صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا

مسلمان کے بارے میں بد گمانی کرنے سے بچنا

حضرت انسؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ کے زمانے میں ایک آدمی ایک مجلس کے پاس سے گزرا۔ اس آدمی نے سلام کیا جس کا اس مجلس والوں نے جواب دیا۔ جب وہ ان لوگوں سے آگے چلا گیا تو مجلس کے ایک آدمی نے کہا: مجھے تو یہ آدمی بالکل پسند نہیں ہے۔ مجلس کے دوسرے لوگو ں نے کہا: چپ کرو، اللہ کی قسم! ہم تمہاری یہ بات اس آدمی کو ضرور بتائیں گے۔ اے فلانے! جاؤ اور اس نے جو کہا ہے وہ اسے بتا دو۔ (چناںچہ اس نے جا کر اس آدمی کویہ بات بتا دی۔ اس پر) اس آدمی نے جاکر حضورﷺ کو ساری بات بتادی اور اس آدمی نے جو کہا تھا وہ بھی بتا دیا اور یوں کہا: یا رسول اللہ! آپ اسے آدمی بھیج کر بلائیں اور اس سے پوچھیں کہ وہ مجھ سے کیوں بغض رکھتا ہے؟ چناںچہ (اس آدمی کے آنے پر) حضورﷺ نے اس سے پوچھا کہ تم اس آدمی سے کیوں بغض رکھتے ہو؟ اس آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! میں اس کا پڑوسی ہوںاور میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں۔ میں نے اسے کبھی نفل پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، یہ تو بس یہی (فرض) نماز ہی پڑھتا ہے جسے نیک وبد ہر ایک پڑھتا ہے۔ دوسرے آدمی نے کہا: ذرا اس سے یہ پوچھیں کہ کیا کبھی ایساہوا ہے کہ میںنے نماز کا وضو ٹھیک نہ کیا ہو یا نماز کو بے وقت پڑھا ہو؟ اس آدمی نے کہا: نہیں۔ پھر اس آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! میں اس کا پڑوسی ہوں اور اسے اچھی طرح سے جانتا ہوں۔ میں نے اسے کبھی کسی مسکین کو کھانا کھلاتے ہوئے (یعنی نفلی صدقہ کرتے ہوئے) نہیں دیکھا، بس یہ تو صرف زکوٰۃ ادا کرتا ہے جو نیک وبد ہر ایک ادا کر ہی دیتا ہے۔ دوسرے آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! آپ اس سے پوچھیںکہ کیا اس نے مجھے کسی سائل کو منع کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ حضورﷺ نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: نہیں۔ پھر اس آدمی نے کہا: یارسول اللہ! میں اس کا پڑوسی ہوں اور میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں۔ میں نے اسے کبھی نفلی روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ یہ تو بس (رمضان کے) مہینے کے ہی روزے رکھتا ہے جنھیں نیک وبد ہر ایک رکھ ہی لیتا ہے۔ دوسرے آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! آپ اس سے پوچھیں کہ کیا اس نے کبھی یہ دیکھا ہے کہ میں بیمار بھی نہ ہوں اور سفر پر بھی نہ ہوں اور پھر اس دن میں نے روزہ نہ رکھا ہو؟ حضورﷺ نے اس سے اس بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: نہیں۔ اس پر حضورﷺ نے اس سے فرمایا: میرے خیال میں تو یہ آدمی تم سے بہتر ہے (کیوںکہ تم میں کدورت ہے اور اس میں نہیں ہے)۔1