صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا
ملنے کے لیے آنے والوں کا اِکرام کرنا
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: میں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضورﷺ نے (اِکرام کے لیے) میری طرف ایک تکیہ رکھ دیا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، لیکن میں (ادب کی وجہ سے) اس پر نہ بیٹھا اور وہ تکیہ یوں ہی میرے اور حضورﷺ کے درمیان پڑا رہا۔3
حضرت اُمّ سعد بنتِ سعد بن ربیع ؓ فرماتی ہیں کہ میں حضرت ابو بکر صدیق ؓکی خدمت میں گئی۔ انھوں نے میرے لیے اپنا کپڑا بچھا دیا جس پر میں بیٹھ گئی۔ اتنے میں حضرت عمرؓ بھی اندر آگئے۔ انھوں نے پوچھا (کہ یہ عورت کون ہے جس کا یہ اِکرام ہو رہا ہے؟) حضرت ابو بکر نے کہا: یہ اس شخص کی بیٹی ہے جو مجھ سے بھی بہتر تھا اور آپ سے بھی۔ حضرت عمر نے پوچھا: اے خلیفۂ رسو لﷺ! وہ شخص کون ہے؟ حضرت ابو بکر نے کہا: یہ اس آدمی کی بیٹی ہے جس کا حضورﷺ کے زمانہ میں انتقال ہوگیا اور انھیں جنت میں ٹھکانا مل گیا، اب پیچھے میں اور آپ رہ گئے ہیں۔4
حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں: حضرت سلمان فارسیؓ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس آئے۔ حضرت عمر تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ حضرت سلمان کو دیکھ کر انھوں نے وہ تکیہ حضرت سلمان کے لیے رکھ دیا۔ حضرت سلمان نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ حضرت عمر نے فرمایا: اے ابو عبد اللہ! اللہ و رسول کا وہ فرمان ذرا ہمیں بھی سنائیں۔ حضرت سلمان نے کہا: ایک مرتبہ میں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، آپ نے وہ تکیہ میرے لیے رکھ دیا۔ پھر مجھ سے فرمایا: اے سلمان! جو مسلمان بھائی کے پاس جاتا ہے اور و ہ میز بان اس کے اکرام کے لیے تکیہ رکھ دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت ضرور فرمائیں گے۔1
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر ؓ حضرت سلمان ؓ کے پاس گئے وہ ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ حضرت عمر نے وہ تکیہ حضرت سلمان کے لیے رکھ دیا۔ پھر کہا: اے سلمان! جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے پاس جاتا ہے اور وہ میزبان اس کے اِکرام میں تکیہ رکھ دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت ضرور فرماتے ہیں۔2
حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ حضرت سلمان فارسیؓ کے پاس گئے۔ حضرت سلمان نے ان کے لیے ایک تکیہ رکھ دیا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: اے ابو عبد اللہ! یہ کیا ہے؟ حضرت سلمان فارسی ؓ نے کہا: میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس مسلمان کے پاس اس کا مسلمان بھائی آتا ہے اور وہ اس کے اکرام وتعظیم کے لیے ایک تکیہ رکھ دیتا ہے تو اللہ اس کی مغفرت ضرور فرماتے ہیں۔3
حضرت ابراہیم بن نَشِیط ؓکہتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن حارث بن جزء زُبیدیؓ کی خدمت میں گیا۔ ان کے نیچے ایک تکیہ تھا، انھوں نے اسے اٹھا کر میری طرف پھینکا اور فرمایا: جو آدمی اپنے ہم نشین کا اکرام نہ کرے اس کا حضرت احمدﷺ اور حضرت ابراہیم ؑ سے کوئی تعلق نہیں۔4