صحابہ کرام ؓ کا ایمان

اللہ کے رسول ﷺ نے جن چیزوں کی خبر دی ہے اُن پر یقین کرنا

حضرت عُمارہ بن خُزَیمہ بن ثابت اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں جو کہ حضورﷺ کے صحابی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریمﷺ نے ایک دیہاتی آ دمی سے گھوڑا خریدا اور اسے اپنے پیچھے آنے کے لیے کہا تاکہ اسے گھوڑے کی قیمت دے دیں۔ حضورﷺ تیز تیز چلتے ہوئے آگے نکل گئے، وہ دیہاتی آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ لوگوں کو معلوم نہیں تھا کہ حضورﷺ نے اس سے یہ گھوڑا خریدلیا ہے، اس لیے لوگ اس سے اس گھوڑے کا سودا کرنے لگے۔ ہوتے ہوتے ایک آدمی نے اس گھوڑے کی قیمت حضورﷺ سے زیادہ لگادی تو اس نے حضورﷺ کو آواز دے کر کہا: اگر آپ یہ گھوڑا خریدنا چاہتے ہیں تو خریدلیں ورنہ میں اسے بیچنے لگا ہوں۔ حضورﷺ نے جب اس دیہاتی کی بات سنی تو رک گئے۔ جب دیہاتی آپ کے پاس پہنچا تو آپ نے اس سے کہا:کیا میں نے تم سے یہ گھوڑا خرید نہیں لیا؟ اس نے کہا نہیں، اللہ کی قسم! میں نے آپ کو یہ گھوڑا نہیں بیچا۔ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں، میں تم سے یہ گھوڑا خرید چکاہوں۔ حضورﷺ اور وہ دیہاتی آپس میں بات کرنے لگے تو دونوں کے گرد لوگ جمع ہوگئے۔ پھر وہ دیہاتی کہنے لگا: آپ اپنا کوئی گواہ لائیں جو اس بات کی گواہی دے کہ میں نے آپ کے ہاتھ یہ گھوڑا بیچاہے۔ جو بھی مسلمان وہاں آتا وہ اس دیہاتی کو یہی کہتا: تیرا ناس ہو! رسول اللہ ﷺ تو ہمیشہ صرف حق بات ہی کہتے ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت خُزیمہ بن ثابت ؓ بھی آگئے، اور انھوں نے حضورﷺ کی اور دیہاتی کی گفتگو کو سنا، اور دیہاتی کہہ رہا تھا: آپ اپنا کوئی گواہ لائیں جو اس بات کی گواہی دے کہ میں نے یہ گھوڑا آپ کے ہاتھ بیچا ہے۔ حضرت خزیمہ نے فوراًکہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تم نے حضورﷺ کے ہاتھ یہ گھوڑا بیچا ہے۔ حضورﷺ نے حضرت خزیمہ ؓ کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: تم کس بنیاد پر گواہی دے رہے ہو؟ حضرت خزیمہ ؓ نے کہا: یارسول اللہ! میں اس بنیادپر گواہی دے رہاہوں کہ میں آپ کو سچا مانتا ہوں۔ اس پر حضورﷺ نے اکیلے حضرت خزیمہؓکی گواہی دو آدمیوں کی گواہی کے برابرقراردے دی۔1 حضرت محمد بن عُمارہ بن خُزیمہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: اے خزیمہ! تم تو ہمارے ساتھ نہیں تھے، تو تم کس بنیاد پر گواہی دے رہے ہو؟ انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! جب میں آپ کو آسمان کی باتوں میں سچامانتا ہوں، تو آپ یہ جوبات کہہ رہے ہیں اس میں آپ کو سچا کیسے نہ مانوں؟ چناںچہ حضورﷺ نے ان کی گواہی دومردوں کی گواہی کے برابر قرار دے دی۔1 ابنِ سعد کی دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضرت خزیمہؓ نے کہا:مجھے اس بات کا یقین ہے کہ آپ ہمیشہ صرف حق بات ہی کہتے ہیں۔ ہم اس سے بھی بہتر بات یعنی دینی معاملات میں آپ پر ایمان لاچکے ہیں۔ حضورﷺ نے ان کی گواہی کو درست قرار دیا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: جب حضورﷺ شبِ معراج میں مسجدِ اَقصیٰ تشریف لے گئے تولوگ اس بارے میں باتیں کرنے لگے، اور جو لوگ آپ پر ایمان لائے تھے اور آپ کی تصدیق کرچکے تھے ان میں سے کچھ لوگ مرتد ہوگئے۔ پھر یہ لوگ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے پاس گئے اور ان سے جاکر کہا:آپ کا اپنے حضرت کے بارے میں کیا خیال ہے، وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ آج رات بیتُ المقدس گئے تھے؟ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا: کیا انھوں نے یہ بات کہی ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا: اگر انھوں نے یہ بات کہی ہے تو بالکل سچ ہے۔ لوگوں نے کہا: تو کیا آپ اس با ت کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ آج رات بیتُ المقدس گئے تھے اور صبح سے پہلے واپس بھی آ گئے؟ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا: جی ہاں، میں تو اس سے بھی زیادہ بعید نظر آنے والے اُمور میں ان کی تصدیق کرتا ہوں۔ وہ صبح اور شام جو آسمان کی خبریں بتاتے ہیں میں ان میں ان کی تصدیق کرتا ہوں۔ اسی وجہ سے حضرت ابوبکرؓ کانام ’’صدّیق‘‘ رکھا گیا۔2 ایک روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ پر جولوگ ایمان لاچکے تھے ان میں سے کچھ لوگ اس موقع پر مرتد ہوگئے اور ان میں سے بہت سے لوگوں نے اس واقعہ کی تصدیق کی۔ بہر حال یہ واقعہ بھی بہت بڑی آزمایش کا تھا۔1 حضرت انسؓ شبِ معراج کا واقعہ تفصیل سے ذکر کرتے ہیں، آخر میں یہ ہے کہ جب مشرکوں نے حضورﷺ کی بات سنی تو وہ حضرت ابوبکر ؓ کے پاس گئے اور ان سے کہا: اے ابوبکر! آپ کا اپنے حضرت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ وہ یہ بتارہے ہیں کہ وہ آ ج رات ایک مہینے کی مسافت پر گئے تھے اور پھر رات کو ہی واپس آ گئے۔ آ گے پچھلی حدیث جیسا مضمون ہے۔2 حضرت جابر بن عبد اللہؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ کے زمانۂ خلافت میں ایک سال ٹڈیاں کم ہوگئیں۔ حضرت عمر ؓ نے ٹڈیوں کے بارے میں بہت پو چھا، لیکن کہیں سے کوئی خبر نہ ملی تو وہ اس سے بہت پریشان ہوئے۔ چناںچہ انھوں نے ایک سوار اِدھر یعنی یمن بھیجا اور دوسرا شام تیسرا عراق بھیجا، تاکہ یہ سوار پوچھ کر آئیں کہ کہیں ٹڈی نظر آئی ہے یا نہیں۔ جو سوار یمن گیا تھا وہ وہاں سے ٹڈیوں کی ایک مٹھی لایا اور لاکر حضرت عمر ؓ کے سامنے ڈال دیں۔ حضرت عمر ؓ نے جب انھیں دیکھا تو تین دفعہ اللہ اکبر کہا، پھر فرمایا: میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار قسم کی مخلوق پیدا کی ہے: چھ سو سمندر میں اور چار سو خشکی میں، اور ان میں سے سب سے پہلے ٹڈی ختم ہوگی۔ جب ٹڈیاں ختم ہوجا ئیں گی تو پھر اور مخلوقات بھی ایسے آگے پیچھے ہلاک ہونی شروع ہو جائیں گی جیسے موتیوں کی لڑی کا دھاگہ ٹوٹ گیا ہو۔ 3 حضرت فُضالہ بن اَبی فضالہ انصاریؓ فرماتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالبؓ یَنْبُع میں بیمار تھے اور بیماری کافی شدید تھی۔ میں اپنے والد کے ساتھ ان کی عیادت کرنے ینبع گیا۔ میرے والد صاحب نے ان سے کہا: آپ یہاں کیوں ٹھہر ے ہوئے ہیں؟ اگر آپ کا یہاں انتقال ہوگیا تو آپ کے پاس صرف جُہَینہ کے دیہاتی ہوںگے۔ آپ تھوڑی سی تکلیف فرماکر مدینہ تشریف لے چلیں۔ اگر آپ کا وہاں انتقال ہو اتو پھر آپ کے ساتھی آپ کے پاس ہوں گے جو آپ کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔ (میرے والد) حضرت ابو فضالہؓ بدری صحابہ میں سے تھے (اس لیے حضرت علی ؓ کی نگاہ میں ان کا بڑا مقام تھا)۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا:مجھے یقین ہے کہ میرا اس بیماری میں انتقال نہیں ہوگا، کیوںکہ حضور ﷺ نے مجھے بتایا تھا کہ جب تک میں امیر نہ بنایا جاؤں اور پھر میری یہ ڈاڑھی میرے اس سر کے خون سے رنگی نہ جائے، اس وقت تک میں نہیں مروں گا۔1 حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میں اونٹ کی رکاب میں پاؤ ں رکھ چکا تھا کہ اتنے میں حضرت عبداللہ بن سلام ؓ میرے پاس آ ئے اور کہنے لگے: آپ کہاں جارہے ہیں؟ میں نے کہا: عراق۔ انھوں نے کہا: اگر آپ وہاں گئے توکوئی آپ کو تلوار ماردے گا۔ حضرت علی ؓ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے ان سے پہلے یہ بات حضورﷺ سے سنی ہوئی ہے۔2 حضرت معاویہ بن جریر حضرمی کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ گھوڑے سوار میرے سامنے سے گزر یں (چناںچہ سوار گزرنے لگے)۔ پھر حضرت علی ؓ کے پاس سے ابنِ مُلْجِم گزرا۔ حضرت علی ؓ نے اس سے اس کا نام اور نسب پوچھا۔ اس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کا نام بتادیا۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا: تم غلط کہتے ہو۔ پھر اس نے اپنے باپ کا نام لیا۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا: اب تم نے ٹھیک کہا۔ حضورﷺ نے مجھے بتایا تھا کہ میر ا قاتل یہودیوں میں سے ہوگا۔ یہ ابنِ ملجم یہودی تھا۔ حضرت علی ؓ نے اس سے کہا: چلے جاؤ۔3 حضرت عبیدہ کہتے ہیں کہ جب حضرت علی ؓ ابنِ ملجم کو دیکھتے تو یہ شعر پڑھتے: أُرِیْدُ حِبَائَ ہُ وَیُرِیْدُ قَتْلِيْ عَذِیْرَکَ مِنْ خَلِیْلِکَ مِنْ مُّرَادِ میںاسے عطیہ دینا چاہتا ہوں وہ مجھے قتل کرنا چاہتا ہے۔ تم قبیلہ مراد میں سے اپنا وہ دوست لاؤجو تمہارا عذربیان کرے (مراد ابنِ ملجم کا قبیلہ تھا)۔1 حضرت ابو طفیل کہتے ہیں کہ میں حضرت علی بن ابی طالب ؓکے پاس تھا، ان کے پاس عبد الرحمن بن ملجم آیا۔ حضرت علی ؓ نے حکم دیا کہ اسے عطیہ دیا جائے۔ پھر اپنی ڈاڑھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس ڈاڑھی کو اوپر کے حصے (کے خون) سے رنگنے سے اس بدبخت کو کوئی نہیں روک سکتا۔ پھر حضرت علی ؓ نے یہ اشعار پڑھے: اُشْدُدْ حَیَازِیْمَکَ لِلْمَوْتِ فَإِنَّ الْمَوْتَ آتِیْکَا تو موت کے لیے اپنی کمر کس لے، کیوںکہ موت تمھیں ضرور آئے گی۔ وَلَا تَجْزَعْ مِنَ الْقَتْلِ إِذَا حَلَّ بِوَادِیْکَا اور جب قتل تمہاری وادی میں اتر جائے، تو پھر قتل ہونے سے نہ گھبرانا۔2 حضرت اُمِ عمّار ؓ جنھوں نے حضرت عمارؓ کی پرورش کی تھی، وہ بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمارؓ بیمار ہوگئے تو کہنے لگے: اس بیمار ی میں مجھے موت نہیں آئے گی، کیوںکہ میرے محبوب محمدﷺ نے مجھے بتایا تھا کہ مسلمانوں کی دوجماعتوں میں لڑائی ہوگی اور میں ان دوجماعتوں کے درمیان شہید ہوکر ہی مروںگا۔