نکاح میں حضورﷺ اور آپ کے صحابہؓ کا طریقہ
حضرت بلال اور ان کے بھائی ؓ کا نکاح
حضرت شعبی ؓکہتے ہیں کہ حضرت بلالؓ اور ان کے بھائی نے یمن کے ایک گھرانہ میں اپنی شادی کا پیغام دیا تو حضرت بلال نے یوں فرمایا: میں بلال ہوں اور یہ میرابھائی ہے۔ ہم دونوں حبشہ کے غلام ہیں۔ ہم گمراہ تھے ہمیں اﷲ نے ہدایت دی، اور ہم دونوں غلام تھے ہمیں اﷲ نے آزاد کر دیا۔ اگر آپ لوگ ہم دونوں کی شادی کر دیں گے تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ یعنی ہم ا ﷲ کا شکر ادا کریں گے۔ اور اگر نہیں کرو گے تو اَللّٰہُ أَکْبَرُ یعنی اﷲ بہت بڑے ہیں وہ کوئی اور انتظام کر دیں گے آپ لوگوں سے کوئی شکایت نہیں ہوگی (ان لوگوں نے ان دونوں کی شادی کردی)۔
حضرت عمرو بن میمون ؓ اپنے والد (حضرت میمون ؓ) سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت بلالؓ کے ایک بھائی نسب میں اپنی نسبت عرب کی طرف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ عربوں میں سے ہیں۔ انھوں نے عرب کی ایک عورت کو شادی کا پیغام بھیجا۔ اس عورت کے رشتہ داروں نے کہا: اگر حضرت بلالؓ آئیں گے تو ہم آپ کی شادی کریں گے۔ چناںچہ حضرت بلال آئے اور انھوں نے خطبہ مسنونہ پڑھ کر فرمایا: میں بلال بن رباح ہوں اوریہ میرا بھائی ہے، لیکن یہ اخلاق اور دین میں برا آدمی ہے، اگر تم چاہو تو اس سے شادی کر دو اور اگر چاہو تو چھوڑ دو۔ انھوں نے کہا: جس کے آپ بھائی ہوں ہم اس سے ضرور شادی کریں گے۔ چناںچہ انھوں نے اپنی عورت کی حضرت بلال کے بھائی سے شادی کر دی۔1