صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا
مسلمان کی تعریف کرنا اور تعریف کی کون سی صورت اللہ کو ناپسند ہے
حضرت عبادہ بن صامتؓ فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنو لیث کے ایک آدمی نے حضورﷺ کی خدمت میں آکر تین مرتبہ عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو شعر سنانا چاہتا ہوں۔ (آخر چوتھی مرتبہ میں حضورﷺ نے اجازت دے دی) تو انھوں نے حضورﷺ کو وہ اشعار سنائے جن میں حضورﷺ کی تعریف تھی۔ سن کر حضورﷺ نے فرمایا: اگر کوئی شاعراچھے شعر کہتا ہے تو تم نے بھی اچھے شعر کہے ہیں۔2
حضرت خلّاد بن سائب ؓ فرماتے ہیں: میںحضرت اسامہ بن زیدؓ کے پاس گیا۔ انھوں نے میرے منہ پر میری تعریف کی اور یوں کہا کہ میں نے آپ کے منہ پر آپ کی تعریف اس لیے کی کہ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب مؤمن کے منہ پرا س کی تعریف کی جاتی ہے تو اس کے دل میں ایمان بڑھ جاتا ہے (کیوںکہ تعریف سے وہ پھولے گا نہیں بلکہ اس کا اعمال پر یقین بڑھے گا کہ نیک اعمال کی وجہ سے لوگ تعریف کر رہے ہیں)۔3
حضرت مُطَرِّف ؓکہتے ہیں کہ میرے والد نے اپنا یہ قصہ بیان کیا کہ بنو عامر کے وفد کے ہمراہ میں حضورﷺ کی خدمت میں گیا۔ ہم نے عرض کیا: آپ ہمارے سردار ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: (حقیقی) سردار تو اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔ پھر ہم نے عرض کیا: آپ فضیلت میں ہم سب سے بڑے ہیں اور سب سے زیادہ سخی ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: ہاں! تم کہہ سکتے ہو، بلکہ اس میں بھی کچھ کمی کرو تو اچھا ہے، شیطان تم پر غلبہ پاکر تمھیں اپنا وکیل نہ بنالے۔ (ان لوگوں کے مبالغہ پر حضورﷺ نے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا)
رزین نے حضرت انسؓ سے اس جیسی روایت نقل کی ہے اس میں یہ مضمون بھی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: میں یہ نہیں چاہتا کہ اللہ تعالیٰ نے جو درجہ مجھے عطا فرمایا ہے تم مجھے اس سے بڑھاؤ، میں محمد بن عبد اللہ ، اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔1
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضورﷺ کی خدمت میں عرض کیا: اے ہم میں سے سب سے بہتر اور سب سے بہتر کے بیٹے! اور اے ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے! اس پر آپ نے فرمایا: تم میرے بارے میں وہ کہو جو میں تمھیں بتلاتا ہوں تاکہ شیطان تمھیں صحیح راستہ سے ہٹا نہ سکے۔ مجھے اسی درجہ پر رکھو جو اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے، میں اللہ کا بند ہ اور اس کا رسول ہوں۔2
حضرت ابوبکرہؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ کے پاس ایک آدمی نے دوسرے آدمی کی تعریف کی تو حضورﷺ نے اسے تین دفعہ فرمایا: تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی، تم میں سے کسی نے اگر کسی کی تعریف ضرور ہی کرنی ہو اور اسے اس کی اچھی صفات یقینی طور سے معلوم ہوں تو یوں کہنا چاہیے کہ میرا فلاں کے بارے میں یہ گمان ہے اور اللہ ہی اسے بہتر جانتے ہیں۔ اللہ کے سامنے وہ کسی کو مقدس بناکر پیش نہ کرے بلکہ یوں کہے: میرا گمان یوں ہے، میرا خیال یہ ہے۔3
حضرت ابو موسیٰؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے سنا کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کی تعریف کر رہا ہے اور تعریف میں حد سے آگے بڑھ رہا ہے تو فرمایا: تم نے (زیادہ تعریف کرکے) اس آدمی کی کمر توڑ دی۔4