3 ’’صحابۂ کرامؓ کے اللہ کے راستہ میں شوقِ شہادت‘‘ کے قصوں میں حضرت عمار ؓ کا یہ قول گزرچکا ہے کہ حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ دنیا میں تمہارا آخری تو شہ دودھ کی لسی ہوگی (اور وہ میں پی چکا ہوں اور اب میں دنیا سے جانے والا ہوں)۔ جنگِ صفین کے دن حضرت عمار ؓ جب لڑرہے تھے لیکن شہید نہیں ہورہے تھے۔ اس وقت ان کے حضرت علی ؓ کے پاس جانے کا قصہ بھی گزرچکا ہے اور ان کا یہ قول بھی گزرچکا ہے کہ اے امیر المؤمنین! یہ فلاں دن ہے (یعنی حضورﷺ نے مجھے جس دن شہید ہونے کی خوش خبر ی دی تھی وہ دن یہی ہے)۔ حضرت علی ؓ جواب میں فرما تے: ارے! اپنے اس خیال کو جانے دو۔ اس طرح تین مرتبہ ہوا۔ پھر ان کے پاس دودھ لایا گیا جسے انھوں نے پی لیا۔ پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ دودھ ہی وہ چیز ہے جسے میں دنیا سے جاتے وقت سب سے آخر میں پیوں گا۔ پھر کھڑے ہو کر جنگ کی یہا ں تک کہ شہید ہوگئے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کہتے ہیںکہ حضرت ہشام بن ولید بن مغیرہؓ کی بیٹی حضرت عمار ؓ کی تیمار داری کیا کرتی تھیں، وہ کہتی ہیں کہ حضرت معاویہؓ حضرت عمار ؓ کی عیادت کے لیے آئے۔ جب حضرت معاویہؓ ان کے پاس سے باہر گئے تو کہنے لگے: اے اللہ! ان کی موت ہمارے ہاتھوں میں نہ ہو، کیوںکہ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔1 حضرت ابراہیم بن اَشتر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ جب حضرت ابوذرؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان کی بیوی رونے لگی۔ انھوں نے اپنی بیوی سے کہا: تم کیوں رورہی ہو؟ اس نے کہا: میں اس لیے رورہی ہوں کہ مجھ میں آپ کو دفن کرنے کی طاقت نہیں اور نہ ہی میرے پاس اتنا کپڑا ہے جو آپ کے دفن کے لیے کافی ہو۔ حضرت ابوذر ؓ نے کہا:مت روؤ، کیوںکہ میں نے حضورﷺ کو کچھ لوگوں کو فرماتے ہوئے سنا اور ان لوگوں میں میںبھی تھا۔ آپ نے فرمایا: تم لوگوں میںسے ایک آدمی کی موت جنگل بیابان میںآ ئے گی اور اس کے جنازے میں مسلمانوں کی ایک جماعت شریک ہوگی۔ اب ان لوگوں میںسے ہر ایک کا انتقال کسی نہ کسی بستی میں اور مسلمانوں کے مجمع میں ہواہے، لہٰذا اب میںہی ایسا ہوں کہ جسے جنگل بیابان میںموت آ ئے گی۔ اللہ کی قسم! نہ تو میں غلط کہہ رہا ہوں اور نہ حضورﷺ نے مجھ سے غلط بات کی ہے، لہٰذا آنے جانے کے عام راستہ کی طرف دیکھو۔ ان کی بیوی نے کہا: حاجیوں کے قافلے واپس جاچکے ہیںاور راستے بند ہو چکے ہیں۔ بہر حال وہ ٹیلہ پر چڑھ کر کھڑی ہو جاتیں اور راستہ کی طرف دیکھتیں (جب کوئی نظر نہ آ تا تو) واپس آکر تیمارداری میںلگ جاتیں اور پھر ٹیلے پر چڑھ کر دیکھتیں۔ وہ ایسے ہی کر رہی تھیں کہ اچانک انھوں نے دیکھا کہ ایک جماعت ہے جسے ان کی سواریاں تیز ی سے لیے چلی آرہی ہیں اور وہ اپنے کجاووں میں بیٹھے ہوئے ایسے لگ رہے تھے جیسے گدھ ہوں۔ ان کی بیوی نے کپڑے سے ان کی طرف اشارہ کیا تو وہ دیکھ کران کی طرف آئے، یہاں تک کہ ان کے پاس آکر کھڑے ہوگئے اور پوچھا: کیابات ہے؟ ان کی بیوی نے کہا: ایک مسلمان مر رہا ہے، کیا آپ اس کے کفن کا انتظام کرسکتے ہیں؟ ان لوگوں نے پوچھا: وہ کون ہے؟ انھوں نے بتایا: وہ ابوذر ہیں۔ یہ سنتے ہی وہ سب کہنے لگے: ہمارے ماں باپ حضرت ابوذر ؓ پر قربان ہوں! اور کوڑے مار کر سواریاں تیز دوڑائیں اور حضرت ابوذر ؓ کے پاس پہنچ گئے۔ حضرت ابوذر ؓ نے فرمایا: تمھیں خوش خبری ہو! اور پھر انھیں حضورﷺ والی وہی حدیث سنائی، پھر فرمایا: میںنے حضور ﷺ سے یہ سنا ہے کہ جن دو مسلمانوں کے دویا تین بچے مرجائیں اور وہ ثواب کی نیت سے اس پر صبر کر لیں، تو دونوں کو جہنم کے دیکھنے سے بھی اللہ بچالیں گے۔ تم لوگ سن رہے ہو؟ اگر میرے پاس کفن کے لیے کوئی کپڑ ا ہوتا تو مجھے اسی میںکفن دیا جاتا، ایسے ہی اگر میری بیوی کے پاس میرے کفن کے قابل کوئی کپڑا ہوتا تو مجھے اسی میں کفن دیا جاتا (ہمارے پاس تو کفن کا کپڑا ہے نہیں، اس لیے آپ لوگ کفن کا کپڑادیں)، لیکن میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ تم میں سے جو آدمی امیر یا چودھری یا نمبر دار یا قاصد رہا ہو وہ مجھے کفن نہ دے۔ تو ان لوگوں میںسے ہر آدمی ان میں سے کسی نہ کسی منصب پر رہ چکا تھا، صرف ایک انصار ی جوان ایسا تھا جس نے ان میں سے کوئی بھی کام نہیں کیا تھا۔ اس نے کہا:میں آپ کو کفن دوں گا، کیوںکہ آپ نے جتنی باتیں کہی ہیں میں نے ان میں سے کوئی کام نہیں کیا۔ میں نے یہ چادر اوڑھ رکھی ہے اور میرے تھیلے میںدوکپڑے ہیں جنھیں میری ماں نے کات کر میرے لیے بُناتھا۔ میں ان تین کپڑوں میں آپ کو کفن دوں گا۔ حضرت ابو ذرؓ نے فرمایا:ہاں! تم مجھے ضرور کفن دینا۔ چناںچہ اس انصاری نے انھیں کفن دیا۔ راوی حضرت ابراہیم کہتے ہیں کہ اس جماعت میں حضرت حُجر بن اَدبر اور (میرے والد) مالک بھی تھے، اور یہ سب لوگ یمن کے تھے۔1 حضرت ابنِ مسعودؓکہتے ہیں کہ جب حضرت عثمانؓ نے حضرت ابوذرؓکو رَبَذَہ بستی کی طرف جلاوطن کردیا، اور تقدیر کی لکھی موت ان کو آنے لگی، اور اس وقت ان کے پاس صرف ان کی بیوی اور ان کا ایک غلام تھا، تو انھوں نے ان دونوں کو وصیت کی کہ (جب میرا انتقال ہوجائے تو) تم دونوں مجھے غسل دینا اور پھر مجھے کفن دینا، پھر میرے جنازے کو راستے کے درمیان رکھ دینا۔ جو بھی پہلا قافلہ آپ لوگوں کے پاس سے گزرے انھیں بتادینا کہ یہ حضورﷺ کے صحابی حضرت ابوذرؓ ہیں، ان کے دفن کرنے میں ہماری مدد کرو۔ چناںچہ جب ان کا انتقال ہوگیا تو ان دونوں نے غسل دے کر کفن پہنا کر ان کا جنازہ راستہ کے درمیان رکھ دیا کہ اتنے میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ عراق کی ایک جماعت کے ساتھ وہاں پہنچے۔ یہ لوگ عمرہ کرنے جارہے تھے۔ ان کے اونٹ جنازے پر چڑھنے ہی لگے تھے کہ وہ لوگ راستہ میں جنازہ دیکھ کرگھبراگئے۔ حضرت ابوذرؓ کے غلام نے کھڑے ہو کر کہا: یہ نبی کریم ﷺ کے صحابی حضرت ابو ذرؓ ہیں، ان کے دفن کرنے میں ہماری مدد کرو۔ یہ سن کر حضرت عبد اللہؓ چیخ مار کر رونے لگے اور فرمانے لگے: حضورﷺ نے سچ فرمایا تھا کہ (اے ابو ذر!) تو اکیلا چلے گا، اکیلا مرے گا اور اکیلا اُٹھا یا جائے گا۔ پھر وہ اور ان کے ساتھی سواریوں سے اترے، اور انھیں دفن کیا، پھر حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے اپنے ساتھیوں کو حضرت ابوذرؓ والی حدیث سنائی اور حضورﷺ نے تبوک جاتے ہوئے حضرت ابوذر ؓکو جو کچھ کہا تھا وہ بھی بتایا۔