صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا

حضورﷺ کے گھر والوں کا اکرام کرنا

حضرت یزید بن حیان ؓ کہتے ہیں کہ میں، حضرت حُصَین بن سَبُرہ اور حضرت عمرو بن مسلم تینوں حضرت زید بن اَرقمؓ کی خدمت میںگئے۔ جب ہم ان کے پاس بیٹھ گئے تو حضرت حُصَین نے ان کی خدمت میں عرض کیا: اے حضرت زید! آپ نے بہت زیادہ خیر کی باتیں دیکھی ہیں۔ آپ نے حضورﷺ کو دیکھا ہے، ان کی حدیث کو سنا ہے، ان کے ساتھ غزوات میں شریک ہوئے ہیں، ان کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں۔ اے حضرت زید! آپ نے بہت زیادہ خیرکی باتیں دیکھی ہیں۔ اے حضرت زید! حضورﷺ سے سنی ہوئی کوئی حدیث ہمیں بھی سنا دیں۔ حضرت زید نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! اللہ کی قسم! میری عمر زیادہ ہوگئی ہے اور بڑا عرصہ گزر گیا ہے۔ حضورﷺ کی جو باتیں میں نے یاد کی تھیںاور سمجھی تھیںان میں سے کچھ مجھے بھول گئی ہیں، لہٰذا جو حدیث میں تمھیں سناؤں وہ تو تم سن لو اور جو میں تمھیں سنا نہ سکوں اس پر تم مجھے مجبور نہ کرو۔ پھر انھوں نے فرمایا: ایک دن حضورﷺ نے مکہ اور مدینہ کے درمیان خُم نامی چشمہ کے پاس ہم لوگوں میں کھڑے ہو کر بیان فرمایا۔ پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی، پھر وعظ ونصیحت فرمائی، پھر فرمایا: اَما بعد! اے لوگو! غور سے سنو! میں ایک بشر ہی ہوں۔ عنقریب میرے ربّ کا قاصد (ملک الموت) مجھے بلانے آئے گا جس پر میں چلا جاؤں گا۔ میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں: ایک اللہ کی کتاب (یعنی قرآن مجید) ہے اس میں ہدایت اور نور ہے، لہٰذا اس کتاب کو لو اور اسے مضبوطی سے پکڑو۔ پھر آپ نے قرآنِ کریم کے بارے میں خوب ترغیب دی۔ پھر فرمایا: دوسری چیز میرے گھر والے ہیں۔ میں تمھیں اپنے گھر والوں کے بارے میں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ میں تمھیں اپنے گھر والوں کے بارے میں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ حضرت حُصَین نے پوچھا: اے حضرت زید! حضورﷺ کے گھر والے کون ہیں؟ کیا حضور ﷺ کی بیویاں حضورﷺ کے گھر والوں میں سے نہیں ہیں؟ انھوں نے کہا: حضورﷺ کی بیویاں حضورﷺ کے گھر والوں میں سے ہیں، لیکن حضورﷺ کے اصل گھر والے وہ ہیں جن کو حضورﷺ کے بعد زکوٰۃ، صدقہ لینا حرام ہے۔ حضرت حُصَین نے پوچھا: وہ کون ہیں؟ حضرت زید نے فرمایا: آلِ علی، آلِ عقیل، آلِ جعفر اور آلِ عباس ہیں۔ حضرت حُصَین نے پوچھا: کیا ان سب کو زکوٰۃ، صدقہ لینا حرام ہے؟ انھوں نے فرمایا: ہاں۔1 حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا: حضرت محمدﷺ کے گھر والوں کے بارے میں حضورﷺ کی نسبت کا خیال رکھو۔1 اُمّ المؤمنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے آپ کے پہلو میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ؓ بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں حضرت عباس ؓ سامنے سے آئے۔ ان کو دیکھ کر حضرت ابو بکر نے بیٹھنے کی جگہ بنا دی۔ چناںچہ وہ حضور ﷺ اور حضرت ابو بکر کے سامنے بیٹھ گئے۔ اس پر حضورﷺ نے حضرت ابو بکر سے فرمایا: فضیلت والوں کی فضیلت کو فضیلت والے ہی جانتے ہیں۔ پھر حضرت عباس حضور ﷺ سے بات کرنے لگے تو حضورﷺ نے اپنی آواز کو بہت ہی زیادہ پست کرلیا۔ اس پر حضرت ابو بکر نے حضرت عمر سے کہا: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ کو اچانک سخت بیماری پیش آگئی ہے (جس کی وجہ سے حضورﷺ آواز اونچی نہیں کر پا رہے ہیں) میرے دل کو اس بیماری سے سخت پریشانی ہے۔ حضرت عباس حضورﷺ کے پاس بیٹھے باتیں کرتے رہے، اور جب کام پورا ہوگیا تو وہ واپس چلے گئے۔ پھر حضرت ابو بکر نے حضورﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا آپ کو ابھی کوئی بیماری پیش آگئی تھی؟ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں۔ حضرت ابو بکر نے کہا: میں نے دیکھا کہ آپ نے اپنی آواز بہت پست کرلی تھی۔ حضورﷺ نے فرمایا: حضرت جبرائیل نے مجھے حکم دیا ہے کہ جب حضرت عباس آیا کریں تو میں اپنی آواز پست کرلیا کروں جیسے حضرت جبرائیل نے تمھیں حکم دیا ہے کہ تم میرے سامنے اپنی آواز پست کر لیا کرو۔2 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ کی مجلس میں حضرت ابو بکر ؓ کے لیے بیٹھنے کی ایک خاص جگہ تھی۔ وہاں سے وہ صرف حضرت عباس کے لیے اٹھاکرتے تھے۔ حضرت عباس کے اس اکرام سے حضورﷺ کو بہت خوشی ہوتی تھی۔ ایک دن حضرت عباس سامنے سے آئے، انھیں دیکھ کر حضرت ابو بکر اپنی جگہ سے ہٹ گئے۔ حضورﷺ نے ان کو فرمایا: تمھیں کیا ہوا؟ انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کے چچا سامنے سے آرہے ہیں۔ حضور ﷺ نے حضرت عباس کی طرف دیکھا،پھر مسکراتے ہوئے حضرت ابو بکر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: یہ عباس سامنے آرہے ہیں، انھوں نے سفید کپڑے پہن رکھے ہیں، لیکن ان کی اولاد ان کے بعد کالے کپڑے پہنے گی اور ان کی اولاد میں سے بارہ آدمی بادشاہ بنیں گے۔ جب حضرت عباس پہنچ گئے تو انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے ابو بکر کو کچھ فرمایا ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: میں نے ان کو خیر کی ہی بات کہی ہے۔ حضرت عباس نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ ٹھیک فرما رہے ہیں۔ آپ ہمیشہ خیر ہی کی بات فرمایا کرتے ہیں (لیکن ذرا مجھے بتا دیں کہ آپ نے کیا فرمایا ہے)۔ حضور ﷺ نے فرمایا: میں نے کہا تھا میرے چچا عباس آرہے ہیں انھوں نے سفید کپڑے پہن رکھے ہیں اور ان کی اولاد ان کے بعد سیاہ کپڑے پہنے گی اور ان میں سے بارہ آدمی بادشاہ بنیں گے۔1 حضرت جعفر بن محمد ؓ کے دادا (جو کہ صحابی ہیں) فرماتے ہیں: جب حضور ﷺ مجلس میں تشریف فرما ہوتے تو حضرت ابوبکر ؓ حضورﷺ کے دائیں طرف، حضرت عمر ؓ حضور ﷺ کے بائیں طرف اور حضرت عثمانؓ حضورﷺ کے سامنے بیٹھتے اور حضرت عثمان حضورﷺ کی راز کی باتیں لکھا کرتے تھے۔ جب حضرت عباس بن عبد المطّلبؓ آتے تو حضرت ابو بکر اپنی جگہ سے ہٹ جاتے اور وہاں حضرت عباس بیٹھ جاتے۔2 حضرت مطّلب بن ربیعہ ؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عباسؓ حضورﷺ کی خدمت میں آئے۔ حضرت عباس غصہ میں تھے۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا بات پیش آئی؟ انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم بنو ہاشم کا اور قریش کا کیا بنے گا؟ حضورﷺ نے پوچھا: تمھیں ان کی طرف سے کیا بات پیش آئی ہے؟ حضرت عباس نے کہا: جب وہ آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو بڑی بشاشت سے کھل کر ملتے ہیں، اور ہم سے ملتے وقت ان کی یہ حالت نہیں ہوتی ہے۔ یہ سن کر حضورﷺ کو اتنا غصہ آگیا کہ دونوں آنکھوں کے درمیان کی رگ پھول گئی۔ جب آپ کا غصہ کم ہوا تو آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے! کسی آدمی کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ تم (بنو ہاشم) سے اللہ ورسول کی وجہ سے محبت نہ کرے۔ پھر آپ نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ مجھے عباس کے بارے میں تکلیف دیتے ہیں، آدمی کا چچا اس کے باپ کی مانند ہوتا ہے۔1 حضرت عباس بن عبد المطّلبؓ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ قریشی لوگ آپس میں ہنس مکھ اور اچھے چہرے کے ساتھ ملتے ہیں، اور ہم سے ایسے اجنبی چہروں کے ساتھ ملتے ہیں کہ جیسے ہم ان کو جانتے نہ ہو ں۔ حضورﷺ کو یہ سن کر بہت زیادہ غصہ آگیا اور آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے! آدمی کے دل میں ایمان اسی وقت داخل ہوگا جب وہ تم (بنو ہاشم) سے اللہ ورسول کی وجہ سے محبت کرے گا۔2 حضرت عِصْمہؓ فرماتے ہیں: ایک دن حضرت عباس بن عبد المطلبؓ مسجد میں گئے تو انھیں لوگوں کے چہروں میں ناگواری نظر آئی۔ وہ حضورﷺ کی خدمت میں گھر واپس گئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! نہ معلوم مجھ سے کیاقصور ہوگیا ہے؟ جب بھی مسجد میں جاتا ہوں مجھے لوگوں کے چہروں میں ناگواری نظر آتی ہے۔ آپ مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا: اے لوگو! جب تک تم عباس سے محبت نہیں کرو گے اس وقت تک تم مؤمن نہیں بن سکو گے۔3 حضرت ابنِ مسعودؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے حضرت عمر بن خطابؓ کو لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ ان کی سب سے پہلے حضرت عباس بن عبد المطّلب ؓ سے ملاقات ہوئی تو حضرت عمر نے ان سے کہا: اے ابو الفضل! اپنے مال کی زکوٰۃ دے دیں۔ حضرت عباس نے کہا: اگر تو ایسا ہوتا ایسا ہوتا۔ اور انھوں نے حضرت عمر کو سخت باتیں کہہ دیں۔ حضرت عمر نے ان سے کہا: اگر اللہ کا ڈر نہ ہوتا اور آپ کا حضورﷺ کے ہاں جو مرتبہ ہے اگر اس کا خیال نہ ہوتا تو میں بھی آپ کی کچھ باتوں کا ویسا ہی جواب دیتا۔ پھر یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہوگئے۔ حضرت عمر نے اپنا راستہ لیا اور حضرت عباس نے اپنا۔ حضرت عمر چلتے چلتے حضرت علی بن ابی طالبؓ کے پاس پہنچ گئے اور انھیں جا کر ساری بات بتائی۔ حضرت علی نے حضرت عمر کا ہاتھ پکڑا (اور دونوں چل پڑے اور) دونوں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پھر حضرت عمر نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے مجھے لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرنے بھیجا۔ میری سب سے پہلے ملاقات آپ کے چچا حضرت عباس سے ہوئی۔ میں نے ان سے کہا: اے ابو الفضل! اپنے مال کی زکوٰۃ دے دیں۔ اس پر انھوں نے مجھے ایسا اور ویسا کہا، اور خوب ڈانٹا اور مجھے سخت باتیں کہیں۔ میں نے ان سے کہا: اگر اللہ کا ڈر نہ ہوتا اور حضورﷺ کے ہاں جو آپ کا مرتبہ ہے اس کا خیال نہ ہوتا تو میں بھی آپ کی کچھ باتوں کا ویسا ہی جواب دیتا۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم نے ان کا اکرام کیا ہے اللہ تمہارا اکرام فرمائے۔ کیا تمھیں معلوم نہیں ہے کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی مانند ہوتا ہے؟ عباس سے زکوٰۃ کے بارے میں بات نہ کرو، کیوںکہ ہم ان سے دو سال کی زکوٰۃ پہلے ہی لے چکے ہیں۔1 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت عباس کے والد (عبد المطّلب) کا تذکرہ کیا اور ان کے والد کی بے عزّتی کی۔ اس پر حضرت عباس نے اس آدمی کو تھپڑ مار دیا۔ لوگ جمع ہوگئے اور کچھ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! جیسے حضرت عباس نے اسے تھپڑ مارا ہے ایسے ہی ہم حضرت عباس کو ضرور تھپڑ ماریں گے۔ جب حضورﷺ کو اس قصہ کا پتا چلا تو آپ نے لوگوں میں بیان فرمایا اور لوگوں سے پوچھا: بتاؤ اللہ کے ہاں لوگوں میں سے زیادہ باعزّت آدمی کون ہے؟ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: سنو! عباس مجھ سے ہے اور میں عباس سے ہوں (ہم دونوں کا آپس میں بہت زیادہ تعلق ہے)۔ ہمارے خاندان کے جو لوگ مر چکے ہیں انھیں برا بھلا مت کہو، اس سے ہمارے خاندان کے زندہ لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔2 ابنِ عساکر نے ایسی ہی حدیث حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت کی ہے اس میں یہ مضمون بھی ہے: صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ کے غصہ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، آپ ہمارے لیے اللہ سے استغفار کریں (ہم سے غلطی ہوگئی ہے)۔ چناںچہ حضورﷺ نے ان کے لیے استغفار فرمایا۔1 حضرت ابنِ شہاب ؓ کہتے ہیں: حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ؓ کا اپنے اپنے زمانۂ خلافت میں یہ دستور تھا کہ جب یہ حضرات سواری پر سوار ہو کر کہیں جا رہے ہوتے اور راستہ میں حضرت عباس ؓ سے ملاقات ہو جاتی تو یہ حضرات (ان کے اِکرام میں) سواری سے نیچے اترجاتے اور سواری کی لگام پکڑ کر حضرت عباس کے ساتھ پیدل چلتے رہتے اور انھیں ان کے گھر یا ان کی بیٹھک تک پہنچا کر پھر ان سے جدا ہوتے۔