صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا

مسلمان سے بات چیت چھوڑ دینا اور تعلقات ختم کر لینا

حضورﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہؓ کے ماں زاد بھائی حضرت طفیل کے بیٹے حضرت عوفؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے کچھ خریدا یا کچھ ہدیہ میں دیا تو ان کو پتا چلا کہ (ان کے بھانجے) حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے اس پر یہ کہا ہے کہ اللہ کی قسم! (یوں کھلا خرچ کرنے سے) یا تو حضرت عائشہ ازخود رک جائیں ورنہ میں ان پر پابندی لگا کر انھیں روک دوں گا۔ حضرت عائشہؓ نے پوچھا: کیا حضرت عبد اللہ نے یہ بات کہی ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ حضرت عائشہ نے کہا: میں اللہ کے لیے نذرمانتی ہوں کہ میں ابنِ زبیر سے کبھی بات نہیں کروں گی۔ جب (بات چیت چھوڑے ہوئے) کافی دن ہوگئے توحضرت ابنِ زبیر نے کسی کو اپنا سفارشی بنا کر حضرت عائشہؓ کے پاس بھیجا۔ حضرت عائشہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں ابنِ زبیر کے بارے میں نہ تو کسی کی سفارش قبول کروں گی اور نہ اپنی نذر توڑوں گی۔ جب حضرت ابنِ زبیر نے دیکھا کہ بہت زیادہ عرصہ گزر گیا ہے تو انھوں نے قبیلہ بنی زہرہ کے حضرت مِسْوَر بن مخرمہ اور حضرت عبد الرحمن بن اَسود بن عبدِیغوثؓ سے بات کی، اور ان سے کہا: میں آپ دونوں کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہو ں کہ آپ لوگ مجھے عائشہ کے پاس ضرور لے جائیں، کیوںکہ مجھ سے قطع تعلق کرلینے کی نذر ماننا حضرت عائشہ کے لیے جائز نہیں ہے۔ چناںچہ یہ دونوں حضرات اپنی چادروں میں لپٹے ہوئے حضرت ابنِ زبیر کو لے کر آئے اور حضرت عائشہؓ سے اجازت مانگی اور یوں کہا: اَلسَّلاَمُ عَلَیْکِ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ۔ کیا ہم اندر آجائیں؟ حضرت عائشہ نے کہا: آجاؤ۔ ان حضرات نے کہا: کیا ہم سب اندر آجائیں؟ حضرت عائشہ نے کہا: ہاں! سب آجاؤ۔ انھیں پتا نہیں تھا کہ ان دونوں کے ساتھ حضرت ابنِ زبیر بھی ہیں۔ جب یہ حضرات اندر آئے تو حضرت ابنِ زبیر پردے کے اندر چلے گئے اور حضرت عائشہ سے لپٹ گئے اور انھیں اللہ کا واسطہ دے کر رونے لگ گئے، اور حضرت مِسْوَر اور حضرت عبد الرحمن بھی انھیں واسطہ دینے لگے کہ وہ ابنِ زبیر سے ضرور بات کر لیں اور ان کے عذر کو قبول کرلیں۔ اور یوں کہا: آپ کو معلوم ہے کہ حضورﷺ نے کسی مسلمان سے قطع تعلق کر لینے سے منع فرمایا ہے اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ جب ان حضرات نے (صلہ رحمی اور معاف کرنے کے) فضائل بار بار یاد دلائے اور مسلمان سے قطع تعلق کر لینے کی ممانعت کا بار بار ذکر کیا تو حضرت عائشہؓ ان دونوں کو سمجھانے لگیں اور رونے لگیں اور کہنے لگیں کہ میں نے نذر مان رکھی ہے اور نذر کو توڑنا بہت سخت ہے۔ لیکن وہ دونوں حضرات اِصرار کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت عائشہؓ نے حضرت ابنِ زبیر سے بات کر ہی لی اور اپنی قسم کے توڑنے کے کفارے میں چالیس غلام آزاد کیے۔ اور جب انھیں اپنی یہ قسم یاد آتی تو اتنا روتیں کہ ان کا دوپٹہ آنسوؤں سے گیلا ہو جاتا۔1 حضرت عروہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ اورحضرت ابوبکرؓ کے بعد حضرت عائشہؓ کو تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبت حضرت عبد اللہ بن زبیر سے تھی (کیوںکہ حضرت عائشہ نے اپنے اس بھانجے کی تربیت خود کی تھی) اور وہ بھی حضرت عائشہ کے ساتھ تمام لوگوں سے زیادہ اچھا سلوک کرتے تھے۔ حضرت عائشہؓ کی عادت یہ تھی کہ جو کچھ بھی آتا تھا وہ سارے کا سارا صدقہ کر دیتی تھیں کچھ بچا کر نہیں رکھتی تھیں۔ اس پر حضرت ابنِ زبیر نے کہا: حضرت عائشہ کے ہاتھوں کو اتنا زیادہ خرچ کرنے سے روکنا چاہیے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا: کیا میرے ہاتھوں کو روکا جائے گا؟ میں بھی قسم کھاتی ہوں کہ میں ان سے کبھی بات نہیں کروں گی۔ حضرت ابنِ زبیر (بہت پریشان ہوئے اور) انھوں نے قریش کے بہت سے آدمیوں کو اور خاص طور پر حضورﷺ کے ننھیال والوں کو اپنا سفارشی بنا کر حضرت عائشہ کی خدمت میں بھیجا، لیکن حضرت عائشہ نے کسی کی سفارش قبول نہ کی۔ آخر حضورﷺ کے ننہیال میں سے قبیلہ بنو زہرہ کے حضرت عبد الرحمن بن اَسود بن عبدِیغوث اور حضرت مِسْوَر بن مخرمہؓ نے حضرت ابنِ زبیر سے کہا: جب ہم اجازت لے کر اندر جانے لگیں تو تم پردہ کے اندر چلے جانا۔ چناںچہ انھوں نے ایسا ہی کیا (آخر حضرت عائشہؓ ان سے راضی ہوگئیں اور انھوں نے اپنی قسم توڑ دی)۔ پھر حضرت ابنِ زبیر نے حضرت عائشہؓ کی خدمت میں دس غلام بھیجے جنھیں حضرت عائشہ نے (قسم توڑنے کے کفارے میں) آزاد کر دیا اور بعد میں بھی اورغلام آزاد کرتی رہیں یہاں تک کہ چالیس غلام آزاد کر دیے اور فرمایا: (چالیس غلام آزاد کر کے بھی اطمینان نہیں ہو رہا ہے اس لیے) اچھا تو یہ تھا کہ میں نذر میں اپنے ذمہ کوئی عمل مقرر کر لیتی تاکہ اسے کر کے میں مطمئن ہو جاتی۔ (مثلاً یوں کہتی: اگر میں ابنِ زبیر سے بات کروں تو دو غلام آزاد کروں گی تو اب دو آزاد کر کے میں مطمئن ہو جاتی۔ میں نے تو صرف یہ کہا کہ میں نذر مانتی ہوں کہ ابنِ زبیر سے بات نہیں کروں گی اور اس میں عمل کی کوئی مقدار مقرر نہیں کی)1