷺ نے فرمایا: یہ صفت بھی تم میں موجود ہے۔
{وَانْتَصَرُوْا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا}
اور انھوں نے بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوچکا ہے اس کا بدلہ لیا۔
حضور ﷺ نے فرمایا: یہ صفت بھی تم میں ہے (لہٰذا یہ وعید تم مسلمان شُعَرا کے لیے نہیں ہے)1
حضرت عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ سب سے پہلے دن جو میں نے حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ؓ کو دیکھا، اس کی صورت یہ ہوئی کہ میں نے دیکھا کہ ایک گدھے پر ایک بڑے میاں ایک جنازے کے پیچھے پیچھے جارہے ہیں، ان کے سر اور ڈاڑھی کے بال سفید ہیں۔ میں نے سنا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے فلاں بن فلاں صحابی نے بتایا کہ انھوں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو اللہ سے ملنا پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے ملنے کو پسند فرماتے ہیں، اور جو اللہ سے ملنے کو نا پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے ملنے کو ناپسند کرتے ہیں۔ یہ سن کر سب لوگ رونے لگے۔ انھوں نے پوچھا کہ آپ لوگ کیوں رورہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہم سب ہی (اللہ سے ملنے یعنی) موت کو ناپسند کرتے ہیں۔ انھوں نے فرمایا: حضورﷺ کے فرمان کا مطلب یہ نہیں ہے، بلکہ انسان کے مرنے کا وقت جب قریب آتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
{فَاَمَّا اِنْ کَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَآیت کا نشان فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌلا وَّجَنَّۃُ نَعِیْمٍآیت کا نشان}2
پھر (جب قیامت واقع ہوگی تو) جوشخص مقربین میں سے ہوگا اس کے لیے تو راحت ہے، اور (فراغت کی) غذائیں ہیں اور آرام کی جنت ہے۔
تو جب اسے (فرشتوں کی طرف سے) ان نعمتوں کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ انسان اللہ سے ملنے کو پسند کرنے لگ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو اس سے زیادہ پسند کرنے لگ جاتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا دوسرا فرمان یہ ہے:
{ وَاَمَّا اِنْ کَانَ مِنَ الْمُکَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَ آیت کا نشان فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍ آیت کا نشان وَّتَصْلِیَۃُ جَحِیْمٍ آیت کا نشان}3
اور جو شخص جھٹلانے والوں (اور) گمراہوں میں سے ہوگا تو کھولتے ہوئے پانی سے اس کی دعوت ہوگی اور دوزخ میں داخل ہونا ہوگا ۔
تو جب اسے ان تکلیفوںکی بشارت دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کوناپسند کرنے لگ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے ملنے کو اس سے زیادہ ناپسند کرنے لگ جاتے ہیں۔1
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں کہ جب{ اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَھَا} نازل ہوئی 2
جب زمین اپنی سخت جنبش سے ہلائی جائے گی۔
تو اس وقت حضرت ابوبکر صدیقؓ وہاں (حضورﷺ کے پاس) بیٹھے ہوئے تھے، وہ یہ سورت سن کر رونے لگے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر! کیوں روتے ہو؟ انھوں نے عرض کیا: مجھے اس سورت نے رُلادیا ہے۔ حضورﷺنے ان سے فرمایا: اگر تم لوگ غلطیاں اور گناہ نہیں کرو گے (اور پھر استغفار نہیں کروگے) تاکہ اللہ تعالیٰ تمھیں بخش دے، تو پھر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کوپیدا کریں گے جو غلطیاں اور گناہ کریں گے (اور استغفار کریں گے) پھر اللہ تعالیٰ انھیں معاف کردیں گے۔3
حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے عمر! تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم چارہا تھ لمبی اور دوہاتھ چوڑی زمین (یعنی قبر) میں ہوگے، اور تم منکر نکیر کو دیکھو گے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! منکر نکیر کون ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا: یہ قبر میں امتحان لینے والے (دوفرشتے) ہیں جو قبر کو اپنے دانتوں سے کُریدیںگے اور ان کے بال اتنے لمبے ہوں گے کہ وہ اپنے بالوں کو روندتے ہوئے آئیں گے۔ ان کی آواز ز وردار گرج کی طرح ہوگی اور ان کی آنکھیں اُچکنے والی بجلی کی طرح چمک رہی ہوںگی۔ ان دونوں کے پاس ایک اتنا بڑا ہتھوڑا ہوگا کہ سارے منیٰ والے مل کراسے نہ اٹھا سکیں۔ حضورﷺ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جسے آپ ہلارہے تھے، آپ نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: لیکن ان دونوں کے لیے اسے اٹھانا میری اس چھڑی سے بھی زیادہ آسان ہوگا۔ وہ دونوں تمہارا امتحان لیں گے۔ اگر تم جواب نہ دے سکے یاتم لڑکھڑا گئے تو پھر وہ تمھیں وہ ہتھوڑا اس زور سے ماریں گے کہ تم راکھ بن جاؤگے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا اس وقت میں اپنی اِسی حالت پر ہوںگا؟ (یعنی اس وقت میرے ہوش وحواس ٹھیک ہوںگے) حضور ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا: پھر میں ان دونوں سے نمٹ لوںگا۔ 1
ایک روایت میں اس کے بعد یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق دے کر بھیجا ہے! مجھے حضرت جبرئیل ؑ نے بتایا ہے کہ وہ دونوں تمہارے پاس آئیں گے اور تم سے سوال کریںگے تو تم جواب میں کہوںگے: میراربّ اللہ ہے، تم بتاؤ تم دونوں کا ربّ کون ہے؟ اور (حضرت) محمد(ﷺ) میرے نبی ہیں، تم دونوں کے نبی کون ہیں؟ اور اسلام میرا دین ہے، تم دونوں کا دین کیا ہے؟ اس پر وہ دونوں کہیں گے: دیکھو کیا عجیب بات ہے! ہمیں پتا نہیں چل رہا ہے کہ ہمیں تمہارے پاس بھیجا گیا ہے یا تمھیں ہمارے پاس بھیجا گیا ہے۔2
حضرت ابو بحریہ کِندی کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر بن خطّابؓ باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ ایک مجلس ہے جس میں حضرت عثمان بن عفانؓ بھی ہیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تمہارے ساتھ ایک ایسا آدمی بیٹھا ہوا ہے کہ اگر اس کا ایمان کسی بڑے لشکر میں تقسیم کیاجائے تو ان سب کو کافی ہوجائے گا۔ اس سے حضرت عمرؓکی مراد حضرت عثمان بن عفانؓ تھے۔3
اور ’’صحابۂ کرامؓکی صفات کے بارے میں صحابۂ کرام ؓ کے اقوال‘‘ کے عنوان میں یہ گزر چکا ہے کہ جب حضرت ابنِ عمرؓ سے پوچھا گیا کہ کیا نبی کریمﷺ کے صحابہ ہنساکرتے تھے؟ انھوں نے فرمایا: ہاں، مگر ایمان ان کے دلوں میں پہاڑوں سے بھی بڑا تھا۔
اور’’مشقتیں اور تکلیفیں برداشت کرنے‘‘ کے عنوان میں یہ گزر چکا ہے کہ حضرت عمار ؓ کو مشرکین نے پکڑا اور اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک انھوں نے ان کے معبودوں کی تعریف نہ کی۔ تو انھوں نے حضورﷺسے عرض کیا کہ مجھے اتنی تکلیف پہنچائی گئی کہ آخر مجھے مجبور ہوکر آپ کی گستاخی کرنی پڑی اور ان کے معبودوں کی تعریف کرنی پڑی۔ آپ نے فرمایا: تم اپنے دل کو کیسا پاتے ہو؟ انھوں نے کہا:میں اپنے دل کو مطمئن پاتا ہوں۔1
