صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا

قوم کے سردار کی دلجوئی کرنا

حضرت ابو ذرؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا: تم جُعَیْل کو کیسا سمجھتے ہو؟ میں نے کہا: مجھے تو وہ اور لوگوں کی طرح مسکین نظر آتے ہیں۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: فلاں کو کیسا سمجھتے ہو؟ میں نے کہا: وہ تو سردار لوگوں میں سے ایک سردار ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اگر ان جیسوں سے ساری زمین بھر جائے تو ایک جُعَیْل ان سب سے بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! فلاں ہے تو ایسا لیکن آپ اس کا بہت اکرام کرتے ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا: یہ اپنی قوم کا سردار ہے، میں دل جوئی کے لیے اس کا اتنا اکرام کرتا ہوں۔1 حضرت محمد بن ابراہیم تیمی ؓکہتے ہیں: ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے حضرت عیینہ بن حصن اور حضرت اَقرع بن حابس کو سو سو (اونٹ) دیے ہیں اور حضرت جُعَیْل کو آپ نے چھوڑ دیا (انھیں کچھ نہ دیا)۔ حضورﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر عیینہ اور اَقرع سے ساری زمین بھر جائے تو جُعَیْل بن سُراقہ ان سب سے بہتر ہے، لیکن میں ان دونوں کی دلجوئی کر رہا ہوں اور جُعَیْل کو ان کے ایمان کے سپرد کرتا ہوں (کہ اللہ ان کی مدد کریں گے)۔2