صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا

علمائے کرام، بڑوں اور دینی فضائل والوں کا اکرام کرنا

حضرت عمار بن ابی عمار ؓ کہتے ہیں: ایک دن حضرت زید بن ثابتؓ سوار ہونے لگے تو حضرت ابنِ عباسؓ نے ان کی رِکاب ہاتھ سے پکڑ لی۔ اس پر حضرت زید نے کہا: اے رسول اللہﷺ کے چچا کے بیٹے! آپ ایک طرف ہو جائیں (میری رِکاب نہ پکڑیں)۔ حضرت ابنِ عباس نے عرض کیا: ہمیں اسی کا حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنے عُلَما اور بڑوں کے ساتھ ایسے ہی (اکرام کا معاملہ) کریں۔ حضرت زید نے کہا: آپ مجھے ذرا اپنا ہاتھ دکھائیں۔ حضرت ابنِ عباس نے اپنا ہاتھ نکالا۔ حضرت زید نے اسے چوما اور فرمایا: ہمیں اپنے نبی کے گھر والوں کے ساتھ ایسے اکرام کرنے کاحکم دیا گیا ہے۔1 حضرت شعبی ؓ کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابتؓ سوار ہونے لگے تو حضرت ابنِ عباسؓ نے ان کی رِکاب پکڑ لی۔ حضرت زید نے فرمایا: اے اللہ کے رسول کے چچا کے بیٹے! آپ ایک طرف ہو جائیں۔ حضرت ابنِ عباس نے کہا: نہیں۔ ہم عُلَما کے ساتھ اور بڑوں کے ساتھ ایسے ہی (اکرام کا معاملہ) کیا کرتے ہیں۔2 حضرت ابنِ عباسؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ کی رِکاب پکڑ لی اور یوں کہا: ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنے تعلیم دینے والوں اور اپنے بڑوں کی رِکاب پکڑا کریں۔3 حضرت ابو اُمامہؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضورﷺ حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت ابو عبیدہ بن جرّاح اور صحابہؓ کی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ کے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں پینے کی کوئی چیز تھی۔ حضورﷺ نے وہ پیالہ حضرت ابو عبیدہ کو دیا۔ حضرت ابو عبیدہ نے کہا: یا نبی اللہ! آ پ کا اس پیالہ پر مجھ سے زیادہ حق ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: نہیں، تم لے لو۔ انھوں نے لے کر پینے سے پہلے پھر عرض کیا: یا نبی اللہ! آپ لے لیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: تم پیو، کیوںکہ برکت ہمارے بڑوں کے ساتھ ہے۔ جو ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔1 حضرت رافع بن خدیج اور حضرت سہل بن ابی حثمہ ؓ فرماتے ہیں: حضرت عبد اللہ بن سہل اور حضرت محیّصہ بن مسعودؓ خیبر گئے اور کھجوروں کے ایک باغ میں ایک دوسرے سے الگ ہوگئے۔ کسی نے حضرت عبد اللہ بن سہل کو قتل کر دیا تو حضرت عبد الرحمن بن سہل، حضرت حویّصہ بن مسعود اور حضرت محیّصہ بن مسعودؓ حضورﷺ کی خدمت میں آئے اور اپنے مقتول ساتھی کے بارے میں حضورﷺ سے بات کرنے لگے، تو حضرت عبد الرحمن نے بات شروع کی، یہ ان سب میں چھوٹے تھے۔ اس پر حضورﷺ نے فرمایا: بڑوں کی بڑائی قائم کرو۔ یحییٰ راوی کہتے ہیں کہ حضورﷺ کا مطلب یہ تھا کہ جو عمر میں بڑا ہے وہ بات کرے۔ چناںچہ ان حضرات نے اپنے مقتول ساتھی کے بارے میں بات کی۔ حضورﷺ نے فرمایا: اگر تم لوگوں کے قبیلے کے پچاس آدمی قسم کھالیں تو تم اپنے مقتول کے قصاص کے حق دار بن سکتے ہو۔ انھوں نے عرض کیا: یہ ایسا واقعہ ہے جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے (اس لیے ہم قسم نہیں کھا سکتے ہیں)۔ حضورﷺ نے فرمایا: تو پھر یہود کے پچاس آدمی قسم کھالیں تو ان کے ذمہ قصاص نہیں آئے گا۔ انھوں نے عرض کیا: یا نبی اللہ! وہ تو کافرلوگ ہیں (یہ تو جھوٹی قسم کھالیں گے)۔ اس پر حضورﷺ نے (جھگڑا ختم کرانے کے لیے) اپنے پاس سے ان کو دیت یعنی خون بہا دیا۔2 حضرت وائل بن حُجرؓ فرماتے ہیں: (حَضْرَمَوْت میں) ہماری بڑی سلطنت تھی اور وہاں کے تمام لوگ ہماری بات مانتے تھے۔ ہمیں وہاں حضورﷺ کے اعلانِ نبوت کی خبر ملی تو میں یہ سب کچھ چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول کے شوق میں وہاں سے چل پڑا۔ میرے پہنچنے سے پہلے ہی حضورﷺ اپنے صحابہ کو میرے آنے کی خوش خبری سنا چکے تھے۔ جب میں آپ کی خدمت میں پہنچا تو میں نے آپ کو سلام کیا۔ آپ نے سلام کا جواب دیا اور اپنی چادر بچھا کر مجھے اس پر بٹھایا۔ پھر آپ اپنے منبر پر تشریف لے گئے اور مجھے بھی اپنے ساتھ منبر پر بٹھایا۔ آپ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور تمام نبیوں پر درود بھیجا۔ اتنے میں تمام لوگ آپ کے پاس جمع ہو چکے تھے۔ آپ نے فرمایا: اے لوگو! یہ وائل بن حُجر تمہارے پاس دوردراز کے علاقہ حَضْرَمَوْت سے اپنی خوشی سے آئے ہیں، کسی نے ان کو آنے پر مجبو ر نہیں کیا۔ اور یہ اللہ، اس کے رسول اور اس کے دین کے شوق میں آئے ہیں۔ میں نے کہا: (یا رسول اللہ!) آپ ٹھیک فرما رہے ہیں۔1 حضرت وائل بن حُجرؓ فرماتے ہیں: میں نبی کریمﷺ کی خدمت میں پہنچا تو آپ نے (صحابۂ کرام) سے فرمایا: یہ وائل بن حُجر نہ تو تم لوگوں کے شوق میں آئے ہیں اور نہ تو تم لوگوں سے ڈر کر آئے ہیں، بلکہ یہ تو اللہ ورسول کی محبت میں آئے ہیں۔ حضورﷺ نے اپنی چادر بچھا کر مجھے اس پر اپنے پہلو میں بٹھایا اور مجھے اپنے سینے سے لگایا اور اپنے ساتھ منبر پر بٹھایا اور لوگوں میں بیان فرمایا اور فرمایا: ان کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ، کیوںکہ یہ ابھی اپنی سلطنت چھوڑ کر نئے نئے آئے ہیں۔ میں نے عرض کیا: میرے خاندان والوں نے جو کچھ میرا تھا وہ سب مجھ سے چھین لیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: جتنا انھوں نے لیا ہے وہ بھی تمھیں دوں گا اور اس کا دگنا اور بھی دے دوں گا۔ آگے اور بھی حدیث ذکر کی ہے۔2 حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں: جب حضرت سعدؓ کے ہاتھ کا زخم ہرا ہوگیا اور اس میں سے خون بہنے لگا تو حضورﷺ کھڑے ہو کر ان کے پاس گئے، اور انھیں اپنے گلے لگا لیا، اور ان کے خو ن کے چھینٹے حضورﷺ کے چہرے اور ڈاڑھی پر پڑ رہے تھے۔ جو بھی حضورﷺ کو خون سے بچانے کی جتنی کوشش کرتا حضورﷺ اتنے ہی حضرت سعد کے اور قریب ہو جاتے یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوگیا۔3 اَنصار کے ایک صاحب بیان کرتے ہیں: جب حضرت سعدؓ نے قبیلہ بنو قریظہ کے بارے میں اپنا فیصلہ سنا دیا اور واپس آگئے تو ان کا زخم پھٹ گیا (اور اس میں سے خون بہنے لگ گیا)۔ حضورﷺ کو جب اس کا پتا چلا تو آپ ان کے پاس تشریف لے گئے اور ان کا سر لے کر اپنی گود میں رکھ لیا۔ حضرت سعد کے جسم کو ایک سفید کپڑے سے ڈھانک دیا گیا، لیکن وہ کپڑا اتنا چھوٹا تھا کہ جب اسے چہرے پر ڈالا گیا تو ان کے دونوں پاؤں کھل گئے۔ حضرت سعد گورے چٹے اور بھاری بھرکم آدمی تھے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے اللہ! سعد نے تیرے راستے میں خوب جہاد کیا ہے اور تیرے رسول کو سچا مانا ہے اور جو کام ان کے ذمہ لگا تھا وہ کام انھوں نے اچھے طریقے سے پورا کر دیا ہے، اس لیے تو ان کی روح کو اپنے دربار میں اس طرح قبول فرما جس طرح تو بہترین سے بہترین روح کو قبول فرماتا ہے۔ جب حضرت سعد نے حضورﷺ کی یہ دعا سنی تو آنکھیں کھول کر کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! غور سے سنیے! میںاس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ جب حضرت سعد کے گھر والوں نے دیکھا کہ حضورﷺ نے حضرت سعد کے سر کو اپنی گود میں رکھ لیا ہے تو وہ گھبرا گئے۔ تو کسی نے آکر حضورﷺ کو بتایاکہ حضرت سعد کے گھر والوں نے جب یہ دیکھاکہ آپ نے ان کا سر اپنی گود میں رکھ لیا ہے تو وہ گھبرا گئے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: (اب یہ تو دنیا سے جانے والے ہیں اور) اس وقت تم اس گھر میں جتنے ہو اتنے فرشتوں نے اللہ تعالیٰ سے سعد کی وفات پر حاضر ہونے کی اجازت مانگی ہے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت سعد کی والدہ رو رو کر یہ شعرپڑھنے لگیں: وَیْـلُ أُمِّـکَ سَعْـدًا حَـزَامَـۃً وَجِـدًّا اے سعد! تیری ماںکے لیے ہلاکت ہو، تو تو ایسا تھا کہ ہر کام پوری احتیاط سے اچھی طرح کیا کرتا تھا اور پوری محنت کرتا تھا۔ کسی نے ان کی والدہ سے کہا: کیا آپ حضرت سعد کا مرثیہ کہہ رہی ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑو، یہ سچے شعر کہہ رہی ہے دوسرے لوگ جھوٹے شعر کہتے ہیں۔ حضرت خارجہ بن زیدؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمرؓ کے لیے رات کا کھانا رکھا گیا تاکہ آپ لوگوں کے ساتھ کھانا کھالیں۔ آپ باہر تشریف لائے اور حضرت مُعَیْقِیب بن ابی فاطمہ دَوْسیؓ کو حضورﷺ کی صحبت حاصل تھی، وہ حبشہ ہجرت کر کے گئے تھے۔ ان سے حضرت عمر نے فرمایا: قریب آکر یہاں بیٹھ جاؤ۔ اللہ کی قسم! اگر تمہارے علاوہ کسی اور کو کوڑھ کی یہ بیماری ہوتی تو وہ مجھ سے ایک نیزے کی مقدار دور بیٹھتا اس سے قریب نہ بیٹھتا۔1 حضرت خارجہ بن زیدؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے لوگوںکو دوپہر کے کھانے کے لیے بلایا ۔ لوگ ڈر گئے۔ لوگوں میںحضرت مُعَیْقِیبؓ بھی تھے، انھیں کوڑھ کی بیماری تھی۔ انھوں نے بھی لوگوں کے ساتھ کھانا شروع کیا توحضرت عمرنے ان سے فرمایا: تم اپنے سامنے اور اپنے قریب سے کھاؤ، اگر تمہارے علاوہ کوئی اور ہوتا تو وہ میرے ساتھ اس پیالہ میں نہ کھاتا، بلکہ میرے اور اس کے درمیان ایک نیزے کا فاصلہ ہوتا۔2 حضرت عبد الواحد بن ابی عون دَوْسی ؓ کہتے ہیں: حضرت طفیل بن عمرو ؓ قبیلہ بنی دَوْس سے واپس حضورﷺ کی خدمت میں گئے اور پھر حضورﷺ کی وفات تک مدینہ میں حضور ﷺ کے ساتھ رہے۔ (حضورﷺ کی وفات پر) جب عرب کے لوگ مرتد ہوگئے تو وہ مسلمانوں کے ساتھ گئے اور مرتدین کے ساتھ خوب جہاد کیا۔ طُلَیحہ اور سارے علاقہ نجد کے مرتدین سے فارغ ہوکر یہ حضرات یمامہ چلے گئے۔ ان کے ساتھ ان کے بیٹے حضرت عمر و بن طفیل بھی تھے۔ خود حضرت طفیل جنگِ یمامہ میں شہید ہوگئے اور ان کے بیٹے حضرت عمرو زخمی ہوگئے اور ان کا ایک ہاتھ کٹ گیا۔ ایک مرتبہ یہ حضرت عمر و حضرت عمرؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں کھانا لایا گیا، حضرت عمرو ایک طرف کو ہوگئے۔ حضرت عمر نے ان سے فرمایا: کیا بات ہے؟ شاید تم اپنے کٹے ہوئے (زخمی) ہاتھ کی وجہ سے ایک طرف ہوگئے ہو۔ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ حضرت عمر نے فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم! میںاس وقت تک اس کھانے کو نہیں چکھوں گا جب تک تم اپنے ہاتھ سے کھانے کو آپس میں نہیں ملاؤ گے، کیوںکہ اللہ کی قسم! اس وقت یہاں جتنے لوگ ہیں ان میں سے ایک بھی تمہارے علاوہ ایسا نہیں ہے جس کے جسم کا کچھ حصہ جنت میں ہو (ایسے صرف تم ہو)۔ پھر حضرت عمرو مسلمانوں کے ساتھ جنگِ یرموک میں گئے اور وہاں شہید ہوگئے۔3 حضرت حسن ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کو خط میں یہ لکھا کہ مجھے پتا چلا ہے کہ تم لوگوں کے سارے مجمع کو ایک دم اجازت دے دیتے ہو۔ (ایسا نہ کرو بلکہ) جب تمھیں میرا خط مل جائے تو پھر تم یہ ترتیب بناؤ کہ پہلے فضیلت وشرافت والے چیدہ چیدہ لوگوں کو اجازت دو، جب یہ لوگ بیٹھ جایا کریں پھر عام لوگوں کو اجازت دو۔1