حضرت رَجاء بن ابی رَجاء ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت محجن اسلمی ؓ کے ساتھ چلا یہاں تک کہ ہم بصرہ والوں کی مسجد تک پہنچے، تو وہاں مسجد کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر حضرت بریدہ اسلمیؓ بیٹھے ہوئے تھے۔ مسجد میں سَکْبہ نامی آدمی بڑی لمبی نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرت بریدہ نے ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی اور ان کی طبیعت میں مزاح بہت تھا، اس لیے انھوں نے کہا: اے محجن! کیا آپ بھی ویسی نماز پڑھتے ہیں جیسی سَکْبہ پڑھتے ہیں۔ حضرت محجن نے اس بات کا کوئی جواب نہ دیا اور واپس آگئے۔ اور حضرت محجن نے کہا: ایک دفعہ حضورﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا پھر ہم لوگ چلنے لگے اور چلتے چلتے ہم اُحد پہاڑ پر چڑھ گئے۔ حضورﷺ نے مدینہ کی طرف منہ کر کے فرمایا: ہائے حسرت اور افسوس! ایک دن اس بستی کو بستی والے چھوڑ دیں گے حالاںکہ اس دن یہ بستی بہت زیادہ آباد ہوگی۔ دجال مدینہ آئے گا لیکن اسے مدینہ کے ہر دروازے پر فرشتہ ملے گا اس لیے وہ مدینہ میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ پھر حضورﷺ اُحد پہاڑ سے نیچے اُترے۔ جب ہم مسجد پہنچے تو حضورﷺ نے ایک آدمی کو رکوع سجدہ کرتے ہوئے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ حضورﷺ نے مجھ سے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ فلاں ہے اور اس کی بہت زیادہ تعریف کرنے لگا۔ حضورﷺ نے فرمایا: بس کرو اس کی تعریف اسے نہ سناؤ ورنہ یہ ہلاک ہو جائے گا۔ پھر آپ چلنے لگے اور جب اپنے حجروں کے پاس پہنچے تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو جھاڑ کر تین دفعہ فرمایا: تمہارے دین کا سب سے بہترین عمل وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو۔1
اسی روایت کو امام احمد ؓ نے بھی ذرا تفصیل سے نقل کیا ہے ان کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت محجن ؓ نے فرمایاکہ میں حضورﷺ کے سامنے اس نمازی کی تعریف مبالغہ کے ساتھ کرنے لگا اور میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ فلاں آدمی ہے اور اس میں یہ اوریہ خوبیاں ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: خاموش ہو جاؤ، اسے یہ باتیں نہ سناؤ ورنہ تم اسے ہلاک کردو گے۔ پھر حضورﷺ چلنے لگے۔ جب ہم حجر ہ کے پاس پہنچ گئے تو حضورﷺ نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا پھر آپ نے فرمایا: تمہارے دین کا سب سے بہترین عمل وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو، تمہارے دین کا سب سے بہترین عمل وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو، تمہارے دین کا سب سے بہترین عمل وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو۔1
امام احمد ؓکی ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت محجنؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: یانبی اللہ! یہ فلاں ہیں اور یہ مدینہ والوں میں سے سب سے اچھے ہیں اور مدینہ والوں میں سے سب سے زیادہ نماز پڑھنے والے ہیں۔ حضور ﷺ نے دو یا تین مرتبہ فرمایا: اسے مت سناؤ ورنہ تم اسے ہلا ک کر دو گے۔ پھر فرمایا: تم ایسی اُمت ہو جس کے ساتھ اللہ نے آسانی کا ارادہ فرمایا ہے۔2
حضرت ابراہیم تیمی ؓکے والد بیان کر تے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عمر بن خطّابؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک آدمی نے ان کے پاس آکر سلام کیا۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے اس کے منہ پر اس کی تعریف کرنی شروع کر دی۔ حضرت عمر نے فرمایا: تم نے تو اس آدمی کو ذبح کر ڈالا اللہ تمھیں ذبح کرے۔ تم اس کے منہ پراس کے دین کے بارے میں اس کی تعریف کر رہے ہو۔3
حضرت حسن ؓکہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عمرؓکی تعریف کی تو حضرت عمر نے فرمایا: تم مجھے بھی ہلاک کر رہے ہو اور اپنے آپ کو بھی۔4