2 حضرت قاسم بن محمد ؓ کہتے ہیں: حضرت عثمانؓ نے جو بہت سے نئے قانون بنائے ان میں سے ایک قانون یہ بھی تھا کہ ایک آدمی نے ایک مرتبہ جھگڑے میں حضرت عباس ؓ کے ساتھ حقارت آمیز معاملہ کیا۔ اس پر حضرت عثمان نے اس کی پٹائی کی۔ کسی نے اس پر اعتراض کیا تو اس سے فرمایا: کیا یہ ہو سکتا ہے کہ حضورﷺ تو اپنے چچا کی تعظیم فرمائیں اور میں ان کی تحقیر کی اجازت دے دوں؟ اس آدمی کی اس گستاخی کو جو اچھا سمجھ رہا ہے وہ بھی حضورﷺ کی مخالفت کر رہا ہے۔ چناںچہ حضرت عثمان کے اس نئے قانون کو تمام صحابہ نے بہت پسند کیا ( کہ حضورﷺ کے چچاکے گستاخ کی پٹائی ہوگی)۔3 حضرت انسؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضورﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے اور صحابۂ کرام آپ کے چاروں طرف بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں حضرت علیؓ سامنے سے آئے۔ انھوں نے آکر سلام کیا اور کھڑے ہو کر اپنے بیٹھنے کی جگہ دیکھنے لگے۔ حضورﷺ اپنے صحابہ کے چہروں کو دیکھنے لگے کہ ان میں سے کون حضرت علی کو جگہ دیتا ہے۔ حضرت ابو بکرؓ حضور ﷺ کے دائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنی جگہ سے ذرا ہٹ کر کہا: اے ابو الحسن! یہاں آجاؤ۔ اس پر حضرت علی آگے آئے اور اس جگہ حضورﷺ اور حضرت ابو بکر کے درمیان بیٹھ گئے۔ ہمیں ایک دم حضورﷺ کے چہرہ ٔ انور میں خوشی کے آثار نظر آئے۔ پھر حضورﷺ نے حضرت ابو بکر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: فضیلت والے کے مقام کو فضیلت والا ہی جانتا ہے۔1 حضرت رباح بن حارث ؓ فرماتے ہیں: (کوفہ کے محلہ) رَحْبہ میں ایک جماعت حضرت علیؓ کی خدمت میں آئی اور انھوں نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلاَنَا! (اے ہمارے آقا!) حضرت علی نے کہا: تم لوگ تو عر ب ہو میں تمہارا آقا کیسے بن سکتا ہوں؟ (عجمی لوگ غلام ہوا کرتے ہیں عرب نہیں) انھوں نے کہا: ہم نے غدیرِ خم کے دن حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں جس کا آقا اور دوست ہوں یہ (یہ علی) بھی اس کا آقا ا ور دوست ہے (حضورﷺ ہمارے آقا تھے لہٰذا آپ بھی ہمارے آقا ہوئے)۔ حضرت رباح کہتے ہیں: یہ لوگ چلے گئے تو میں ان کے پیچھے گیا اور میں نے پوچھا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ تو لوگوں نے بتایا کہ یہ انصار کے کچھ لوگ ہیں جن میں حضرت ابو ایوب انصاریؓ بھی ہیں۔2 حضرت بُریدہ ؓ فرماتے ہیں: حضور ﷺ نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا اور حضرت علی کو ہمارا امیر بنایا۔ جب ہم سفر سے واپس آئے تو حضورﷺ نے پوچھا: تم نے اپنے امیر کو کیسا پایا؟ تو میں نے یا کسی اور نے حضرت علی کی کوئی شکایت حضور ﷺ سے کر دی۔ میری عادت اکثر زمین کی طرف دیکھنے کی تھی میں نے سر اُٹھایا تو دیکھا کہ حضورﷺ کا چہرۂ انور (غصہ کی وجہ سے) سرخ ہو چکا ہے اور حضورﷺ فرما رہے ہیں: میں جس کا دوست ہوں علی بھی اس کے دوست ہیں۔ میں نے عرض کیا: میں آیند ہ آپ کو کبھی بھی حضرت علی کے بارے میں تکلیف نہیں پہنچاؤں گا۔3 حضرت عمرو بن شاس ؓ صلحِ حدیبیہ میں شریک ہوئے تھے، وہ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے حضرت علی ؓ کو گھوڑے سواروں کی ایک جماعت میں یمن بھیجا۔ میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ حضرت علی نے سفر میں مجھ سے کچھ اِعراض برتا جس سے مجھے دل ہی دل میں ان پر غصہ آگیا۔ جب میں مدینہ واپس آیا تو مدینہ کی مختلف مجلسوں میں حضرت علی کی شکایت کی اور جو ملتا اس سے ان کی شکایت کر دیتا۔ ایک دن میں سامنے سے آیا حضورﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ جب آپ نے مجھے دیکھا کہ میں آپ کی آنکھوں کی طرف دیکھ رہا ہوں تو آپ مجھے دیکھتے رہے یہاں تک کہ میں آپ کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ پھر آپ نے فرمایا: اے عمرو! غور سے سنو! اللہ کی قسم! تم نے مجھے اذیت پہنچائی ہے۔ میں نے کہا: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ میں اس بات سے اللہ اور اسلام کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں اللہ کے رسول کو اذیت پہنچاؤں۔ آپ نے فرمایا: جس نے علی کو اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی۔1 حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں: میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا میرے ساتھ دو آدمی اور تھے، ہم سب نے حضرت علیؓ کے بارے میں نازیبا بات کہہ دی۔ اتنے میں سامنے سے حضورﷺ تشریف لائے۔ آپ کے چہرۂ انور پر صاف غصہ نظر آرہا تھا۔ میں حضور ﷺ کے غصہ سے اللہ کی پناہ چاہنے لگ گیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم لوگوں کو کیا ہوا کہ مجھے تکلیف پہنچاتے ہو؟ جس نے علی کو تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی۔2 حضرت عروہ ؓ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت عمر ؓ کی موجودگی میں حضرت علی ؓ کی برائی کا تذکرہ کیا۔ حضرت عمر نے (حضورﷺ کی قبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کہا: تم اس قبر والے کو جانتے ہو؟ یہ حضرت محمد بن عبد اللہ بن عبد المطّلبﷺ ہیں اور وہ علی بن ابی طالب بن عبد المطّلب ہیں (حضرت علیؓ حضورﷺ کے چچازاد بھائی ہیں)۔ ہمیشہ حضر ت علی کا تذکرہ خیر کے ساتھ کیا کرو، کیوںکہ اگر تم ان کو تکلیف پہنچاؤ گے تو اس ذاتِ اقدس کو قبر میں تکلیف پہنچاؤ گے۔1 حضرت ابو بکر بن خالد بن عُرْفُطَہ ؓ کہتے ہیں: میں حضرت سعد بن مالکؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے پوچھا کہ مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ لوگوں کو کوفہ میں حضرت علیؓ کو برا بھلا کہنے پر مجبو ر کیا جاتا ہے، تو آپ نے ان کو کبھی برا بھلا کہا ہے؟ حضرت سعد نے کہا: اللہ کی پناہ ! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں سعد کی جان ہے! میں نے حضورﷺ سے حضرت علی کی شان کے بارے میں کچھ ایسے فضائل سنے ہیں کہ اگرمیرے سر کی مانگ پر آرہ بھی رکھ دیا جائے تو بھی میں حضرت علی کو برا بھلا نہیں کہوں گا۔2 حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں: مجھے میرے والد حضرت سعدؓ نے یہ قصہ سنایا کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ نے مجھے حکم دیا اور یوں کہا کہ آپ ابو تراب (حضرت علی) کو برا بھلا کیوں نہیں کہتے؟ میں نے کہا: حضورﷺ نے حضرت علی کے بارے میں تین ایسی باتیں ارشاد فرمائی ہیں کہ اگرمجھے ان میں سے ایک بات بھی مل جاتی تو مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہوتی۔ اور یہ تین باتیں مجھے جب تک یاد ہیں میں ان کو برا بھلا نہیں کہہ سکتا۔ ایک غزوہ میں (یعنی غزوۂ تبوک میں) جاتے ہوئے حضورﷺ نے حضرت علی کو مدینہ میں اپنی جگہ پیچھے چھوڑنا چاہا تو حضرت علی نے حضورﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ پیچھے چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے ہوجاؤ جیسے حضرت ہارون ( ؑ) حضرت موسیٰ ( ؑ) کے لیے تھے، ہاں اتنی بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اور غزوۂ خیبر میں میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج میں جھنڈا اس آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ یہ فضیلت سن کر مجھے بہت شوق ہو ا کہ یہ جھنڈا مجھے مل جائے اور اس شوق میں میں بار بار اپنا سر اٹھاتا (کہ شاید اب حضورﷺ مجھے بلا کر جھنڈا دے دیں) لیکن حضورﷺ نے فرمایا: علی کو بلا کر میرے پاس لاؤ۔ حضرت علی آئے تو ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں۔ آپ نے ان کی آنکھوں پر لعاب مبارک لگایا اور پھر جھنڈا انھیں دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی۔ اور جب یہ آیت نازل ہوئی: {فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَـآئَ نَا وَاَبْنَـآئَ کُمْ وَنِسَآئَ نَا وَنِسَآئَ کُمْ وَاَنْـفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ }۔1 توآپ فرما دیجیے کہ آجاؤ ہم اور (تم) بلا لیں اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو اور خود اپنے تنوںکو اور تمہارے تنوں کو، پھر (ہم سب مل کر) خوب دل سے دعا کریں اس طور پر کہ اللہ کی لعنت بھیجیں ان پر جو (اس بحث میں) ناحق پر ہوں۔ اس پر حضورﷺ نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ کو بلایا اور فرمایا: اے اللہ! یہ میرے گھروالے ہیں۔2 حضرت ابونجیح ؓ کہتے ہیں: حضرت معاویہؓ حج کو آئے تو انھوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کا ہاتھ پکڑ کر کہا: اے ابو اسحاق! غزوات کی مشغولی کی وجہ سے کئی سالوں سے ہم لوگ حج نہ کر سکے جس کی وجہ سے ہم حج کی بہت سی سنتیں بھولتے جا رہے ہیں، لہٰذا آپ طواف کریں ہم بھی آپ کے ساتھ طواف کریں گے۔ طواف کے بعد حضرت معاویہ ان کو اپنے ساتھ دار الندوہ لے گئے اور انھیں اپنے ساتھ اپنے تخت پر بٹھایا۔ پھر حضرت علی کا تذکرہ شروع کر دیا اور حضرت علی بن ابی طالبؓ کے بارے میں نامناسب کلمات کہنے لگے۔ حضرت سعد نے فرمایا: آپ نے مجھے اپنے گھر میں لاکر اپنے تخت پر بٹھایا، پھر آپ حضرت علی کو برا بھلا کہنے لگ گئے ہیں۔ اللہ کی قسم! حضرت علی میں تین ایسی باتیں پائی جاتی ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی مجھے مل جائے تو یہ مجھے ساری دنیا کے مل جانے سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ غزوۂ تبوک میں حضورﷺ نے حضرت علی کو فرمایا تھا: تم میرے لیے ایسے ہو جیسے حضرت ہارون ؑ حضرت موسیٰ ؑ کے لیے تھے، ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اگر حضورﷺ مجھے یہ فرما دیتے تو یہ مجھے ساری دنیا کے مل جانے سے بھی زیادہ محبوب تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ جنگِ خیبر کے دن حضورﷺ نے حضرت علی کے بارے میں فرمایا: میں آج جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں، اللہ اس کے ہاتھوں فتح نصیب فرمائیں گے اور وہ میدان سے بھاگنے والا آدمی نہیں۔ اگر حضورﷺ میرے بارے میں یہ کلمات فرما دیتے تو یہ مجھے ساری دنیا کے مل جانے سے زیادہ محبوب ہوتا۔ تیسری بات یہ ہے (کہ وہ حضورﷺ کے داماد ہیں) اگر میں حضورﷺ کا داماد ہوتا اور میری شادی ان کی بیٹی سے ہوتی اور حضرت علی کی طرح میرے ان سے بیٹے ہوتے تو یہ مجھے ساری دنیا کے مل جانے سے زیادہ محبوب ہوتا۔ میں آج کے بعد کبھی تمہارے گھر نہیں آؤں گا۔ یہ فرما کر حضرت سعد نے اپنی چادر جھاڑی اور باہر تشریف لے گئے۔1 حضرت ابو عبد اللہ جدلی ؓ کہتے ہیں: میں حضرت اُمّ سلمہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انھوں نے مجھ سے فرمایا: کیا تم سب کے بیچ میں رسول اللہﷺ کو برا بھلا کہا جاتا ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی پناہ، سبحان اللہ! یا اس جیسا اور کلمہ میں نے کہا۔ انھوں نے فرمایا: میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے علی کو برا بھلا کہا اس نے مجھے برا بھلا کہا۔2 حضرت ابو عبد اللہ جدلی ؓ کہتے ہیں: مجھ سے حضرت اُمِّسلمہؓ نے فرمایا: کیا تم سب کے بیچ میں حضورﷺ کو برا بھلا نہیں کہا جاتا؟ میں نے کہا: حضورﷺ کو کیسے برا بھلا کہا جا سکتا ہے؟ انھوں نے فرمایا: کیا حضرت علی کو اور ان سے محبت کرنے والوں کو برا بھلا نہیں کہا جاتا؟ حالاںکہ حضورﷺ ان سے محبت فرماتے تھے۔