صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا

اندر آنے کی اجازت مانگنا

حضرت انسؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ جب سلام فرماتے تو تین دفعہ فرماتے۔ (یعنی اجازت مانگنے کے لیے گھر سے باہر تین دفعہ سلام زور سے فرماتے، اجازت مل جاتی تو ٹھیک ورنہ باہر سے واپس چلے جاتے۔ یا مطلب یہ ہے کہ جب مجمع زیادہ ہوتا تو سارے مجمع کو سنانے کے لیے حضورﷺ تین دفعہ سلام فرماتے دائیں طرف اور بائیں طرف اور سامنے۔ یا مطلب یہ ہے کہ حضورﷺ جب کسی کو ملنے اس کے گھر جاتے تو تین مرتبہ سلام فرماتے (ایک اجازت لینے کے لیے اور دوسرا اندر جاتے وقت اور تیسرا واپسی کے وقت) اور جب کوئی (اہم) بات فرماتے تو تین مرتبہ فرماتے (تاکہ کم سے کم سمجھ والا بھی بات سمجھ جائے)۔2 حضرت قیس بن سعدؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ ہمیں ملنے کے لیے ہمارے گھر تشریف لائے۔ چناںچہ حضورﷺ نے (اجازت کے لیے باہر سے) فرمایا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔ میرے والد نے (حضورﷺ کے سلام کا) جواب آہستہ سے دیا۔ میں نے کہا: کیا آپ اللہ کے رسول ﷺ کو اجازت دینا نہیں چاہتے؟ انھوں نے کہا: ذرا حضورﷺ کو بار بار سلام کرنے دو۔ حضورﷺ نے پھر فرمایا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ۔ (میرے والد) حضرت سعد نے پھر آہستہ سے جواب دیا۔ حضورﷺ نے پھر فرمایا: اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ!اور اس کے بعد حضورﷺ واپس چل پڑے۔ حضرت سعد حضور ﷺ کے پیچھے گئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کا ہر سلام سنا ہے اور ہر سلام کاآہستہ سے جواب دیا ہے، بس آہستہ اس لیے جواب دیا تاکہ آپ بار بار سلام کریں۔ چناںچہ حضورﷺ ان کے ساتھ واپس آئے۔ حضرت سعد نے حضورﷺ کے لیے نہانے کا پانی تیار کروایا جس سے حضورﷺ نے غسل کیا۔ پھر حضرت سعد نے حضورﷺ کو زعفران یا ورس (خوش بو دار گھاس) میں رنگی ہوئی چادر دی جسے حضورﷺ نے اوڑھ لیا۔ پھر حضورﷺ نے ہاتھ اٹھا کر یہ دعا مانگی: اے اللہ! تو اپنی رحمتیں اور مہربانی خاندانِ سعد پر نازل فرما۔ پھر حضورﷺ نے کچھ کھانا نوش فرمایا۔ پھر جب حضورﷺ نے واپسی کا ارادہ فرمایا تو حضر ت سعدنے حضورﷺ کے سامنے ایک گدھا پیش کیا جس پر ایک عمدہ چادر ڈال کر تیار کیا گیا تھا۔ حضرت سعد نے کہا: اے قیس! اللہ کے رسولﷺ کے ساتھ جاؤ۔ میں ساتھ چل پڑا۔ حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا: میرے ساتھ سوار ہوجاؤ۔ میں نے انکارکیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: یا تو سوار ہوجاؤ یا واپس چلے جاؤ۔ اس پر میں واپس چلا گیا۔1 حضرت رِبعی بن حِراشؓ فرماتے ہیں: مجھے بنو عامر کے ایک آدمی نے یہ قصہ سنایا کہ میں نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: کیا میں اندر آجاؤں؟ حضورﷺ نے باندی سے فرمایا: باہر جا کر اس آدمی سے کہو کہ وہ یوں کہے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کیا میں اندر آجاؤں؟ اس نے اندر آنے کی اجازت لینے میں اچھا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ میں نے حضورﷺ کی یہ بات باہر سے سن لی اور باندی کے باہر آنے سے پہلے میںنے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کیا میں اندر آجاؤں؟ حضورﷺ نے فرمایا: وَعَلَیْکَ اندر آجاؤ۔ آگے اور حدیث بھی ذکر کی۔2 حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں: حضور ﷺ اپنے بالا خانے میں تھے کہ حضرت عمرؓ آئے اور انھوں نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔ کیا عمر اندر آجائے؟