1 حضرت حُمید بن مَنْہَب کہتے ہیں کہ میرے دادا حضرت خُرَیم بن اَوسؓ نے فرمایا کہ میں ہجرت کرکے حضورﷺ کی طرف چلا اور جب آپ تبوک سے واپس آئے، اس وقت میں آپ کی خدمت میں پہنچا اور میں اسلام میں داخل ہوگیا۔ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے یہ سفید حِیرہ (شہر) دکھایا گیا ہے اور یہ شیماء بنت بُقیلہ اَزدِیہ سفید خچر پر سوار کالا دوپٹہ اوڑھے ہوئے گویا کہ مجھے نظر آرہی ہے۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! اگرہم حِیرہ میں داخل ہوں اور جو منظر آپ نے شیما ء کا بتا یا ہے اس منظر میں ہمیں ملے، تو کیا وہ مجھے مل جائے گی؟ حضورﷺ نے فرمایا: ہاں، وہ تمہاری (باندی) ہے۔ پھر (حضورﷺ کے انتقال کے بعد) بہت سے لوگ مرتد ہوگئے، لیکن ہمارے قبیلہ بنو طے میں کوئی مرتد نہ ہوا۔ چناںچہ ہم حضرت خالد بن ولید ؓ کے ساتھ حِیرہ کے ارادے سے چلے۔ جب ہم حِیرہ میں داخل ہونے لگے تو ہمیں سب سے پہلے شیماء بنت بُقیلہ اسی حال میں ملی جو حضورﷺ نے بتایا تھا۔ سفید خچر پر سوار کالا دوپٹہ اوڑھے ہوئی تھی۔ میں نے اس پر فورا ً قبضہ کرلیا اور میں نے کہا: مجھے حضورﷺ نے اس کا سارا حال بتایا تھا (اور آپ نے مجھے یہ دے دی تھی)۔ حضرت خالد ؓ نے مجھ سے گواہ طلب کیے۔ چناںچہ حضرت محمد بن مسلمہ انصاری اور حضرت محمد بن بشیر انصاریؓ میرے گواہ بنے، جس پر حضرت خالدؓ نے مجھے شیماء دے دی۔ پھر اس شیماء کے پاس اس کا بھائی عبد المسیح بن بُقیلہ صلح کے ارادے سے آیا اور اس نے مجھ سے کہا: شیماء کو میرے ہاتھ بیچ دو۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! اس کی قیمت دس سو سے کم نہیں لوںگا۔ چناںچہ اس نے مجھے ہزاردرہم دے دیے اور میں نے شیماء اس کے سپر د کردی۔ میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا: اگر تم سو ہزار یعنی لاکھ لیتے تو وہ لاکھ بھی تمھیں دے دیتا (اس کے پاس تو پیسے بہت تھے)۔ میں نے کہا:مجھے معلوم نہیں تھا کہ دس سوسے بھی بڑا ہندسہ ہوتا ہے۔1 حضرت جُبَیر بن حَیّہ کہتے ہیں کہ عجمی کافر سردار بُندارِ فان نے یہ پیغام بھیجا کہ اے عرب کے لوگو! اپنے میں سے ایک آدمی میرے پاس بھیجو تاکہ ہم اس سے بات کریں۔ چناںچہ لوگوں نے اس کام کے لیے حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کا انتخاب کیا۔ حضرت جُبَیر کہتے ہیں کہ میں ان کو دیکھ رہا تھا کہ ان کے لمبے لمبے بال تھے اور وہ کانے تھے۔ چناںچہ وہ اس سردار کے پاس گئے۔ جب وہ وہاں سے واپس آئے تو ہم نے ان سے پوچھا کہ اس سردار سے کیا بات ہوئی؟ انھوں نے بتایا کہ میںنے پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی، پھر میں نے کہا: (زمانۂ جاہلیت میں) ہم لوگ تمام لوگوں سے زیادہ دُور گھروالے تھے (آ بادی دُور دُور تھی)، سب سے زیادہ بھوکے تھے، سب سے زیادہ بدحال تھے، تمام لوگوں میں ہر خیرسے سب سے زیادہ دُور تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے پاس ایک رسول بھیجا، جس نے ہم سے دنیا میں اللہ کی مددکا اور آخرت میں جنت کا وعدہ کیا۔ اور جب سے وہ رسول ہمارے پاس آ ئے ہیں اس وقت سے ہم اپنے ربّ کی طرف سے مسلسل کامیابی اور مدد ہی دیکھ رہے ہیں۔ اور اب ہم تمہارے پاس آگئے ہیں اور اللہ کی قسم! ہمیں یہاں بادشاہت اور شان دار زندگی نظر آرہی ہے، ہم اسے چھوڑ کر بدحالی کی طرف کبھی واپس نہیں جائیں گے، بلکہ یاتو تم پر غالب آکر جو کچھ تمہارے قبضے میں ہے وہ سب کچھ لے لیں گے یا پھر یہاں ہی شہید ہوجائیں گے۔1 حضرت جُبَیر بن حیّہ نے حضرت نعمان بن مُقَرِّنؓ کے اَہواز والوں کے پاس آدمی بھیجنے کے بارے میں لمبی حدیث ذکر کی ہے۔ اس میں یہ بھی ہے: اَہواز والوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے پاس کوئی آدمی بھیجیں۔ چناںچہ حضرت نعمانؓ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کو بھیجا۔ ان لوگوں کے ترجمان نے کہا: تم لوگ کون ہو؟ حضرت مغیرہ ؓ نے کہا: ہم عرب کے کچھ لوگ ہیں۔ ہم سخت بدحالی میں تھے، اور بہت طویل عرصے سے پریشانیوں اور مصیبتوں میں مبتلا تھے۔ہم بھوک کی وجہ سے کھال اور گٹھلی چوساکر تے تھے، اُون اور بالوں کے کپڑے پہنا کرتے تھے، درختوں اور پتھر وں کی عبادت کیا کرتے تھے۔ ہمارا یہی حال چل رہا تھا کہ آسمانوں اور زمین کے ربّ نے ہمارے پاس ہم میں سے ایک نبی بھیجا جس کے ماں باپ کو ہم پہچانتے تھے۔ ہمارے نبی ﷺنے ہمیں اس بات کا حکم دیا کہ جب تک تم لوگ ایک اللہ کی عبادت نہ کرویا جزیہ ادانہ کروہم تم سے جنگ کرتے رہیں۔ اور ہمارے نبیﷺ نے ہمیں اللہ کے سارے پیغام پہنچائے،ان میں ایک پیغام یہ تھا کہ ہم میں سے جو آدمی قتل (شہید) ہوگا وہ جنت میںاور ایسی نعمتوں میں جائے گا کہ ان جیسی نعمتیں اس نے کبھی نہیں دیکھی ہوں گی۔ اور ہم میں سے جو زندہ رہ جائے گا وہ تمہاری گردنوں کا مالک ہوگا تم پر غلبہ پائے گا۔2 حضرت طَلق کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے آکر حضرت ابوالدرداء ؓ سے کہا: اے ابودرداء! آپ کا گھر جل گیا۔ انھوں نے فرمایا: میرا گھر نہیں جل سکتا۔ پھر دوسرے آدمی نے آکر وہی بات کہی تو انھوں نے کہا: نہیں، میرا گھر نہیں جل سکتا۔ پھر تیسرے آدمی نے آ کر بھی وہی بات کہی تو اس کو بھی یہی کہا کہ میرا گھر نہیں جل سکتا۔ پھر چوتھے آدمی نے آکر کہا:آگ تو بھڑکی تھی اور آپ کے گھر تک بھی پہنچ گئی تھی، لیکن وہاں جاکر بجھ گئی تھی۔ انھوں نے فرمایا: مجھے یقین تھاکہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کریں گے (یعنی میرے گھر کو جلنے نہیں دیں گے)۔ اس آدمی نے کہا: اے ابودرداء! ہمیں پتا نہیں چل رہا کہ آپ کی کو ن سی بات زیادہ عجیب ہے؟ پہلے آپ نے کہا: میرا گھر نہیں جل سکتا۔ پھر بعد میں آپ نے کہا: مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کریں گے۔ انھوں نے فرمایا: میں نے چند کلمات حضورﷺ سے سنے ہیں۔ جو آدمی صبح کو یہ کلمات کہہ لے گا شام تک اسے کوئی مصیبت نہیں پہنچے گی۔ وہ کلمات یہ ہیں: اَللّٰھُمَّ أَنْتَ رَبِّيْ لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ۔ مَا شَآئَ اللّٰہُ کَانَ، وَمَا لَمْ یَشَأْ لَمْ یَکُنْ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِيِّ الْعَظِیْمِ۔ أَعْلَمُ أَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیْرٌ وَّأَنَّ اللّٰہَ قَدْ أَحَاطَ بِکُلِّ شَيْئٍ عِلْماً۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِيْ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ دَآبَّۃٍ أَنْتَ اٰخِذٌ بِنَاصِیَتِھَا إِنَّ رَبِّيْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔ اے اللہ!تو میراربّ ہے تیرے سواکوئی معبود نہیں۔ تجھ پر میں نے توکل کیا تو محترم عرش کا ربّ ہے۔ جو اللہ (تبارک وتعالیٰ) نے چاہا وہ ہوا اور جونہیں چاہا وہ نہیں ہوا۔ برائیوں سے بچنے کی قوت اور نیکی کرنے کی طاقت صرف بزرگ وبرتراللہ سے ہی ملتی ہے۔ میں اس بات کو جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ اے اللہ! میں اپنے نفس کے شرسے اور ہر اس جانور کے شرسے تیری پناہ چاہتا ہوں جس کی پیشانی کو تو پکڑنے والا ہے۔ بے شک میرا ربّ سید ھے راستے پر ہے۔1 دعوت کے باب میں گزرچکا ہے کہ حضرت عدی بن حاتم ؓ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! تیسری بات بھی ضرور ہوکر رہے گی اس لیے کہ حضورﷺ فرماچکے ہیں۔ ’’صحابۂ کرام ؓکا جماعتوں کو دعوت کے لیے بھیجنے‘‘ کے باب میں یہ گزرچکا ہے کہ حضرت ہشام بن عاصؓ نے جَبَلہ بن اَیہم سے کہا: اللہ کی قسم! یہ دربار جہاں تم بیٹھے ہوئے ہو، یہ بھی اور ان شاء اللہ (تمہارے) بڑے بادشاہ (ہِرَقل) کا ملک (روم) بھی ہم تم سے ضرور لے لیں گے، کیوںکہ ہمیں اس کی خبر ہمارے نبی حضرت محمدﷺ نے دی ہے۔ ’’حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا اللہ کے راستہ میں لشکر بھیجنے کا اہتمام کرنے‘‘ کے باب میں یہ گزرچکا ہے کہ حضرت علیؓ نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ چا ہے آپ خود جائیں چاہے کسی اور کوان کے پاس بھیج دیں، ان شاء اللہ کامیابی آپ ہی کو ہوگی، آ پ کی مدد ضرور ہوگی۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: اللہ تمھیں خیر کی بشارت دے! یہ تمھیں کہاں سے پتا چل گیا (کہ کامیابی تو ہمیں ہی ملے گی اور ہماری مدد ضرور ہوگی)؟ حضرت علیؓ نے کہا:میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سناکہ یہ دین اپنے دشمنوں پر غالب آکر رہے گا، یہاں تک کہ یہ دین مضبوطی سے کھڑا ہوجائے اور دین والوں کو غلبہ مل جائے گا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے تعجب سے فرمایا: سبحان اللہ! یہ حدیث کتنی عمدہ ہے،تم نے یہ حدیث سناکر مجھے خوش کردیا، اللہ تمھیں ہمیشہ خوش رکھے۔ اور ’’تائیداتِ غیبیہ ‘‘کے باب میں حضرت ابنِ عمرؓ کا یہ قول آئے گا کہ جب حضرت ابنِ عمر ؓ نے شیر کا کان پکڑ کر مروڑا اور اس کو راستہ سے ہٹایا تو اس کو کہا: حضورﷺ نے تمہارے بارے میں غلط نہیں کہا ہے۔ میں نے حضورﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابنِ آدم جس چیز سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ وہ چیز ابنِ آدم پر مسلط کردیتے ہیں۔ اور اگر ابنِ آدم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی سے نہ ڈرے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنے علاوہ کسی اور کو مسلط نہیں ہونے دیتے۔