صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا
صلہ رحمی اور قطع رحمی
حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ (نبوّت سے پہلے) قریش شدید قحط میں مبتلا ہوئے حتیٰ کہ انھیں پرانی ہڈیاں تک کھانی پڑیں، اور اس وقت حضورﷺ اور حضرت عباس بن عبد المطّلبؓ سے زیادہ خوش حال قریش میں کوئی نہیں تھا۔ حضورﷺ نے حضرت عباس سے فرمایا: اے چچا جان! آپ جانتے ہی ہیں کہ آپ کے بھائی ابو طالب کے بچے بہت زیادہ ہیں اور آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ قریش پر سخت قحط آیا ہوا ہے۔ آئیے! ان کے پاس جاتے ہیں اور ان کے کچھ بچے ہم سنبھال لیتے ہیں۔ چناںچہ ان دونوں حضرات نے جاکر ابو طالب سے کہا: اے ابو طالب! آپ اپنی قوم کا (برا) حال دیکھ ہی رہے ہیں اور ہمیں معلوم ہے کہ آپ بھی قریش کے ایک فرد ہیں (قحط سے آپ کا حال بھی برا ہو رہا ہے)، ہم آپ کے پاس اس لیے آئیں ہیں تاکہ آپ کے کچھ بچے ہم سنبھال لیں۔ ابو طالب نے کہا: (میرے بڑے بیٹے) عقیل کو میرے لیے رہنے دو اور باقی بچوں کے ساتھ تم جو چاہو کرو۔ چناںچہ حضورﷺ نے حضرت علیؓکو اور حضرت عباس نے حضرت جعفرؓکو لے لیا۔ یہ دونوں ان حضرات کے پاس اس وقت تک رہے جب تک یہ مال دار ہو کر خود کفیل نہ ہوگئے۔ حضرت سلیمان بن داؤد راوی کہتے ہیں کہ حضرت جعفرؓ حضرت عباسؓ کے پاس رہے یہاں تک کہ وہ ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے۔1
حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت جویریہؓ نے حضورﷺ سے عرض کیا: میں یہ غلام آزاد کرنا چاہتی ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم یہ غلام اپنے اس ماموں کو دے دو جو دیہات میں رہتے ہیں، یہ ان کے جانور چرایا کرے گا اس میں تمھیں ثواب زیادہ ملے گا۔2
حضرت ابو سعیدؓ فرماتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی:
{واٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ}3 اور قرابت دار کو اس کا حق (مالی اور غیر مالی) دیتے رہنا۔
حضورﷺ نے فرمایا: اے فاطمہ! فدک بستی (کی آمدنی) تمہاری ہے۔ (فدک بستی حجاز میں مدینہ سے دو تین دن کے فا صلہ پرتھی جو حضورﷺ کو مالِ غنیمت میں ملی تھی)4
حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! میرے کچھ رشتہ دار ہیں جن کے ساتھ میں صلہ رحمی کر تا ہوں لیکن وہ مجھ سے تعلق توڑتے ہیں، میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہوں وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں، میں برداشت کر کے ان سے درگزر کرتا ہوں وہ میرے ساتھ جہالت کا معاملہ کرتے ہیں (بلاوجہ مجھ پر ناراض ہوتے ہیں اور مجھ پرسختی کرتے ہیں)۔ حضورﷺ نے فرمایا: اگر تم ویسے ہی ہو جیسا تم کہہ رہے ہو تو گویا تم ان کے منہ میں گرم راکھ کی پھنکی ڈال رہے ہو (تمہارے حسنِ سلوک کے بدلہ میں برا سلوک کرکے وہ اپنا نقصان کر رہے ہیں)۔ اور جب تک تم ان صفات پر رہو گے اس وقت تک تمہارے ساتھ اللہ کی طرف سے مددگار رہے گا۔1
حضرت عبد اللہ بن عمروؓ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا: یا رسول اللہ! میرے کچھ رشتہ دار ایسے ہیں جن کے ساتھ میں رشتہ جوڑ تا ہوں اور وہ رشتہ توڑتے ہیں، اور میں انھیں معاف کرتا ہوں وہ پھر بھی مجھ پر ظلم کرتے جاتے ہیں، میں ان کے ساتھ ا چھا سلوک کرتا ہوں وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں، تو کیا میں ان کی برائی کا بدلہ برائی سے نہ دوں؟ حضورﷺ نے فرمایا: اس طرح تو تم سب (ظلم میں) شریک ہو جاؤ گے، بلکہ تم فضیلت والی صورت اختیار کرو اور ان سے صلہ رحمی کرتے رہو، جب تک تم ایسا کرتے رہو گے اس وقت تک تمہارے ساتھ ایک مددگار فرشتہ رہے گا۔2
حضرت عثمان بن عفانؓ کے آزادکردہ غلام حضرت ابو ایوب سلیمان ؓکہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ ؓ شبِ جمعہ میں جمعرات کی شام کو ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ہماری اس مجلس میں جو بھی قطع رحمی کرنے والا بیٹھا ہوا ہے، میں اسے پوری تاکید سے کہتا ہوں کہ وہ ہمارے پاس سے اُٹھ کر چلا جائے۔ اس پر کوئی کھڑا نہ ہوا۔ انھوں نے یہ بات تین دفعہ کہی تو اس پر ایک جوان اپنی پھوپھی کے پاس گیا جس سے اس نے دو سال سے تعلقات ختم کر رکھے تھے اور اسے چھوڑا ہوا تھا۔ وہ جب اپنی پھوپھی کے پاس پہنچا تو پھوپھی نے اس سے پوچھا: میاں! تم کیسے آگئے؟ اس نے کہا: میں نے ابھی حضرت ابوہریرہؓ کو ایسے اور ایسے فرماتے ہوئے سنا ہے (اس وجہ سے آیا ہوں)۔ پھوپھی نے کہا: ان کے پاس واپس جا ؤ اور ان سے پوچھو کہ انھوں نے ایسے کیوں فرمایا ہے؟ (اس نوجوان نے واپس جاکر ان سے پوچھا تو) حضرت ابوہریرہ نے فرمایا: میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شبِ جمعہ میں ہر جمعرات کی شام کو تمام بنی آدم کے اعمال اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں (اور انسانوں کے اعمال تو قبول ہو جاتے ہیں، لیکن) قطع رحمی کرنے والے کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا۔1
حضرت اعمش ؓکہتے ہیں کہ ایک دن صبح کی نماز کے بعد حضرت ابنِ مسعودؓ ایک حلقہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے فرمایا: میں قطع رحمی کرنے والے کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ وہ ہمارے پاس سے اُٹھ کر چلا جائے، کیوںکہ ہم اپنے رب سے دعا کرنے لگے ہیں اور آسمان کے دروازے قطع رحمی کرنے والے کے لیے بند رہتے ہیں (تو اس کی وجہ سے ہماری دعا قبول بھی نہ ہوگی)۔