3 خطیب نے اس واقعہ کو ان الفاظ میں ذکر کیا ہے کہ حضرت عمرؓ نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِيُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ ۔ کیا عمر اندر آجائے؟4 حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ سے تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت مانگی، پھر حضورﷺ نے مجھے اجازت دی۔1 حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے آدمی بھیج کر ہمیں بلایا، ہم لوگ آئے اور ہم نے اجازت مانگی۔2 حضرت سفینہؓ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریمﷺ کے پاس تھا کہ اتنے میں حضرت علیؓ آئے اور انھوں نے اجازت لینے کے لیے دروازہ آہستہ سے کھٹکھٹایا۔ حضورﷺ نے فرمایا: ان کے لیے (دروازہ) کھول دو۔3 حضرت سعد بن عبادہؓ نے دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر اندر آنے کی اجازت مانگی۔ حضورﷺ نے ان سے فرمایا: دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر اجازت مت مانگو۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت سعدؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ گھر میں تھے، میں آکر دروازے کے سامنے کھڑا ہوگیا اور میں نے اجازت مانگی۔ حضورﷺ نے فرمایا: ذرا پرے ہٹ جاؤ۔ (میں پرے ہٹ گیا) اور پھر آکر میں نے اجازت مانگی۔ حضورﷺ نے فرمایا: اِجازت لینے کی ضرورت تو صرف نگاہ ہی کی وجہ سے ہوتی ہے۔4 حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضورﷺ کے ایک حجرہ میں جھانکا (حضورﷺ نے دیکھ لیا)۔ حضورﷺ ایک تیر یا کئی تیر کے پھل لے کر اس کی طرف کھڑے ہو کر لپکے، میں آپ کو دیکھ رہا تھا کہ گویا آپ اسے اچانک چوکے مارنے کے لیے موقع تلا ش کر رہے تھے۔5 حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضورﷺ کے دروازے کے سوراخ میں سے جھانکا۔ اس وقت حضورﷺ کے ہاتھ میں ایک کنگھی تھی جس سے آپ سر کھجا رہے تھے۔ جب حضورﷺ نے اسے (جھانکتے ہوئے دیکھ لیا) تو فرمایا: اگر مجھے پتا ہوتا کہ تم مجھے دیکھ رہے ہو تو میں یہ کنگھی تمہاری آنکھ میں مار دیتا۔ نگاہ کی وجہ سے ہی اجازت لینے کا حکم دیا گیا ہے۔1 حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ میں انصار کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں حضرت ابو موسیٰؓ گھبرائے ہوئے آئے اور کہنے لگے: میں نے حضرت عمرؓ سے تین مرتبہ اجازت مانگی لیکن مجھے اجازت نہ ملی، آخر میں واپس آگیا۔ حضرت عمر نے (حضرت ابوموسیٰ کو بلایا اور) فرمایا: آپ اندر کیوں نہیں آگئے؟ حضرت ابو موسیٰ نے کہا: میں نے تین مرتبہ اجازت مانگی تھی لیکن مجھے اجازت نہ ملی تو میں واپس آگیا، اور حضورﷺ نے فرمایاہے کہ جب تم میں سے کوئی تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو اسے چاہیے کہ وہ واپس چلا جائے۔ حضرت عمر نے کہا: تمھیں اس پر گواہ پیش کرنے ہوں گے۔ کیا آپ لوگوں میں سے کسی نے حضورﷺ سے یہ بات سنی ہے؟ حضرت اُبیّ ؓ نے فرمایا: (ہم سب نے حضورﷺ سے یہ حدیث سنی ہے اس لیے) آپ کو یہ حدیث سنانے کے لیے ہم لوگوں میں سے سب سے کم عمر آدمی ہی کھڑا ہوگا۔ میں سب سے چھوٹا تھا میں نے کھڑے ہو کر حضرت عمر کو بتایا کہ حضورﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی۔2 حضرت عبید بن عمیر راوی نے حضرت عمرؓ کا یہ جملہ نقل کیا ہے کہ حضورﷺ کی یہ بات مجھ سے واقعی چھپی رہی، بس بازاروں میں خرید وفروخت میں مشغول رہا۔3 حضرت ابو موسیٰؓ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تین مرتبہ اجازت مانگی مجھے اجازت نہ ملی۔ میں واپس چل پڑا۔ حضرت عمر نے آدمی بھیج کر مجھے بلایا۔ (میں آگیا) تو مجھ سے فرمایا: اے اللہ کے بندے! آپ کو میرے دروازے پر انتظار کرنا بڑا مشکل لگا۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے لوگوں کو آپ کے دروازے پر انتظار کرنا ایسے ہی مشکل لگتا ہے۔ میں نے کہا: (نہیں، میں اس وجہ سے واپس نہیں گیا) بلکہ میں نے آپ سے تین دفعہ اجازت مانگی تھی جب نہ ملی تو میں واپس چلا گیا۔ حضرت عمر نے کہا: آپ نے یہ بات کس سے سنی ہے (کہ تین دفعہ میں اجازت نہ ملے تو آدمی واپس چلاجائے؟) میں نے کہا: میں نے یہ بات نبی کریمﷺ سے سنی ہے۔ حضرت عمر نے کہا: یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو بات ہم نے حضورﷺ سے نہ سنی ہو وہ آپ حضورﷺ سے سن لیں؟ اگر آپ اس پر گواہ نہ لائے تو میں آپ کو عبرتناک سزا دوں گا۔ میں وہاں سے باہر آیا اور چند انصار مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے میں ان کے پاس آیا۔ میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: کیا اس میں کسی کو شک ہے؟ میں نے انھیں حضرت عمر کی بات بتائی تو انھوں نے کہا: آپ کے ساتھ ہمارا سب سے کم عمر آدمی ہی جائے گا۔ اس پر میرے ساتھ حضرت ابو سعید خدری یاحضرت ابو مسعودؓ کھڑے ہو کر میرے ساتھ حضرت عمر تک گئے اور وہاں جاکر انھوں نے یہ واقعہ سنایا کہ حضورﷺ ایک مرتبہ حضرت سعد بن عبادہؓ کو ملنے گئے ہم بھی آپ کے ساتھ گئے، وہاں پہنچ کر حضورﷺ نے سلام کیا لیکن حضورﷺکو (اندر آنے کی) اجازت نہ ملی۔ پھر حضورﷺ نے دوبارہ سلام کیا، پھر تیسری مرتبہ سلام کیا، لیکن حضورﷺ کو اجازت نہ ملی۔ تو حضورﷺ نے فرمایا: جو ہماے ذمہ تھا وہ ہم نے کر دیا۔ اس کے بعد حضورﷺ واپس آگئے۔ پیچھے سے حضرت سعدؓ حضورﷺ کی خدمت میںپہنچے اور انھوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا! آپ نے جتنی مرتبہ سلام کیا میں نے ہر مرتبہ آپ کا سلام سنا اور میں نے ہر دفعہ جواب دیا، لیکن میں چاہتا تھا کہ آپ مجھے اور میرے گھر والوں کو بار بار سلا م کریں (اس لیے میں آہستہ جواب دیتا رہا)۔ اس پر حضرت ابو موسیٰ نے کہا: اللہ کی قسم: میں حضورﷺ کی حدیث کے بارے میں پوری امانت داری سے کام لینے والا ہوں۔ حضرت عمر نے فرمایا: ہاں! (میں آپ کو ایسا ہی سمجھتا ہوں) لیکن میں نے چاہا کہ (مزید اطمینان کے لیے) اچھی طرح سے اس کی تحقیق ہو جائے۔1 حضرت عامر بن عبد اللہؓ فرماتے ہیں کہ ان کی ایک باندی حضرت زبیرؓکی بیٹی کو لے کر حضرت عمر بن خطّابؓ کے پاس گئی اور اس نے (دروازے پر پہنچ کر) کہا: کیا میں اندر آجاؤں؟ حضرت عمر نے فرمایا: نہیں۔ وہ واپس چلی گئی تو حضرت عمر نے فرمایا: اسے بلاؤ اور اسے کہو کہ وہ (اجازت لینے کے لیے) یوں کہے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔ کیا میں اندر آجاؤں؟ 1 حضرت اسلم ؓکہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عمرؓ نے فرمایا: اے اسلم! میرے دروازے پر پہرا دیا کرو اور کسی سے کوئی چیز ہرگز نہ لینا۔ ایک دن انھوں نے میرے جسم پر نئے کپڑے دیکھے تو پوچھا: یہ کپڑے تمھیں کہاں سے مل گئے؟ میں نے کہا: حضرت عبیداللہ بن عمرؓ نے مجھے دیے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: حضرت عبید اللہ سے تو لے لیا کرو اور کسی سے ہرگز نہ لینا۔ پھر میں ایک دن دروازے پر کھڑا (پہرا دے رہا) تھا کہ حضرت زبیرؓ آئے۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ میں اندر چلا جاؤں؟ میں نے کہا: امیر المؤمنین کچھ دیر کے لیے مشغول ہیں۔ حضرت زبیر نے ہاتھ اٹھا کر اس زور سے میرے کانوں کے پیچھے مارا کہ میری چیخ نکل گئی۔ میں حضرت عمر کے پاس اندر گیا۔ انھوں نے کہا: تمھیں کیا ہوا؟ میں نے کہا: حضرت زبیر نے مجھے مارا ہے اور ان کی ساری بات حضرت عمر کو بتا دی۔ اس پر حضرت عمر فرمانے لگے: اللہ کی قسم! میں زبیر کو دیکھ لوں گا۔ پھر فرمایا: انھیں اندر بھیج دو۔ میں نے انھیں حضرت عمر کے پاس اندر بھیج دیا۔ حضرت عمر نے فرمایا: آپ نے اس غلا م کو کیوں مارا؟ حضرت زبیر نے کہا: یہ کہہ رہا تھا کہ میں تم لوگوں کو اندر نہیں جانے دوں گا۔ حضرت عمر نے فرمایا: کیا اس سے پہلے اس نے کبھی میرے دروازے سے آپ کو واپس کیا ہے؟ حضرت زبیر نے کہا: نہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: تو اگر اس نے آپ سے کہا تھا کہ تھوڑی دیر انتظار کرلیں کیوںکہ امیر المؤمنین ذرا مشغول ہیں، تو آپ انتظار کر لیتے اور مجھے معذور سمجھ لیتے۔ اللہ کی قسم! جب کسی درندے کو زخمی کر دیا جاتا ہے تو باقی درندے اسے کھا جاتے ہیں (آپ نے اسے مارا ہے تو دوسرے بھی مارنے لگ جائیں گے)۔2 حضرت زید بن ثابتؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر بن خطّابؓ میرے پاس آئے اور انھوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی، میں نے انھیں اجازت دے دی۔ میری باندی میرے سر میںکنگھی کر رہی تھی، میں نے اسے روک دیا۔ حضرت عمر نے فرمایا: نہیں، اسے کنگھی کرنے دو۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! اگر آپ میرے پاس پیغام بھیج دیتے تو میں خود ہی آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتا۔ حضرت عمر نے فرمایا: نہیں، ضرورت تو مجھے ہے (اس لیے مجھے ہی آنا چاہیے تھا)۔1 ایک صاحب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ فجر کی نماز کے بعد ہم لوگوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ انھوں نے ہمیں اجازت دے دی اور اپنی بیوی پر ایک چادر ڈال دی اور فرمایا: میں نے اسے پسند نہ کیا کہ تم لوگوں سے انتظار کرواؤں۔2 حضرت موسیٰ بن طلحہؓ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ اپنی والدہ کے پاس جانے لگا تو والد صاحب (کمرے کے) اندرداخل ہوگئے۔ میں بھی ان کے پیچھے اندر جانے لگا تو وہ میری طرف مڑے اور اس زور سے میرے سینے پر مارا کہ میں سرین کے بل گر گیا۔ پھر فرمایا: کیا تم اجازت لیے بغیر اندر آرہے ہو؟3 حضرت مسلم بن نذیر ؓکہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت حذیفہؓ سے اجازت مانگی اور اندر جھانک کر کہا: میں اندر آجاؤں؟ حضرت حذیفہ نے فرمایا: تیری آنکھ تو اندر آچکی ہے ہاں تیری سرین ابھی اندر نہیں آئی۔ اور ایک آدمی نے کہا: کیا میں اپنی ماں سے بھی اندر آنے کی اجازت لوں؟ حضرت حذیفہ نے فرمایا: اگر والدہ سے اجازت نہ لو گے تو (کبھی تم اپنی والدہ کو) ایسی حالت میں دیکھو گے جو تمھیں بالکل اچھی نہ لگے گی۔4 حضرت ابوسُوَید عبد ی ؓکہتے ہیں: ہم حضرت ابنِ عمرؓ کے پاس گئے اور جا کر ہم ان کے دروازے پر بیٹھ گئے تاکہ ہمیں اندر جانے کی اجازت مل جائے۔ جب اجازت ملنے میں دیر ہوگئی تو میں کھڑے ہو کر دروازے کے سوراخ سے اندر دیکھنے لگ گیا۔ حضرت ابنِ عمر کو اس کا پتا چل گیا۔ جب انھوں نے ہمیں اجازت دے دی تو ہم اندر جا کر بیٹھ گئے۔ انھوں نے فرمایا: ابھی تم میں سے کون میرے گھر میں جھانک رہا تھا؟ میں نے کہا: میں۔ انھوں نے فرمایا: تم نے میرے گھر میں جھانکنا کس وجہ سے جائز سمجھا؟ میں نے کہا: اجازت ملنے میں دیر ہو رہی تھی اس لیے میں نے دیکھ لیا، مستقل دیکھنے کا ارادہ نہیں تھا۔ پھر ساتھیوں نے ان سے کئی باتیں پوچھیں۔ میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ جہاد کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ انھوں نے فرمایا: جو جہاد کر ے گا وہ اپنے لیے کرے گا۔1