نبی کریمﷺ اور صحابہؓ کے اخلاق

حضور ﷺ کے صحابہؓ کا مزاح و دل لگی

حضرت عوف بن مالک اشجعیؓ فرماتے ہیں کہ میں غزوۂ تبوک میں حضورﷺکی خدمت میں حاضر ہوا، آپ چمڑے کے ایک چھوٹے خیمے میں تشریف فرما تھے۔ میں نے آپ کو سلام کیا آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: اندر آجاؤ۔ میں نے عرض کیا: کیا سارا ہی آجاؤں؟ حضورﷺ نے فرمایا: سارے ہی آجاؤ۔ چناںچہ میں اندر چلا گیا۔ حضرت ولید بن عثمان بن ابوالعالیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عوف نے جو یہ کہا کہ کیا میں سارا ہی آجاؤں؟ یہ خیمے کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے کہا تھا۔3 حضرت ابنِ ابی مُلَیکہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے حضورﷺ سے کوئی مزاح کی بات کی تو حضرت عائشہ کی والدہ نے کہا: یا رسول اللہ! اس قبیلہ کی بعض مذاق کی باتیں قبیلہ کنانہ سے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ خاندان ہمارے مذاق کا ایک حصہ ہے۔4 حضرت ابو الہیثم ؓکو ایک صاحب نے بتایاکہ انھوں نے خود سنا کہ حضرت ابو سفیان بن حرب ؓ اپنی بیٹی حضرت اُمّ حبیبہؓ کے گھر میں حضورﷺ کو بطورِ مذاق کہہ رہے تھے: اللہ کی قسم! جوں ہی میں نے آپ سے جنگ کرنی چھوڑی تمام عرب نے بھی چھوڑ دی، ورنہ آپ کی وجہ سے سینگ والا اور بے سینگ ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے۔ حضورﷺ سن کر مسکراتے رہے اور آپ نے فرمایا: اے ابو حنظلہ! تم بھی ایسی باتیں کرتے ہو۔1 حضرت بکر بن عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ کے صحابہؓ مزاح میں ایک دوسرے پر خربوزے پھینکتے تھے، لیکن جب حقیقت اور کام کا وقت ہوتا تو اس وقت وہ مردِ میدان ہوتے (یعنی اس وقت مزاح نہیں کرتے تھے، جب کام نہ ہوتا تو کبھی کبھار کرتے تھے)۔2 حضرت قرّہ ؓ کہتے ہیں: میں نے حضرت ابنِ سیرین سے پوچھا کہ کیا حضورﷺ کے صحابہ آپس میں ہنسی مزاح کیا کرتے تھے؟ حضرت ابنِ سیرین نے کہا: ہاں! وہ عام لوگوں جیسے ہی تھے۔ چناںچہ حضرت ابنِ عمر ؓ مزاح میں یہ شعر پڑھا کرتے: یُحِبُّ الْخَمْرَ مِنْ مَّالِ النَّدَامٰی وَیَکْرَہُ أَنْ تُفَارِقَہُ الْفُلُوْسُ وہ (بخیل ہے اس لیے) اپنے ہم نشینوں کے مال سے شراب پینا چاہتا ہے اور مال کی جدائی سے اسے بڑی ناگواری ہوتی ہے۔3 حضرت اُمّ سَلَمہؓ فرماتی ہیں: حضرت ابوبکر ؓ تجارت کی غرض سے بُصْریٰ (ملکِ شام کا ایک شہر) تشریف لے گئے۔ ان کے ساتھ حضرت نُعَیمان اور حضرت سُویبِط بن حرملہ ؓ بدری صحابی بھی تھے۔ حضرت سُویبِط کھانے کے سامان کے ذمہ دار تھے۔ حضرت نُعَیمان نے ان سے کہا: مجھے کچھ کھاناکھلا دو۔ حضرت سُویبِط نے کہا: حضرت ابو بکر گئے ہوئے ہیں، جب وہ آجائیں گے تو کھلادوں گا۔ حضرت نُعَیمان کی طبیعت میں ہنسی اور مزاح بہت زیادہ تھا۔ وہاں قریب میں کچھ لوگ اپنے جانور لے کر آئے ہوئے تھے۔ حضرت نُعَیمان نے ان سے جا کر کہا: میرا ایک خوب چست اور طاقت ور عربی غلام ہے، تم لوگ اسے خرید لو۔ ان لوگوں نے کہا: بہت اچھا۔ حضرت نُعَیمان نے کہا: بس اتنی بات ہے کہ وہ ذرا باتونی ہے اور شاید وہ یہ بھی کہے کہ میں آزاد ہوں۔ اگر تم اس کے اس کہنے کی وجہ سے اسے چھوڑ دو گے تو پھر رہنے دو یہ سودا مت کرو اور میرے غلام کو نہ بگاڑو۔ انھوں نے کہا: نہیں، ہم تو اسے خریدیں گے اور اسے نہیںچھوڑیں گے۔ چناںچہ ان لوگوں نے دس جوان اونٹنیوں کے بدلے میں انھیں خرید لیا۔ حضرت نُعَیمان دس اونٹنیاں ہانکتے ہوئے آئے اور ان لوگوں کو بھی ساتھ لائے اور آکر ان لوگوں سے کہا: یہ رہا تمہارا وہ غلام، اسے لے لو۔ جب وہ لوگ حضرت سُویبِط کو پکڑنے لگے تو حضرت سُویبِط نے کہا: حضرت نُعَیمان غلط کہہ رہے ہیں، میں تو آزاد آدمی ہوں۔ ان لوگوں نے کہا: انھوں نے تمہاری یہ بات ہمیں پہلے ہی بتا دی تھی۔ چناںچہ وہ لوگ حضرت سُویبِط کے گلے میں رسی ڈال کر لے گئے۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر واپس آئے تو انھیں اس قصہ کا پتا چلا تو وہ اور ان کے ساتھی ان خریدنے والوں کے پاس گئے اور ساری بات بتا کر ان کی اونٹنیاں انھیں واپس کیں اور حضرت سُویبِط کو واپس لے کر آئے۔پھر مدینہ واپس آکر ان حضرات نے حضورﷺ کو یہ سارا واقعہ سنایا تو حضورﷺ اور آپ کے صحابہ اس قصہ کو یاد کر کے سال بھر ہنستے رہے۔1 (ان حضرات کے دل بالکل صاف ستھرے تھے اور حضرت سُویبِطؓکو معلوم تھا کہ حضرت نُعَیمانؓ کی طبیعت میں ہنسی مذاق بہت ہے اس لیے انھوں نے کچھ برا نہ محسوس کیا) حضرت ربیعہ بن عثمانؓ فرماتے ہیںکہ ایک دیہاتی آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور اپنی اونٹنی مسجد سے باہر بٹھا کر مسجد کے اندر چلا گیا۔ حضرت نُعَیمان بن عمرو انصاری ؓ جنھیں اَلنُّعَیْمَانْ کہا جاتا تھا ان سے حضورﷺ کے بعض صحابہؓ نے کہا: ہمارا گوشت کھانے کو بہت دل چاہ رہا ہے، اگر تم اس اونٹنی کو ذبح کردو اور ہمیں اس کا گوشت کھانے کو مل جائے تو بہت مزہ آئے گا، حضورﷺ بعد میں اونٹنی کی قیمت اس کے مالک کو دے دیں گے۔ چناںچہ حضرت نُعَیمان نے اس اونٹنی کو ذبح کر دیا۔ پھر وہ دیہاتی باہر آیا اور اپنی اونٹنی کو دیکھ کر چیخ پڑا کہ اے محمد! ہائے، ان لوگوں نے میری اونٹنی کو ذبح کر دیا۔ اس پرحضورﷺ مسجد سے باہر تشریف لائے اور پوچھا: یہ کس نے کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا:نُعَیمان نے۔ حضورﷺ نُعَیمان کے پیچھے چل پڑے اور اس کا پتا کرتے کرتے آخر حضرت ضُبَاعہ بنتِ زُبیر بن عبد المطّلب ؓ کے گھر پہنچ گئے۔ حضرت نُعَیمان اس کے اندر ایک گڑھے میں چھپے ہوئے تھے، اور انھوں نے اپنے اوپر کھجور کی ٹہنیاں اور پتے وغیرہ ڈال رکھے تھے۔ چناںچہ ایک آدمی نے اونچی آواز سے تو یہ کہا: یارسول اللہ! میں نے اسے نہیں دیکھا، لیکن انگلی سے اس جگہ کی طرف اشارہ کر دیا جہاں حضرت نُعَیمان چھپے ہوئے تھے۔ حضورﷺ نے وہاں جا کر انھیں باہر نکالا تو پتوں وغیرہ کی وجہ سے ان کا چہرہ بدلا ہوا تھا۔ حضورﷺ نے ان سے فرمایا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ انھوں نے کہا: یارسول اللہ! جن لوگوں نے اب آپ کو میرا پتا بتایا ہے انھوں نے ہی مجھے کہا تھا کہ اس اونٹنی کو ذبح کر دو۔ حضورﷺ مسکرانے لگے اور ان کا چہرہ صاف کرنے لگے اور پھر حضورﷺ نے اس دیہاتی کو اس اونٹنی کی قیمت ادا کی۔1 حضرت عبد اللہ بن مُصْعَب ؓ کہتے ہیں: حضرت مخرمہ بن نوفل بن اُہیب زہری ؓ مدینہ منوّرہ میں ایک نابینا بڑے میاں تھے۔ ان کی عمر ایک سو پندرہ سال تھی۔ ایک دن وہ مسجد میں پیشاب کرنے کھڑے ہوئے تو لوگوں نے شور مچادیا۔ حضرت نُعَیمان بن عمرو بن رِفاعہ بن حارث بن سواد نجاری ؓ ان کے پاس آئے اور انھیں مسجد کے ایک کونے میں لے گئے اور ان سے کہا: یہاں بیٹھ کر پیشاب کرلو۔ اور انھیں وہاں بٹھا کر خود وہاں سے چلے گئے تو لوگوں نے شور مچا دیا۔ پیشاب کرنے کے بعد انھوں نے کہا: تمہارا بھلا ہو! مجھے یہاں کون لایا تھا؟ لوگوں نے کہا: نُعَیمان بن عمرو۔ انھوں نے کہا: اللہ اس کے ساتھ یہ کرے اور یہ کرے (یعنی انھیں بددعا دی) اور میں بھی نذر مانتا ہوں کہ اگر وہ میرے ہاتھ لگ گئے تو میں انھیں اپنی اس لاٹھی سے بہت زور سے ماروں گا چاہے ان کا کچھ بھی ہوجائے۔ اس واقعہ کو کافی دن گزر گئے یہاں تک کہ حضرت مخرمہ بھی بھول گئے۔ ایک دن حضرت عثمانؓ مسجد کے کونے میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور حضرت عثمان بڑی یکسوئی سے نماز پڑھا کرتے تھے اِدھراُدھر توجہ نہ فرمایا کرتے۔ حضرت نُعَیمان حضرت مخرمہ کے پاس گئے اور ان سے کہا: کیا آپ نُعَیمان کو مارنا چاہتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، وہ کہاں ہے؟ مجھے بتاؤ۔ حضرت نُعَیمان نے لا کر انھیں حضرت عثمان کے پاس کھڑا کر دیا اور کہا: یہ ہیں، مار لو۔ حضرت مخرمہ نے دونوں ہاتھوں سے لاٹھی اس زور سے ماری کہ حضرت عثمان کے سر میں زخم ہوگیا۔ لوگوں نے انھیں بتایا کہ آپ نے تو امیرالمؤمنین حضرت عثمانؓکو مار دیا۔ حضرت مخرمہ کے قبیلہ بنو زہرہ نے جب یہ سنا تو وہ سب جمع ہوگئے۔ حضرت عثمان نے فرمایا: اللہ نُعَیمان پر لعنت کرے! تم نُعَیمان کو چھوڑ دو کیوںکہ وہ جنگِ بدر میں شریک ہوا تھا (اس لیے ان کی رعایت کرنی چاہیے)۔1