نبی کریمﷺ اور صحابہؓ کے اخلاق
سیّدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی سخاوت
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نیکی کے کاموں میں تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے۔ اور آپ کی سخاوت کا سب سے زیادہ ظہور رمضان شریف میں ہوتا جب آپ کی ملاقات حضرت جبرائیل ؑ سے ہوتی۔ اور حضرت جبرائیل ؑ رمضان کی ہر رات میں حضورﷺ سے ملا کرتے اور آپ سے قرآن کا دور کرتے، پھر تو آپ خیر اور نیکی کے کاموں میں عام لوگوں کو فائدہ پہنچانے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے۔1
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں کہ کبھی ایسے نہیں ہوا کہ حضورﷺ سے کوئی چیز مانگی گئی ہو اور آپ نے فرمایا ہو’’نہیں‘‘۔2
حضرت ابو اُسید ؓ فرمایا کرتے تھے کہ حضورﷺ سے جو چیز بھی مانگی جاتی تھی آپ اسے روکتے نہیں تھے (بلکہ دے دیا کرتے تھے)۔3
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ سے کوئی چیز مانگی جاتی اور آپ کا دینے کا ارادہ ہوتا تو آپ ہاں فرماتے، اور (نہ ہونے کی وجہ سے) نہ دینے کا ارادہ فرماتے تو خاموش ہوجاتے اور کسی چیز کے بارے میں’’نہ‘‘ نہ فرماتے۔ 4
حضرت رُبیّع بنتِ مُعوِّذ بن عَفْراء ؓ فرماتی ہیں کہ مجھے میرے والد حضرت مُعَوِّذ بن عفراءؓ نے ایک صاع تازہ کھجوریں جن پر چھوٹی چھوٹی روئیں دار ککڑیاں رکھی ہوئی تھیں دے کر حضورﷺ کی خدمت میں بھیجا۔ حضورﷺ کو ککڑی بڑی پسند تھی۔ اس وقت بحرین سے کچھ زیورات حضورﷺ کے پاس آئے ہوئے تھے،حضورﷺ نے ہاتھ بھر کر وہ زیورات مجھے عطا فرمائے۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے مجھے اتنے زیور یا سونا عطا فرمایا جس سے میرے دونوں ہاتھ بھر گئے۔1
امام احمد ؓکی روایت میں یہ بھی ہے کہ حضورﷺ نے یہ بھی فرمایا: یہ زیور پہن کر اپنے آپ کو آراستہ کرلینا۔
حضرت اُمّ سُنْبلَہؓ حضورﷺ کی خدمت میں کچھ ہدیہ لے کر گئیں۔ آپ کی ازواجِ مطہّراتؓ نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ ہم نہیں لیں گی۔ حضورﷺ نے ازواجِ مطہرات کو فرمایا تو انھوں نے لے لیا۔ پھر حضورﷺ نے حضرت اُمّ سُنْبلَہ کو ایک وادی بطورِ جاگیر کے عطا فرمائی جسے حضرت عبد اللہ بن جحشؓ نے بعد میں حضرت حسن بن علیؓ سے خریدا۔2
مال خرچ کرنے کے عنوان میں حضورﷺ کی سخاوت کے قصے گزر چکے ہیں۔