حضرت حسن ؓکہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضر ت عمرؓ بیٹھے ہوئے تھے ان کے پاس کوڑا بھی رکھا ہوا تھا اور لوگ بھی حضرت عمر کے اِردگرد بیٹھے ہوئے تھے کہ سامنے سے حضرت جارودؓ آئے تو ایک آدمی نے کہاکہ یہ قبیلہ ربیعہ کے سردار ہیں۔ اس کی اس بات کو حضرت عمر نے اور ان کے آس پاس کے لوگوں نے اور خود حضرت جارود نے بھی سن لیا۔ جب حضرت جارود حضرت عمر کے قریب آگئے تو حضرت عمر نے ان کو کوڑا مارا۔ حضرت جارود نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں نے آپ کا کیا قصور کیا ہے؟ حضرت عمر نے فرمایا: تم نے میرا کیا قصور کیا ہے؟ کیا تم نے اس کی بات کو نہیں سنا ہے؟ حضرت جارود نے کہا: سنا ہے تو پھر کیا ہوگیا؟ حضرت عمر نے فرمایا: مجھے اس بات کا ڈر ہوا کہ (اس کے تعریفی کلمات سن کر) کہیں تمہارے دل میں (عجب اور کبر، بڑائی وغیر ہ کا) برا اثر نہ پیدا ہوجائے اس لیے میں نے چاہا کہ یہ سارا اثر جھاڑ دوں۔1
حضرت ہمّام بن حارث ؓکہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عثمانؓ کی تعریف کرنے لگا تو حضرت مقدادؓ جو بھاری بھرکم تھے وہ اس آدمی کی طرف گئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس کے منہ میں کنکریوں کی لپیں بھر کر ڈالنے لگے۔ حضرت عثمان نے ان سے فرمایا: آ پ کو کیا ہوگیا؟ حضرت مقداد نے کہا: حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تم (دنیاوی مفاد حاصل کرنے کے لیے اور لوگوں کو بگاڑنے کے لیے) تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دیا کرو۔ (حضرت مقدادؓ نے اس کا ظاہر ی مطلب مراد لیا ہے، لیکن بظاہر حضورﷺ کا مقصد یہ ہے کہ اسے کچھ نہ دو)2
حضرت ابو معمر ؓکہتے ہیں کہ ایک آدمی کھڑے ہو کر ایک امیر کی تعریف کرنے لگا تو حضرت مقدادؓ اس پر مٹی ڈالنے لگے اور فرمایا: حضورﷺ نے ہمیں اسی بات کا حکم دیا ہے کہ(غلط مقصد کے لیے) تعریف کرنے والوں کے چہروں پر ہم مٹی ڈالا کریں۔3
حضرت عطاء بن ابی رباح ؓکہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمرؓ کے پاس ایک آدمی دوسرے آدمی کی تعریف کرنے لگا تو حضرت ابنِ عمر اس کے چہرے کی طرف مٹی ڈالنے لگے اور فرمایا: حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تم تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈالو۔4
حضرت عطاء بن ابی رباح ؓکہتے ہیں کہ ایک آدمی ابنِ عمرؓکی تعریف کر رہا تھا۔ (کچھ دیر کے بعد) حضرت ابنِ عمر اس کے چہرے پر مٹی ڈالنے لگے اور فرمایا: میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈالو۔1
حضرت نافع ؓ اور دیگر حضرات بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابنِ عمرؓ سے کہا: اے لوگوں میں سے سب سے بہتر! یا یوں کہا: اے لوگوں میں سے سب سے بہتر کے بیٹے! تو حضرت ابنِ عمر نے فرمایا: نہ میں لوگوں میں سے سب سے بہتر ہوں اور نہ سب سے بہتر کا بیٹا ہوں، بلکہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہوں، اللہ کی رحمت سے اُمید رکھتا ہوںاور اس کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ اللہ کی قسم! (بلاوجہ تعریفیں کر کے) تم آدمی کے پیچھے پڑ جاتے ہو اور پھراسے ہلاک کر کے چھوڑتے ہو (کہ اس کے دل میں عجب وبڑائی پیدا ہو جاتی ہے)۔2
حضرت طارق بن شہاب ؓکہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہؓ نے فرمایا: بعض دفعہ آدمی اپنے گھر سے باہر جاتا ہے اور اس کے ساتھ اس کا دین ہوتا ہے، لیکن جب وہ واپس آتا ہے تو اس وقت اس کے پاس دین میں سے کچھ بھی باقی نہیں ہوتا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ وہ آدمی باہر جا کر ایسے آدمی کے پاس جاتا ہے جو نہ اپنے نفع نقصان کا مالک ہے اور نہ اس کے نفع نقصان کا۔ اور یہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہتا ہے کہ آپ ایسے ہیں اور ایسے ہیں (اس سے کچھ لینے کے لیے اس کی تعریفیں کرتا ہے لیکن وہ اسے کچھ نہیں دیتا) اور وہ اس حال میں واپس آتا ہے کہ اس کی کوئی ضرورت بھی پوری نہیں ہوئی ہوتی اور وہ (غلط تعریف کر کے) اللہ کو اپنے پر ناراض بھی کر چکا ہوتا ہے۔3