صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا

مسلمان سے اللہ کے لیے محبت کرنا

حضرت براء بن عازبؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریمﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں حضورﷺ نے پوچھا کہ اسلام کا کون سا کڑا سب سے زیادہ مضبوط ہے؟ صحابہ نے کہا: نماز۔ حضورﷺ نے فرمایا: نماز بہت اچھی چیز ہے، لیکن جو میں پوچھ رہا ہوں وہ یہ نہیں ہے۔ صحابہ نے کہا: رمضان کے روزے۔ حضورﷺ نے فرمایا: روزہ بھی اچھی چیز ہے، لیکن یہ وہ نہیں ہے۔ صحابہ نے کہا: جہاد۔ حضورﷺ نے فرمایا: جہاد بھی اچھی چیزہے،لیکن یہ وہ چیز نہیں ہے۔ پھر فرمایا: ایمان کا سب سے مضبوط کڑا یہ ہے کہ تم اللہ کے لیے محبت کرو اور اللہ کے لیے بغض رکھو۔2 حضرت ابو ذرؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کون سا عمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ کسی نے کہا: نماز اور زکوٰۃ، کسی نے کہا: جہاد۔ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب عمل اللہ کے لیے محبت کرنا اور اللہ کے لیے بغض رکھنا ہے۔3 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ صرف متقی آدمی سے محبت کیاکرتے تھے۔4 حضرت عثمان بن ابی العاصؓ فرماتے ہیں: دو آدمی ایسے ہیں کہ جب حضورﷺ کا انتقال ہوا تو حضورﷺ کو ان دونوں سے محبت تھی: ایک حضرت عبد اللہ بن مسعود، دوسرے حضرت عمار بن یاسرؓ۔1 حضرت حسنؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ حضرت عمرو بن عاصؓکو لشکر کا امیر بنا کر بھیجتے تھے اور اس لشکر میں حضورﷺ کے عام صحابہ ہوتے تھے۔ تو کسی نے حضرت عمرو سے کہا: حضورﷺ آپ کو امیر بناتے تھے اور اپنے قریب کرتے تھے اور آپ سے محبت کرتے تھے۔ حضرت عمرو نے کہا: حضورﷺ واقعی مجھے امیر بنایا کرتے تھے، لیکن مجھے یہ معلوم نہیں کہ حضورﷺ اس طرح میرا دل لگانے کے لیے فرماتے تھے یا واقعی حضورﷺ کو مجھ سے محبت تھی، لیکن میں تمھیں ایسے دو آدمی بتاتا ہوں جب حضورﷺ کا انتقال ہوا اس وقت حضورﷺ کو ان سے محبت تھی: ایک حضرت عبد اللہ بن مسعود، اور دوسرے حضرت عمار بن یاسرؓ۔2 ابنِ سعد کی روایت میں اس کے بعد یہ مضمون ہے کہ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ (عمار بن یاسرؓ) جنگِ صفّین کے دن آپ لوگوں کے ہاتھو ں قتل ہوئے تھے۔ حضرت عمروؓ نے کہا: آپ لوگ ٹھیک کہہ رہے ہیں واقعی وہ ہمارے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔3 حضرت اُسامہ بن زیدؓ فرماتے ہیں: میں (حضورﷺ کے دروازے پر) بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں حضرت علی اور حضرت عباسؓ اندر جانے کی اجازت لینے آئے اور یوں کہا: اے اُسامہ! اندر جا کر حضورﷺ سے ہمارے لیے اجازت لے آؤ۔ میں نے اندر جا کر کہا: یارسول اللہ! حضرت علی اور حضرت عبا س اندر آنے کی اجازت چاہ رہے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: تمھیں معلوم ہے وہ دونوں کیوں آئے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: مجھے معلوم ہے، انھیں اندر بھیج دو۔ ان دونوں نے اندر آکر عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ سے یہ پوچھنے آئے ہیں کہ آپ کو اپنے رشتہ داروں میں سے سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: فاطمہ بنتِ محمدؓ۔ انھوں نے کہا: ہم آپ کے گھر والوں کے بارے میں نہیں پوچھ رہے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبو ب وہ شخص ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے اور میں نے بھی اس پر انعام کیا ہے، اور وہ ہے اُسامہ بن زید۔ ان دونوں حضرات نے کہا: ان کے بعد کون؟ حضورﷺ نے فرمایا: پھر علی بن ابی طالب۔ اس پر حضرت عباس نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے اپنے چچا کو تو سب سے آخر میں کر دیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: علی نے آپ سے پہلے ہجرت کی ہے (اور ہمارے ہاں درجہ دین کی محنت کے مطابق بنتا ہے)۔1 حضرت عمرو بن عاصؓ فرماتے ہیں: کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: حضرت عائشہؓ۔ اس آدمی نے پوچھا: اور مردوں میں سے کون؟ حضورﷺ نے فرمایا: ابوبکر۔ اس آدمی نے پوچھا: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: ابو عبیدہؓ۔