حضورﷺ کے اخلاق اور اعمال کی وجہ سے لوگوں کو ہدایت ملنا
حضرت حُویْطب بن عبد العزّی ؓ کے اسلام لانے کا قصہ
حضرت مُنذِر بن جہم فرماتے ہیں کہ حضرت حُوَیْطِب بن عبدالعزّیٰ ؓ نے بیان کیا کہ جب حضورﷺ فتحِ مکہ کے سال مکہ میں داخلہ ہوگئے تو مجھے بہت ہی خوف محسوس ہوا۔ چناںچہ میں اپنے گھر سے نکل گیا اور اپنے اَہل و عیال کو چند ایسی جگہوں میں تقسیم کردیا جہاں وہ بحفاظت رہ سکیںاور خود عوف کے باغ میں جا پہنچا۔ ایک دن اچانک وہاں حضرت ابوذر غِفاری ؓ آگئے۔ میری اُن سے پرانی دوستی تھی اور دوستی ہمیشہ کام آیا کرتی ہے، لیکن میں اُن کو دیکھتے ہی (ڈر کے مارے ) بھاگ کھڑا ہوا۔ انھوں نے مجھے پکارا: اے ابو محمد! میں نے کہا: لبیک، حاضر ہوں۔ انھوں نے کہا: تمہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا: ڈر کے مارے (بھاگ رہا ہوں)۔ انھوں نے کہا: ڈرو مت، تم اب اللہ تعالیٰ کی اَمان میں ہو۔ (یہ سن کر ) میں اُن کے پاس واپس آگیا اورانھیں سلام کیا۔ انھوں نے کہا: اپنے گھر جاؤ۔ میں نے کہا:کیا میرے لیے اپنے گھر جانے کا کوئی راستہ ہے؟ اللہ کی قسم !میرا تو یہ خیال ہے کہ میں اپنے گھر زندہ نہیں پہنچ سکتا ہوں۔ اول تو راستہ میں ہی قتل کردیا جاؤں گا، اور اگر کسی طرح گھر پہنچ گیا تو وہاں گھر میں آکر مجھے کوئی نہ کوئی ضرور قتل کردے گا اور میرے اَہل و عیال بھی مختلف جگہ پر ہیں۔ حضرت ابو ذر نے کہا: اپنے اَہل وعیال ایک جگہ جمع کرلو، اور میں تمہارے ساتھ تمہارے گھر تک جاؤں گا۔
چناںچہ وہ میرے ساتھ میرے گھر تک گئے اور راستہ میں بلند آواز سے یہ کہتے گئے کہ حویطب کو اَمان مل چکی انھیں کوئی نہ چھیڑے ۔ پھر حضرت ابو ذر حضورﷺ کی خدمت میں واپس پہنچے اور ان کو سارا قصہ سنایا ۔ آپ نے فرمایا کہ میں جن لوگوں کے قتل کرنے کا حکم دے چکا ہوں کیا ان کے علاوہ تمام لوگوں کو اَمن نہیں مل چکاہے؟ حضرت حویطب کہتے ہیں کہ اس بات سے مجھے اطمینان ہوگیا اور میں اپنے اہل و عیال کو گھر لے آیا۔ حضرت ابوذرؓ میرے پاس دوبارہ آئے اور انھوں نے کہا: اے ابو محمد! کب تک؟ اور کہاں تک ؟ تم تمام معرکوں میں پیچھے رہ گئے۔ خیر کے بہت سے مواقع تمہارے ہاتھ سے نکل گئے، لیکن اب بھی خیر کے بہت سے مواقع باقی ہیں۔ تم حضورﷺ کی خدمت میں جاکر مسلمان ہوجاؤ سلامتی پالوگے اور حضورﷺ تو تمام لوگوںمیں سب سے زیادہ نیک اور سب سے زیادہ جوڑ لینے والے اور سب سے زیادہ بردبار ہیں۔ اُن کی شرافت تمہاری شرافت ہے اور اُن کی عزت تمہاری عزت ہے۔ میں نے کہا: میں تمہارے ساتھ حضور ﷺ کی خدمت میں جانے کو تیار ہوں۔ چناں چہ میں اُن کے ساتھ چل کر بطحاء میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ؓ بھی آپ کے پاس موجود تھے۔ میں آپ کے سرہانے کھڑا ہوگیا اور میں نے حضرت ابوذر سے پوچھا کہ حضورﷺ کو سلام کس طرح کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ کہو اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِيُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ۔ چناں چہ میں نے آپ کو ان ہی الفاظ سے سلام کیا ۔ آپ نے فرمایا: وَعَلَیْکَ السَّلَامُ اے حویطب! میں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تمہیں ہدایت دی۔ حضرت حویطب کہتے ہیںکہ حضور ﷺ میرے اِسلام لانے سے بہت خوش ہوئے۔ آپ نے مجھ سے کچھ قرض مانگا میں نے آپ کو چالیس ہزار درہم قرض دیے اور آپ کے ساتھ غزوۂ حنین اور طائف میں شریک رہا۔ آپ نے مجھے حنین کے مالِ غنیمت میں سے سو اُونٹ دیے۔1
حضرت جعفر بن محمود بن محمدبن سلمہ اشہلی سے لمبی حدیث مروی ہے جس میں یہ مضمون بھی ہے کہ پھر حضرت حویطب نے کہا: قریش کے ان بڑے لوگوں میں سے جو فتحِ مکہ تک اپنی قوم کے دین پر باقی رہ گئے تھے کوئی بھی مجھ سے زیادہ اس فتح کو ناپسند سمجھنے والا نہیں تھا، لیکن ہوتا تو وہی ہے جو مقدر میں ہو۔ میں مشرکوں کے ساتھ جنگِ بدر میں بھی شریک ہوا تھا۔ میں نے (اس جنگ میں) بہت سے عبرت والے منظر دیکھے۔ چناںچہ میں نے فرشتوں کو دیکھا کہ وہ زمین وآسمان کے درمیان اُتر رہے ہیں اور کافروں کو قتل کررہے ہیں اور اُن کو قید کررہے ہیں، تو میں نے کہا: اس آدمی کی حفاظت کا مستقل (غیبی )اِنتظام ہے۔ اور میں نے جو کچھ دیکھا تھا اس کا کسی سے تذکرہ نہیں کیا۔ چناںچہ شکست کھا کر ہم مکہ واپس آگئے۔ پھر بعد میں قریش ایک ایک کرکے مسلمان ہوتے رہے۔ صلحِ حدیبیہ کے موقع پر میں بھی موجود تھا اور صلح کرانے میں میں بھی بھاگ دوڑ کرتا رہا یہاں تک کہ صلح نامہ مکمل ہوگیا اور ان تمام باتوں سے اِسلام کو ترقی ہوتی رہی، کیوں کہ اللہ تعالیٰ صرف اسی چیز کو وجود دیتے ہیں جسے وہ چاہتے ہیں۔
اس صلح نامہ کا آخری گواہ میں تھا۔ اور میں نے (اپنے دل میں )کہا کہ قریش حضور ﷺ کو زبانی جمع خرچ سے واپس بھیج کر اگرچہ اس وقت خوش ہورہے ہیں لیکن ان کو آیندہ حضور ﷺ کی طرف سے برے حالات ہی دیکھنے پڑھیں گے۔ اگلے سال جب حضور ﷺ عمرہ کی قضا کرنے کے لیے مکہ تشریف لائے اور سارے قریش مکہ سے باہرچلے گئے تو میں اور سہیل بن عمرو اورکچھ لوگ اس لیے مکہ ٹھہر گئے تاکہ وقت کے ختم ہونے پر ہم لوگ حضور ﷺ کو مکہ سے واپس جانے کو کہیں۔ چناں چہ جب تین دن گزرگئے تو میں نے اور سہیل بن عمرو نے جاکر کہا کہ شرط کے مطابق آپ کا وقت پورا ہوگیاہے، آپ ہمارے شہر سے چلے جائیں۔ آپ نے فرمایا: اے بلال! (یہ اعلان کردو کہ)جتنے مسلمان ہمارے ساتھ آئے ہیں وہ سورج ڈوبنے سے پہلے ہی مکہ سے نکل جائیں۔ 1