اور ’’امیر کا کسی کو اپنے بعد خلیفہ بنانے‘‘ کے عنوان میں گزرچکا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا: کیا تم لوگ مجھے میرے ربّ سے ڈراتے ہو؟ میں کہہ دوں گا: اے اللہ! میں نے تیری مخلوق میں سے سب سے بہترین آدمی کو ان کا خلیفہ بنایا تھا۔ دوسری روایت میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا:میں اللہ کو اور حضرت عمر کو تم دونوں سے زیادہ جانتا ہوں۔
اور’’بیتُ المال کے سارے مال کو تقسیم کردینے‘‘ کے عنوان میں یہ گزرچکا ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عمر ؓ سے کہا: اے امیر المؤمنین! ہوسکتا ہے کہ کبھی دشمن حملہ آور ہوجائے یا مسلمانوں پر اچانک کوئی مصیبت آپڑے، تو ان ضرورتوں کے لیے اگر آپ اس مال میں سے کچھ بچاکر رکھ لیں تو اچھا ہوگا۔ یہ سن کر حضرت عمر ؓ نے فرمایا: تمہاری زبان پر شیطان بول رہا ہے اور اس کا جواب اللہ مجھے سکھارہاہے اور اس کے شر سے مجھے بچارہاہے۔ اور وہ یہ ہے کہ میں نے ان تمام ضرورتوں کے لیے وہی سب کچھ تیار کیا ہوا ہے جو حضورﷺ نے تیار کیا تھا، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت (ہرمصیبت کا علاج اور ہر ضرورت کا انتظام اللہ ورسول کی ماننا ہے)۔
دوسری روایت میں یہ ہے کہ کل کو پیش آنے والی ضرورت کے لیے میں آج اللہ کی نافرمانی نہیں کرسکتا۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ میں نے مسلمانوں (کی ضرورت) کے لیے اللہ کا تقویٰ تیار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
{ وَمَن یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجعَل لَّہٗ مَخْرَجًا}2
اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے (مضرتوں سے) نجات کی شکل نکال دیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچاتا ہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔
’’صحابہ کے مال خرچ کرنے کے شوق‘‘ کے باب میں یہ گزرچکا ہے کہ جب حضرت علی ؓ نے سائل کو صدقہ دینے کا ارادہ کیا تو حضرت فاطمہؓ نے کہا: وہ چھ درہم تو آپ نے آٹے کے لیے رکھوائے تھے۔ حضرت علی ؓ نے کہا: کسی بھی بندے کا ایمان اس وقت تک سچا ثابت نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کو جو چیز اس کے پاس ہے، اِس سے زیادہ اعتماد اُس چیز پر نہ ہوجائے جو اللہ کے خزانوں میں ہے۔
اور ’’مال واپس کرنے‘‘ کے باب میں یہ گزرچکا ہے کہ حضرت عامر بن ربیعہؓ نے کہا: مجھے تمہاری زمین کے اس ٹکڑے کی کوئی ضرورت نہیں، کیوںکہ آج ایک ایسی سورت نازل ہوئی جس نے ہمیں دنیا ہی بھلادی ہے اور وہ سورت یہ ہے:
{اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُھُمْ وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوْنََ آیت کا نشان}1
ان (منکر) لوگوں سے ان کا (وقت) حساب نزدیک آپہنچااور یہ (ابھی) غفلت (ہی) میں (پڑے ہیں اور) اِعراض کیے ہوئے ہیں۔
اور حضرت عائشہؓ کی حدیث گزرچکی ہے کہ حضرت اُسید بن حضیرؓ بڑی فضیلت والے لوگوں میں سے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ میں تین حالتوں میں جیسا ہوتا ہوں اگر ہر وقت ویسا رہوں تو یقیناً جنت والوں میں سے جاؤں اور مجھے اس میں کوئی شک نہ رہے۔ ایک وہ حالت جب کہ میں خود قرآن پڑھ رہاہوں، یا کوئی اور قرآن پڑھ رہاہواور میں سن رہا ہوں۔ دوسری وہ حالت جب کہ میں حضورﷺ کا خطبہ سن رہا ہوں۔ تیسری وہ حالت جب کہ میں کسی جنازے میں شریک ہوں۔ اور جب بھی میں کسی جنازے میں شریک ہوتا ہوں تو اپنے دل میں صرف یہی سوچتا ہوں کہ اس جنازے کے ساتھ کیا ہوگا اور یہ جنازہ کہاں جارہاہے؟2