2 حضرت عمرو بن عاصؓ فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کو لوگوں میں سے سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: عائشہؓ۔ میں نے کہا: میں مردوں میں سے پوچھ رہا ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: ان کے والد۔3 حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضورﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک آدمی گزرا۔ پاس بیٹھے ہوئے اس آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اس آدمی سے محبت ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اسے بتا یا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اسے بتا دو۔ چناںچہ وہ صاحب اس کے پیچھے گئے اور اسے کہا: میں آپ سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں۔ اس آدمی نے جواب میں دعا دی: أَحَبَّکَ الَّذِيْ أَحْبَبْتَنِيْ لَہٗ جس ذات کی وجہ سے تم نے مجھ سے محبت کی وہ تم سے محبت کرے ۔4 حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریمﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک آدمی نے حضورﷺ کے پاس آکر سلام کیا اور پھر واپس چلا گیا۔ میں نے کہا: مجھے اس آدمی سے محبت ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اسے یہ بات بتا دی؟ میں نے کہا: نہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ بات اپنے بھائی کو بتا دو۔ چناںچہ میں اسی وقت وہاں سے چل پڑا اور جا کر اسے سلام کیا، پھر میں نے اس کا کندھا پکڑ کر کہا: اللہ کی قسم! میں آپ سے اللہ کے لیے محبت کر تا ہوں۔ اس نے کہا: میں بھی آپ سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں۔ اور میں نے کہا: اگر حضورﷺ مجھے اس کا حکم نہ دیتے تو میں یہ (بتانے کا) کام نہ کرتا۔1 حضرت عبد اللہ بن سَرجِسؓ فرماتے ہیں: میں نے حضورﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں حضرت ابو ذرؓ سے محبت کرتا ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم نے ان کو یہ بات بتا دی ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: انھیں بتا دو۔ پھر جب میری حضرت ابو ذر سے ملاقات ہوئی تو میں نے کہا: مجھے آپ سے اللہ کے لیے محبت ہے۔ انھوں نے جواب میں مجھے یہ دعا دی: أَحَبَّکَ الَّذِيْ أَحْبَبْتَنِيْ لَہٗ۔پھر میں نے واپس آکر حضورﷺ کو بتایا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اپنی محبت کے بتانے میں بھی اجر و ثواب ملتا ہے۔2 حضرت مجاہد ؓکہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابنِ عباسؓ کے پاس سے گزرا تو حضرت ابنِ عباس نے فرمایا: یہ آدمی مجھ سے محبت کرتا ہے۔ لوگوں نے پوچھا: اے ابو عباس! آپ کو کیسے پتا چلا؟ انھوں نے کہا: اس لیے کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں (کیوںکہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے، اگر تمھیں کسی سے محبت ہو تو سمجھ لو کہ اسے بھی تم سے محبت ہے)۔3 حضرت مجاہد ؓکہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے ایک صحابی مجھ سے ملے اور پیچھے سے میرا کندھا پکڑ کر انھوں نے کہا: غور سے سنو! میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ میں نے جواب میں یہ دعا دی: أَحَبَّکَ الَّذِيْ أَحْبَبْتَنِيْ لَہٗ۔ پھر انھوں نے کہا: حضورﷺ نے فرمایاہے کہ جب کسی آدمی کو کسی سے محبت ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اسے بتا دے۔ اگر حضورﷺ نے یہ نہ فرمایا ہوتا تو میں تمھیں نہ بتاتا۔ پھر مجھے وہ شادی کا پیام دینے لگے اور یوں کہا: دیکھو! ہمارے ہاں ایک لڑکی ہے (اور تو اس میں بہت خوبیاں ہے بس ایک خرابی ہے کہ) وہ کانی ہے (یعنی اس کا عیب بھی بتا دیا تاکہ معاملہ صاف رہے)۔1 حضرت مجاہد ؓکہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمرؓ نے مجھ سے فرمایا کہ اللہ کے لیے محبت کرو اور اللہ کے لیے بغض رکھو، اور اللہ کے لیے دوستی کرو اور اللہ کے لیے دشمنی کرو، کیوںکہ اللہ کی دوستی اور قرب صرف ان ہی صفات سے حاصل ہو سکتا ہے۔ جب تک آدمی ایسا نہ بن جائے گا وہ چاہے کتنی نمازیں پڑھ لے اور چاہے کتنے روزے رکھ لے ایمان کا مزا نہیں چکھ سکتا۔ اب تو لوگوں کا بھائی چارہ دنیا وی اُمور کی وجہ سے رہ گیا ہے۔2