صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا
مسلمان کی زیارت کرنا
حضرت عبد اللہ بن قیس ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ خصوصی طور پر بھی اور عمومی طور پر بھی انصار کو ملنے بہت جایا کرتے تھے۔ جب کسی سے خصوصی ملاقات کرنی ہوتی تو اس کے گھر تشریف لے جاتے، اور جب عمومی ملاقات کرنی ہوتی تو ان کی مسجد میں تشریف لے جاتے (وہاں سب سے ملاقات ہو جاتی)۔1
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ انصار کے ایک گھرانے سے ملنے تشریف لے گئے۔ آپ نے ان کے پاس کھانا بھی کھایا۔ جب آپ وہاں سے باہر آنے لگے تو آپ نے کمرے میں نماز پڑھنے کے لیے جگہ بنانے کا حکم دیا، تو ان لوگوں نے آپ کے لیے ایک چٹائی بچھا کر اس پر پانی چھڑک دیا (تاکہ نرم ہو جائے) پھر آپ نے اس پر نماز پڑھی اور ان کے لیے دعا فرمائی۔2
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ اپنے دو صحابہ کے درمیان بھائی چارہ کرادیتے تھے (تو ان میں آپس میں اتنی محبت ہو جاتی تھی) کہ جب تک ان میں سے ایک دوسرے سے مل نہ لیتا تھا اس وقت تک اسے وہ رات بہت لمبی معلوم ہوتی تھی۔ چناںچہ وہ اپنے بھائی سے بڑی محبت اور نرمی سے ملتا اور پوچھتا: آپ میرے بعد کیسے رہے؟ اور دوسرے لوگوں کا (جن میں بھائی چارہ نہ ہوتا تھا) یہ حال تھا کہ تین دن کے اندر ہر ایک دوسرے سے مل کر اس کا سار ا حال معلوم کرلیا کرتا تھا ۔3
حضرت عون ؓ کہتے ہیں: جب حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کے ساتھی (کوفہ سے مدینہ) ان کے پاس آئے تو ان سے حضرت عبد اللہ نے پوچھا: کیا تم ایک دوسرے کے پاس بیٹھتے رہتے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: (جی ہاں) یہ کام ہم نہیں چھوڑ سکتے۔ پھر پوچھا: کیا تم لوگ آپس میں ایک دوسرے سے ملتے رہتے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: جی ہاں اے ابو عبد الرحمن! (ہماری تو یہ حالت ہے کہ) ہم میں سے کسی کو اس کا بھائی نہیں ملتا تو وہ اسے پیدل ڈھونڈتا ہوا کوفہ کے آخری کنارے میں چلا جاتا ہے اور اسے مل کر ہی واپس آتا ہے۔ حضرت عبد اللہ نے فرمایا: جب تک تم یہ کام کرتے رہو گے تم لوگ خیر پر رہو گے۔1
حضرت اُمّ درداء ؓ فرماتی ہیں: حضرت سلمان ؓ ہمیں ملنے کے لیے مدائن سے پیدل چل کر ملکِ شام آئے، اس وقت انھوں نے گھٹنوں تک کی چھوٹی شلوار پہنی ہوئی تھی۔2