نبی کریمﷺ اور صحابہؓ کا صبر
عام بیماریوں پر صبر کرنا
حضرت ابو سعید ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضورﷺ کی خدمت میں گیا۔ حضورﷺ کو بخار چڑھا ہوا تھا، آپ نے ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ میں نے چادر کے اوپر سے ہاتھ رکھا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو کتنا تیز بخار چڑھا ہوا ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: ہم (انبیا ؑ) پر اسی طرح سخت تکلیف وآزمایش آیا کرتی ہے، اور ہمارا اجر و ثواب بھی دگنا ہوتا ہے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! لوگوں میں سب سے زیادہ آزمایش کن پر آئی ہے؟ آپ نے فرمایا: نبیوں پر۔ میں نے کہا: پھر کن پر؟ آپ نے کہا: عُلمَا پر۔ میں نے کہا: پھر کن پر؟ آپ نے فرمایا: نیک بندوں پر۔ بعضوں نیک بندوں کے جسم میں اتنی جوئیں پڑ جاتی تھیں کہ اسی میں ان کا انتقال ہو جاتا تھا، اور بعضوں پر اتنی تنگ دستی آئی تھی کہ انھیں چوغہ کے علاوہ کوئی اور چیز پہننے کو نہ ملتی تھی، لیکن تمھیں دنیا ملنے سے جتنی خوشی ہوتی ہے انھیں آزمایش اور تکلیف سے اس سے زیادہ خوشی ہوتی تھی۔1
حضرت ابو عبیدہ بن حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ ان کی پھوپھی حضرت فاطمہؓ نے فرمایا کہ ہم عورتیں حضورﷺ کی عیادت کرنے گئیں۔ حضورﷺکو بخار چڑھا ہوا تھا۔ آپ کے فرمانے پر پانی کا ایک مشکیزہ درخت پر لٹکایا گیا تھا، آپ اس کے نیچے لیٹ گئے اور اس مشکیزے سے پانی کے قطرے آپ کے سر پر ٹپکنے لگے۔ چوںکہ آپ کو بخار بہت تیز تھا اس (کی تیزی کم کرنے کے) لیے آپ نے ایسا کیا تھا۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے کہ وہ آپ کی یماری کو دور کر دے تو بہت ہی اچھا ہوتا۔ حضورﷺ نے فرمایا: تمام انسانوں میں سب سے زیادہ سخت تکلیف و آزمایش انبیا ؑ پر آتی ہے، پھر ان پر جو اِن کے قریب ہوں، پھر اُن پر جو اِن کے قریب ہوں، پھر اُن پر جو اِن کے قریب ہوں۔1