صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا
مہمان کا اکرام کرنا
حضرت سہل بن سعدؓ فرماتے ہیں: حضرت ابو اُسید ساعدیؓ نے حضورﷺ کو اپنی شادی (کے ولیمہ) میں بلایا اور اس دن ان کی بیوی ان مہمانوں کی خدمت کر رہی تھی اور وہ دلہن تھی۔ ان کی بیوی نے کہا: کیا تم لوگوں کو پتا ہے کہ میں نے حضورﷺ کے لیے کیا بھگویا تھا؟ میں نے تانبے یا پتھر کے چھوٹے برتن میں رات کو حضورﷺ کے لیے کھجوریں بھگوئی تھیں (تاکہ حضورﷺ شربت پی سکیں)۔1
ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی حضرت عبد اللہ بن حارث بن جزء زُبیدی ؓ کے پاس گئے وہ ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ انھوں نے اسے اٹھا کر ان دونوں کے لیے رکھ دیا۔ ان دونوں آدمیوں نے کہا: ہم تو یہ نہیںچاہتے، ہم تو کچھ سننے آئے تھے تاکہ ہمیں اس سے فائدہ ہو۔ حضرت عبد اللہ نے فرمایا: جو اپنے مہمان کا اکرام نہیں کرتا اس کا حضرت محمدﷺ اور حضرت ابراہیم ؑ سے کوئی تعلق نہیں۔ خوش حالی اور نیک انجامی ہے اس آدمی کے لیے جو اپنے گھوڑے کی رسی اللہ کے راستہ میں پکڑے ہوئے ہے، اور روٹی کے ایک ٹکڑے اور ٹھنڈے پانی پر افطارکر لیتا ہے۔ اور بڑی خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جو گائے اور بیل کی طرح (مختلف مزیدار کھانے کھانے کے لیے) اپنی زبان گھماتے ہیں اور اپنے خادم سے کہتے ہیں: فلاں چیز اٹھا لے اور فلاں چیز رکھ دے، اور کھانے میں ایسے لگتے ہیں کہ اللہ کا ذکر بالکل نہیں کرتے۔2