3 حضرت ابو صادق ؓ کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے فرمایا: جو حضورﷺ کا خاندا ن تھا وہی میرا خاندان ہے۔ جو حضورﷺ کا دین تھا وہی میرا دین ہے۔ لہٰذا جو میری بے عزّتی کر رہا ہے وہ حقیقت میںحضورﷺ کی بے عزّتی کر رہا ہے۔1 حضرت عبد الرحمن بن اَصبہانی ؓ کہتے ہیں: حضرت ابو بکرؓ ایک دن حضورﷺ کے منبر پر تھے کہ اتنے میں حضرت حسن بن علی ؓ آئے (یہ ابھی کم عمر بچے تھے)۔ انھوں نے کہا: آپ میرے نانے ابّاکے منبر سے نیچے اُتر آئیں۔ حضرت ابو بکر نے کہا: تم ٹھیک کہہ رہے ہو، یہ تمہارے نانے ابّا کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ اور حضرت ابو بکر نے انھیں اپنی گود میں بٹھالیا او ر رو پڑے۔ حضرت علیؓ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ بچہ میرے کہنے کی وجہ سے نہیں کہہ رہا (بلکہ یہ اپنی طرف سے کہہ رہا ہے)۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، اللہ کی قسم! مجھے آپ پر کوئی شبہ نہیں۔2 حضرت عروہ ؓ فرماتے ہیں: ایک دن حضرت ابوبکر ؓ منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ اتنے میں حضرت حسن ؓ آئے اور انھوں نے منبر پر چڑھ کر کہا: آپ میرے نانے ابّا کے منبر سے اُتر آئیں۔ اس پرحضرت علی نے کہا: یہ بات ہمارے مشورہ کے بغیر ہوئی ہے۔3 حضرت ابو البَخْتَرِی ؓ کہتے ہیں: ایک دن حضرت عمر بن خطّابؓ منبر پر بیان فرما رہے تھے کہ اتنے میں حضرت حسین بن علیؓ نے کھڑے ہو کر کہا کہ آ پ میرے نانے ابّاکے منبر سے نیچے اُتر آئیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: بے شک یہ تمہارے نانے ابّا کا منبر ہے میرے باپ کا نہیں ہے، لیکن ایسا کرنے کو تمھیں کس نے کہا؟ اس پر حضرت علی نے کھڑے ہوکر کہا: اسے کسی نے نہیں کہا۔ (پھر حضرت علی نے حضرت حسین کو مخاطب ہو کر فرمایا:) او دھوکہ باز! میں تیری خوب پٹائی کروں گا۔ حضرت عمر نے کہا: میرے بھتیجے کو کچھ نہ کہنا یہ ٹھیک کہہ رہا ہے، یہ اس کے نانے ابّا کا منبر ہے۔4 حضرت حسین بن علیؓ فرماتے ہیں: میں منبر پر چڑھ کر حضرت عمر بن خطّابؓ کے پاس گیا اور میں نے ان سے کہا: میرے نانے ابّاکے منبر سے آپ نیچے اُتر جائیں اور اپنے والد کے منبر پر تشریف لے جائیں۔ حضرت عمر نے کہا: میرے باپ کا تو کوئی منبر نہیں۔ یہ کہہ کر حضرت عمر نے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا۔ پھر وہ منبر سے اُتر کر مجھے اپنے گھر لے گئے اور مجھ سے فرمایا: اے میرے بیٹے! تمھیں یہ کس نے سکھایا تھا؟ میں نے کہا: کسی نے نہیں۔ انھوں نے فرمایا: اگر تم ہمارے پاس آیا جایا کرو تو بہت اچھا ہوگا۔ چناںچہ میں ایک دن ان کے ہاں گیا تو وہ حضرت معاویہؓ سے تنہائی میں بات کر رہے تھے اور میں نے دیکھا کہ حضرت ابنِ عمرؓ دروازے پر کھڑے ہیں انھیں بھی اجازت نہیں ملی ہے۔ یہ دیکھ کر میں واپس آگیا۔ اس کے بعد جب ان سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے مجھ سے فرمایا: اے میرے بیٹے! تم ہمارے پاس آتے کیوں نہیں؟ میں نے کہا: میں ایک دن آیا تھا آ پ حضرت معاویہ سے تنہائی میں بات کر رہے تھے اور آپ کے بیٹے حضرت ابنِ عمر کو بھی اجازت نہیں ملی تھی، تو میں نے دیکھا کہ وہ واپس چلے گئے ہیں اس لیے میں بھی واپس آگیا۔ حضرت عمر نے فرمایا: نہیں، تم عبد اللہ بن عمر سے زیادہ اجازت ملنے کے حق دارہو، کیوںکہ ہمارے سروں پر جو یہ تاجِ شرافت آج نظر آرہا ہے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کے گھر انے کی برکت سے دیا ہے۔ اور پھر میرے سر پر حضرت عمر نے شفقتاً ہاتھ رکھا۔1 حضرت عقبہ بن حارث ؓ کہتے ہیں: حضورﷺ کی وفات کے چند دن بعد میں عصر کی نماز پڑھ کر حضرت ابوبکر ؓ کے ساتھ مسجد سے باہر نکلا۔ حضرت علیؓ حضرت ابوبکر کے ساتھ چل رہے تھے کہ اتنے میں حضرت ابو بکر کا حضرت حسن بن علی ؓ کے پاس سے گزر ہوا وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ حضرت ابو بکر نے ان کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا اور یہ شعر پڑھنے لگے: بِأَبِيْ شَبِیْہٌ بِالنَّبِيِّ لَیْسَ شَبِیْھًا بِعَلِيٍّ اس بچہ پر میرا باپ قربان ہو! اس کی شکل وصورت نبی کریم ﷺ سے ملتی جلتی ہے، حضرت علی سے نہیں ملتی۔ حضرت علی یہ سن کر ہنس رہے تھے۔1 حضرت عمیر بن اسحاق ؓ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ حضرت ابو ہریرہ ؓ کی حضرت حسن بن علی ؓ سے ملاقات ہوئی تو حضرت ابو ہریرہ نے ان سے کہا: آپ اپنے پیٹ کی اس جگہ سے کپڑا ہٹا دیں جس جگہ کا بوسہ لیتے ہوئے میں نے حضورﷺ کو دیکھا تھا۔ چناںچہ حضرت حسن نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹا دیا اور حضرت ابو ہریرہ نے ان کے پیٹ کا بوسہ لیا۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ نے ان کی ناف کا بوسہ لیا۔2 حضرت مَقْبُرِی ؓ کہتے ہیں: ہم لوگ حضرت ابو ہریرہؓ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں حضرت حسن بن علی ؓ وہاںسے گزرے۔ انھوں نے سلام کیا، لوگوں نے سلام کا جواب دیا۔ حضرت ابو ہریرہ ہمارے ساتھ تھے، لیکن انھیں حضرت حسن کے گزرنے اور سلام کرنے کا پتا نہیں چلا۔ کسی نے ان سے کہا: یہ سلام حضرت حسن بن علی ؓ نے کیا تھا۔ وہ فوراً ان کے پیچھے گئے اور ان سے کہا: اے میرے سردار! وَعَلَیْکَ السَّلاَمُ۔ کسی نے ان سے پوچھا: آپ انھیں ’’اے میرے سردار!‘‘ کہہ رہے ہیں؟ حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ یہ سردار ہیں۔3 حضرت ابو ہریرہ ؓ کے مرض الوفات میں مروان ان کے پاس آیا اور ان سے کہا: جب سے ہم آپ کے ساتھ رہ رہے ہیں اس وقت سے آج تک مجھے آپ کی کسی بات پر غصہ نہیں آیا، بس اس بات پر غصہ آیا ہے کہ آپ حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ یہ سنتے ہی حضرت ابو ہریرہ سمٹ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ ہم لوگ ایک سفر میں حضورﷺ کے ساتھ گئے۔ راستہ میں ایک جگہ حضورﷺ نے حضرت حسن اورحضرت حسینؓ کے رونے کی آواز سنی۔ وہ دونوں اپنی والدہ کے ساتھ تھے۔ حضورﷺ تیزی سے چل کر ان کے پاس پہنچے اور فرمایا: میرے بیٹوں کو کیا ہوا؟ حضرت فاطمہ ؓ نے کہا: پیاس کی وجہ سے رو رہے ہیں۔ حضورﷺ نے اپنے پیچھے مشکیزہ کی طرف ہاتھ بڑھا کر پانی دیکھا (لیکن اس میں پانی نہیں تھا)۔ اس دن پانی بہت کم تھا لوگوں کو تھوڑا تھوڑا پانی مل رہا تھا۔ لوگ بھی پانی تلاش کر رہے تھے۔ حضورﷺ نے اعلان فرمایا: کسی کے پاس پانی ہے؟ اس اعلان پر ہر آدمی نے اپنے پیچھے اپنے مشکیزہ کو ہاتھ لگا کر دیکھا کہ اس میں پانی ہے یا نہیں؟ لیکن کسی کو بھی پانی کا ایک قطرہ نہ ملا۔ اس پر حضورﷺ نے فرمایا: (اے فاطمہ!) ایک بچہ مجھے دے دو۔ انھوں نے پردے کے نیچے سے حضورﷺ کو ایک بچہ دے دیا۔ بچہ دیتے ہوئے حضرت فاطمہ کے بازؤوں کی سفیدی مجھے نظر آئی۔ حضورﷺ نے بچے کو لے کر اپنے سینہ سے لگایا۔ وہ بچہ رو رہا تھا چپ نہیں کر رہا تھا۔ حضورﷺ نے اپنی زبان مبار ک نکالی تو وہ بچہ اسے چوسنے لگا اور چوستے چوستے چپ ہوگیا اور مجھے اس کے رونے کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی (اس نے رونا چھوڑ دیا تھا)۔ دوسرا بچہ ویسے ہی رو رہا تھا چپ نہیں کر رہا تھا۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: یہ دوسرا بھی مجھے دے دو۔ حضرت فاطمہ نے دوسرا بچہ بھی حضورﷺ کو دے دیا۔ حضورﷺ نے لے کر اس کے ساتھ بھی ویسے ہی کیا، وہ بھی چپ ہوگیا اور مجھے کسی کے رونے کی آواز نہیں آرہی تھی۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: چلو۔ چناںچہ عورتوں کی وجہ سے ہم اِدھر اُدھر چلے گئے (تاکہ حضور ﷺ کی عورتوں کے ساتھ ہمارا اختلاط نہ ہو۔ ہم لوگ وہاں سے چل دیے اور) راستہ کے درمیانی حصہ میں حضورﷺ سے دوبارہ جا ملے۔ جب میں نے حضورﷺ کا حضرت حسن، حضرت حسینؓ کے ساتھ یہ مشفقانہ رویہ دیکھا ہے تو میں ان دونوں سے کیوں نہ محبت کروں۔1